Front - The Prophet Muhammed

Saturday, January 4, 2014

شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند ۔مفتی سعید احمد پالنپوری دامت بر کاتہم


شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند ۔مفتی سعید احمد پالنپوری دامت بر کاتہم

مفتی سعید احمد پالن پوری دامت بر کاتہم کی ولادت 1362ھ مطابق 1942ء میں ہوئی ،آپ جناب یو سف صاحب کے فر زند اور مو ضع ‘‘ کالیٹرہ ‘‘ضلع بناس کانٹھا‘‘ ( شمالی گجرات) کے رہنے والے ہیں آپ کے والدین نے آپ کا نام‘‘احمد‘‘ رکھا تھا ، لیکن جب آپ نے مدرسہ مظا ہر علوم سہارنپور میں داخلہ لیا تو اپنے نام کے شروع میں ‘‘سعید ‘‘ کا اضافہ کر دیا ، اس طرح آپ کا پورا نام ‘‘سعید احمد‘‘ ہو گیا ،اس وقت دیوبند میں اپنے ذاتی مکان میں اقامت پذیر ہیں ۔
آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے وطن گجرات ہی میں ہوئی ،آپ کی ‘‘بسم اللہ‘‘ آپ کے والد ماجد نے کرائی اور ناظرہ ودینیات وغیرہ کی تعلیم آپ نے وطن کے مکتب میں حاصل کی ، پھر آپ دارالعلوم ‘‘چھاپی‘‘ تشریف لے گئے اور وہاں فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں ، دارالعلوم چھاپی میں آپ کا قیام چھ ماہ رہا ، پھر آپ مولانا نذیر احمد پالن پوری کے مدرسہ میں داخل ہوئے اور وہاں عربی درجہ کی شرح جامی تک تعلیم حاصل کی ، وہاں محمد اکبر پالن پوری اور مولاناہاشم بخاری آپ کے خاص استاد تھے ۔
1377
ھ میں آپ نے مظاہر علوم سہارنپور میں داخلہ لیا ، نحو اور منطق وفلسفہ کی بیشتر کتابیں آپ نے وہیں پڑھیں ، 1380ھ مطابق 1960ء میں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اورحدیث وتفسیر اور فقہ کے علاوہ دیگر کئی فنون کی کتابیں آپ نے یہیں پڑھیں ، 1382ھ مطابق 1962ء میں دورہ حدیث شریف سے فارغ ہو ئے اور سالانہ امتحان میں امتیازی نمبرات حاصل کئے ، پھر اگلے تعلیمی سال ( یکم ذیقعدہ 1382ھ ) میں شعبہ افتاء میں داخلہ ہوا اور فتاویٰ نویسی کی تربیت حاصل کی ۔
تکم
یل افتاء کے بعد 1384 ح میں دارالعلوم اشرفیہ راندیر ( سورت) میں علیا کے مدرس مقرر ہوئے ، یہاں تقریبا دس سال تدریسی خدمات انجام دی ، پھر دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے معزز رکن مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی تجویز پر 1393ھ میں دارالعلوم دیوبند کے مسند درس وتدریس کے لئے آپ کا انتخاب عمل میں آیا اور تا ہنوز دارالعلوم میں خدمت انجام دے رہے ہیں ، دارالعلوم میں مختلف فنون کی کتابیں پڑھانے کے ساتھ سالہا سال سے ترمذی شریف جلد اول اور طحاوی شریف کے اسباق آپ سے متعلق ہیں ، آپ کے اسباق بے حد مقبول ، مرتب اور معلومات سے بھر پور ہو تے ہیں طلبہ میں عموما آپ کی تقریر نوٹ کر لینے کا رجحان پا یا جاتا ہے اور آپ کی تقریر میں اتنا ٹہراؤاور اتنی شفافیت ہو تی ہے کہ لفظ بلفظ اسے نوٹ کر لینے میں کسی طرح کی دشواری پیش نہیں آتی ، دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین حضرت مولانا نصیر آحمد خانصاحب رحمۃ اللہ علیہ کی علالت کے بعد (1429ھ مطابق 2008 )سے بخاری شریف جلد اول کا درس بھی آپ سے متعلق کر دیا گیا اس وقت آپ دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین ہیں ، اوقات کی پابندی اور کاموں میں انہماک آپ کے اہم قابل تقلید اوصاف ہیں ۔
آپ کا مزاج شروع ہی سے فقہی رہا ہے اور فقہ وفتاویٰ میں امامت کا درجہ رکھنے والے دارالعلوم دیوبند جیسے ادارہ سے تکمیل افتاء کے بعد آپ کے فقہی ذوق میں اور بھی چار چاند لگ گئے ، ترمذی شریف کے درس کے دوران بڑی خوبی اور اعتماد کے ساتھ فقہی با ریکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، فقہی سمیناروں میں آپ کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی اور آپ کے مقالات کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مجموعہ فتاویٰ‘‘ امداد الفتاویٰ‘‘ پر آپ نے گرانقدر حاشیہ بھی لکھا ہے ، نہز آپ کی فقہی مہارت اور رائے قائم کرنے میں حد درجہ حزم واحتیاط ہی کی وجہ سے دارالافتاء دارالعلوم کے خصوصی بنچ میں آپ کا نام نمایاں طور پر شامل ہے ۔
آپ نے درس وتدریس کے ساتھ تصنیف وتالیف میں بھی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ،آپ کی بہت سی کتابیں دارالعلوم سیمت مختلف دینی مدارس میں شامل نصاب ہیں ۔ ذیل میں آپ کی چند کتابوں کی فہرست پیش کی جاتی ہے ۔ 

(1) 
مبادیافقہ (2) آپ فتویٰ کیسے دیں (3حرمت مصاہرت۔(4) داڑھی اور انبیاء کی سنت(5)تحشیہ امداد الفتاویٰ (6) کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟ (7) تسہیل ادلہ کاملہ (8) مشاہیر محدثین وفقہا کرام اور تذکرہ روایان کتب(9) تفسیر ہدایت القرآن (10) رحمۃ اللہ الواسعہ ۔اس کے علاوہ آسان نحو (دو حصے ) آسان صرف (دو حصے) آسان منطق، مبادی الفلسفہ (عربی) معین الفلسفہ ، العون الکبیر ( حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب ‘‘ الفوز الکبیر ‘‘کی مفصل (عربی شرح) فیض المنعم ( شرح مقدمہ صحیح مسلم) مفتاح التہذیب ( شرح تہذیب المنطق) تحفۃ الدد ( سرح نخبۃ الفکر) حیات امام داؤد ،حیات امام طحاوی ،اسلام تغیر پذیر دنیا میں۔ وغیرہ گرانقدر تا لیفات ہیں۔

چائےکی تاریخ فوائد و نقصانات

چائےکی تاریخ فوائد و نقصانات

تُمہيد
ميں نے چائے کے متعلق مطالعہ 2004 عيسوی میں شروع کيا اور ڈيڑھ سال کے مطالعہ کہ بعد جو کچھ حاصل ہوا اُس کا خُلاصہ پيش کر رہا ہوں کہ شائد اس کے مطالعہ سے کسی کا بھلا ہو اور وہ ميرے لئے دعائے خير کرے ۔
افتخار اجمل بھوپال
04 دسمبر 2005ء
پيش لفظ
آجکل ہمارا حال یہ ہے ۔ ۔ ۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان مگر پھر بھی کم نکلے
کالی چائے (جو آجکل دودھ ڈال کر یا بغیر دودھ پی جاتی ہے) اور سگريٹ کی طلب بعض حضرات کے اعصاب پر اس قدر سوار ہو جاتی ہے کہ اُنہيں کُچھ سوجھتا ہی نہيں گويا کہ اُن کا دماغ ماؤف ہو جاتا ہے ۔ اس کی وجہ وہ نشہ آور اجزاء ہيں جو اِن ميں موجود ہيں اور نشہ کی سب سے بڑی خوبی يہ ہے کہ اس کا جو عادی ہو جائے اسے اس سے پيچھا چھڑانے کيلئے مضبوط قوتِ ارادی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انگریز ہمیں افسر شاہی کے ساتھ ساتھ يہ دو عِلّتيں دے گئے لوگوں کو عادت ڈالنے کيلئے چائے تیار کر کے اور سگریٹ سلگا کر شرو‏ع میں ہندوستان کے لوگوں کو چوراہوں میں کھڑے ہو کر مُفت پلائے گئے اور گھروں کے لئے بھی مفت دیئے گئے ۔ جب لوگ عادی ہو گئے تو معمولی قیمت لگا دی گئی۔ پھر آہستہ آہستہ قیمت بڑھتی چلی گئی۔ آج ہماری قوم ان فضول اور نقصان دہ چیزوں پر اربوں روپیہ کا ضائع کرتی ہے
یہ کالی یا انگریزی چائے جو آجکل عام پی جاتی ہے ہندوستانيوں يا مشرقی لوگوں کی دريافت يا ايجاد نہیں ۔ یہ چائے بیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان میں انگريزوں نے متعارف کرائی ۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہندوستانی فوجیوں کو پہلی جنگ عظیم کے دوران سستی خوراک دی جائے۔ ایک برطانوی کمپنی نے ہندوستانی فوج کی خوراک کا خرچہ کم کرنے کے لئے بالخصوص تحقیق کر کے یہ کالی چائے دریافت کی ۔ یہ چائے بھوک کو مارتی ہے اس لئے اس کا انتخاب کیا گیا۔ ہندوستانی فوجیوں کو چائے ۔ بھُنے ہوئے چنے اور کرخت بسکٹ بطور ناشتہ اور دوپہر اور رات کا کھانا دیا جاتا تھا
۔
یہ کالی یا انگریزی چائے جو آجکل عام پی جاتی ہے ہندوستانيوں يا مشرقی لوگوں کی دريافت يا ايجاد نہیں ۔ کالی چائے یا انگریزی چائے بیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان میں انگريزوں نے متعارف کرائی ۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہندوستانی فوجیوں کو پہلی جنگ عظیم کے دوران سستی خوراک دی جائے۔ ایک برطانوی کمپنی نے ہندوستانی فوج کی خوراک کا خرچہ کم کرنے کے لئے بالخصوص تحقیق کر کے یہ کالی چائے دریافت کی ۔ یہ چائے بھوک کو مارتی ہے اس لئے اس کا انتخاب کیا گیا۔ ہندوستانی فوجیوں کو چائے ۔ بھنے ہوئے چنے اور کرخت بسکٹ بطور ناشتہ اور دوپہر اور رات کا کھانا دیا جاتا تھا۔
ہندوستان کی مقامی چائے
کالی چائے سے پہلے ہندوستان بلکہ ایشیا میں چار قسم کی چائے رائج تھیں اور نمعلوم کب سے زیر استعمال تھیں ۔
1 ۔ جس کو آج ہم قہوہ یا سبز چائے يا چائنيز ٹی کہتے ہیں ۔ [لیمن گراس والی نہیں] ۔
2 ۔ قہوہ ہلکے براؤن رنگ کا لیکن کالی چائے کی پتی کا نہیں ۔
3 ۔ قہوہ گہرے براؤن رنگ کا جو کڑوا ہوتا ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں اور عرب ممالک میں اب بھی پیا جاتا ہے
4 ۔ سبز چائے جسے کشمیری چائے بھی کہتے ہیں ۔ اس چائے میں صرف نمک یا نمک اور ٹھوڑی سی چینی ڈال کر پیا جاتا تھا ۔ آجکل بغیر نمک کے صرف چينی ڈال کر پی جا رہی ہے
ہم نےگوری چمڑی کی تقلید میں چائے کی فائدہ مند قسمیں چھوڑ کر مضر کالی چائے اپنا لی ۔
تاريخی حقائق پر ايک نظر [انگريزوں کی مکّاری]
چائے کیسے اور کب بنی اس کے متعلق کچھ کہنے سے پہلے میں یہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ تہذیب و تمدن میں یورپ اور امریکہ سے بہت پہلے ایشیا اور افریقہ بہت ترقّی کر چکے تھے ۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں دولت کے نشہ میں اپنی لاپرواہیوں عیاشیوں اور اہل مغرب بالخصوص انگریزوں کی عیاریوں کے باعث ایشیا اور افریقہ کے لوگ رو بتنزّل ہو کر پیچھے رہتے چلے گئے ۔ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کردار سے تو سب واقف ہی ہوں گے ۔ چین کے بارے بھی سنیئے ۔ انگریزوں کو پہلی بار سبز چائے کا علم ستارھویں صدی کے شروع میں اس وقت ہوا جب 1615 عیسوی میں ایک شخص رچرڈ وکہم نے چائے کا ایک ڈبّہ شہر مکاؤ سے منگوایا ۔ اس کے بعد لگ بھگ تین صدیوں تک یورپ کے لوگ چائے پیتے رہے لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ چائے ہے کیا چیز ۔ اٹھارہویں صدی میں سبز چائے نے انگریزوں کے بنیادی مشروب ایل یا آلے کی جگہ لے لی ۔ انیسویں صدی کے شروع تک سالانہ 15000 میٹرک ٹن چائے چین سے انگلستان درآمد ہونا شروع ہو چکی تھی ۔ انگریز حکمرانوں کو خیال آیا کہ چین تو ہم سے بہت کم چیزیں خریدتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے ۔ انہوں نے افیون دریافت کی اور چینیوں کو افیون کی عادت ڈالی جو کہ چائے کے مقابلہ میں بہت مہنگی بھی تھی ۔ پوست کی کاشت چونکہ ہندوستان میں ہوتی تھی اس لئے ہندوستان ہی میں افیون کی تیاری شروع کی گئی ۔ یہ سازش کامیاب ہو گئی ۔ اس طرح انگریزوں نے اپنے نقصان کو فائدہ میں بدل دیا ۔ انگریزوں کی اس چال کے باعث چینی قوم افیمچی بن گئی اور تباہی کے قریب پہنچ گئی ۔ پھر چینیوں میں سے ایک آدمی اٹھا اور ہردل عزیز لیڈر بن گیا ۔ وہ موزے تنگ تھا جس نے قوم کو ٹھیک کیا اور افیمچیوں کو راہ راست پر لایا جو ٹھیک نہ ہوئے انہیں جیلوں میں بند کر دیا جہاں وہ افیون نہ ملنے کے باعث تڑپ تڑپ کر مر گئے ۔ جس کے نتیجہ میں آج پھر چین سب سے آگے نکلنے کو ہے ۔ یہ موذی افیون ہندوستانیوں کو بھی لگ گئی مگر ہندوستان بشمول پاکستان میں ابھی تک کوئی موزے تنگ پیدا نہیں ہوا ۔
تسميہ
جسے آج ہم بھی مغربی دنیا کی پیروی کرتے ہوئے ٹی کہنے لگے ہیں اس کا قدیم نام چاء ہمیں 350 عیسوی کی چینی لغات یعنی ڈکشنری میں ملتا ہے ۔ شروع میں یورپ میں بھی اسے چاء ہی کہا جاتا تھا ۔ چھٹی یا ساتویں صدی میں بُدھ چین سے چاء کوریا میں لے کر آئے ۔ کوریا میں کسی طرح سی ایچ کی جگہ ٹی لکھا گیا ۔ ہو سکتا ہے اس زمانہ کی کورین زبان میں چ کی آواز والا حرف ٹ يا انگريزی کی ٹی کی طرح لکھا جاتا ہو ۔ دوسری تبدیلی یہ ہوئی کہ چاء کو ” ٹے” لکھا گیا ۔ اسطرح یورپ میں چاء ۔ ٹی اور ٹے ۔ بن گئی ۔ جرمنی میں اب بھی چاء کو ” ٹے” کہتے ہیں ۔ آج سے پچاس سال قبل ہند و پاکستان ميں بھی زيادہ تر لوگ چاء ہی کہتے اور لکھتے تھے ۔
عجیب بات یہ ہے کہ مارکوپولو نے اپنی چین کے متعلق تحریر میں چاء یا چائے کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔ اس سے شُبہ پيدا ہوتا ہے کہ کیا مارکو پولو واقعی چین گیا تھا ؟
چائے کی دريافت اور ابتدائی استعمال
چاۓ کی دریافت تقريباً پونے پانچ ہزار سال قبل ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ چین ۔ شین یا سین میں شہنشاہ دوم شین نونگ [جس کا دور 2737 قبل مسيح سے 2697 قبل مسيح تک تھا] نے علاج کے لئے دیگر جڑی بوٹیوں کے ساتھ چاء بھی دریافت کی ۔ شین نونگ کا مطلب ہے چین کا مسیحا ۔ چاء ایک سدا بہار جھاڑی کے پتّوں سے بنتی ہے ۔ شروع میں سبز پتوں کو دبا کر ٹکیاں بنا لی جاتیں جن کو بھون لیا جاتا تھا ۔ استعمال کے وقت ٹکیہ کا چورہ کر کے پیاز ۔ ادرک اور مالٹے یا سنگترے کے ساتھ ابال کر یخنی جس کو انگریزی میں سُوپ کہتے ہیں بنا لی جاتی اور معدے ۔ بینائی اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے پیا جاتا ۔
چائے بطور مشروب
ساتویں صدی عيسوی میں چاء کی ٹکیہ کا چورا کر کے اسے پانی میں ابال کر تھوڑا سا نمک ملا کر پیا جانے لگا ۔ یہ استعمال دسویں صدی کے شروع تک جاری رہا ۔ اسی دوران یہ چاء تبت اور پھر شاہراہِ ریشم کے راستے ہندوستان ۔ ترکی اور روس تک پہنچ گئی ۔
چائے بطور پتّی
سال 850 عیسوی تک چاء کی ٹکیاں بنانے کی بجائے سوکھے پتوں کے طور پر اس کا استعمال شروع ہو گیا ۔ دسویں یا گیارہویں صدی میں چاء پیالہ میں ڈال کر اس پر گرم پانی ڈالنے کا طریقہ رائج ہو گیا ۔ جب تیرہویں صدی میں منگولوں یعنی چنگیز خان اور اس کے پوتے کبلائی خان نے چین پر قبضہ کیا تو انہوں نے چاء میں دودھ ملا کر پینا شروع کیا ۔
چو یوآن چانگ جس کا دور 1368 سے 1399 عیسوی تھا نے 1391 عیسوی میں حکم نافذ کروایا کہ آئیندہ چاء کو پتی کی صورت میں رہنے دیا جائے گا اور ٹکیاں نہیں بنائی جائیں گی ۔ اس کی بڑی وجہ ٹکیاں بنانے اور پھر چورہ کرنے کی فضول خرچی کو روکنا تھا ۔
چاء دانی کی ايجاد
سولہویں صدی عيسوی کے شروع میں چائے دانی نے جنم لیا ۔ اس وقت چائے دانیاں لال مٹی سے بنائی گیئں جو کہ آگ میں پکائی جاتی تھیں پھر اسی طرح پیالیاں بنائی گیئں ۔ ایسی چائے دانیاں اور پیالیاں اب بھی چین میں استعمال کی جاتی ہیں ۔
چاء کا يورپ کو سفر
سولہویں صدی کے دوسرے نصف میں پرتغالی لوگ چین کے مشرق میں پہنچے اور انہیں مکاؤ میں تجارتی اڈا بنانے کی اجازت اس شرط پر دے دی گئی کہ وہ علاقے کو قزّاقوں سے پاک رکھیں گے ۔ خیال رہے کہ انگریزوں کو چینیوں نے اپنی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت بالکل نہیں دی اور تجارت کی اجازت بھی ستارہویں صدی کے آخر تک نہ دی ۔ گو شاہراہ ریشم سے ہوتے ہوئے ترکوں کے ذریعہ چاء پہلے ہی یورپ پہنچ چکی ہوئی تھی مگر پرتغالی تاجر چینی چاء کو براہ راست یورپ پہنچانے کا سبب بنے ۔
يورپ ميں چائے خانوں کی ابتداء
یورپ میں ولندیزی یعنی ڈچ تاجروں نے چاء کو عام کیا ۔ انہوں نے ستارہویں صدی میں اپنے گھروں کے ساتھ چائے خانے بنائے ۔ سال 1650 عیسوی میں آکسفورڈ میں پہلا چائے خانہ ۔ کافی ہاؤس کے نام سے بنا ۔ اور 1660 عیسوی کے بعد لندن کافی خانوں سے بھرنے لگا جن کی تعداد 1682 عیسوی تک 2000 تک پہنچ گئی ۔
کالی چائے کی دريافت اور سفيد چينی برتنوں کی ايجاد
ستارہویں صدی کے آخر میں کسی نے پتے سوکھانے کے عمل کے دوران تخمیر یعنی فرمنٹیشن کا طریقہ نکالا جو بعد میں کالی چائے کی صورت میں نمودار ہوا یعنی وہ چائے جو آجکل دودھ ملا کر یا دودھ کے بغیر پی جا رہی ہے ۔ یہ کالی چائے ایک قسم کا نشہ بھی ہے جو لگ جائے تو چھوڑنا بہت مُشکل ہوتا ہے ۔ اسے عام کرنے کے لئے اس کا رنگ خوبصورت ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا چنانچہ رنگ دیکھنے کے لئے سفید مٹی کی چائے دانی اور پیالیاں بننی شروع ہوئیں ۔
انگريزوں کی کالی چائے کی دريافت
چین کا مقابلہ کرنے کے لئے انیسویں صدی میں انگریزوں نے چاء کے پودے اور بیج حاصل کئے اور ہندوستان میں چاء کی کاشت کا تجربہ شروع کر دیا ۔ اس کوشش کے دوران بیسویں صدی کے شروع میں يعنی 1905 عیسوی میں انگریزوں کو فلپین لوگوں کے ذریعہ پتا چلا کہ چاء کے پودے کی جنگلی قسم آسام کی پہاڑیوں میں موجود ہے ۔اور چاء کے پودے کا نباتاتی نام کامیلیا سائنیسس ہے ۔ چنانجہ اس کی باقاعدہ کاشت ہندوستان میں شروع کر کے کالی چائے تیار گئی جس کی پیداوار اب 200000 مٹرک ٹن سے تجاوز کر چکی ہے ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انگريزوں نے کالی چائے کو ہندوستان میں عام کيا ۔ ہندوستان اور سری لنکا میں صرف کالی چائے پیدا ہوتی ہے ۔
سبز چائے اور کالی چائے ميں فرق
سبز چائے اور کالی چائے پینے کے لئے ان کے تیار کرنے میں فرق ہے ۔ کالی چائے تيار کرنے کيلئے پتے سوکھانے سے پہلے تخمیر یعنی فرمنٹیشن کے عمل سے گذارے جاتے ہيں ۔ مزيد اِسے پينے کيلئے کھولتے ہوئے پانی ميں پتّی ڈال کر تيار کيا جاتا ہے جبکہ سبز چائے پتے احتياط سے سُوکھا کر بيائی جاتی ہے اور پينے کيلئے اس کی پتّی میں 70 درجے سیلسیئس کے لگ بھگ گرم پانی ڈالنا ہوتا ہے ۔
سبز چائے کے فوائد
چائے کا استعمال ہزاروں سال سے ہو رہا ہے ۔ چائے کی ايک قسم سبز جائے يا قہوا جسے چائينيز ٹی بھی کہتے ہيں اور اس کا نباتاتی نام کاميلا سينينسِز ہے صحت و تندرُستی کے بہت سے فوائد رکھتی ہے ۔ سالہا سال سے سبز چائے کے لاتعدار تجربات انسانوں اورجانوروں پر اور تجربہ گاہوں ميں کئے گئ جن سے ثابت ہوا کہ سبز چائے بہت سی بيماريوں کو روکنے يا اُن کا سدِّباب کرنے ميں مدد ديتی ہے ۔
کوليسٹرال
چینی سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد ثابت کیا ہے کہ سبز چائے میں ایک ایسا کیمیکل ہوتا ہے جو ایل ڈی ایل یعنی برے کولیسٹرال کو کم کرتا ہے اور ایچ ڈی ایل یعنی اچھے کولیسٹرال کو بڑھاتا ہے ۔ پنگ ٹم چان اور ان کے ساتھی سائنسدانوں نے ہیمسٹرز لے کر ان کو زیادہ چکنائی والی خوراک کھلائی جب ان میں ٹرائی گلسرائڈ اور کولیسٹرال کی سطح بہت اونچی ہوگئی تو ان کو تین کپ سبز چائے چار پانچ ہفتے پلائی جس
سے ان کی ٹرائی گلسرائڈ اور کولیسٹرال کی سطح نیچے آگئی ۔ جن ہیمسٹرز کو 15 کپ روزانہ پلائے گئے ان کی کولیسٹرال کی سطح ۔ کل کا تیسرا حصہ کم ہو گئی اس کے علاوہ ایپوبی پروٹین جو کہ انتہائی ضرر رساں ہے کوئی آدھی کے لگ بھگ کم ہو گئی ۔ میں نے صرف چائینیز کی تحقیق کا حوالہ دیا ہے ۔ مغربی ممالک بشمول امریکہ کے محقق بھی سبز چائے کی مندرجہ بالا اور مندرجہ ذیل خوبیاں بیان کرتے ہیں ۔
سرطان يا کينسر کا علاج
سبز چائے میں پولی فینالز کی کافی مقدار ہوتی ہے جو نہائت طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہوتے ہیں ۔ یہ ان آزاد ریڈیکلز کو نیوٹریلائز کرتے ہیں جو الٹراوائلٹ لائٹ ۔ ریڈی ایشن ۔ سگریٹ کے دھوئیں یا ہوا کی پولیوشن کی وجہ سے خطرناک بن جاتے ہیں اور کینسر یا امراض قلب کا باعث بنتے ہیں ۔ سبز چائے انسانی جسم کے مندرجہ ذيل حصّوں کے سرطان يا کينسر کو جو کہ بہت خطرناک بيماری ہے روکتی ہے
مثانہ ۔ چھاتی يا پستان ۔ بڑی آنت ۔ رگ يا شريان ۔ پھيپھڑے ۔ لبلہ ۔ غدود مثانہ يا پروسٹيٹ ۔ جِلد ۔ معدہ ۔
ديگر فوائد
سبز چائے ہاضمہ ٹھیک کرنے کا بھی عمدہ نسخہ ہے ۔ سبز چائے اتھيروسکليروسيس ۔ انفليميٹری باويل ۔ السريٹڈ کولائيٹس ۔ ذيابيطس ۔ جگر کی بيماريوں ميں بھی مفيد ہے ۔ ريح يا ابھراؤ کو کم کرتی ہے اور بطور ڈائی يورَيٹِک استعمال ہوتی ہے ۔ بلیڈنگ کنٹرول کرنے اور زخموں کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔ دارچینی ڈال کر بنائی جائے تو ذیابیطس کو کنٹرول کرتی ہے ۔ سبز چائے اتھروسلروسس بالخصوص کورونری آرٹری کے مرض کو روکتی ہے ۔
جو لوگ روزانہ سبز چائے کے دس یا زیادہ کپ پیتے ہیں انہیں جگر کی بیماریوں بشمول یرقان کا کم خطرہ ہوتا ہے ۔ سبز چائے کا ایکسٹریکٹ چربی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جس سے آدمی موٹا نہیں ہوتا ۔ ۔ سبز چائے بطور سٹیمولینٹ بھی استعمال ہوتی ہے
کالی چائے مُضرِ صحت ہے
کالی چائے پتوں کو فرمنٹ کر کے بنائی جاتی ہے ۔ فرمنٹیشن کو اردو میں گلنا سڑنا کہا جائے گا ۔ اس عمل سے چائے کئی اچھی خصوصیات سے محروم ہو جاتی ہے ۔ اس میں اینٹی آکسی ڈینٹس ہوتے تو ہیں مگر فرمنٹیشن کی وجہ سے بہت کم رہ جاتے ہیں ۔ کالی چائے پینے سے ایڈکشن ہو جاتی ہے اور پھر اسے چھوڑنا مشکل ہوتا ہے ۔ ہر نشہ آور چیز میں یہی خاصیت ہوتی ہے ۔ کالی چائے بھوک اور پیاس کو مارتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھوک اور پیاس کے قدرتی نظام میں خلل ڈالتی ہے جو صحت کے لئے مضر عمل ہے ۔ کالی چائے پیٹ کے سفرا کا باعث بنتی ہے جس سے ہاضمہ کا نظام خراب ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا مضر خصوصیات کے اثرات کئی سالوں بعد ظاہر ہوتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی لوگ پیٹ خراب ہونے کی صورت میں یا زکام کو ٹھیک کرنے کے لئے کالی چائے بطور علاج کے پیتے ہیں حالانکہ کالی چائے دونوں کے لئے نہ صرف موزوں نہیں بلکہ مضر ہے ۔ جو ذیابیطس کے مریض بغیر چینی کے کالی چائے پیتے ہیں وہ اپنے مرض کو کم کرنے کی کوشش میں دراصل بڑھا رہے ہوتے ہیں کیونکہ کالی چائے گُردوں کے عمل میں خلّل ڈالتی ہے جِس سے ذیابیطس بڑھ سکتی ہے ۔

کیا{786}بسم الله الرحمن الرحيم کا قائم مقام ہے؟

کیا{786}بسم الله الرحمن الرحيم کا قائم مقام ہے؟
الله کے نام سے شروع کرتا ہے جو بہت ہی مہربان اور نہایت رحم والا ہے
یہ بابرکت الفاظ ہر نیک کام شروع کرنے سے پہلے زبان سے ادا کرنا یا لکھنا بہت ہی اچھا اور ثواب کا کام ہے - قرآن حکیم کو بھی "بسم الله الرحمن الرحیم" سے ہی شروع فرمایا گیا ہے اور ہر سورۃ کے شروع میں "بسم الله الرحمن الرحیم" تحریر ہے ، سوائے سورۃ توبہ کے اور اس کی کمی بھی سورۃ النمل میں بطور آیت مبارکہ کے {انه من سلیمان وانه بسم الله الرحمن الرحیم} "سورۃ النمل آیت نمبر 30" نازل فرماکر پوری کی گئی ہے - الله تعالی کے پاک نام سے ہر نیک کام کا آغاز کرنا بذات خود ایک کار ثواب ہ اور قرآن عظیم کے الفاظ ہونے کی وجہ سے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے حروف اکیس 21 ہیں ہر حروف پر دس نیکیاں "بسم الله الرحمن الرحیم" پر 210‏‎ نیکیاں عطا فرمانے کا ارشاد ربانی ہے ، لیکن اس ثواب سے ‎محروم کرنے کے لیے "بسم الله الرحمن الرحیم" کی جگہ 786 ‎کے ہندسہ کو مسلمانوں میں رائج کیا گیا - مختلف خود ساختہ تخیلات کا سہارا لے کر مسلمانوں کو "بسم الله الرحمن الرحیم" پڑھنے اور لکھنے کی برکت اور ثواب سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں مسلمان دشمن اور طاغوتی طاقتوں کو حیرت انگیز حد تک کامیابی ہوئی ہے - اب تقریبآ ہر تعلیم یافتہ ، کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ طبقہ زندگی اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا "بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے 786‏ ‎کا ہندسہ لکھتا ہے اور اپنی دانست میں وہ اسے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام سمجھ کے ثواب اور برکت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ کر بڑا مسرور ہے حالانکہ ثواب اور برکت کا حصول صرف اور صرف ان عربی الفاظ کو زبان سے ادا کرکے یا لکھ کر ہی ہوسکتا ہے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے ثواب اور برکت سے محروم کرانے والوں نے لوگوں کے اذہان میں یہ بات نقش کرنے کی سعئ نامشکور کی کہ اگر کسی خط ، چھٹی یا کسی تحریذ میں"بسم الله الرحمن الرحیم" کے الفاظ لکھے جائیں اور وہ ڈاک کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجی جائے اس صورت میں "بسم الله الرحمن الرحیم" کے پاک الفاظ کی بے ادبی ہوگی لہذا ان پاک الفاظ کی جگہ 786 لکھ دیا جائے اس طرح الفاظ کی بے ادبی بھی نہ ہوگی اور ثواب اور برکت بھی حاصل ہوجائے گی اور لوگوں نے بلاسوچے سمجھے اس پر عمل شروع کردیا اور ہر خط ، چھٹی یا تحریر پر "بسم الله الرحمن الرحیم" کی جگہ 786 لکھنا باعث ثواب سمجھا اور عربی الفاظ کو توہین اور بے ادبی سے بچاکر ثواب بھی کماکر دل ہی دل میں اپنے اس کارنامے پر خوش ہوتے رہے حالانکہ اصل برکت ثواب اور نیکی سے وہ بھی"بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے 786 لکھ کر محروم ہوگئے اگر بے ادبی اور توہین والے نام نہاد دلیل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے بلاسوچے سمجھے اسے قابل عمل مان لیا ہے جس خط یا چھٹی کے شروع میں الله تعالی کے پاک نام سے ابتداء اس وجہ سے نہیں کی گئی کہ اس خط یا چھٹی کو سپرد ڈاک کرنے کے بعد {لفظ} "الله" ، "رحمن، "رحیم" کے مقدس نام کی بے ادبی ہوگی اس خط اور چھٹی میں مکتوب الیہ کا نام جو رحمت اللہ ، صبغت اللہ و سیف اللہ ، محمد ، احمد ، رضوان اللہ وغیرہ تھا مکتوب الیہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ نام لکھا گیا اس کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ یا صرف السلام علیکم لکھا گیا - اس میں مکتوب الیہ کے لیے دعائیہ الفاظ بھی جابجا تحریر کیے گئے - مثلا الله تعالی آپ کو خیریت سے رکھے یا آپ کو رزق حلال عطا فرمائے وغیرہ - اس کے علاوہ تقریبآ ہر خط یا مضمون میں اور بہت سے الفاظ اور جملے الله تعالی اور رسول پاک صلی الله علیه وسلم کا نام نامی الفاظ یا دوسرے انبیاء کرام علیهم السلام کے اسمائے مبارک تحریر کرنا پڑتے ہیں لیکن "بسم الله الرحمن الرحیم"لکھتے وقت ہمارا ذہن فورآ بے ادبی کے خوف سے اس کی جگہ 786 کے لکھنے کا حکم دیتا ہے - اگر خط یا چھٹی میں الله تعالی ، رسول الله صلی الله علیه وسلم یا انبیاء کرام علیهم السلام وغیرہم کے ناموں کی توہین کا خدشہ ہے تو پھر لکھنے والا کچھ بھی تحریر نہیں کرسکتا کیونکہ ایک مسلمان کی زبان اور قلم سے الله تعالی اور رسول الله صلی الله علیه وسلم کے بابرکت نام ضرور ادا ہونگے - اور چونکہ اس کے بغیر چارہ کار نہیں الله تعالی دلوں کے بھید خوب جانتا ہے کہ لکھنے والے کی نیت بے ادبی یا توہین کی نہیں اس نے تو ثواب کی نیت سے لکھا ہے اور الله تعالی کے پاک نام سے ابتداء کی ہے لہذا الله تعالی ثواب عطا فرمائے گا
مگر 786 کے الفاظ رائج کرانے والوں نے یہ کام اتنے منظم طریقہ سے کیا کہ ہر شخص اصل قرآنی الفاظ ترک کرکے 786 کے ہندسہ کو خطوط وغیرہ کے علاوہبلند عمارات ، بسوں ، ٹرکوں ، سوزوکیوں ، رکشاؤں حتی کہ مساجد پر بھی "بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے {جہاں بے ادبی کا ذرہ بھی احتمال نہیں} 786 کو لکھ یا لکھوادیا ہے اگر خط یا چھٹی میں قرآنی الفاظ کی بے ادبی کا خدشہ ہے تو بلند و بالا عمارات وغیرہ پر تو اس کا احتمال ہی نہیں لیکن "بسم الله الرحمن الرحیم" کے پاک اور بابرکت الفاظ کی جگہ جن لوگوں نے 786 کے ہندسہ کو رواج دیا ہے ان کی چالاکی اور منصوبہ بندی کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے 786 کو"بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام ذہن نشین بلکہ اذہان و قلوب پر نقش کردیا ہے - اب ہر شخص 786 کو "بسم الله الرحمن الرحیم" سمجھتا ہے اور اس طرح اسلام دشمنوں کی شاطرانہ روش نے مسلمانوں کو ثواب اور برکت سے محروم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے
اسلام ایک مکمل دین ہے الله تعالی نے قرآن مجید میں ہمیں زندگی گزارنے کےآداب بتائے ہیں اور جناب رسول الله صلی الله علیه وسلم نے اپنے مقدس فرامین کے ذریعے عملی نمونہ پیش کرکے ان کی مکمل وضاحت فرمادی نمبر {01} ان اسلامی آداب میں سے ایک ادب یے بھی ہے کہ مسلمان اپنے ہر کام میں الله تبارک تعالی کا نام لے - مسلمانوں کو ہر اہم کام "بسم الله الرحمن الرحیم" سے شروع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے تحریر میں بھی جناب رسول الله صلی الله علیه وسلم کی یہی سنت ہے کہ "بسم الله الرحمن الرحیم"سے شروع کیا جائے چناچہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے مختلف بادشاہوں اور سرداروں کو جو مکتوب مبارک تحریر فرمائے ، ان سب میں "بسم الله الرحمن الرحیم" لکھی گئی جیسا کہ احادیث مبارکہ میں وہ خطوط مکمل طور پر درج کیے گئے ہیں
نمبر {02} کچھ لوگوں نے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے 786 کا ہندسہاختیار کرلیا ہے اور عوام میں یہی عدد رائج ہوگیا ہے حالانکہ شریعت اسلامیہ میں اعداد کو کبھی الفاظ کا بدل تسلیم نہیں کیا گیا البتہ یہو د میں یہ چیز پائی جاتی تھی کہ وہ اعداد کو اہمیت دیتے اور حروف کو اعداد کے طور پر استعمال کرتے تھے - یہود و نصاری میں 7 اور 14 کے عدد کو بہت اہمیت حاصل ہے اس لیے ان کی مذہبی کتابوں میں ساتویں سال کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ان کے لیے خاص احکام موجود ہیں اس بناء پر حضرت عیسی علیه السلام کے نسب نامہ کو حضرت ابراہیم علیه السلام سے لے کر حضرت مسیح علیه السلام تک چودہ چودہ ناموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مسیحی علماء اس کی ایک وجہ بتاتے ہیں کہ چودہ کا عدد سات کا دگنا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ "داؤد" جسے عبرانی زبان میں --دود-- کی صورت میں لکھا جاتا ہے اس کے اعداد 14 ہیں د 4 | و 6 | د 4 = {14} --دود-- اس سے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیه السلام حضرت داؤد علیه السلام کے روحانی وارث ہیں ہندوؤں کے معبود "کرشن" کے نام کا نعرہ "ہرے کرشنا" کے اعداد کا مجموعہ بھی 786 ہے - اس سے کیا نماز کے اعداد نکال کر جھٹ پٹ نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ ہرگز نہیں
نمبر {03} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حساب جمل یعنی حروف و اعداد کے بانیغیر مسلم اہل کتاب ہیں - مسلمانوں کو اس سے کوئی تعلق نہیں - حروف"مقطعات" جو سورتوں کے شروع میں ہیں اور الگ الگ حرف کرکے پڑھے جاتے ہیں ان کے متعلق کتب تفسیر میں یہ روایات موجود ہیں کہ یہ حروف تو ان کا خیال ہے کہ اس سے مراد مدت ہے کہ اس نبی پاک کی نبوت اتنا عرصہ رہے گی چنانچہ ا 1 | ل 30 | م 40 = {71} "الم" - "الم" سن کر ایک یہودی عالم نے کہا کہ مسلمانوں کا نبی تو محض اکہتر 71 سال تک باقی رہے گا جب اسے بتایا گیا کہ قرآن میں "المص" بھی ہے اس نے کہا کہ 161 سال ہوگئے ا 1 | ل 30 | م 40 | ص 90 = {161} "المص" پھر اسے بتایا گیا کہ قرآن مجید میں "الر" بھی ہے تو اس نے کہا یہ تو اور زیادہ ہوگئے ا 1 | ل 30 | ر 200 = {231} "الر" پھر جب اس کے سامنے "المر" پیش کیا گیا تو اور زیادہ پریشان ہوگیا کیونکہ یہ 271 بنتے ہیں آخر کہنے لگا کہ مسئلہ الجھ گیا ہے ہمیں معلوم نہیں ان کا مقصد کیا ہے ، ان کا کیا مقصد ہے؟ {جب کہ ان حروف کی حقیقت کو الله تعالی ہی بہتر جانتا ہے اور یہی مؤقف درست اور حقیقت پر مبنی ہے}
نمبر {04} اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف اور اعداد کو ایک دوسرے کابدل قرار دینے کا تصور یہودیوں کے طرف سے آیا ہے لہذا مسلمانوں کو اس سےپرہیز کرنا چاہئے - علاوہ ازیں مسلمانوں کی روزمرہ زندگی میں بھی اعداد کو الفاظ کا بدل سمجھنے کا تصور موجود نہیں تھا - اگر کسی کا نام انور ہے تو اس کو 275 صاحب کہہ کر نہیں بلایا جاتا - نہ قریشی صاحب 260 کہلانا پسند کریں گے اگر مولانا صاحب کے بجائے 128 صاحب کہا جائے تو مولانا یقینآ ناراض ہوجائینگے - پھر کیا وجہ ہے کہ الله تعالی کے مقدس نام کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے؟
نمبر {05} اس کے علاوہ ایک عدد ضروری نہیں کہ ایک ہی عبارت کو ظاہر کرے بلکہ ایک سے زیادہ عبارتوں کے مجموعی عدد کے بھی مساوی ہوسکتا ہے مثلآ یہی عدد 786 جسے "بسم الله الرحمن الرحیم" کا بدل قرار دیا جاتا ہے -ہندوؤں کے معبود کرشن کا نعرہ {ہرے کرشنا} کے اعداد کا مجموعہ بھی ہے
ھ 5 | ر 200 | ی 10 | ک 20 | ر 200 | ش 300 | ن 50 | ا 1 = {786} "ھری کرشنا"
نمبر {06} یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اعداد الفاظ کا بدل ہیں تو کیا ہم اپنے معاملات میں ان کا اس لحاظ سے استعمال قبول کرسکتے ہیں ایک شخص آپ سے کوئی واقعہ بیان کرتا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے آپ اسے کہتے ہیں الله کی قسم کھاؤ وہ کہتا ہے چھیاسٹھ کی دو سو میں سچ کہہ رہا ہوں کیا آپ تسلی م کرلیں گے کہ اس نے الله کی قسم کھائی ہے؟ لہذا اس کی باپ پر اعتبارکرلیا جائے اس طرح نکاح کے موقع پر دولہا کہے میں نے 138 کیا تو یہ تسلیمکیا جائے گا کہ اس نے قبول کرلیا؟ لہذا نکاح منعقد ہوگیا یا کوئی اپنی بیوی سے کہے جا تجھے 140 ہے تو کیا اسے طلاق سمجھا جاسکتا ہے؟ یقینآ کوئیسمجھدار آدمی اس منطق کو قبول نہیں کرسکتا
نمبر {07} پھر کیا وجہ ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اسے اللهتعالی کے مقدس نام کے لیے اور جناب رسول الله صلی الله علیه وسلم کے اسممبارک کے لیے پسند کریں - ایک مؤمن کے لیے اس کا تصور بھی ناقابل قبول ہے - جہاں تک "بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام ہندسہ 786 کی تعداد کا تعلق ہے حروف ابجد کی رو سے یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ"بسم الله الرحمنالرحیم" کے ہندسے حروف ابجد کی رو سے 788 عدد ہوتے ہیں 786 ہوں یا 788ثواب سے تو بہرحال محرومی ہے اگر کوئی شخص ایک سے لے کر ایک کروڑ تک بھی ہندسے لکھ دے یا پڑھ دے تو قرآنی الفاظ کے مقابلہ میں ہندسے لکھنے والے یا پڑھنے والے کو ایک ذرہ بھی نیکی نہیں مل سکتی - کیونکہ ثواب کا وعدہتو عربی الفاظ ادا کرنے پر ہے اپ آپ کی خدمت میں "بسم الله الرحمن الرحیم" کی حروف ابجد کے حساب سے تجزیہ پیش کیا جاتا ہے
‏"بسم الله الرحمن الرحیم" کے ہندسے حروف ابجد کے حساب سے 788 ہوتے ہیںاور 786 کے حساب سے "یا علی مولا علی امیر المؤمنین" کے الف ظ بنتے ہیںبسم الله الرحمن الرحیم کا حروف ابجد کی رو سے تجزیہ
ب 2 | س 60 | م 40 | الف 1 | ل 30 | ل 30 | الف 1 | ھ 5 | الف 1 | ل 20 | ر 200 | ح 8 | م 40 | الف 1 | ن 50 | الف 1 | ل 30 | ر 200 | ح 8 | ی 10 | م 40 = {788} "بسم الله الرحمن الرحیم"
اب 786 کے ہندسون کے الفاظ ملاحظہ فرمایئے
ی 10 | الف 1 | ع 70 | ل 30 | ی 10 | م 40 | و 6 | ل 30 | الف 1 | ع 70 | ل 30 | ی 10 | الف 1 | م 40 | ی 10 | ر 200 | الف 1 | ل 30 | م 40 | و 6 | م 40 | ن 50 | ی 10 | ن 50 = {786} "یا علی مولا علی امیر المؤمنین"
علی 110 | امیر المؤمنین 478 | وصی محمد 198 = 786 {امیر المؤمنین علیحضرت رسول الله صلی الله علیه وسلم کا وصی یعنی خلیفہ بلافصل}
نوٹ = بالاتفاق خلیفہ بلافضل حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنه ہے اور حضرت علی رضی الله چوتھے خلیفہ ہے
ان الفاظ کے ہندسے بھی 786 ہوتے ہیں یعنی لکھنے والا اپنی دانست میں 786لکھ کر "بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام سمجھ رہا ہے حالانکہ وہ {یا علی مولا علی امیر المؤمنین} لکھ رہا ہے اگر کسی عمارت ، خط یا مضمون مسجد ٹرک یا بس پر 786 کا عدد لکھا ہوگا تو اس کا مطلب ہے کہ لکھنے والے نے {یا علی مولا علی امیر المؤمنین} لکھا ہے اگرچہ یہ لکھنا یا لکھوانا مسلمانوں کے نزدیک قطعآ ناپسند اور ناجائز ہو لیکن 786 کے کوڈ ہندسہ میں لاکھوں کروڑوں مسلمان{یا علی مولا علی امیر المؤمنین} اور {علی امیر المؤمنین وصی محمد} کے الفاظ اپنی خطوط اپنی تحریروں اپنی مسجدوں اپنے مضامین اور اپنی عمارات وغیرہ پر لکھ رہے ہیں اور دل ہی دل میں بڑے مسرور ہیں کہ ہم نے "بسم الله الرحمن الرحیم" کی برکت حاصل کرلی ہے
بسم الله الرحمن الرحیم کے لکھنے پڑھنے کا ثواب سے محرومی اور اس پرسمجھنا کہ ہمیں ثواب مل گیا ہے اور ہم نے صحیح راستہ اختیار کیا ہے کتنی بڑی گمراہی ہے جس میں چھوٹے بڑے عالم غیر عالم ، تعلیم یافتہ غیر تعلیم یافتہ سب مبتلا ہیں - اور ہمیں اس محرومی کا احساس بھی نہیں - "سورۃ الکہف آیت 106 میں ہے کہ ! یہی وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کی کرائی محنت گئی گزری ہوئی اور وہ {بوجہ جہل} اس خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں.
صحیح العقیدہ علمائے کرام ، پروفیسرز ، ڈاکٹرز ، انجینئرز ، ادیب ، شاعر ، دانشور صحافی صاحبان اور عوام الناس سے میری گزارش ہے کہ ہندسوں کالکھنا قطعآ ترک کردیں اگر کسی جگہ "بسم الله الرحمن الرحیم" لکھنے سے اس کی بے ادبی کا احتمال ہو وہاں کچھ نہ لکھا جائے زبان سے ہی پڑھ لے تاکہ اگر "بسم الله الرحمن الرحیم" لکھنے کا ثواب نہ ملا تو پڑھنے کا مل جائیگا اور 786 لکھنے کے گناہ عظیم سے اپنے آپ کو کم از کم بچایا جاسکے گا - الله تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور جو غلط باتیں ہمارے گرد و پیش اور ہماری اپنی ذات کے اندر رواج پاگئی ہیں ان سے ہمیں بچنے کی توفیق نصیب فرمائے - اور حق بات کو کہنے ، سننے کا جذبہ ہمارے اندر پیدا کرے جب کسی بات کا حق ، سچ ہونا ثابت ہوجائے پھر اس کے خلاف کوئی بادشاہی کتنے ہی عرصے سے کسی معاشرے یا کسی طبقہ میں رائج یا راسخ ہوچکی ہو اسے ترک کردینا ہے صراط مستقیم ہے
اقتباس : جامعہ عثمانیہ پشاور کا ترجمان
ماہنامہ "العصر" پشاور ص 37 تا 43 مئی 2011 - جمادی الثانی ۱۴۳۲ہجری
از : مولانا امجد سعید قریشی خطیب جامع مسجد عثمان غنی ڈب نمبر 1 مانسہرہ