Front - The Prophet Muhammed

Thursday, December 26, 2013

علماء دیوبند ڈاکٹر علامہ اقبال کی نظر میں

علماء دیوبند ڈاکٹر علامہ اقبال کی نظر میں
١۔''دیوبند ایک ضرورت تھی ۔اس سے مقصود تھا ایک روایت کا تسلسل وہ روایت جس سے ہماری تعلیم کا رشتہ ماضی سے قائم ہے ۔''
(اقبال کے حضور ص ٢٩٣)
٢۔'' میری رائے ہے کہ دیوبند اور ندوہ کے لوگوں کی عربی علمیت ہماری دوسری یونیورسٹیوں کے گریجویٹ سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔''
(اقبال نامہ حصہ دوم ص٢٢٣)
٣۔'' میں آپ (صاحبزادہ آفتاب احمد خان) کی اس تجویز سے پورے طور متفق ہوں کہ دیوبند اور لکھئنو (ندوہ) کے بہترین مواد کو بر سرِکار لانے کی کوئی سبیل نکالی جائے ۔''
(اقبال نامہ حصہ دوم ص ٢١٧)
٤۔''ایک بار کسی نے علامہ مرحوم سے پوچھا کہ دیوبندی کیا کوئی فرقہ ہے ؟ کیا'' نہیں ہر معقولیت پسند دیندار کا نام دیوبندی ہے ۔''
(علماء دیوبند کا مسلک ص ٥٥)
٥۔''مولوی اشرف علی تھانوی سے پوچھئے وہ اس (مثنوی مولاناروم ) کی تفسیر کس طرح کرتے ہیں میں اس (مثنوی کی تفسیر کے ) بارے میں انہی کا مقلد ہوں ۔''
(مقالات اقبال ص ١٨٠)
٦۔''میں ان (مولانا سید حسین احمد مد نی ) کے احترام میں کسی اور مسلمان سے پیچھے نہیں ہوں ۔''
(انوار اقبال ص ١٦٧)
٧۔''نیز فرماتے ہیں مولانا (سید حسین احمد مدنی ) کی حمیت دینی کے احترام میں میں ان کے کسی عقیدت مند سے پیچھے نہیں ہوں ۔''
(انواراقبال ص ١٧٠)
٨۔''… اس ( وہٹر ) کے متعلق مولوی سید انور شاہ صاحب سے جو دنیا ئے اسلام سے جید ترین محدث وقت میں سے ہیں میری خط و کتابت ہوئی ۔''
(انوار اقبال ص ٢٥٥)
٩۔''مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعٰیل شہید رحمتہ اﷲ علیہم نے اسلامی سیر ت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیاء کی کثرت اور صدیوں کی جمع شدہ قوت نے اس گروہ احرار کو کامیاب نہ ہونے دیا ۔''
(اقبال نامہ حصہ دوم ص ٤٩)
١٠۔''مولانا شبلی رحمتہ اﷲ علیہ (م١٣٣٢ ھ ١٩١٤ ئ) کے بعد آپ (حضرت مولانا سید سلمان ندوی خلیفہ مجازحضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ) اساذ الکل ہیں ۔''
(اقبال نامہ حصہ اول ص ٨٠)
عرضئہ اقبال بخدمت مولانا انور شاہ کشمیرے
مخدوم و مکر م حضرت قبلہ مولانا ! اسلامُ علیکم ورحمتہ اﷲ و برکاتہ ۔
مجھے ماسٹر عبد اﷲ صاحب سے ابھی معلوم ہوا کے آپ انجمن خدام الدین کے جلسے میں تشریف لائے ہیں اور ایک دو روز قیام فرمائیں گئے میں اسے اپنی بڑی سعادے تصّور کروں گا ۔اگر آپ کل شا م اپنے دیرینہ مخلص کے ہاں کھانا کھائیں جناب کی وساطت سے حضرت مولوی حبیب ارحمٰن صاحب قبلہ عثمانی حضرت مولوی بشیر احمد صاحب اور جناب مفتی عزیز الرحمٰن صاحب کی خدمت میں یہی التماس ہے
۔مجھے امید ہے کہ جناب اس عریضے کو شرفِ قبولیت بخشیں گے ۔آپ کو قیام گاہ سے لانے کے لیے سواری یہاں سے بھیج دی جائے گی ۔''
(منقول از اقبال نامہ حصہ دوم ص ٢٥٧

صحابۂ کرام کے حقوق


صحابۂ کرام کے حقوق

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تسبوا أصحابي ، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه .

( صحيح البخاري : 3673 ، الفضائل / صحيح مسلم : 2541 ، الفضائل )

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا : میرے صحابہ کی عیب جوئی نہ کرو ، اسلئے کہ اگر تم میں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے تو انکے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ۔

تشریح : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو اس میں سب سے اچھا دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو پایا تو انہیں اپنے لئے اور اپنی رسالت کیلئے منتخب کرلیا ، پھر جب [ نبیوں کے دلوں کے بعد اور ] بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو سب سے بہتر دلحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دل کو پایا تو اپنے نبی کے وزیر و ساتھی کے طور پر انکا انتخاب کر لیا جو اسکے دین کی بنیاد پر جہاد کئے ہیں تو یہ مسلمان [ یعنی صحابہ ] جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ اچھی ہے اور جس چیز کو برا سمجھیں وہ بری ہے ۔ {مسند احمد ، ج : 1 ، ص : 379 / شرح السنۃ ، ج : ۱ ص : 214 }

صحابی کہتے ہیں اس شخص کو جس نے حالت ایمان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی پر اسکا انتقال بھی ہوا ہو ، اہل سنت وجماعت کے یہاں صحابہ کرام کی بڑی اہمیت اور انکے کچھ خاص حقوق ہیں جنکا ادا کرنا ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے ، کیونکہ

اوّلا : تو وہ لوگ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں ،

ثانیا :ان کا تعلق دنیا کے سب سے بہتر زمانہ سے ہے ،

ثالثا : وہ لوگ امت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واسطہ ہیں ،

رابعا : اللہ تبارک و تعالی نے انہیں کے ذریعہ اسلامی فتوحات اور تبلیغ کی ابتدا کی ،

خامسا : وہ لوگ امانت و دیانت اور اچھے خلق کے جس مقام پر فائز تھے کوئی دوسرا وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔

صحابہء کرام کے حقوق

[ 1]

محبت :

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ( سورة المائدة : 55)

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

اس آیت میں اہل ایمان سے محبت کرنے والے کو اللہ تبارک وتعالی کا ولی قرار دیا گیا ہے اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت اہل ایمان صرف صحابہءکرام تھے۔

ارشاد نبوی ہے : آیۃ الایمان حب الانصار و آیۃ النفاق بغض الانصار

صحیح البخاری و صحیح مسلم عن ابن انس ]

انصار سے محبت ایمان کی علامت اور انصار سے بغض و نفرت نفاق کی علامت ہے ۔

[ 2 ]

دعا و استغفار :

وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ( سورة الحشر : 10 )

اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (و حسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے

اس لئے اہل سنت و جماعت کے نزدیک " رضی اللہ عنہ " صحابہء کرام کیلئے شعار ہے ۔

[ 3 ]

صحیح دلیل سے ثابت انکے فضائل کا اقرار :

جیسے عشرہ و مبشرہ ، حضرت عائشہ ، حضرت فاطمہ ، حضرت عمرو بن عاص وغیرہ کے فضائل میں وارد حدیثیں ۔

[ 4 ]

انکی عدالت کا اعتراف :

یعنی وہ ہر قسم کے گناہ سے پرہیز کرتے تھے تقوی کا التزام کرتے تھے ، ہر معاملہ پر حق و صواب کو حرز جان بناتے تھے ، اگر ان میں کسی سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ اجتہادی غلطی ہے یا پھر بتقاضائے بشریت ہے جس پر وہ اصرار نہیں کرتے تھے:

وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُوْلَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ( سورة الحجرات : 7 )

اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں ، اگر وہ تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں ، تو تم مشکل میں پڑ جاو لیکن اللہ تعالی نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنادیا ہے ، یہی لوگ راہ یافتہ ہیں ۔

[ 5 ]

انکی تعظیم و توقیر کی جائے :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

اکرموا اصحابی فانہم خیارکم {النسائی الکبری ، مصنف عبد الرزاق عن عمر }

میرے صحابہ کا احترام کرو کیونکہ وہ تم میں سب سے افضل ہیں ۔

[ 6 ]

انکی عیب جوئی نہ کی جائے اورانہیں برا بھلا نہ کہا جائے :

ارشاد نبوی ہے :

لا تسبوا اصحابی ، لعن اللہ من سب اصحابی ۔ { الطبرانی الاوسط عن عائشۃ }

میرے صحابہ کو بر بھلا نہ کہو ، اس شخص پر اللہ تعالی کی لعنت ہو جو میرے صحابہ کو برا کہے ۔

[ 7 ]

انکی غلطیوں کو اچھالا نہ جائے اور انکے اختلافات کو حدیث مجالس نہ بنایا جائے :

ارشاد نبوی ہے :

اذا ذکر اصحابی فامسکو { الطبرانی الکبیر ، عن ابن مسعود }

جب میرے صحابہ { کے آپسی اختلاف} کا ذکر ہو تو خاموشی اختیار کرو ۔

[ 8 ]

انکی علمیت اور دینی خدمات کا اعتراف کیا جائے :

کیونکہ انہی لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا واسطہ دین کو اخذ کیا ہے ۔

سمائے منکرین ختم نبوت انجام اورسن انجام اوردور خلافت و حکومت

اسمائے منکرین ختم نبوت انجام اورسن انجام اوردور خلافت و حکومت
۱
عبہلہ بن کعب معروف باَسود العنسی
قتل ہوا
۱۱ ھ
حضرت ابوبکر صدیقؓ
۲
مسیملہ بن کبیر حبیب الکذاب
قتل ہوا
۱۱ھ
حضرت ابوبکر صدیقؓ
۳
مختار بن ابوعبدابن مسعود ثقفی
قتل ہوا
۶۷ھ
حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ
۴
حارث ابن سعید کذاب
قتل ہوا
۷۹ھ
عبدالملک ابن مروان
۵
مغیرہ ابن سعید عجلی
قتل کیا گیا
۱۱۹ھ
ہشام ابن عبدالملک ابن مروان
۶
بیان ابن سمعان
قتل کیا گیا
۱۲۶ھ
ولید ابن یزید
۷
اسحاق اخرس
قتل کیا گیا
معلوم نہ ہوسکا
خلیفہ ابوجعفر منصور
۸
سیس خراسانی
قتل کیا گیا
۱۵۰ھ
خلیفہ ابوجعفر منصور
۹
ابوعیسیٰ بن اسحاق یعقوب اصفہانی
قتل کیا گیا
نامعلوم
خلیفہ ابوجعفر منصور
۱۰
حکیم مقنع خراسانی
خود کشی کی
۱۶۳ھ
خلیفہ مہدی
۱۱
بابک ابن عبداللہ خرمی
قتل کیا گیا
۲۲۳ھ
خلیفہ معتصم باللہ
۱۲
علی بن محمد عبدالرحیم
قتل کیا گیا
۲۷۰ھ
خلیفہ المعتمد علی اللہ
۱۳
ابوسعد حسن بن سیرام
قتل کیا گیا
۳۰۱ھ

۱۴
محمد بن علی شمغانی
قتل کیا گیا
۳۲۲ھ
خلیفہ راضی باللہ

ELM KE SANDOOQ

بنی اسرائیل میں ایک شخص کے پاس 80 صندوق تھے علم کے لیکن کبھی ان سے استفادہ
کا مو قع نہملا اللہ تعالی نے اس زمانہ کےنبی پر وحی بھیجی کہ اس علم جمع کر نے والے سے کہدو
اگر تو اس بھی زیادہ علم جمع کر لے تو تجھے اسوقت نفع نہ دے گا جبتک تو تین چیزوں پہ عمل نہ کر لے
تو دنیا سے محبت نہ کر اس لئے کہ یہ مو منیں کی قیام گاہ نہیں ہے
2 اور تو شیطان کا ساتھی نہ بن کیونکہ وہ مو منین کا دوست نہیں
3اور تو کسی کو تکلیف نہ دے کیونکہ یہ مومنین کا طریقہ نہیں
منبھات ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ ص26