Front - The Prophet Muhammed

Sunday, July 28, 2013

دلنشین اور آسان ترین ترجمہ قرآن

دلنشین اور آسان ترین ترجمہ قرآن
مصنف: بنیاد پرست
رمضان کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے، وه  مسلمان جو سارا سال اس انداز سے گزارتا ہے کہ اسے الله تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا خیال تک نہیں آتا مگر رمضان کا چاند نظر آتے ہی  ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ وہ  بھی اپنے دین  و ایمان کی فکر کرتا نظر آتا ہے. لوگ وہ سبق جو وہ دن رات کے جھمیلوں ، پریشانیوں میں کہیں بھول بسار گئے ہوتے ہیں اس کو دوہراتے ہیں، تجدید عہد کرتے ہیں،    ہر شخص اپنی ہمت و استعداد کے مطابق رمضان کی برکات سے مستفید ہوتا ہے،   نماز، روزہ، صدقہ کے اہتمام کے علاوہ   اس   مہینہ میں لوگوں کا  قرآن کے ساتھ  بھی تعلق بڑھ جاتا ہے، بہت سے لوگ ترجمہ و تفسیر پڑھ کر اسکے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، کئی دوست اس سلسلے میں مشورہ بھی لیتے رہتے ہیں کہ  کوئی ایسا ترجمہ بتائیں جو  مستند بھی ہو اورہمیں آسانی سے سمجھ بھی آجائے۔ کچھ عرصے پہلے اس سلسلے میں تھوڑی الجھن ہوتی تھی کہ  قرآن کریم کا  کونسا ترجمہ تجویز کیاجائے؟ کوئی ایسی  مختصر  اور آسان تشریح ہو جو قرآن کا بنیادی پیغام ان کے دل میں اُتار دےاور ضعیف روایات اور فقہی اختلافات سے ہٹ کر مستند بات اور قول مختار ان کے ذہن نشین ہوجائے؟ الجھن کی وجہ  یہی تھی کہ  ہمارے ہاں  قرآن کے رائج  اردو    تراجم  میں عموما  مترجم کا   انداز خالص  علمی اور  فقہی  ہوتاہے ،پیش کردہ ترجمۂ قرآن "عربک اردو" یا "پرشین اردو" میں ہوتا   اور سامعین "اینگلو اردو" کے عادی ہوتے ہیں  ، مزید علماء حضرات  ترجمہ میں  فارسی اور عربی کے عالمانہ الفاظ اور خوبصورت ترکیبیں بلا تکلف استعمال کرتے  ہیں   اور یہ سب  عموما  ایک غیر عالم ،جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگوں  یا  ایسے لوگوں  کے لیے  جنکا دینی علوم  اور  کتابوں  سے قریبی  تعلق نہ ہو ' سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے، بہت سے لوگ جو  قرآن کے ترجمہ اور پیغام کو اپنے طور پر پڑھنے سمجھنے سے قاصر ہیں شاید  اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ اکابر علماء کے تو تراجم علم و ادب کے اعلی معیار پر ہیں، ان کا انداز تحقیق اور اسلوب بیان محتاج بیان بھی نہیں ، لیکن ہماری قوم ان کو نہیں سمجھ سکی،  ہمارے ہاں اردو  زبان میں  چند سال پہلے تک  ایسا ترجمہ و تشریح دستیاب نہ تھی جو ایک طرف تو علمی و تحقیقی اعتبار سے مستند ہو، دوسری طرف اس کی زبان اتنی آسان اور معیاری ہو کہ کم پڑھے لکھے افراد اور جدید تعلیم یافتہ ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے سب کیلئے یکساں طور پر مفید اور کار آمد ہو۔ علم و ادب کے امتزاج کی سب سے زیادہ جس موضوع کو ضرورت تھی، اس کی طرف اتنی ہی کم توجہ کی جارہی تھی اس  لیے  ہم اپنے حلقے میں  ترجمہ کے لیے  مولانا فتح محمد جالندھری رحمہ اللہ کے ترجمہ قرآن کی  پڑھنے کا کہہ دیتے تھے اور تفسیر کے لیے تفسیر عثمانی اور تفسیر معارف القرآن کی طرف رجوع کرنے کا کہتے۔ مولانا فتح محمد جالندھری صاحب کا ترجمہ وہی ہے  جو  مارکیٹ میں  شیخ عبدلارحمن السدیس اور شیخ عبدالباسط  کے اردو ترجمہ والے   قرآن کی کیسٹ اور سی ڈیز میں بھی  استعمال کیا گیا ہے۔۔ چند سال پہلے عصر حاضر کی ایک عبقری صفت اور  نابغہ روزگار شخصیت جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے  قرآن کے تراجم   پر کام شروع کیا ، اس سلسلے کی آپ کی پہلی کاوش  آپ کا  انگریزی میں ترجمہ قرآن کریم  تھا جو تین سال قبل چھپ کر منظر عام پر آیا۔ یہ ایک  ایسی ضرورت تھی جو مسلمانوں اور انگریزوں کے  ایک دوسرے سے متعارف ہونے سے لے کر آج تک پوری نہ ہوئی تھی۔ اس سے پہلے انگریزی میں جو تراجم موجود تھے وہ کسی ایسے عالم کی کاوشوں کا نتیجہ نہ تھے جو علومِ دینیہ میں رسوخ کے ساتھ انگریزی زبان پر بھی براہِ راست اور بذاتِ خود عبور رکھتا ہو۔ وہ  یا تو غیر مسلموں کے تھے یا نو مسلموں کے، یا پھر ایسے اہلِ اسلام کے جو علومِ عربیت اور علومِ دینیہ پر اتنی گہری نظر نہ رکھتے تھے جو اس نازک علمی کام کیلئے اور پھر اس کام کے معیار و مستند ہونے کیلئے درکار ہوتی ہے ۔    اس کے بعد آپ نے   بہت سے لوگوں کے مطالبہ  اور  خود اردو زبان میں موجود  تراجم کی اس کمی کو محسو س کرتے ہوئے   قرآن کریم کا اردو ترجمہ لکھنا  شروع کیا جو حال  ہی میں  "آسان ترجمۂ قرآن" کے نام سے  چھپ کر سامنے آیا۔

ترجمہ کی چند خصوصیات :۔
قرآن کریم کے ترجمے کیلئے دو چیزیں ضروری ہوتی ہیں۔ ایک تو دینی علوم ،  خصوصاً علوم عربیت میں مہارت اور دوسرے متعلقہ زبان پر عبور اور اس کی باریکیوں پر گہری نظر۔علمائے اسلام نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر کیلئے پندرہ علوم میں مہارت ضروری ہے۔ عقائد، قرأت، حدیث، فقہ، اصول فقہ، اسباب نزول، ناسخ و منسوخ اور سات علوم عربیت (یعنی صرف و نحو، لغت، اشتقاق اور معانی، بیان، بدیع)۔ علمی حوالے سے دیکھا جائے تو حضرت کی اب تک کی ساری زندگی دارالعلوم کراچی  میں  انہی علوم کے پڑھنے پڑھانے میں گزری ہےاور ادبی اعتبار سے آپ کا قلم نثر ہو یا نظم، تقریر ہو یا تحریر، تحقیقی مضامین ہوں یا تفریحی یادداشتیں ہر میدان میں لوہا منوا چکا ہے ۔ آپ کے متعدد شہرۂ آفاق سفرنامے، کالموں کے مجموعی اور شخصی خاکے آپ کے زورِ قلم کی بہترین مثال ہیں۔ ویسے قرآن کے  ترجمہ  کے لیے علوم عربیت   میں مہارت سے  ادب میں مہارت بھی ذیادہ  اہم ہوتی ہے، ہمارے ہاں عوام   کو اسی لیے  غیر عالم  اسلامی اسکالرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز کے درس قرآن وغیرہ سننے ، پڑھنے سے  منع کیا  جاتا ہے وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ لوگ اردو ادب کے تو بہت ماہر ہوتے ہیں ، اچھے کہانی نویس، منظر نگاری کرنے والے اور انشاء پرداز ہوتے ہیں   لیکن انکی  اوپر گنائے گئے علوم خصوصاً "علم الفقہ" سے ناواقفیت اور عربی  زبان  میں عدم مہارت  کی وجہ  سے  "آیات الاحکام" کی تفسیر میں انکی  کی جانے والی غلطیوں سے عوام کے دینی  نقصان کا اندیشہ ہوتا  ہے جبکہ علمائے کرام کے تراجم یا دروس اس خامی اور عیب سے محفوظ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دور طالب علمی میں یہ  علوم پڑھ چکے ہوتے ہیں۔  تقی عثمانی صاحب کا ترجمہ قرآن  دونوں خوبیوں کو لیے ہوئے ہیں،  مزید آپ  نے اپنے اس ترجمہ قرآن میں بہت سی ایسی  چیزوں  کو بھی شامل کیا  جن کی  پہلے تراجم میں کمی محسوس کی جاتی   تھی  ۔ مثلا
سورتوں کا تعارف:۔
ہر سورت سے پہلے تعارف کے عنوان سے "خلاصۂ سورت" یا "سورت کا مرکزی پیغام" یا مضمون دیا گیا ہے۔ اس میں سورت کا ضروری تعارف ، اس میں بیان ہونے والے مضامین واقعہ کا خلاصہ اور پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ تعارف میں   مصنوعی ربط کے بجائے حقیقی اور واقعی انداز میں قرآن کریم کی تالیفی ترتیب اور معنویت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شروع میں ایک  مبسوط مقدمہ بھی دیا گیا ہے جو مطالعۂ قرآن کیلئے بنیاد کا کام دیتا ہے۔ 
 مختصر تشریحات :۔
ترجمہ پڑھنے کے دوران قرآن کریم کے طالب علم کو جہاں جہاں آیت کا مفہوم سمجھنے میں دشواری پیش آسکتی تھی، وہاں مستند علمی تشریحات کے ذریعے اس کی تشنگی دور کی گئی ہے۔ ان تشریحات میں بڑی خوبصورتی سے رسمی تعبیرات اور اختلاف اقوال کے بجائے عصر حاضر کے انسان کے ذہن کے مطابق قرآنیات کی تفہیم و تشریح پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 
سلیس و دلنشین انداز تحریر :۔ 
 بیان زبان و بیان پر آپ کی گرفت اور ٹھیٹھ محاوراتی ٹکسالی اردو پر عبور کے ساتھ آپ کے فطری ادبی ذوق کی حسین پرچھائیں آپ کے اس ترجمے میں واضح نظر آتی ہے۔ کچھ ترجمے تو ایسے بے ساختہ اور برمحل ہیں کہ سبحان اللہ! پڑھنے والا جھوم ہی جائے۔ مثلاً:
هَيْتَ لَكَ
"آ بھی جاؤ" (یوسف:23)۔
فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ
"ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔" (الشمس:14)۔
تراکیب کے بامحاورہ ترجمے ملاحظہ فرمائیں:۔
نَسْيًا مَنْسِيًّا
بھولی بسری
قِسْمَةٌ ضِيزَى
بھونڈی تقسیم
سَبْحًا طَوِيلًا
لمبی مصروفیت
 لفظی اور آزاد ترجمہ کی درمیانی روش کی عمدہ مثالیں:۔
مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ۔"
کیا بات ہے؟ مجھے ہُدہُد نظر نہیں آرہا۔" (النمل:20)
فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ۔
""اب تمہیں جو کچھ کرنا ہے، کرلو۔" (طٰہٰ:72)
وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ۔
"اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی نہیں آنے دیا۔" (الانعام:82)
 اصل الفاظ کے قریب رہتے ہوئے معانی و مفاہیم کی بھرپور وضاحت  کس قدر مشکل کام ہے؟ اس کا اندازہ اہل علم کو بخوبی ہے۔ ذیل کی کچھ آیات دیکھیے، مترجم کس روانی اور پُر کاری سے اس گھاٹی سے گزرے ہیں:.
فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا۔
"پھر جب کھانا کھاچکو تو اپنی اپنی راہ لو۔" (الاحزاب:53)
فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ۔
"تو انہوں نے اس وقت آوازیں دیں جب چھٹکارے کا وقت رہا ہی نہیں تھا۔" (سورۃ ص:3)
وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَحْجُورًا۔
"بلکہ یہ کہتے پھریں گے کہ خدایا! ہمیں ایسی پناہ دے کہ یہ ہم سے دور ہوجائیں۔" ( الفرقان:22) اسی طرح
وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ۔
"اور ان کا کام بس یہ ہے کہ وہم و گمان باندھتے رہتے ہیں۔" (البقرۃ:7)۔
 دوبارہ پڑھیے: "اور ان کا کام بس یہ ہے۔۔۔۔" عربیت کا ذرا بھی ذوق (یا چسکا) ہو تو سچ پوچھیے لطف ہی آجاتا ہے۔ یہی "حصر" ایک اور جگہ بھی ہے جہاں دوسری طرح کے الفاظ سے یہی معنی ادا کیا ہے:
وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (اسراء:85)
"اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ تھوڑا ہی سا علم ہے۔"
 پہلی آیت میں "بس یہ ہے۔۔۔" اور دوسری جگہ "تھوڑا ہی سا۔۔۔" کے ذریعے کس خوبصورتی سے زبان و بیان کی باریکیوں کو نبھایا گیا ہے۔

 جملوں کی سادگی ملاحظہ فرمائیں۔
قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ۔
کہنے لگے " اباجی ! یقین جانئے، ہم دوڑنے کا مقابلہ کرنے چلے گئے تھے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس ہی چھوڑ دیا تھا، اتنے میں ایک بھیڑیا اسے کھاگیا۔ اور آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے، چاہے ہم کتنے ہی سچے ہوں۔
اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔
گنتی کے چند دن روزے رکھنے ہیں ۔ پھر بھی اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔
اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۝۷۷ وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ
کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا تھا؟ پھر اچانک وہ کھلم کھلا جھگڑا کرنے والا بن گیا۔ ہمارے بارے میں تو باتیں بناتا ہے اور خود اپنی پیدائش کو بھول بیٹھا ہے۔

مختلف تراجم کے ساتھ تقابل:۔
 عربی کا مشہور مقولہ ہے: "و بضدها تتبين الاشياء" امثال یا اضداد کے ساتھ موازنے سے ہی کسی چیز کی خوبیاں واضح ہوتی ہیں۔ اس اُصول کی روشنی میں ہم "آسان ترجمۂ قرآن" کی چند منتخب آیات کا پانچ مشہور معاصر تراجم کے ساتھ تقابل کریں اور اس تقابل کو کسی طرح کی تنقیص و تحقیر یا کسی کی خدمت کا درجہ گھٹانے کے بجائے محض طالب علمانہ تحقیق اور ترجیحی خصوصیات کے تفقد تک محدود رہیں تو ان شاء اللہ ایک اچھا مطالعہ ثابت ہوگا۔

 پہلی مثال:.
وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لقمان:20 
"اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کردی ہیں۔" (مولانا مودودی)
 "اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی۔" (مولانا احمد رضا خان بریلوی) 
 "اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔" (مولانا فتح محمد جالندھری) 
"اور پوری کررکھی ہیں اس نے تمہارے اوپر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی۔" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک) 
"اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری پوری نچھاور کی ہیں۔" (آسان ترجمۂ قرآن)

 دوسری مثال:۔
وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ (الاحزاب: 04)
"نہ اس نے تم لوگوں کی ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو، تمہاری ماں بنایا ہے۔" (مولانا مودودی)
 "اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو، انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ) کی مائیں نہیں بنایا۔" (مولانا محمد جونا گڑھی)
 "اور نہیں بنایا اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جنہیں تم ماں کہہ بیٹھتے ہو، تمہاری مائیں۔" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک)
 "اور تمہاری ان بیویوں کو جنہیں تم ماں کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہیں بنایا۔" (مولانا احمد رضا خاں بریلوی)
 "اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا۔" (مولانا فتح محمد جالندھری) 
"اور تم جن بیویوں کو ماں کی پشت سے تشبیہہ دے دیتے ہو، ان کو تمہاری ماں نہیں بنایا۔" (آسان ترجمۂ قرآن)

ظہار کے حقیقی معنی و مفہوم کو جس میں بیوی کو ماں کی پشت سے تشبیہہ دینے کا عنصر لازمی طور پر شامل ہے، جس خوبصورتی سے حضرت نے ادا کیا ہے، اس کی معنویت کو کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس کے پس منظر سے آگاہ ہیں۔

 تیسری مثال:.
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ (ص:44)
"(ایوب علیہ السلام) بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔" (مولانا مودودی) 
"کیا اچھا بندہ بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا ہے۔" (مولانا احمد رضا خان بریلوی) 
"وہ بڑا نیک بندہ تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے والا۔" (مولانا محمد جونا گڑھی) 
"بہت خوب بندے تھے بے شک وہ رجوع کرنے والے تھے۔" (مولانا فتح محمد جالندھری) 
"بہترین بندہ اور یقیناً تھا وہ بہت زیادہ رجوع کرنے والا (اپنے رب کی طرف)" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک) 
"وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔" (آسان ترجمۂ قرآن)

"اواب" کا ترجمہ "خوب لو لگانے والا" ایسا ہے کہ کسی تبصرے کی ضرورت ہی نہیں۔

 آخری مثال : "ترجمہ اور ترجمانی کا فرق" ملاحظہ فرمائیں:
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ (یوسف:24)
"وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف علیہ السلام بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان کو نہ دیکھ لیتا۔" ( مولانا مودودی) 
"اور بے شک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا۔" (مولانا احمد رضا خان بریلوی) 
"اس عورت نے یوسف کی طرف کا قصد کیا اور یوسف اس کا قصد کرتے اگر وہ اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے۔" (مولانا محمد جونا گڑھی) 
"اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا، اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے تو جو ہوتا ہوتا۔" (مولانا فتح محمد جالندھری) 
"اور یقیناً بڑھی وہ اس کی طرف اور بڑھتے وہ (یوسف علیہ السلام) بھی اس کی طرف، اگر نہ دیکھ لیتے وہ برہان اپنے رب کی۔" (مولانا سید شبیر احمد، قرآن آسان تحریک) 
"اس عورت نے تو واضح طور پر یوسف (کے ساتھ برائی) کا ارادہ کرلیا تھا اور یوسف کے دل میں بھی اس عورت کا خیال آچلا تھا، اگر وہ اپنے رب کی دلیل کو نہ دیکھ لیتے۔" (آسان ترجمۂ قرآن)

سبحان اللہ! ترجمہ ایسا کیا ہے کہ بھرپور ترجمانی کے ساتھ تمام اشکالات و جوابات کا از خود جواب ہوگیا ہے بلکہ سرے سے اشکالات پیدا ہی نہیں ہونے دیے گئے۔ ۔

تحریر طویل ہوتی جارہی ہے اس کو یہیں ختم کرتے ہیں، مقصد کتاب پر کوئی   کوئی مقالہ لکھنا نہیں بلکہ صرف اس ترجمہ کی کچھ خصوصیات کی طرف متوجہ کرنا تھا ، باقی اس کو پڑھنے والے اس سے ملنے والے سرور اور نفع کا خود اندازہ کرلیں گے، ان سب خصوصیات کے پیش نظر یہ کہنا بجا ہوگا کہ  اس ترجمہ میں علم و ادب اور لفظ دانی و معنی شناسی کے حسین امتزاج نے اردو میں ترجمۂ قرآن کی وہ کمی بڑی حد تک پوری کردی ہے جس سے عصری اردو کا دامن خالی تھا اور اردو میں دستیاب دینی ادب کے ماتھے پر وہ جھومر سجادیا گیا ہے جو حسین ہونے کے باوجود خالی خالی، اُجڑا اُجڑا سا لگتا تھا۔

ایک نئی روایت :.
 اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ قرآن کریم کے مطالعے کا شوق رکھنے والے حضرات کو یہ ترجمہ پڑھنے کی ترغیب دیں ، آسان ترجمہ قرآن میڈیم کوالٹی پرنٹ کے ساتھ بھی شائع کیا گیا ہے، اسکا ایک نسخہ اپنی گھریلو لائبریری میں رکھا جائے ، وسعت ہو تو قریبی لائبریری یا مسجد کو ہدیہ کیا جاسکتا ہے ، اپنے امام صاحب سے اس ترجمہ کا کورس شروع کروانے کا مطالبہ کریں ، اس کے علاوہ ترجمہ اعلی کوالٹی پرنٹنگ میں بھی دستیاب ہے وہ تکمیل القرآن اور نکاح وغیرہ کے موقع پر گفٹ کیا جاسکتا ہے۔ جو لوگ پہنچ رکھتے ہیں وہ سعودی حکام کو ایک یادواشت بھیج سکتے ہیں کہ عمرہ اور حج کے لیے جانے والے مہمانان حرم کو یہی نسخہ ہدیہ دیا کریں۔ مزید بہت سے مصنفین و مؤلفین اور مضمون نگار و تحقیق کار حضر ات کو اپنی تحریروں میں قرآن کریم کی آیات کا ترجمہ دینے کی ضرورت پیش آئے تو  وہ اس ترجمہ قرآن سے ترجمہ نقل کرسکتے ہیں۔خیر کی بات جس درجہ میں  ہو فائدہ ہے، کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ کسی بھی درجے اور حیثیت میں اس نفع کے حصول کی جدو جہد جاری رکھیں، نہ معلوم کون سی بات ذریعہ نجات بن جائے۔ )

نومولود کے کان میں آذان واقامت کہنانومولود کے کان میں آذان واقامت کہنا


پیش کردہ:مفتی عابدالرحمٰن مظاہری
بسم اللہ االرحمٰن الرحیم

نومولود کے کان میں آذان واقامت کہنا

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہےاس کی تعلیمات انتہائی مکمل اور جامع ہیں۔ اور زندگی کے ہرگوشہ کے لیے اس میں تعلیمات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہر معاملے میں پیدائش سے لیکر موت تک ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ ایک بچہ کی پیدائش سلسلے میں بھی دین کے احکامات نہایت واضح ہیں۔بچے کی پیدائش کے سلسلہ میں جو اسلامی احکامات ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ بچے کے دائیں کان میں اذان دی جائے۔اور یہ کام پیدائش کے فوراً بعد نومولود کو نہلانے کے بعد کرنا چاہیے بشرطیکہ کوئی جسمانی عوارض لاحق نہ ہوں ۔علمائے کرام نے اسب بارے میں جو حکمتیں بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں کہ اذان کے کلمات سے شیطان بھاگتا ہے۔ جس کی وجہ سے نومولود اس کے شر سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس میں یہ بھی مصلحت بیان کی جاتی ہے کہ بچہ کے دنیا میں آتے ہی اس کو جو دعوت ملتی ہے وہ ہے عقیدہ توحید اور عقیدہ رسالت اور نماز کی دعوت ۔گویا یہ نومولود شیطانی دعوت سے پہلے رحمانی دعوت سن لیتا ہے۔
اذان دینے میں حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہےکہ بچہ سب سے پہلے اپنے خالق کا نام سن لیتا ہے جیسا کہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
والأظہر أن حکمۃ الأذان فی الأذن أنہ یطرق وسمعہ أول وہلۃ ذکر اللہ تعالی علی وجہ الدعاء إلی الإیمان
بچے کے کان میں اذان دینے کی حکمت یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ذکر کوایمان کی دعاء کی صورت میںسن لیتا ہے۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب'' تحفۃ المودود باحکام المولود''میں نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنے کو مستحب لکھا ہے۔
اس بارے میں متعدد احادیث ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے جس کو حضرت ابورافع ؓ نے روایت کیا ہےفرماتے ہیں'' کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت حسنؓ کی پیدائش پر اُن کے کان میں اذان پڑھی'' ۔
سنن ابو داؤد، کتاب الأدب، باب فی الصبی يولد فيؤذن فی أذنہ، وجامع ترمذی)
دوسری حدیث امام بیہقیؒ نے شعب الایمان میں ذکر کی ہے:
حضرت حسنؓ بن علیؓ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے یہاں بچہ پیدا ہو تو وہ اس بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان اقامت پڑھے تو وہ بچہ ام الصبیان(ایک بیماری ہے) سے محفوظ رہے گا۔( بیہقی)
یہ حدیث مجمع الزوائد ،کنز العمال اور الجامع الصغیر وغیرہ میں بھی موجودہے۔
اگرچہ کچھ محدثین حضرات نے اس کوضعیف قرار دیا ہے مگر کچھ محدثین کرام نے اس کے ضعیف ہونے کی نفی بھی کی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کسی حدیث کی سندمیں ضعف ہو مگر اُمت اُس حدیث پر تواتر سے عمل کرتی آرہی ہو تو اس حدیث کی سند کا ضعف اس حدیث کو مسترد کرنے کی دلیل نہیں بنے گا۔
اوردوسری روایت جوکہ جامع ترمذی،ابو دائود،مصنف عبدالرزاق،مسند احمد،المعجم الکبیراور بیہقی کی بسند حسن حدیث پاک ہے:
عن عاصم بن عبید اللہ أخبرنی عبید اللہ بن أبی رافع قال رأیت أو قال أذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی أذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃ
حضرت عاصم بن عبید اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے عبید اللہ بن ابی رافع نے خبر دی کہ وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا یا کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے کان میں اذان دی جب یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے تولد ہوئے۔
اور مرقات المفاتیح کی روایت کے مطابق:
روی أن عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کان یؤذن فی الیمنی ویقیم فی الیسری إذا ولد الصبی قلت قد جاء فی مسند أبی یعلی الموصلی، عن الحسین رضی اللہ عنہ مرفوعامن ولد لہ ولد فأذن فی أذنہ الیمنی وأقام فی أذنہ الیسری لم تضرہ أم الصبیان
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچے کی پیدائش پر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہتے تھے۔
اور''مسند ابویعلی موصلی'' میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاروایت ہے کہ آپ نے فرمایا جب بچہ پیدا ہو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھی جائے تو بچہ ام الصبیان (آسیبی کی قسم کی ایک بیماری ) کی بیماری سےمحفوظ رہے گا۔

فقط واللہ اعلم بالصواب

سعودیہ کا چاند


شائع کنندہ مکتبہ حجاز



خطبہ مسنو نہ کے بعد:(یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْأَہِلَّةِ؟ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ، وَلَیْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی، وَأْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ أَبْوَابِہَا، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ ُتفْلِحُوْنَ)
 بزرگو اور بھا ئیو:ابھی ہما رے قاری صا حب نے جو تلا وت کی ہے اس میں یہ آیت بھی پڑھی ہے اس آیت میں چا ند کا مسئلہ ہے اور مغر بی دنیا میں یہ مسئلہ جھگڑ ے کا با عث بنا ہوا ہے ،پس کیو ں نہ آج اسی آیت پاک کی تفسیر سمجھ لی جا ئے ؟
شا ن نزول:
آیت کریم کا شا ن نزول یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی پاک سے سوال کیا کہ سورج ہمیشہ ایک حال پر رہتا ہے مگر چاند ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا ،ایسا کیوں ہے ؟ مہینہ کی تین راتوں میں یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ میں تو ماہ کا مل ہوتا ہے پھر گھٹنا شروع ہو تا ہے ،اور گھٹتے گھٹتے برا ئے نام رہ جا تا ہے ،پھربا لکل غا ئب ہو جا تا ہے ،پھر کھجور کی ٹہنی کی طرح دوبا رہ نمو دار ہو تا ہے ،جو مہینہ کی پہلی تا ریخ کہلا تی ہے ، پہلی تا ریخ کے چا ند کو عر بی میں 'ہلال ' کہتے ہیں ،اردو میں بھی یہی لفظ مستعمل ہے ،پھر پہلا چاند بڑھتا ہے اور بڑ ھتے بڑھتے ما ہ کا مل بن جا تا ہے ،ایسا کیوں ہے ؟سورج کی طرح چا ند ہمیشہ ایک حا لت پر کیوں نہیں رہتا ؟
   اس سوال کا ایک پس منظر ہے،صحا بہ نے حضور سے یہ بات اس لئے پو چھی تھی کہ عرب کا ملک گرم ملک ہے،جیسے یہاں (یورپ و امریکہ میں ) آٹھ مہینے سردی رہتی ہے عرب میں آٹھ مہینے گرمی رہتی ہے اور عرب میں پہا ڑ بہت ہیں ،وہاں کچھ پیدانہیں ہو تا ، مدینہ اور طا ئف میں توتھو ڑا بہت پیداہوجاتا ہے مگر ملک کی ضرورت کو پورا نہیں کرتا ،اس لئے عربوں کی معیشیت کامداراسفارپر تھا ،سال میں ایک مر تبہ شام جا تے تھے اور ایک مرتبہ اونٹوں پر سفر ہوا کرتا تھا اور اونٹ پو رے دن نہیں چل سکتے ،زمین گرم ہو جا تی ہے، زیادہ سے زیادہ نو بجے تک چل سکتے ہیں ،پھر سفر روک دیناپڑ تا ہے ،پھر شام کو عصر کے بعد جب سمندر کی طرف سے ٹھنڈی ہوا ئیں چلتی ہیں اور مو سم ٹھنڈا ہو جا تا ہے تو سفر شروع کرتے ہیں ،دن میں سفر نہیں کرسکتے، اس لئے دن کی تلا فی رات میں کرتے تھے ا ور چاندجیسا تیرہ چودہ اور پندرہ میں کا مل ہوتا ہے اگر ایسا ہی پو را مہینہ رہے تو سفر پر لطف ہوجائے ،یہ پس منظر تھا جس کی وجہ سے سوال کیا تھاکہ جس طرح سورج ایک حال پر رہتاہے چاند ایک حال پر کیوں نہیں رہتا ؟پس آیت پاک نازل ہوئی کہ لوگ آپسے پو چھتے ہیں ہلا لوں کے با رے میں؟ ہلال نہیں فرما یابلکہ ہلالوں فرمایا ،جمع لا نے میں اس طرف اشارہ ہے کہ سا ری دنیا کا ہلال ایک نہیں ہوتا،اگر سا ری دنیا کا ہلا ل ایک ہوتا تو مفرد ہلال لایا جا تا ،أہلہ جمع لا نے کی ضرورت نہیں تھی ،بہر حال لوگ آپ سے مہینہ کے شروع کے چاند وں کے با رے میں پو چھتے ہیں ،آپ ان کو جواب دیں :مہینہ کے شروع کے چاند لوگوں کے لئے اوقات مقررکرتے ہیں اور حج کے لئے وقت مقرر کرتے ہیں ،یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حج کو الگ کیوں کیا ؟ موا قیت للناس کا فی تھا، حج کو الگ کرنے کی ضرورت کیا پیش آئی؟اس کی وجہ یہ ہے کہ مہینہ کے نئے چاند سا ری دنیا کے لئے الگ الگ تا ریخیں مقرر کر تے ہیں۔

 بعض احکام سورج سے متعلق ہیں اور بعض چاند سے
 کیلنڈردو بنتے ہیں ،ایک سورج کا اور ایک چاند کا ،سورج کا کیلنڈر ہر آدمی نہیں بنا سکتا جو فلکیات کا ما ہر ہے و ہ ہی بنا سکتا ہے،اور چاند کا کیلنڈر ہر شخص بنا سکتا ہے،چاند نظر آئے تو اگلا مہینہ شروع کر دو ،ورنہ تیس دن مکمل کر لو ،اس کے لئے کسی حساب کی ضرورت نہیں اور سورج کا کیلنڈر بنا نے کے لئے حساب کا جا ننا شرط ہے ۔ 
   پھر شریعت نے کچھ احکام سورج سے متعلق کئے ہیں اور کچھ چاند سے، وہ احکام جن کو سال میں دائر نہیں کرنا ان کو سورج سے متعلق کیا ہے،اور جن احکام کوسال میں دائر کرنا ہے ان کو چاند سے متعلق کیاہے ،جیسے رمضان شریف کو سال میں دائر کرنا ہے، اگر ہمیشہ رمضان گرمی میں آئے گا تو لوگ پریشان ہونگے اورہمیشہ سردی میں آئے گا تو کچھ مشقت نہ ہو گی ، پھر زمین کا کرہ گول ہے ،شمال کی سردی گرمی کا اعتبار ہو گا یا جنوب کی ؟ایک جا نب والا ہمیشہ مزہ میں رہے گا دوسری جا نب وا لا پریشان !پس رمضان پورے سال میں گھو مے اس لئے اس کو چاند سے متعلق کیا تا کہ کبھی اور کہیں رمضان سردیوں میں آئے اور کبھی اور کہیں گرمیوں میں ،اور نما زیں سال بھر پڑھنی ہے ،گر می اور سردی کا اس پر اثر نہیں پڑتا اس لئے ان کو سورج سے متعلق کیا ۔
  پھر جو احکام سورج سے متعلق ہیں ان میں بھی حساب نہیں ہے ،آنکھ سے دیکھو اور عمل کرو اور جو احکام چاند سے متعلق ہیں ان میں بھی حساب نہیں ہے آنکھ سے دیکھو اور عمل کرو کیو نکہ نبی پاک کی امت اتنی بڑی ہے کہ اگر درختوں کے پتے گنے جا سکتے ہیں تو حضور کی امت گنی جا سکتی ہے ،اگر ریت کے ذرے گنے جا سکتے ہیںتو حضور کی امت گنی جا سکتی ہے ،اگر آسمان کے تا رے گنے جا سکتے ہیںتو حضور کی امت گنی جا سکتی ہے ، اور سب لوگ شہروں اور دیہاتوںمیں نہیں رہتے ، کچھ لوگ پہا ڑوں میں رہتے ہیں، کچھ جنگلوں میں ،پس اگر ان کو سورج اور چاند کا حساب سیکھنے کے لئے کہا جا ئے گاتو یہ بات امت کے لئے نا قابل عمل ہوگی ،اس لئے حکم دیا کہ آنکھ سے دیکھو اور عمل کرو چا ہے وہ حکم سورج سے تعلق رکھتا ہو یا چاند سے ۔

  ہندی مہینے یکساں کیوں ہو تے ہیں ؟ 
ہندؤوں کا کیلنڈر بھی قمری ہے مگر وہ موسم فکس کر نے کے لئے ہر تین سال میں ایک مہینہ بڑھا دیتے ہیں ،ہر تیسرے سال:سال کے تیرہ مہینے کر دیتے ہیں اور اس طرح ان کے قمری مہینے ایک سیزن میں آتے ہیں ،جیٹھ ہمیشہ گرمیوں میںآتا ہے ،اسلام سے پہلے عرب بھی مہینوں کے ساتھ یہی عمل کرتے تھے ،وہ بھی ہر تیسرے سال کبیسہ کے نام سے ایک مہینہ بڑھاتے تھے ،چنا نچہ رمضان کا جو رمضان نام پڑا ہے وہ اس وجہ سے پڑا ہے کہ رمضان کے معنی ہیں :وہ زمانہ جس میں پتھر نہا یت گرم ہوجا تے ہیں ،چونکہ رمضان ہمیشہ نہایت گرمی میں آتاتھااس لئے اس مہینہ کورمضان کہنے لگے،قرآن کی آیت( اِنَّماَ النَّسِیْئُ زِیَادَة فِیْ الْکُفْرِ)میں اسی کا بیان ہے ،اسلام نے اس سسٹم کو ختم کر دیا تو مہینے سال میں گھو منے لگے۔

 نمازوں کے اوقات میں جنتری اور گھڑی کا اعتبار نہیں
 کچھ لو گ کہتے ہیں کہ نماز وں کے اوقات کیلئے جنتر یاں بنائی جا تی ہیں اور ان کے حساب سے اذانیں دی جا تی ہیں اور نمازیں پڑھی جا تی ہیں ،پس جب نمازوں میں حساب کا اعتبار کیا جا تا ہے تو رمضان کے چاند میں حساب کا اعتبار کیوں نہیں کیا جا تا ؟
  اس کا جواب یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات میں جنتریوں کا اعتبار نہیں ،مشرق میں دیکھو !پو پھٹے اور لال دھا ری نمو دار ہو تو صبح صادق ہو گئی ،سحری بند کرو اور فجر کی نماز پڑھو ، گھڑ ی میں چا ہے کچھ بھی بجا ہو اس کا اعتبار نہیں ،اسی طرح سورج نکلا اس کا اوپر کا کنا رہ نمو دار ہوا تو سورج نکل آیا اب فجر کی نماز کا وقت ختم ہوگیا ،پھر جب سورج بلند ہو ا اور ہر چیز کا سایہ گھٹتا ہوا درجہ صفت پر آگیا یعنی سورج سر پر آ گیا تو ہر نماز ممنو ع ہو گئی ،پھر جب سورج ڈھلا اور سا یہ مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہوا تو زوال ہو گیا اب ظہر پڑھو ،پھر اصلی سا یہ چھو ڑ کر جب ہر چیز کا سا یہ اس کے ما نند ہو گیا تو ا ئمہ ثلا ثہ اور صا حبین کے نز دیک ظہر کا وقت ختم ہو گیا اور امام اعظم کے نز دیک ابھی ظہر کا وقت با قی ہے ،ان کے نزدیک اصلی سا یہ چھو ڑ کر ہر چیز کا سا یہ دوگنا ہو جائے تب ظہر کا وقت ختم ہو تا ہے ،اور جب بھی ظہر کاوقت ختم ہو عصر کا وقت شروع ہوجا ئے گا ،اور جب سورج کا اوپر کا کنارہ چھپ گیا تو مغرب کا وقت ہو گیا ،پھر سو رج ڈوبنے کے بعد جب تک مطلع پر رو شنی رہے مغرب کا وقت ہے ،اور جب بالکل اند ھیرا چھا جائے تو عشا ء کا وقت شروع ہو گیا صبح صا دق تک عشاء پڑھ سکتے ہیں،غر ض کسی حساب کی ضرورت نہیں اور کوئی گھڑی نہیں چا ہئے ،آنکھو ں سے دیکھواور پانچوں نمازیں پڑھو،نمازوں میں جنتریوں کا حساب ضروری نہیں ،جنتریاں لو گوں نے سہولت کے لئے سے بنا ئی ہیں، لیکن فرض کرو:جنتری کہتی ہے ابھی پا نچ منٹ کے بعد سورج طلوع ہو گا اور ہم اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں کہ سورج نکل آیاہے ،تو اعتبار دیکھنے کا ہو گا ، جنتری اور گھڑی کا نہیں ہو گا ،چاند کا بھی یہی معاملہ ہے ،اعتبار آنکھ سے دیکھنے کا ہے ،اگر چہ قمری کیلنڈر بنتے ہیں ،اور سال میں دس مہینے اس کے حساب سے چند نظر آتا ہے ،مگر سال میں دو ماہ اس کیلنڈر کے مکا بق چا ند نظر نہیں آتا ،اس لئے اعتبار حساب کا نہیں، بلکہ آنکھ سے دیکھنے کا ہے ۔

 تر قی یافتہ دور میں حساب پر مدار رکھنے میں حر ج کیا ہے؟
برطا نیہ میں اور اس ملک (امریکہ)میں کچھ مسلمان جو ما ہرین حساب ہیں کہتے کہ  چاند کو آنکھ سے دیکھنے کا زما نہ چودہ سو سال پہلے تھا جبکہ او نٹوں اور پتھروں کا زما نہ تھا ،اب ہم تر قی یافتہ ہیں ،لکھنا پڑھنا جانتے ہیں ،حساب کتاب جا نتے ہیں ،ہم حساب سے بتا سکتے ہیں کہ چاند کب نکلے گا اور کب ڈوبے گا ؟اسی طرح ہم یہ بھی جا نتے ہیں کہ نیا چا ند کب پیدا ہو گا اور کب آنکھ سے دیکھنے کے قا بل ہو گا،میں ان بھا ئیوں سے پو چھتا ہوں :بتا ؤ حساب کتاب جا ننے والے کتنے مسلمان ہیں ؟پو ری دنیا میں ایک فیصد بھی نہیں ہیں ،پس شریعت احکام کا مدار ایسی چیز پر کیسے رکھے گی جس کے جا ننے وا لے ایک فیصد بھی نہیں ،چنا نچہ حدیث میں نبی پاک کا ارشادہے : نحن أمة أمیةلا نکتب ولا نحسب :ہم نا خواندہ امت ہیں یعنی امت کی اکثر یت نا خواندہ ہے ،اور نا خوا ندہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اردو فارسی انگریزی نہیں پڑھ سکتے،بلکہ نا خواندہ کامطلب ہے :لا نکتب ولانحسب: ہم لکھتے اور گنتے نہیں،چنا نچہ آج بھی امت کی اکثریت حساب کتا ب نہیں جانتی ایسی صورت میں شریعت اکثر یت کا لحاظ کر کے احکام مقرر کر تی ہے کچھ خاص بندوں کا لحاظ کر کے احکام مقررنہیں کر تی ،پا لیمنٹ جو قوا نین بنا تی ہے ان میں بھی اکثریت کا لحاظ کر تی ہے بعض کا لحاظ نہیں کر تی ،پس ما ہرین حساب کا یہ کہناکہ دنیا اب بہت تر قی یافتہ ہوگئی ہے ،اب ہم حساب کے ما ہرہو گئے ہیں ان کا یہ کہنا صحیح ہے ،بے شک وہ ما ہر ہو گئے ہیں ،ہم ان کی مہا رت کا انکار نہیں کرتے لیکن شر یعت نے اکثریت کا لحاظ کر کے چاند کا مدار حساب پر نہیں رکھا ،بلکہ آنکھوں کی رویت پر مدار رکھا ہے ۔
 بہر حال کو ئی ما ہر ہے یا نہیں ؟اس قصہ کو چھو ڑو، اگر ما ہر ہے بھی تو احکام کا مدار حساب پر نہیں ،سورج سے متعلق احکام کا بھی اور چاندسے متعلق احکام کا بھی ،دونوں کا مدارآنکھ سے دیکھنے پر ہے کیونکہ امت کی اکثریت حساب کتاب نہیں جا نتی اور شر یعت احکام کے نا زل کرنے میں اکثریت کا لحاظ کرتی ہے ۔ 
 آیت کریمہ پر ایک نظرپھر ڈالو اللہ پاک فرما تے ہیں:آپ جواب دیں : چاند گھٹتا بڑ ھتا اس لئے ہے کہ لو گوں کے لئے اوقات مقرر کرے اور حج کے لئے وقت مقرر کرے،اس میں صاف اشارہ ہے کہ مدار آنکھ سے دیکھنے پر ہے اور آنکھ سے دیکھنے کے اعتبارسے مہینہ کا پہلا چاند پو ری دنیا میں ایک نہیں ہو سکتا پس لا محا لہ چاند کا مہینہ پو ری دنیا میں الگ الگ شروع ہوگا ،جہاں چاند نظر آئے گا وہاں مہینہ شروع ہو گا ، صرف حج ایک ایسی عبا دت ہے جس میں سا ری دنیا کے مسلمان اپنی تا ریخیں چھوڑ کرمکہ کی قمری تا ریخ کے اعتبار کریں گے اور ایک معین دن میں حج کریں گے۔                                                                  سعودیہ کا معاملہ 
آج سے تقریبا چا لیس سال پہلے جبکہ میں راندیر میں مدرس تھا ،مکہ کے حکو متی ادارے رابطہ عا لم اسلامی نے اجلاس بلا یا ،دنیا کے بڑے بڑے علماء اس کے رکن ہیں ، ہندوستان سے اس وقت رکن حضرت مو لانا محمدمنظور نعما نی صاحب رحمہ اللہ اور حضرت مو لا نا ابوالحسن علی میاں صاحب ندوی رحمہ اللہ تھے ،دونوں حضرات اجلا س میں شر کت کے لئے تشریف لے گئے ،اس کانفرنس کے ایجنڈے میں تو حید اہلہ کا مسئلہ بھی تھا،توحید کے معنی ہیں :ایک ہو نا ، اور ا  ہلہ:ہلال کی جمع ہے،یعنی دنیا میں چاند کی الگ الگ تا ریخیں شرو ع ہو تی ہیں ،یہ نظام ختم کیا جا ئے اور پو ری دنیا میں چاند کی تا ریخیں ایک ساتھ شروع ہو ں ایسا نظام بنا یا  جا ئے۔ توحیدا  ہلہ کا مطلب یہی ہے،تمام ممبران نے حتی کہ سعودیہ کے ممبران نے بھی اس کو نا منظور کیا کہ یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے ،قر آن کی تو یہی آیت ہے اورحدیث میں نبی پاک نے فرمایاہے :صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ:جب چا ند نظر آئے رمضان کے روزے شروع کرو اور چاند نظر آئے تو رمضان کے روزے ختم کرو، غرض تمام ممبرا ن نے اس تجو یز کو رد کر دیا کہ پو ری دنیاکا چاند ایک نہیں ہو سکتا ۔
  پو ری دنیاکے لئے ایک چاند مقرر کر نے کی ایک ہی صورت ہے کہ چاندکو آنکھ سے دیکھنے کا مسئلہ ختم کر دیا جا ئے اور قمر جدید یعنی نیو مون کا اعتبار کر لیا جائے ،اس صورت میں ساری دنیا کا چاند ایک ہو جا ئے گا ۔
  قمر جدید (نیا چاند)کیا ہے ؟ 
سورج مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے ،چاند بھی اسی طرح مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے ،یہ چاند کی روز مرہ کی چال ہے البتہ چاندکی ایک دوسری چال بھی ہے ، وہ مغرب سے مشرق کی طرف بھی چلتا ہے ،دو متضاد چالیں ایک ساتھ چلتا ہے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں،جیسے ہم فٹ بال کو لات مار تے ہیں تو گیند سامنے کی طرف بھی جا تی ہے اور گول بھی گھومتی ہے ،اسی طرح چاند چو بیس گھنٹے میں ایک راؤنڈ لیتا ہے ،اور دوسری چال مغرب سے مشرق کی طرف چو بیس گھنٹوں میں٢٣ ڈگری چلتا ہے ا ور انتیس دن میں ایک راؤنڈ پورا کرتا ہے۔اور جیسے آدھی زمین روشن رہتی ہے اور آدھی پر اند ھیراچھایا رہتا ہے ،یہاں رات ہے اور چین میں سورج نکلا ہوا ہے ،یہی حال چاند کا بھی ہے ،اس کا آدھا حصہ جو سورج کی طرف ہے وہ روشن ہوتاہے اور دوسرا آدھاجو سورج کے مقابل نہیں وہ تاریک ہوتاہے ،پس آدھا روشن اور آدھا غیر روشن ہو نے میں چاند اور زمین یکساں ہیں ،اور جب ہم چاند کو زمین سے دیکھیں اوراس کا روشن حصہ نظر نہ آئے تو اس کا نام مُحاق ہے ،پھر جب ہما رے دیکھنے کازاویہ بدلتا ہے تو چا ند کے روشن حصہ کا ایک کنا رہ ہمیں نظر آتا ہے ،یہ ہلال ہے ،پھر جوں جوں زاویہ بدلتا رہتا ہے ہر دن کا چا ند بڑا ہو تا رہتا ہے ،پھر ایک وقت ا یسا آتا ہے کہ چاند زمین اور سورج کے بیچ میں آجا تا ہے ،پس چاند کا آ دھا روشن حصہ دوسری طرف ہو جا تا ہے اور ہما ری طرف تاریک وا لا حصہ ہو جا تا ہے ،یہ زمانہ محاق کہلا تاہے ، پھر جب چاند مشرق کی طرف ہٹتا ہے اور سورج کے تقابل سے نکل جاتاہے تو قمر جدید کہلا تا ہے ، لیکن ابھی اس کا زاویہ اتنا باریک ہو تا ہے کہ زمین سے اس کے دیکھنے کا امکان نہیں ہو تا ،جب چاندسورج سے کم از کم سو لہ ڈگری پیچھے ہو جا ئے تب زمین سے دیکھنے کے قا بل ہو تا ہے اور کھجور کی ٹہنی کی طرح نظر آتا ہے ۔
   غرض قمر جدید کا اعتبارکرلیں تو پو ری دنیا کی تا ریخ ایک ہو جا ئے گی،تو حید ا ہلہ کی یہی صورت ہے،یہ تجویز رابطہ کے اجلاس میں پیش ہو ئی مگر دنیا کے تمام علماء نے اس کو نا منظو رکر دیا ،کا نفرنس سے جب وہ دونوں حضرات لو ٹے تو حضرت مولا نا محمد منظور نعما نی صا حب رحمہ اللہ تبلیغی دو رے پر سورت تشریف لائے ،میں چو نکہ ان کے رسا لہ الفرقان میں لکھتا تھا اس لئے میرا ان سے تعا رف تھا ،حضرت نے سا ری تفصیل مجھے سنا ئی اور فرما یا سعودیہ نے ایک خطر نا ک اسکیم شروع کی ہے اور اچا نک یہ مسئلہ کھڑا کیا ہے تا کہ بے خبری میں اس کو پا س کرالیا جا ئے ،علماء نے اگر چہ اس کو با لکل نا منظور کر دیا ہے لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ یہ فتنہ رکے گا نہیں ،اس سے پہلے کہ یہ بہت بڑا فتنہ بن جا ئے اس پر مضا مین لکھنے چا ہئیں ،چنا نچہ میں نے اسی زما نہ میں اس مسئلہ پر ایک مضمون لکھا جو الفرقان میں دو قسطوں میں شائع ہوا ( یہ مضمون علمی خطبات میں درج ہے۔ضرورت مند حضرات اس کو وہیں دیکھیں۔ بلاگر)  اس کے بعد کیا ہوا؟سعودیہ خاموش ہو گیا،اس نے آگے مسئلہ نہیں چھیڑا مگر اب کچھ سا لوں سے اس کو سا ری دنیا سے پہلے چاند نظرآتا ہے اور با قاعدہ اخبا روں میں چھپتا ہے کہ فلاں قاضی کے پاس دو گوا ہوں نے گوا ہی دی،اس کو دو ہی گوا ہ ملتے ہیں ،جبکہ سعودیہ کا مطلع عام طور پر صاف رہتا ہے مگر کبھی رؤیت عا مہ نہیں ہو تی۔
سعو دیہ کا انو کھا چاند
اس سال (٢٠٠٩)میں تو عجیب تما شہ ہوا ،مد ینہ منورہ میں مو لا نا ۔۔۔۔ہیں   جو حضرت مولا نا۔۔۔۔۔   صا حب رحمہ اللہ کے خلیفہ ہیں اور ایک مولا نا۔۔۔۔  ہیں ،ان کا لندن میں ایک صا حب کے پا س فون آیاکہ ہم نے فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھااور شام کو سعو دیہ نے رمضان کے چا ندکا اعلان کر دیا ،یہ اسی سال کا قصہ ہے اور یہ سلسلہ ١٩٧٤ء سے چل رہا ہے جس کا پس منظر میں نے آپ حضرات کو سنا یا،اُس وقت سعودیہ نے جو سوچا تھا اسی کے مطا بق کر تا ہے ،مگر چونکہ مسلمان اس کو ما نیں گے نہیں اس لئے رؤیت کا ڈھونگ رچا تا ہے۔
  کیا سعو دیہ وا لے مسلما ن نہیں ؟
کچھ لو گ کہتے ہیں : کیا سعو دیہ وا لے مسلما ن نہیں؟کیا وہ جھو ٹ بو لتے ہیں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ مشرق میں جب چاند نظر آئے گا تو مغر ب میں ضرور دکھا ئی د ے گا ،کیو نکہ مغرب میں چا ند کا سورج سے فا صلہ بڑ ھ جا ئے گا ،مگر آ پ دیکھتے ہیں کہ سعو دیہ چاند دیکھنے کا اعلان کر تا ہے ،پھر ڈھا ئی گھنٹے بعد بر اعظم افر یقہ میں سو رج غروب ہو تا ہے ،مگر پو رے براعظم افریقہ میں یہ چا ند کسی مسلمان کو نظر نہیں آتا ،سعو دیہ وا لے مسلمان ہیں تو کیا افریقہ والے مسلمان نہیں ؟اس کے بعد بر اعظم امریکہ میں سو رج غر وب ہو تا ہے ،پو رے بر اعظم امریکہ میں کسی مسلمان کو یہ چا ند نظر نہیں آتا مگر سعو یہ میں دو آدمیوں کو نظر آجا تاہے بلکہ بعض مرتبہ تو ایسا ہو تاہے کہ پو رے را ؤنڈمیں کہیں چاند نظر نہیں آ تا ،اس سال جس چاند کے دیکھنے کا سعو دیہ نے اعلان کیا ہے وہ چاند پو رے افریقہ میں کسی کو نظر نہیں آیا،پو رے امریکہ میں کسی کو نظر نہیں آ یا،چا ئنا میں نظر نہیں آ یا،ملیشیا میں نظر نہیں آیا ،انڈیا میں نظر نہیں آ یا ہاں مغربی انڈیا میں نظر آیا ،گجرات کی جو پٹی ہے وہاں چاند نظر آیا اور وہاں سے جو نظر آنا شروع ہوا تو پورے راؤنڈ میں سب جگہ نظر آ یا ،مگر سعودیہ کا دیکھا ہواچاند پو رے راؤنڈ میں گجرات تک کہیں نظر نہیں آیاپس سعودیہ وا لے مسلمان ہیں توکیا دنیا کے سا رے مسلمان آنکھ بند کر کے چاند دیکھتے ہیں؟اگر سعودیہ صاف کہہ دے کہ ہم قمر جدید پر اعلان کر تے ہیں تو کوئی جھگڑا نہیں ، جس کو ماننا ہو گا ما نے گااور جس کو نہیں ما ننا ہو گا نہیں ما نے گا۔
  مشکو ک بات چھو ڑو اور یقینی بات اختیار کرو
اور امر مشکوک کے با رے میں شریعت کا حکم وہ ہے جس کو نبی پاکنے ایک حدیث میں بیان فرما یا ہے :دَعْ مَا یُرِیْبُکَ الی ما لا یریبک فاِنَّ الصدق طُمَأْنِیْنَة، وَالْکَذِبَ رِیْبَة:کھٹک وا لی بات چھو ڑو اور بے کھٹک بات اختیار کرو ،سچ سے اطمینان ہوتا ہے اور جھوٹ سے دل بے چین ہو تاہے ،مثال کے طور پر آپ پو لیس کے ہا تھوں میں پھنس جائیں اور آپ جھوٹ بو ل کر اپنا الو سیدھا کر لیں تو کر لیں ،لیکن دل آپ کا بے چین رہے گا اور اگر آپ اس معا ملہ میں سچ بو لیں اور چار پیسے کا نقصان بر داشت کر لیں تو اگر چہ نقصان ہوگا مگر دل آپ کا مطمئن رہے گا ،پس سعودیہ کو ہم جھو ٹا نہیں کہتے لیکن وہ مشکوک تو ضرور ہے اور شریعت کا حکم مشکوک کے با رے میں میں نے حدیث کے حوا لہ سے بتا یا کہ مشکو ک کو یقینی بنا لو ،یقینی بات کیا ہے ؟حدیثوں میں حکم آیا ہے کہ ہر جگہ کی اور ہر ملک کی رویت پر رمضان شروع کیا جا ئے اور رو یت پر ہی ختم کیا جائے ،ہاں اگر کوئی ملک ایسا ہو کہ وہاں سال کا بیشتر حصہ مطلع ابر آلو د رہتا ہو ،چاند نظر نہ آتا ہوتو وہ پھر نز دیکی ملک کی رویت کا اعتبار کرے،اور اگر کبھی کبھی مطلع ابر آلود رہتاہو تو وہ نز دیکی ملک کا اعتبار نہیں کر ے گا ،بلکہ وہ اپنے چاند کا اعتبار کریں گے ،چاند نظر آیا تو ٹھیک ہے، نہیں نظر آ یا تو مہینہ تیس کا شما ر کریں گے ،اس سال گجرات میں چاند دیکھا گیا اور انتیس کے اعتبار سے عید ہوئی لیکن پورے ہندوستان نے وہ رویت نہیں لی کیو نکہ گجرات مغرب میں ہے اور مغرب کا چاند مشرق میں نظر نہ آئے ایسا ہو سکتا ہے لیکن مشرق کا چاند مغرب میں نظر نہ آئے یہ ممکن نہیں ،یہ عجوبہ تو چا لیس سال سے چل رہا ہے کہ سعودیہ میں چاند نظر آتاہے اور افریقہ اور امریکہ میں نظر نہیں آتا ،اگر سعودیہ کی رویت حقیقی ہو تی تو دنیا میں کو ئی مسئلہ پیدا نہ ہو تا،یہ آیت پاک کے شروع حصہ کی وضا حت ہو ئی ، اس کے بعد جو ٹکڑا ہے اس کی بھی وضاحت کر دوں تا کہ بات پو ری ہو جا ئے ۔
اسلام سے پہلے جب عرب حج کا احرام باندھتے تھے تو دروا زہ سے گھر میں دا خل نہیں ہو تے تھے اور گھر میں آ نا ضروری ہے، پس وہ پچھلے دروازے سے گھر میں آتے تھے اور وہیں سے نکلتے بھی تھے ،جیسے یہود کے یہاں سنیچر کو کوئی کام نہیں کر سکتے ،لا ئٹ اگر کھلی ہے اور سنیچر شروع ہو گیا تو اب اس کو بند نہیں کر سکتے ،بند ہے اور سنیچر شروع ہو گیا تو اب اس کوکھول نہیں سکتے ،لیکن کر تے سب کام ہے ،کر تے کیا ہیں ؟سڑک سے کسی مسلمان کو پکڑ لاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: ذرا بٹن آن کر دو، یہ کیا دین پر عمل ہوا ؟یہ تو اللہ کو دھو کہ دینا ہوا،ایسا ہی حیلہ انہوں نے پرا نے زما نہ میں مچھلیوں کے تعلق سے کیا تھا ،بہر حال جیسا یہ یہو دی کر تے ہیں ایسا ہی عرب بھی کر تے تھے کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد سامنے کے دروازے سے گھر میں نہیں آتے تھے،پیچھے سیڑھی لگا کر گھر میں آتے تھے ،قرآن نے کہا:(وَلَیْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا)یہ کونسا نیکی کا کام ہے کہ تم گھروں میں پچھواڑے سے آؤ (وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی)بلکہ نیکی کا کام یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر عمل کرو اس کے حکم کی خلاف ورزی مت کرو۔                                                                                                                       اللہ سے ڈر نے کا مطلب 
اوراللہ سے ڈرناایسا ڈر نا نہیں جیسے سانپ سے ،شیر سے اور دشمن سے ڈرتے ہیں،اللہ تو وہ ذات ہے جس سے محبت کر نی ہے ،بلکہ اللہ سے ڈر نے مطلب یہ ہے کہ جیسے اطاعت شعار بیٹا باپ سے ڈرتا ہے ،مخلص طا لب علم استا ذ سے ڈرتا ہے ،عقیدت مند مر ید پیر سے ڈرتاہے ،بیٹا سوچتا ہے کہ مجھے کوئی ایسا کا م نہیں کر نا چاہئے کہ ابا نا راض ہو جا ئیں ،جنت تو ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے اور وہی نا راض ہو گئے تو میرا کیا ہو گا؟طا لب علم پھو نک پھونک کر قدم رکھتا ہے سو چتا ہے کہ میں کوئی ایسا کام نہ کروں کہ استاذ ناراض ہو جا ئیں ،اگر وہ ناراض ہو گئے تو مجھے چار لفظ کہاں سے آئیں گے ؟عقیدت مند مرید سوچتا ہے کہ مجھے کوئی کا م ایسا نہیں کرنا چا ہئے کہ پیر نا راض ہو جا ئے ،اگر پیر نا راض ہو گیا تو میرا اللہ سے تعلق کون جو ڑے گا ؟تو جیسے یہ تینوں حضرات اپنے بڑوں کے احکام کی خلاف ورزی سے ڈر تے ہیں ،ان کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں ایسے ہی اللہ سے ڈرنا ہے کہ مو من بندے کو کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ جس سے اللہ نا راض ہو جائیں ،قرآن و حدیث میں جہاں جہاں آتا ہے کہ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اس کا یہی مطلب ہے ۔
   غرض قرآن نے مشرکین سے کہا :( وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی) نیکی کا کام یہ ہے کہ تم اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے ڈرو،اگر اللہ نے یہ حکم دیا ہو کہ احرام باندھنے کے بعد گھر میں مت جا ؤ تویہ کیا بات ہو ئی کہ دروازے سے نہیں گئے، پیچھے سے گھس گئے (وَأْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ أَبْوَابِہَا)گھروں میں ان کے دروا زوں سے آؤ ،یعنی شریعت کا یہ حکم نہیں ہے کہ احرام باندھنے کے بعد گھر میں نہیں آسکتے ،یہ تو تم نے خود گھڑلیا ہے ، (وَاتَّقُوْا اللّٰہَ) اور اللہ سے ڈرو ،یعنی اللہ نے جو احکام دیئے ہیں ان کی خلاف ورزی مت کرو ،اللہ نے کہا ہے : احرام میں ٹو پی مت پہنو، مت پہنو ،اللہ نے کہا ہے : احرام میں پگڑی مت باند ھو، مت با ندھو ،اللہ نے جو احکام دیئے ہیں ان کا پا لن کرو اپنی طرف سے کچھ مت بڑ ھا ؤ،(لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ) تا کہ تم کامیاب ہو ؤ،مو من کی کامیابی اللہ کے احکام کی اطا عت میں ہے اپنی طرف سے احکام تجویز کر نے میں نہیں ہے۔

  ربط مضا مین 
اور آ یت  میں مذکور دونوں مضمون میں نے آپ حضرات کو سمجھا دئیے ،میرے بھا ئیو ! آپ اس پر غو ر کریں کہ ان دونوں مضمونوں میں جوڑ کیا ہے؟کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھامن متی نے کنبہ جو ڑا وا لا معا ملہ تونہیں ہے؟نہیں ایسا نہیں ہے ،پہلا مضمون یہ ہے کہ مہینہ کے نئے چاند تمام لوگوں کے لئے الگ الگ اوقات مقرر کریں گے اور حج کے لئے ایک وقت مقرر کر یں گے ،اور دوسرا مضمون یہ ہے کہ اللہ نے جو احکام دئے ہیں ان کی خلاف ورزی مت کرو ،نہ اپنی طرف سے کسی حکم کا اضا فہ کرو ،یہی برو تقویٰ ہے ،کا میا بی کا راز اسی میں ہے ،اپنی طرف سے نئے نئے شو شے چھو ڑنا کہ اب تو ہم بڑے ما ہر ہو گئے ہیں ،حساب کتاب جا ننے لگے ہیں ،اب آنکھ سے چاند دیکھنے کی ضرو رت نہیں ،اب ہم ہیلی کا پٹر میں اڑکر جا ئیں گے اور اوپر جا کر چاند دیکھیں گے ،دور بینوں سے چاند دیکھیں گے ،یہ کریں گے وہ کریں گے ،ارے بھا ئی یہ سب با تیں چھو ڑواور جو اللہ کا حکم ہے اس پر عمل کرو ،کا میا بی اسی میں ہے ۔
وآخردعوانا أن الحمد ﷲ رب العالمین