Front - The Prophet Muhammed

Monday, August 25, 2014

مدنی عہد نبوت میں تعلیم و تبلیغ کا نظام


مدینہ منورہ آمد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جو کام کیا وہ مسجد نبوی کی تعمیر تھی۔
مسجد نبوی کے ایک گوشے میں ایک سائبان اور چبوتری (صفہ) بنایا گیا جس پر وہ مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنھم مدینہ منوری آکر رہنے لگے تھے جو نہ تو کچھ کار و بار کرتے تھے اور نہ ان کے پاس رہنے کو گھر تھا۔ مکہ مکرمہ اور دیگر علاقوں سے دین متین کی تعلیمات حاصل کرنے کے لیے آنے والے صحابہ کرام بھی یہاں قیام کرتے تھے۔ گویا صفہ ان غریب اور نادار صحابہ کرام کی جائے پناہ تھی جنہوں نے اپنی زندگی تعلیمِ دین، تبلیغ اسلام، جہاد اور دوسری اسلامی خدمات کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
مدنی عہد نبوت میں مذہبی تعلیم و تربیت کے دو طریقے تھے۔ ایک غیر مستقل، جس میں مختلف قبائل کے آدمی مدینہ آکر چند دن قیام کرتے اور ضروری مسائل سیکھ کر واپس چلے جاتے اور اپنے قبائل کو جاکر تعلیم دیتے۔ ضروری مسائل کی تعلیم کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کے قبائل میں واپس بھیج دیتے، چنانچہ مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کو بیس دن کی تعلیم کے بعد حکم دیا:
’’ارجعوا الی أھلیکم فعلّموھم و مروھم و صلوا کما رأیتمونی أصلی، و اذا حضرت الصلوۃ فلیؤذّن لکم احم کم ثم لیؤمکم اکبر کم‘‘ (1)
[تم اپنے خاندان میں واپس جاؤ اور ان میں رہ کر ان کو امور شریعت کی تعلیم دو اور جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اسی طرح پڑھانا، اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی اذان دے، پھر تم میں سے سب سے زیادہ پڑھا لکھا امامت کرائے]۔
اسی طرح وفد عبدالقیس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ادائے خمس، نماز، روزہ اور زکوۃ و غیرہ کی تعلیمات دیں اور پھر فرمایا:
’’احفظوہ و اخبروہ من وراء کم‘‘(2)
[ان باتوں کو یاد کر لو اور جاکر دوسروں کو بھی بتادو]۔
دوسرا طریقہ مستقل تعلیم و تربیت کا تھا اور اس کے لیے صفہ کی درس گا مخصوص تھی۔ اس میں وہ لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے جو علائق دنیوی سے بے نیاز تھے اور انھوں نے اپنے آپ کو دینی تعلیم و تربیت اور عبادت و ریاضت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ مسجد نبوی کی اس درس گاہ کے دو حلقے تھے، ایک درس و تعلیم کا حلقہ اور دوسرا ذکر و فکر اور عبادت و ریاضت کا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:
’’خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذات یوم من بعض حجرہ، فدخل المسجد، فاذا ھو بحلقتین احدھما یقرؤن القرآن و یدعون اللہ و الاخریٰ یتعلّمون و یعلّمون، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کل علی خیر، ھؤلآءِ یقرء ون القرآن و یدعون اللہ، فان شاء اعطاھم و ان شاء منعھم، و ھولاء یتعلّمون و یعلّمون و انما بعثت معلما، فجلس معھم‘‘(3)
[ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے تو مسجد میں دو حلقے دیکھے۔ ایک حلقہ کے لوگ تلاوت و دعا میں مصروف تھے اور دوسرے حلقے کے لوگ تعلیم و تعلم میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تحسین فرمائی اور فرمایا: دونوں بھلائی پر ہیں۔ یہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں، اگر چاہے تو ان کو عطا فرمائے اور اگر چاہے تو روک لے، اور یہ لوگ سیکھتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے کہ) ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘ حلقہء درس و تعلیم میں جا کر بیٹھ گئے]۔
اصحابِ صفہ کے لیے اساتذہ کا تقرر
اصحاب صفہ کے معلم اول تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تھی۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’اقبل ابوطلحۃ رضی اللہ عنہ یوما فاذا النبی صلی اللہ علیہ وسلم قائم یقری اصحاب الصفۃ علی بطنہ فصیل من حجر یقیم بہ صلبہ من الجوع‘‘(4)
[ایک دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ کو کھڑے قرآن پڑھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر کا ٹکڑا باندھا ہوا تھا تا کہ کمر سیدھی ہوجائے]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تعلیم و نصیحت سے فارغ ہوکر تشریف لے جاتے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھما حلقہ میں بیٹھ کر تعلیم کے سلسلہ کو اسی طرح جاری رکھتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لاتے تو لوگ خاموش ہوجاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہونے کے بعد فرماتے کہ اسی عمل میں مشغول رہیں اور اس کو جاری رکھیں۔ کبھی کبھار حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی تعلیمی حلقہ سنبھال لیتے تھے۔ (5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کئی مستقل معلمین بھی اصحاب صفہ کی تعلیم و تربیت پر متعین تھے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
’’علّمت ناسا من أھل الصفۃ القرآن و الکتاب فاھدیٰ الیّ رجل منھم قوسا‘‘(6)
[میں نے اصحاب صفہ میں سے چند لوگوں کو قرآن مجید پڑھایا اور لکھنے کی تعلیم دی تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی]
اسی طرح حضرت عبداللہ بن سعید بن العاص جو خوشخط تھے اور زمانہ جاہلیت میں بھی کاتب کی حیثیت سے مشہور تھے، اصحاب صفہ کو لکھنا سکھاتے تھے۔ (7)
اوقات تعلیم
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر ادا فرمالیتے تو ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ جاتے اور ہم میں سے کوئی آپ سے قرآن کے بارے میں سوال کرتا، کوئی فرائض کے بارے میں دریافت کرتا اور کوئی خواب کی تعبیر معلوم کرتا تھا۔ (8)
سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں بیٹھا کرتے تھے؟ تو انھوں نے کہا: ہاں، میں بہت زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک رہا کرتا تھا۔ جب تک آفتاب طلوع نہیں ہوتا تا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ پر رہتے تھے اور طلوع آفتاب کے بعد اٹھ کر مجلس میں تشریف لاتے تھے اور مجلس کے درمیان صحابہ زمانہ جاہلیت کے واقعات بیان کرکے ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیتے تھے۔
اصحاب صفہ انتہائی نادار اور مفلس تھے اس لیے ان میں سے بعض لوگ دن میں شیریں پانی بھر لاتے، جنگل سے سے لکڑیاں چن کر لاتے اور ان کو بیچ کر جو آمدنی ہوتی اس سے اپنے مصارف پورے کرتے تھے۔ (9)
اس مصروفیت کی وجہ سے ان میں سے بعض حضرات کو دن میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا، اس بنا پر ان کی تعلیم کا وقت رات کو مقرر کیا گیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ستر کے قریب اصحاب صفہ رات کے وقت تعلیم حاصل کرتے تھے۔
’’فکانوا اذا جنّھم اللیل انطلقوا الی معلم لھم بالمدینہ فیدرسون اللیل حتی یصبحوا‘‘(10)
[جب رات ہوجاتی تھی تو یہ لوگ مدینہ میں ایک معلم کے پاس جاتے اور رات بھر پڑھتے حتیٰ کہ صبح ہوجاتی]۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ مسجدنبوی سے ہٹ کر کوئی اور جگہ تھی جہاں اصحاب صفہ رات کے وقت تعلیم حاصل کرتے تھے۔ گویا اصحاب صفہ کا سارا وقت درس و تدریس ہی میں بسر ہوتا تھا۔ ابن المسیب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے:
’’یقولون: ان ابا ھریرۃ قد اکثر، واللہ الموعد و یقولون ما بال المھاجرین و الانصار لایتحدّثون مثل احادیثہ؟ و سأخبرکم عن ذالک: ان اخوانی من الانصار کان یشغلھم عمل ارضھم و اما اخوانی من المھاجرین کان یشغلھم الصفق بالاسواق و کنت الزم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی ملء بطنی، فاشھد اذا غابوا و احفظ اذا نسوا‘‘(11)
[لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے۔ اللہ ہی ہمارا اور تمہارا محاسبہ کرنے والا ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کیا وجہ ہے کہ انصار و مہاجرین ابوہریرہ کی طرح کثرت سے حدیثیں بیان نہیں کرتے؟ میں تمہیں بتلاتاہوں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ہمارے مہاجر بھائی بازاروں میں اپنے کار و بار میں لگے رہتے تھے اور انصاری بھایء اپنی زمین کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے تھے۔ میں محتاج آدمی تھا، میرا سارا وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزرتا تھا، پس جس وقت یہ موجود نہ ہوتے تھے میں موجود رہتا تھا اور جن چیزوں کو وہ بھلادیتے تھے میں محفوظ کرلیتا تھا]۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو خود بھی اصحاب صفہ میں سے تھے، ان کا یہ بیان گویا اصحاب صفہ کا ترجمان ہے۔ یہ سب لوگ درس گاہ نبوت میں سب سے زیادہ حاضر رہنے والے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس بیان کی تصدیق خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے ہوتی ہے:
’’کنت انا و جار لی من الانصار فی بنی امیۃ بن زید، و ھی من عوالی المدینۃ و کنا نتناوب النزول علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ینزل یوما و انزل یوما، فاذا نزلت جئتہ بخیر ذالک الیوم من الوحی و غیرہ، و اذا نزل فعل مثل ذالک‘‘(12)
[میں اور عوالی مدینہ میں قبیلہ امیہ بن زید کا ایک انصاری پڑوسی ہم دونوں باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جاتے تھے، ایک دن وہ جاتے اور ایک دن میں جاتا، جب میں جاتا تو اس دن کی وحی و غیرہ کی خبر لاتا اور جس دن وہ جاتے وہ بھی اسی طرح کرتے]۔
طریقہ تعلیم
ابتدا میں مجلس میں طلبہ کے بیٹھنے کا کوئی خاص انتظام اور طریقہ نہ تھا، جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے حلقے بنا کر بیٹھ جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ ایک حلقہ بنوایا اور سب لوگ ایک ساتھ بیٹھنے لگے۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے:
’’دخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المسجد و ھم حلق فقال صلی اللہ علیہ وسلم: مالی اراکم عزین‘‘(13)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے جدا جدا حلقے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے تو لوگ جدا جدا ہو (یعنی ایک ساتھ بیٹھو)]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام حاضرین مجلس کو اس طرح تعلیم دیتے تھے کہ عالم، جاہل، شہری، بدوی، عربی، عجمی، بوڑھے، بچے، جوان پوری طرح فیض اٹھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سامعین کے دل میں اترجاتی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
’’انہ کان اذا تکلم بکلمۃ اعاھا ثلاثا حتی تفھم عنہ، و اذا أتی علی قوم فسلم علیھم ثلاثا‘‘(14)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی حدیث بیان کرتے تو اس کو تین بار کہتے تھے تا کہ سمجھ لی جائے اور جب کسی جماعت کے پاس جاتے تو ان کو تین بار سلام کرتے تھے]۔
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو مسجد نبوی کی اس درس گاہ کے معلم تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے قریب اہل مجلس کے سامنے جلدی جلدی حدیثیں بیان کرنے لگے۔ اس وقت ام المومنین حضرت عائشۃ رضی اللہ عنہا نماز میں مصروف تھیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجلس ختم کرکے جاچکے تھے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابوہریرہ مل جاتے تو میں ان کے جلدی جلدی حدیث بیان کرنے پر نکیر کرتی، اس کے بعد فرمایا:
’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یکن یسرد الحدیث سردکم‘‘(15)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح حدیث بیان کرتے تھے کہ اگر شمار کرنے والا چاہتا تو شمار کرلیتا]۔
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیحدّث الحدیث لو شاء العادّ ان یحصیہ أحصاہ‘‘(16)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح حدیث بیان کرتے تھے کہ اگر شمار کرنے والا چاہتا تو شمار کرلیتا]۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تعلیم یہ تھا کہ آپ بات ٹھہر ٹھہر کر اس انداز میں کہتے کہ سننے والوں کے دل میں بیٹھ جائے، یاد کرنے والے یاد کرلیں اور لکھنے والے لکھ لیں۔ نرم کلامی، شیریں بیانی اور انداز تعلیم کے اس اسلوب کی بدولت بدوی لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوجاتے تھے۔ حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز پڑھ رہاتھا، مجھ سے خلاف نماز کوئی حرکت سرزد ہوگئی، جس کی وجہ سے تمام نمازی مجھ سے بگڑ گئے اور گھور گھور کر میری طرف دیکھنے لگے، لیکن خود معلم انسانیت کا رویہ اور طریقہ تعلیم کیا تھا؟ صحابی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’فبأبی ھو و امی، ما رأیت معلما قبلہ و لا بعدہ احسن تعلیما منہ، فواللہ ما کھرنی و لاضربنی و لا شتمنی، قال صلی اللہ علیہ وسلم: ان ھذہ الصلوۃ لایصلح فیھا شیء من کلام الناس، انما ھو التسبیح و التکبیر و قرأۃ القرآن‘‘(17)
[میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر معلم نہیں دیکھا۔ خدا کی قسم نہ مجھے جھڑکا، نہ مارا اور نہ ہی سخت سست کہا، بلکہ فرمایا نماز میں انسانی کلام اچھا نہیں ہے۔ اس میں صرف تسبیح، تکبیر اور قرآن پڑھنا ہے]۔
اصحاب صفہ میں درس و تدریس کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ ایک شخص قرآن مجید پڑھتا جاتا اور دوسرے لوگ سنتے جاتے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ضعفاء مہاجرین کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان میں سے بعض لوگ عریانیت کے خوف سے ایک دوسرے سے مل کر بیٹھے تھے اور ایک قاری ہم لوگوں کو قرآن پڑھا رہا تھا۔ اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ہمارے پاس کھڑے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر قاری خاموش ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کرکے پوچھا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قاری قرآن پڑھ رہا ہے اور ہم سن رہے ہیں۔ ہمارا جواب سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما:
’’الحمدللہ الذی جعل من امتی من امرت ان أصبر نفسی معھم‘‘
[اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا ہے جن کے ساتھ مجھے بیٹھنے کا حکم ہے]۔
یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سامنے رہیں، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح بیٹھو، اور حاضرین مجلس اس طرح حلقہ بنا کر بیٹھ گئے کہ سب کا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فقراء مہاجرین! تم کو بشارت ہو قیامت کے دن نور تام کی، تم لوگ مالداروں سے آدھ دن پہلے جنت میں داخل ہوگے، اور (دنیوی حساب سے) پانچ سو سال ہے۔ (18)
اصحاب صفہ کی دعوتی سرگرمیاں
ویسے تو ہر مسلمان ہی داعی اور مبلغ ہے اور دعوت و تبلیغ ہی اس مات کا وہ خصوصی وصف ہے جس کی بدولت اس کو ’’خیر الامم‘‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا۔(19) اسلامی معاشرہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت دین کے لیے ایک ایسی جماعت تیار کرے جو امربالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’ وَ لْتَکُنْ مِنْکُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ أُولئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ‘‘ (آل عمران 104)
[تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے]
چنانچہ ہجرت مدینہ کے فورا بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی مین ایک باقاعدہ درسگاہ قائم فرمائی، تاکہ مبلغین کی ایک تربیت یافتہ جماعت تیا کی جائے۔ اصحاب صفہ کی صورت میں جب یہ جماعت تیار ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اصحاب کو جو اپنے علم و فضل کی وجہ سے ’’قراء‘‘ کہلاتے تھے۔ (20) مختلف دعوتی و تبلیغی مہمات پر روانہ فرمایا۔
رجیع کی مہم:
صفر سنہ 4ھ میں قبائل عضل و قارہ چند آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارگاہِ رسالت میں درخواست کی کہ آپ اپنے رفقا میں سے کچھ آدمیوں کو ہمارے ساتھ روانہ کردیجیے تا کہ وہ لوگوں میں دین کی سمجھ پیدا کریں، قرآن پڑھائیں اور شریعت اسلامیہ کی تعلیم دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب صفہ میں سے مندرجہ ذیل چھ (*1) افراد منتخب کیے: مرثد بن ابی مرثد غنوی، خالد بن بکیر لیثی، عاصم بن ثابت، خبیب بن عدی، زید بن دثنہ، عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنھم، اور مبلغین کی اس جماعت کا امیر مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔
جب یہ لوگ رجیع، جو مکہ اور عسفان کے درمیان ایک جگہ ہے، پہنچے تو قبیلہ عضل اور قارہ کے لوگوں نے مسلمانوں سے غداری کی اور قبیلہ ہذیل کو مدد کے لیے پکارا، چنانچہ ان لوگوں نے حضرت خبیب بن عدی اور زید بن دثنہ کو پناہ کا دھوکہ دے کر گرفتار کرلیا، جبکہ باقی صحابہ کو شہید کردیا گیا۔ زید بن دثنہ اور خبیب بن عدی کو بھی ان لوگوں نے بعد میں مکہ لے جا کر فروخت کردیا، چنانچہ زید بن دثبہ کو صفوان بن امیہ نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے عوض قتل کرنے کے لیے خرید لیا، جبکہ خبیب کو حجیر بن ابواہاب تمیمی نے خرید کر قتل کردیا۔ (21)
بئر معونہ کی مہم:
صفر سنہ ۴ھ میں نجد کے ایک قبیلے عامر بن صعصہ کے ایک رئیس ابوالبراء عامر بن مالک کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی، وہ نہ اسلام لایا اور نہ اس نے تردید کی بلکہ کہنے لگا! اے محمد! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفقا میں سے کچھ لوگوں کو اہل نجد کے ہاں بھیج دیں اور وہ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا کر انہیں اسلام کی دعوت دیں تو مجھے امید ہے اہل نجد آپ کے پیغام پر ضرور لبیک کہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: مجھے اپنے آدمیوں کے متعلق اہل نجد سے خوف ہے۔ ابوبراء نے کہا: میں اس کا ضامن ہوں، اس لیے آپ ان کو روانہ فرمادیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عمرو کی قیادت میں ستر صحابہ جو سب کے سب درسگاہ صفہ کے تربیت یافتہ تھے، اس کے ساتھ بھیج دیے۔ (22)
ابن ہشام اور ابن اثیر کی روایت کے مطابق یہ جماعت چالیس صحابہ پر مشتمل تھی۔ یہ سب لوگ بئر معونہ پہنچ گئے، جو بنو سلیم کے قریب ایک جگہ تھی۔ وہاں سے اپنی جماعت کے ایک آدمی حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دے کر قبیلے کے سردار عامر بن طفیل کے طرف بھیجا، لیکن اس نے خط پڑھنے سے قبل ہی قاصد کو قتل کردیا اور بنو سلیم کے ہمراہ بئر معونہ روانہ ہوا اور باقی مسلمانوں کو بھی قتل کردیا۔ (23)
سطور بالا کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتی و تبلیغی مقاصد کے لیے ایک ایسی جماعت کی تیاری کو ضروری خیال کیا جس کو دعوتی مشن اپنی جان سے بھی عزیز تھا۔ رجیع اور بئر معونہ کی دعوتی مہمات میں انتہائی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان واقعات کا انتہائی رنج ہوا۔ اس لیے بعد کے دور میں خالصتا تبلیغی مہمات بھی حفاظتی نقطہ نظر سے مسلح کرکے بھیجی گئیں۔
درس گاہ صفہ کے تربیت یافتہ معلمین و مبلغین کی دعوتی سرگرمیاں اس کے بعد بھی جاری رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو مختلف جہادی مہمات میں افواج کے ہمراہ بطور مبلغ روانہ فرماتے، اس کے علاوہ قبائل عرب کی طرف سے آنے والے وفود کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی آپ اصحاب صفہ سے مدد لیتے تھے۔
قریش مکہ کو چونکہ مذہبی سیادت حاصل تھی، اس لیے عرب میں ان کا ادب و احترام کیا جاتا تھا اور تمام عرب مذہبی معاملات میں ان کو اپنا مقتدا اور پیشوا سمجھتے تھے۔ کفر و اسلام اور حق و باطل کی جو آویزش جاری تھی، اس میں قبائل عرب قریش کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بالآخر جب مکہ فتح ہوگیا اور قریش سب کے سب مسلمان ہوگئے تو اب قبائل عرب کے لیے بھی اسلام کے حق میں فیصلہ کرنا آسان ہوگیا۔ ابن حجر لکھتے ہیں:
’’ان مکۃ لما فتحت بادرت العرب باسلامھم فکان کل قبیلۃ ترسل کبراء ھا یسلّموا و یتعلّموا و یرجعوا الی قومھم فیدعوھم الی الاسلام‘‘(24)
[فتح مکہ کے بعد تمام عرب نے اسلام کی طرف نہایت تیزی سے قدم بڑھایا۔ ہر قبیلہ اپنے سرداروں کو بھیجتا تھا کہ جاکر اسلام لائیں اور دین کی تعلیم حاصل کریں، واپس آئیں تو اپنی قوم کو دعوت اسلام دیں۔
فتح مکہ کے بعد تقریبا ایک سال کے عرصے میں تمام قبائل عرب نے اپنے منتخب افراد کو وفود کی صورت میں مدینہ طیبہ بھیجاتا کہ وہ پوری قوم اور قبیلہ کی طرف سے اسلام کی بیعت کریں۔ فتح مکہ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کہ جو قبیلہ اور قوم بھی اسلام قبول کرے، اسے مدینہ آکر مستقل رہنے پر آمادہ کیا جائے۔ اس کی بظاہر حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو لوگ دارالہجرت میں آکر دین کی تعلیم حاصل کریں اور مزید یہ کہ دفاعی نقطہ نظر سے بھی مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد اور طاقت میں اضافہ ہو۔ چنانچہ فتح مکہ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دعوتی مہمات روانہ فرماتے تھے، ان کو یہی نصیحت کی جاتی تھی کہ لوگوں کو دین کی دعوت دیں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو ان کو مدینہ کی طرف ہجرت کی دعوت دیں۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: 
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا بعث امیرا علی سریۃ اور جیش اوصاہ بتقوی اللہ فی خاصۃ نفسہ و بمن معہ من المسلمین خیرا، و قال صلی اللہ علیہ وسلم: ’ اذا لقیت عدوک من المشرکین فادعھم الہ احدی ثلاث خصال فایتھا اجابوک الیھا فاقبل منھم و کف عنھم، ادعھم الی الاسلام، فان اجابوا فاقبل منھم و کف عنھم، ثم ادعھم الی التحول من دارھم الی دارالمھاجرین و أعلمھم انھم ان فعلوا ذالک ان لھم ما للمھاجرین، فان ابوا و اختاروا دارھم فأعلمھم انھم یکونون کأعراب المسلمین یجری علیھم حکم اللہ الذی کان یجری علی المؤمنین و لایکون لھم دی الفئ و الغنیمۃ نصیب الا ان یجاھدوا مع المسلمین، فان ھم ابوا فادعھم الی اعطاء الجزیۃ فان اجابوا فاقبل منھم و کف عنھم، فان ابوا فاستعن باللہ و قاتلھم۔ (25)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی جماعت یا لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرماتے تو اس کو خاص اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہیں، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتے اور یہ فرماتے: جب تمہارا مشرک دشمنوں سے سامنا ہو تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا۔ ان باتوں میں سے جو بات بھی وہ مان لیں، تم اسے ان سے قبول کرلینا اور ان سے جنگ نہ کرنا۔ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو، اگر وہ اسے منظور کرلیں تو تم ان سے اسے قبول کرلو اور ان سے رک جاؤ، پھر تم ان کو اپنا علاقہ چھوڑ کر دارالمہاجرین (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو اور انہیں یہ بتلادو کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو وہ تمام منافع میں گے جو مہاجرین کو ملتے ہیں اور ان پر وہ تمام ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں اور اگر وہ سے نہ مانیں اور اپنے علاقے میں رہنے کو ہی ترجیح دیں تو انہیں بتلادو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور اللہ کے احکام جو تمام مسلمانوں کے ذمہ ہیں، وہ ان کے ذمہ ہوں گے۔ انہیں فے اور مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ ہاں اگر مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو حصہ ملے گا۔ اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اسے مان لیں تو تم اسے قبول کر لو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ اسے بھی نہ مانیں تو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے ان سے جنگ کرو]۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے بعد انتہائی سالوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کو نو مسلم قبائل اور افراد کو مدینہ کی طرف ہجرت کی ترغیب دی جائے، لیکن فتح مکہ کی صورت میں جب اسلام کو نئی قوت و شوکت نصیب ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکمت عملی تبدیل فرمائی اور واضح طور پر اعلان فرمادیا گیا:
’’لا ھجرۃ بعد فتح مکۃ‘‘(26)
[فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے]۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار یہ تھا کہ جو لوگ بھی انفرادی طور پر یا وفود کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خود تعلیم ارشاد فرماتے اور بعض اوقات انصار و مہاجرین صحابہ کو حکم دیتے کہ وہ ان لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دیں اور جب وہ لوگ دین کے بنیادی امور کا علم حاصل کرلیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان وفود کو جو عام طور پر رؤساے قبائل پر مشتمل ہوتے تھے، واپس اپنے قبائل میں جانے کا حکم دیتے اور ان کو حکم ہوتا تھا کہ وہ جو کچھ سیکھ چلے ہیں وہ اپنے دوسرے لوگوں کو سکھائیں۔ (27)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک جگہ ’’وصاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفود العرب ان یبلغوا من وراءھم‘‘(28) کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس کو آگے دوسروں تک پہنچانا ان وفود کا سب سے اہم فریضہ تھا۔ نیز بعض علاقوں کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتی مہمات روانہ فرمائیں اور مبلغین کو تلقین کی کہ اگر وہ لوگ اطاعت کا اظہار کریں تو ان کو قرآن و سنت کی تعلیم دیں اور ان کو کہیں کہ وہ وفد بن کر مدینہ آئیں اور براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضیاب ہوں۔ (29)
چنانچہ سنہ 9ھ میں اس کثرت سے وفود آئے اس لیے مورخین نے اس سال کو ’’عام الوفود‘‘ کا نام دے دیا۔ ان وفود میں سے بعض سینکڑوں افراد پر بھی مشتمل تھے (*2) اور بعض محض ایک دو اور تین افراد پر۔ ان وفود کی تعداد میں بھی کافی اختلاف ہے تا ہم یہاں ان میں سے ان چند وفود اور قبائلی وؤسا کا ذکر کرلیا جارہا ہے جن کا کردار دعوت و تبلیغ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔
قبائلی رؤسا کی تعلیم و تربیت کا انتظام
اصحاب صفہ کی منظم اور مستقل تبلیغی جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ ہر قبیلہ اور جماعت میں سے کچھ ایسے لوگ موجود رہیں جو تعلیم و ارشاد اور دعوت و تبلیغ کے فریضہ کو انجام دیتے رہیں۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں یہ حکم نازل ہوا:
’’ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ‘‘ (التوبہ۔ 122)
[اور سب مسلمان تو سفر کرکے (مدینہ) نہیں آسکتے تو ہر قبیلہ سے ایک جماعت کیوں نہیں آتی کہ وہ دین کی سوجھ بوجھ حاصل کریں، تا کہ جب وہ واپس جائیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں، شاید وہ بری باتوں سے بچ جائیں]۔
چنانچہ بعض قبائل نے تو خود ہی اپنے نمائندہ افراد کو مدینہ بھیجا اور بعض قبائل مثلا بنو حارث بن کعب اور ہمدان و غیرہ کو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ وہ اپنے وفود بھیجیں۔ چنانچہ اس کے بعد عرب کے تقریبا ہر قبیلہ نے اپنے وفود بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں بھیجے تا کہ وہ دین کا فہم حاصل کریں اور واپس آکر خود ان کو اس کی تعلیم دیں۔ تفسیر خازن میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے:
’’کان ینطلق من کل حی من العرب عصابۃ فیأتون النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیسألونہ عما یریدون من امر دینھم و یتفقّھون فی دینھم‘‘(30)
[عرب کے ہر قبیلے کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی امور دریافت کرتا اور دین کا فہم حاصل کرتا]۔
آنے والے وفود اور قبائل عرب کے نمائندہ افراد کی ایسی تعلیم و تربیت کہ وہ واپس جاکر دعوت و تبلیغ کا کام کما حقہ کرسکیں، بڑی اہم ذمہ داری تھی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین اور اصحاب صفہ کی مدد سے عمدہ طریقہ سے انجام دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفود عرب میں آنے والے قبائلی عمائدین کی خود تعلیم و تربیت فرماتے اور بعض اوقات انصار و مہاجرین کو حکم ہوتا کہ معزز مہمانوں کے قیام و طعام کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو قرآن و سنت سکھائیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یشغل، فاذا قدم رجل مھاجر علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دفعہ الی رجل منا یعلمہ القرآن‘‘(31)
[کوئی شخص جب ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تعلیم قرآن کے لیے ہم میں سے کسی کے سپرد کردیتے۔
چنانچہ حضرت وردان رضی اللہ عنہ طائف سے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا کہ ان کہ مصارف کا بار اٹھائیں اور ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیں۔ (32)
انصار مدینہ باہر سے آنے والے حضرات کی مہمان نوازی کے ساتھ اس لگن اور دلسوزی سے ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے کہ وہ لوگ تشکر کے جذبات کے ساتھ واپس جاتے تھے۔ چنانچہ وفد عبدالقیس آیا تو اس اعتراف کے ساتھ واپس گیا:
’’خیر اخوان، ألانوا فراشنا، وأطابوا مطعمنا، و باتوا و اصبحوا یعلّمونا کتاب ربنا و سنۃ نبینا‘‘(33)
[یہ ہمارے بہترین بھائی ہیں۔ انہوں نے ہمیں نرم بستر مہیا کیے، اچھا کھانا کھلایا اور دن رات ہمیں اللہ کی کتاب اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیتے رہے]۔
آنے والی سطور میں ان چند قبائلی رؤسا اور مبلغین کا ذکر کیا جارہا ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے قبائل میں دعوت کا فریضہ انجام دیا۔
عمیر بن وہب کی قریش مکہ کو دعوت
عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ قریش کے ممتاز سرداروں میں سے ایک تھے۔ یہ ابتدائے اسلام میں اسلام کے شدیدترین دشمنوں میں سے ایک تھے۔ ان کا بیٹا وہب بن عمیر غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو چھڑوانے کے بہانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس سازش کا سوائے صفوان بن امیہ کے کسی کو علم نہ تھا، جو خود اس منصوبے میں شریک تھے۔ لیکن مدینہ پہنچ کر جب وہ اس ارادے سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بذریعہ وحی صفوان بن امیہ کے ساتھ تیار کردہ سازش سے آگاہ کردیا اب عمیر پر حقیقت حال واضح ہوچکی تھی۔ اس لیے انہوں نے فورا اسلام قبول کرلیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
’’فائذن لی یا رسول اللہ فالحق بقریش فادعوھم الی اللہ و الی الاسلام لعل اللہ ان یھدیھم‘‘(34)
[یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جاکر اہل مکہ کو اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دوں۔ امید ہے کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت دے گا]۔
ابن الاثیر کا بیان ہے کہ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ مکہ میں مسلسل اسلام کی صدا بلند کرتے رہے۔ چنانچہ صفوان بن امیہ سمیت متعدد لوگوں نے آپ کی ترغیب سے ہی اسلام قبول کیا۔ (35)
حضرت ضحاک بن سفیان کا بنوکلاب کو دعوت اسلام
حضرت ضحالک کی کوششوں سے بنوکلاب کا پورا قبیلہ اسلام لے آیا۔ سنہ 9ھ میں اس قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اسلام لانے کی اطلاع دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ضحاک بن سفیان نے ہمارے درمیان کتاب اور آپ کی سنت کے مطابق عمل کیا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی، ہم نے اسے قبول کرلیا۔ (36)
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم باہلہ کو دعوت اسلام
ابوامامہ باہلی نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی اپنی قوم کی طرف ہی مبلغ بنا کر بھیجا تا کہ وہ ان کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ قوم نے جب ان کو دیکھا تو خوش ہوکر کہا: صدی بن عجلان (ابوامام کا نام ہے) کو خوش آمدیدی ہو۔ اور کہنے لگے کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ تم بے دین ہو کر اس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے طرف مائل ہوگئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: نہیں بلکہ میں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل ہوگیا ہوں اور مجھے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے پاس بھیجا ہے تا کہ میں تم پر اسلام اور اس کے احکام پیش کروں۔
چنانچہ اس کے بعد ابوامامہ رضی اللہ عنہ ان کو اسلام کی دعوت دینے لگے، لیکن قوم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان پر بڑی سختی کی۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بڑی استقامت کا مظاہری کیا۔ بالآخر ان کی دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں پوری قوم مسلمان ہوگئی۔ (37)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد دعوت دین کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا جہاں دوچار لوگوں کو دیکھتے ان تک اسلام کا پیغام ضرور پہنچاتے۔ مسلم بن عامر کا بیان ہے: ’’جب ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھتے تو وہ ہم کو احادیث سناتے اور کہتے ان کو سنو، سمجھو اور جو سنتے ہو اس کو دوسروں تک پہنچاؤ‘‘(38)
سلمان بن حبیب محاربی بیان کرتے ہیں: میں حمص کی مسجد میں گیا، دیکھا کہ مکحول رحمہ اللہ اور ابن زیاد زکریا دونوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مکحول نے کہا کہ اس وقت دل چاہتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے حضور چلتے، ان کی کچھ خدمت کرتے اور ان سے کچھ حدیثیں سنتے۔ سلمان کہتے ہیں: ہم لوگ اٹھے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اس کے بعد فرمایا: تمہارا میرے پاس آنا تمہارے لیے باعث رحمت بھی ہے اور تمہارے اوپر حجت بھی، (یعنی اگر تم حدیث کی خلاف ورزی کروگے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امت کے حق میں جھوٹ اور تعصب سے زیادہ اور کسی چیز کا خوف کرتے ہوئے نہیں دیکھا، آگاہ رہو جھوٹ اور تعصب سے بچو پھر فرمایا: 
’’الا و انہ أمرنا ان نبلّغکم ذالک عنہ ألا و قد فعلنا فأبلغوا عنا ما قد بلّغنا کم‘‘(39)
[آگاہ رہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم یہ باتیں تم تک پہنچادیں۔ آگاہ رہو ہم نے پہنچادیں، لہذا اب تم ان باتوں کو جو ہم سے تم نے سنیں ہیں دوسروں تک پہنچادینا]۔
حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کے لیے دعوت
حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو خدمت اقدس میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور قرآن مجید کی تعلیم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے حاصل کی (40) پھر بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میری قوم میں بھیج دیں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی ان پر بھی میرے ذریعہ فضل فرمادے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے مجھ پر فرمایا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی قوم میں دعوت اسلام کی اجازت مرحمت فرمائی، انہوں نے قوم کو ان الفاظ میں اسلام کی طرف بلایا:
’’یا معشر جھینۃ! انی رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیکم ادعوکم الی الاسلام و اٰمرکم بحق الدماء و صلۃ الارحام، و عبادۃ اللہ وحدہ، و رفض الاصنام و بحج البیت، و صام شھر رمضان شھر من اثنی عشر شھرا، فمن اجاب فلہ الجنۃ و من عصی فلہ النار‘‘(41)
[اے قبیلہ جہینہ! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں اور تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اور میں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم خون کی حفاظت کرو، صلہ رحمی کرو، ایک اللہ کی عبادت کرو، بتوں کو چھوڑ دو، بیت اللہ کا حج کرو اور بارہ مہینوں میں سے رمضان کے روزے رکھو۔ جو مان لے گا اس کے لیے جنت ہے اور جس نے نافرمانی کی اس کے لیے جہنم کی آگ ہے]۔
حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کی مسلسل دعوت اور کوشش سے ان کی قوم نے اسلام قبول کرلیا تو وہ اپنی قوم کو لے کر بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استقبال فرمایا، ان کو درازی عمر کی دعا دی اور ان کی قوم کے لیے ایک تحریر لکھ کردی۔(42)
رفاعہ بن زید جزامی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کے لیے بطور مبلغ تقرری
خیبر سے قبل صلح حدیبیہ کے موقع پر رفاعہ بن زید جزامی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک تحریر ان کی قوم کے لیے لکھ دی اور ان کو اپنی قوم کی طرف مبلغ بنا کر روانہ فرمایا۔ اس خط میں تحریر تھا:
’’ھذا کتاب من محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لرفاعۃ بن زید، انی بعثتہ الی قومہ عامۃ، و من دخل فیھم یدعوھم الی اللہ و الی رسولہ، فمن اقبل منھم ففی حزب اللہ و حزب رسولہ‘‘(43)
[یہ محمد رسول اللہ کی جانب سے رفاعہ بن زید کے لیے تحریر ہے کہ میں نے انہیں ان کی عام قوم کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو ان کی قوم میں داخل ہوں، بھیجا ہے، رفاعہ ان سب کو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف دعوت دیں گے، جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا، اللہ اور اس کے رسول کی جماعت میں شمار ہوگا]۔
پھر جب رفاعہ بن زید اپنی قوم میں پہنچے تو قوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور اسلام قبول کرلیا۔(44)
عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ثقیف کو دعوت؍ عثمان بن ابی العاص کا بطور امیر تقرر
ابن اسحاق کی روایت ہے کہ ماہ رمضان سنہ 9ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لارہے تھے عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ثقفی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور عرض کیا کہ مجھے اپنی قوم میں جانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں ان کو اسلام کی طرف بلاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہیں ایسا نہ ہوکہ ثقیف تمہیں قتل کر ڈالیں۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ان کے نزدیک باکرہ عورتوں سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔
چنانچہ وہ اس امید پر کہ قوم ان کی مخالفت نہیں کرے گی بڑے جذبے کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے اسلام کی دعوت کے لیے روانہ ہوئے۔ جب وہ اپنے مکان کے بالاخانے پر نمودار ہوئے، قوم کو اسلام کی طرف بلایا اور ان پر اپنا دین ظاہر کیا تو انہوں نے ہر طرف سے ان پر تیروں کا مینہ برسادیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے لیکن حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کی یہ قربانی رائیگاں نہ گئی، جلد ہی قوم کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ چہ افراد پر مشتمل ایک وفد بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا اور مدینہ میں ٹھہر کر اسلام کی تعلیمات سے فیض یاب ہونے لگے۔ جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک تحریر لکھ دی اور عثمان بن ابی العاص کو ان کا امیر مقرر کیا۔
ابن ہشام نے ان کے تقریر کی یہ حکمت بیان کی ہے: ان لوگوں میں انہیں اسلام کو ٹھیک طور پر سمجھنے اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کا سب سے زیادہ شوق تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہ کہتے ہوئے ان کے تقرر کی سفارش کی:
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! انی قد رأیت ھذا الغلام منم من احرصھم علی التفقہ فی الاسلام و تعلم القرآن‘‘(45)
[یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس لڑکے کو ان لوگوں میں تفقہ فی الدین، مسائل دینی اور قرآن سیکھنے کا سب سے زیادہ حریص پاتا ہوں]۔
وفد بنو تمیم
بنو تمیم کا وفد بڑی شان و شوکے سے 9ھ میں مدینہ آیا۔ وفد میں قبیلہ کے تقریبا تمام بڑے رؤسا مثلا اقرع بن حابس، عمرو بن اہتمم، نعیم بن یزید، قیس بن حارث، عطارد بن حاجب، زبرقان بن بدر اور عینیہ بن حصن و غیرہ شامل تھے۔ یہ لوگ اپنے خطیب اور شاعر ساتھ لے کر آئے تھے۔ ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
’’کان دی وفد تمیم سبعون او ثمانون رجلا ثم اسلموا القوم و بقوا بالمدینۃ مدۃ یتعلمون القرآن و الدین‘‘(46)
[قبیلہ بنو تمیم کے ستر یا اسی افراد وفد کی صورت میں حاضر ہوکر اسلام لائے اور مدینہ میں ایک مدت تک دین اسلام اور قرآن کی تعلیم حاصل کرتے رہے]۔
اسی وفد کے متعلق اللہ تعالی نے یہ آیت مقدسہ نازل فرمائی تھی:
’’ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاء الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ‘‘(الحجرات 4)
[وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجروں کے عقب سے پکارتے ہیں ان میں سے بیشتر نامسجھ ہیں]۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے کہا! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ہم تمہارے پاس مفاخرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اس لیے ہمارے شاعر اور خطیب کو اجازت دو۔ چنانچہ بنو تمیم کی طرف سے عطارد بن حاجب نے تقریر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ثابت بن قیس نے اس کا جواب دیا۔ اسی طرح زبرقان بن بدرنے فخریہ اشعار پڑھے تو ابن اسحاق کے بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا تو انہوں نے ان کا جواب دیا۔ دو طرفہ مفاخرہ کے بعد اقرع بن حابس یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے: ’’باپ کی قسم! یہ آدمی (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) وہ ہیں جن کو توفیق الہیٰ حاصل ہے، ان کا خطیب ہمارے خطیب سے بہتر ہے، ان کا شاعر ہمارے شاعر سے بہتر ہے اور ان کی الفاظ ہمارے الفاظ سے شیریں ہیں‘‘
پھر بنو تمیم کے وفد کے تمام افراد اسلام لے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہترین انعامات سے نوازا۔ (47)
ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی بنو سعد بن بکر کو دعوت اسلام
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کو بارگاہ رسالت میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ کو آئیں۔ ضمام بڑے جری انسان تھے، چنانچہ یہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور پوچھا: ایکم ابن عبدالمطلب؟ (تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’انا ابن عبدالمطلب‘‘۔ (میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)ْ پھر ضمام بن ثعلبہ نے اسلام کے متعلق کئی سوال کیے، جن کو ابن ہشام اور دوسرے مؤرخین نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مطمئن ہونے کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور کہا:
’’فانی اشھد ان لاالہ الااللہ و اشھد ان محمدا رسول اللہ و سأودّی ھذہ الفرائض و اجتنب مانھیتنی عنہ، ثم لاازید و الانقص‘‘(48)
[میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اقرار کرتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اور میں یہ فرائض ادا کرتا رہوں گا اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان سے پرہیز کروں گا، پھر میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی کروں گا]۔
پھر اپنے اونٹ پر بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔ جب اپنی قوم میں پہنچے تو پوری قوم ان کے پاس جمع ہوگئی چنانچہ انہوں نے قوم سے جو پہلی بات کہی وہ یہ تھی:
’’یئست اللات و العزی! قالوا: مہ یا ضمام! اتق البرص، اتق الجذام، اتق الجنون! قال: ویلکم انھما واللہ لا یضران و لاینفعان، ان اللہ قد بعث رسولا و انزل علیہ کتابا استنقذکم بہ مما کنتم فیہ، و انی اشھد ان لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ، وقد جئتکم من عندہ بما امرکم بہ و ما نھاکم عنہ‘‘(49)
[لات و عزی کتنے برے ہیں، اس پر قوم نے کہا: ضمام! ٹھہرو، ٹھہرو! برص میں مبتلا ہونے سے ڈرو، جذام میں مبتلا ہونے سے ڈرو اور جنون سے ڈرو۔ ضمام نے جواب دیا: تمہارا برا ہو، خدا کی قسم یہ دونوں نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ نفع پہنچاسکتے ہیں۔ بے شک اللہ نے ایک رسول بھیجا ہے اور اس پر ایک کتاب نازل کی ہے جس کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس گمراہی سے نکالا ہے جس میں تم پڑے ہوئے تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے واحد کے سوا کوئی اور معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور میں تمہارے پاس ان کی طرف سے وہ لایا ہوں جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے اور وہ لایا ہوں جس سے انہوں نے تمہیں منع کیا ہے]۔
راوی (ابن عباس) کا بیان ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی اس قبیلے کے ہر مرد و عورت نے اسلام قبول کرلیا۔
اکثم بن صیفی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت اکثم رضی اللہ عنہ کو ظہور اسلام کی خبر ہوئی تو دو آدمیوں کو رسول اللہ کی خدمت میں بھیجا کہ تحقیق حال کریں وہ دونوں خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ آیت سنائی:
’’ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
‘‘ (النحل، 90)
[بے شک اللہ تعالی عدل، احسان اور قرابت داروں کے دینے کا حکم کرتا ہے اور فحاشی، برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔ خدا تم کو نصیحت کرتا ہے شاید تم سمجھو اور سوچو]۔
ان لوگوں نے جاکر ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے تمام قوم کی طرف خطاب کرکے کہا:
’’یا قوم! أراہ یأمر بمکارم الاخلاق و ینھی عن ملائمھا فکونوا فی ھذا الأمر رؤسا و لاتکونوا ادنابا و کونوا فیہ اولا و لاتکونوا فیہ آخر‘‘
[اے میرے قوم یہ پیغمبر مکارم اخلاق کا حکم دیتا ہے۔ اور ذمائم اخلاق سے روکتا ہے تم لوگ قبول اسلام میں دم نہ بنو، سر بنو، مقدم بنو، مؤخر نہ ہو]۔
اس کے بعد تا دم مرگ اس کوشش میں مصروف رہے، انتقال ہوا تو اہل عیال کو تقوی اور صلہ رحمی کی وصیت کی۔ (50)
حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو بذریعہ خط دعوت اسلام
حضرت زیاد بن حارث صدائی فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت ہوا۔ مجھے پتہ چلا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میری قوم کی طرف بھیجاہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ لشکر واپس بلالیں۔ میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میری قوم مسلمان بھی ہوجائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی کرے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور اس لشکر کو واپس بلا لاؤ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری سواری تھکی ہوئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیج کر لشکر واپس بلوا لیا۔ میں نے اپنی قوم کو خط لکھا۔ وہ مسلمان ہوگئے اور ان کا ایک وفد یہ خبر لے کر حضور کی خدمت میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
’’یا اخا صداء! انک لمطاع فی قومک، فقلت: بل اللہ ھذا ھم للاسلام فقال علیہ الصلاۃ والسلام: افلا اؤمّرک علیھم؟ قلت بلی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قال: فکتب لی کتابا امّرنی‘‘(51)
[اے صدائے بھائی! واقعی تمہاری قوم تمہاری بات مانتی ہے۔ میں نے کہا (اس میں میرا کمال نہیں) بلکہ اللہ نے ان کو اسلام کی ہدایت دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان کا امیر نہ بنادوں؟ میں نے کہا بنادیں یا رسول اللہ! چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امارت کے بارے مجھے ایک خط لکھ کردیا]۔
فروہ بن مسیک کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
فروہ بن مسیک سنہ 10ھ میں خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ فروہ کا قبیلہ مراد سے تعلق تھا۔ قبول اسلام کے بعد عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت ہو تو اپنی قوم کے اہل اسلام کو ساتھ لے کر اپنی قوم کے کافروں سے قتال کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ جب یہ چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی بھیج کر ان کو بلوا لیا اور فرمایا:
’’ادع القوم فمن اسلم منھم فاقبل منہ و من لم یسلم فلا تعجل حتی احدث الیک‘‘(52)
[تم اپنی قوم کو اسلام کی ترغیب دینا، جو شخص اسلام لے آئے اس کا اسلام قبول کرلینا اور جو انکار کرے اس کے بارے میں توقف کرنا یہاں تک کہ میں تم کو کوئی حکم بھیجوں‘‘
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت ابوثعلبہ جرثوم بن ناشب خشنی کا تعلق قبیلہ قضاعہ کی شاخ خشین سے تھا۔ یہ حدیبیہ اور بیعت رضوان میں شریک تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کو ان کے اپنے قبیلہ کی طرف ہی مبلغ بنا کر بھیجا چنانچہ حضرت ابوثعلبہ کی کوششوں سے ان کا پورا قبیلہ رسول اللہ کی زندگی ہی میں اسلام لے آیا۔ (53)
ابن عبدالبر کا بیان ہے:
’’و ارسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی قومہ فاسلموا‘‘(54)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی قوم کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا پس ان کی قوم نے ان کی دعوت پر اسلام قبول کرلیا]۔
عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کی قبیلہ ہمدان کو دعوت اسلام
عامر ابن شہر رضی اللہ عنہ ایک زمانہ تک بادشاہوں کی صحبت میں رہ چکے تھے اور اپنے قبیلے کے قابل ترین فرد تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر ان کے قبیلہ ہمدان کو ملی تو قبیلہ والوں نے ان سے کہا کہ تم اس شخص (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاؤ اور جس چیز کو تم ہمارے لیے اچھا سمجھوگے اس کو ہم کریں گے اور جس کو برا سمجھوگے اس کہ نہ کریں گے۔ چنانچہ عامر بن شہر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگئے۔ پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی تو کئی لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔(55)
حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عقائد اسلام اور زکوۃ کی تعلیم دی۔ اس کے بعد انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤں تاکہ ان کو اسلام اور اداء زکوۃ کی دعوت دوں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے حضرت حارث بن ضرار واپس اپنی قوم میں آگئے اور ان کو اسلام کی طرف بلایا تو قوم نے ان کی دعوت پر لبیک لہتے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔ حضرت حارث رضی اللہ عنہ زکوۃ اکٹھی کرکے خود مدینہ حاضر ہوئے۔ (56)
عمرو بن حسان رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت عمرو بن حسان نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا تو تمام لوگ مسلمان ہوگئے۔ چنانچہ وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنے پیچھے کسی شخص کو نہیں چھوڑا جس سے میں نے اسلام پر بیعت نہ لے لی ہو اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لایا ہو سوائے قبیلہ کے خاندان بنی جون کی ایک ضعیفہ یعنی میری والدہ کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ارفق بھا‘‘ (ان کے ساتھ نرمی کرو)۔ (57)
قیس بن نشیہ رضی اللہ عنہ کی بنی سلیم کو دعوت اسلام
حضرت قیس بن نشیہ رضی اللہ عنہ قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا:
’’یا بنی سلیم! سمعت ترجمۃ الروم و فارس و اشعار العرب والکھان و مقاول حمیر و ما کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم یشبہ شیئا من کلامھم فاطیعونی فی محمد فانکم اخوالہ‘‘(58)
[ اے بنو سلیم! میں نے روم و فارس کے تراجم اور عرب، کہان اور حمیر کے بہادروں کے اشعار سنے ہیں لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ان سب سے الگ ہے، پس محمد کی معاملے میں میری اطاعت کرو، کیونکہ تم ان کے ماموں ہو]۔
ابن اثیر کی روایت کے مطابق حضرت قیس بن غزیہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا تھا۔ (59)
مالک بن احمر رضی اللہ عنہ کی اہل فدک کو دعوت اسلام
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے مقام پر تشریف لائے تو مالک بن احمر رضی اللہ عنہ بارگارہ نبوی میں حاضر ہوکر اسلام لے آئے اور عرض کیا کہ انہیں تبلیغ دین کے بارے میں ایک اجازت لکھ دیں جس کے ذریعہ وہ اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر ان کو تحریر لکھ دی۔ (60)
محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
حضرت محیصہ بن مسعود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک کے پاس ارشاد و ہدایت کے لیے روانہ فرمایا، محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو ان کے بڑے بھائی تھے وہ ان ہی کو کوششوں سے مسلمان ہوئے۔ (61)
مسعود بن وائل رضی اللہ عنہ کی بنی سلیم کو دعوت اسلام
حضرت مسعود بن وائل رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو درخواست کی:
’’یا رسول اللہ! انی احب ان تبعث الی قومی رجلا یدعوھم الی الاسلام‘‘
[یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ میری قوم کی طرف کسی آدمی کو روانہ کریں جو ان میں اسلام کی تبلیغ کرے]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کردیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ خود اپنے قبیلے میں دعوت کا کام کریں۔ (62)
عبداللہ بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کی قبیلہ حارثہ بن عمرو کو دعوت اسلام
حضرت عبداللہ بن عوسجہ الجبلی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خط دے کر قبیلہ حارثہ بن عمرو قریط کے پاس تبلیغ و ہدایت کے لیے بھیجا، چنانچہ انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن یہ لوگ اسلام سے محروم رہے۔ (63)
قیس بن یزید رضی اللہ عنہ کی اپنی قوم کو دعوت اسلام
اسی طرح ابن اثیر قیس بن یزید رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے بھی اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی: ’’فدعا قومہ الی الاسلام فاسلموا‘‘(64)
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کا بنو حارث بن کعب کی طرف بطور مبلغ تقرر
ربیع الاول سنہ 10ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنوحارث بن کعب کے پاس نجران دعوت و تبلیغ کی خاطر روانہ فرمایا۔ بنو حارث نے اسلام قبول کرلیا، تو خالد بن ولید نے بذریعہ خط کامیابی کی اطلاع بارگاہ رسالت میں بھیجی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی خط میں ان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ساتھ بنو حارث کا وفد لے کر واپس آجائیں، چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ بنو حارث کے وفد سمیت مدینہ حاضر ہوگئے۔ چشمہء نبوت سے براہ راست فیض یاب ہونے کے بعد جب یہ وفد واپس جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حارث بن کعب پر قیس بن حصن رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور ان لوگوں کے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ فرمایا۔ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان سے صدقات و غیرہ وصول کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد تھی۔ 
ابن ہشام لکھتے ہیں:
’’و قد کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد بعث الیھم بعد ان ولی وفدھم عمرو بن حزم، لیفقّھھم فی الدین، و یعلّمھم السنۃ و معالم الاسلام۔ (65)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو بنو حارث بن کعب کی طرف بھیجا تا کہ وہاں جاکر ان میں دین کا فہم پیدا کریں اور انہیں سنت رسول اور اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے ایک حصہ کا عامل اور قاضی بناکر بھیجا تو ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ لوگوں میں اسلامی شعور پیدا کریں اور ان کو قرآن کی تعلیم دیں۔
ابن عبدالبر لکھتے ہیں:
’’بعثہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاضیا الی الجند من الیمن یعلم الناس القرآن و شرائع الاسلام ‘‘(66)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کے ایک حصہ کا قاضی مقرر فرما کر بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو قرآن مجید اور احکام دین کی تعلیم دیں]۔
خلاصہ بحث
قبائل عرب میں کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اللہ تعالی کا پیغام نہ سنایا ہو۔ بالخصوص مکی عہد نبوت میں جب قبائل عرب ایام حج میں مکہ آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبیلہ اور خاندان کے پاس خود جاکر ان کو اسلام کی دعوت پیش فرماتے، تو ہم وہ لوگ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست دعوت اسلام نہ دے سکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنے صحابہ (رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین) کو بطور مبلغ روانہ فرمایا۔
مدنی عہد نبوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت کے ساتھ قبائل عرب کی طرف دعوتی و تبلیغی مہمات روانہ فرمائیں اور صحابہ کرام کو دعوت اسلام کی ذمہ داری سونپی۔ اگر چہ ہر قبیلہ کی طرف بھیجے جانے والے مبلغین اور ان کی سرگرمیوں کا ہمیں تفصیلی ذکر نہیں ملتا تا ہم مدنی دور میں جس تیزی سے اسلام پھیلا وہ بذات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان گم نام مبلغین کی انتھک کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جن کے بارے میں ماخذ یا تو بالکل خاموش ہے یا ان کے بارے میں چند اشارے اور منتشر معلومات ملتی ہیں، ایسے ہی ایک گمنام مبلغ کے بارے میں حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے بیان سے پتہ چلتا ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ اتنے میں بنولیث کے ایک آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا میں تم کو ایک خوشخبری نہ سنادوں؟ میں کہا ضرور۔ اس نے کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے پاس بھیجا تھا۔ میں ان پر اسلام کو پیش کرنے لگا اور ان کو اسلام کی دعوت دینے لگا تو تم نے کہا تھا کہ تم ہمیں بھلائی کی دعوت دے رہے ہو اوربھلی بات کا حکم کر رہے ہو اور وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) بھلائی کی دعوت دے رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تمہاری بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللھم اغفر للاحنف‘‘ [اے اللہ احنف کی مغفرت فرما] 
حضرت احنف رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس ایسا کوئی عمل نہیں ہے جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا سے زیادہ امید ہو۔]‘‘ (67)
اسی نوعیت کا ایک واقعہ عبدخیر بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’میں ملکِ یمن میں تھا وہاں لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پہنچا جس میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔ اس وقت میرے والد کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور میری عمر ابھی کم تھی، جب میرے والد واپس آئے تو میری والدہ سے کہا کہ دیگ کو کتوں کے سامنے بہادو اس لیے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں، پس اس وقت اسلام لے آیا۔ دیگ کو بہانے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ اس میں مردار پکا ہوا تھا‘‘۔(68)
بنو لیث سے تعلق رکھنے والے یہ مبلغ صحابی کونی تھے؟ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی قوم میں دعوت و تبلیغ کے لیے بھیجا تھا اس بارے میں ہمارے پاس کوئی ذریعہ معلومات نہیں ہے۔ اسی طرح ملک یمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی خط لے کر جانے والے صحابی کونی تھی؟ جن کی سرگرمیوں کا اشارہ حضرت عبد خیر بن یزید رضی اللہ عنہ کے بیان سے ملتا ہے۔ تا ہم اس قسم کی روایات سے یہ رائے ضرور قائم کی جاسکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا تخصیص تمام قبائل عرب کی طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو دعوت و تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا، اگر چہ ان کی دعوتی سرگرمیوں کے بارے میں کتب سیر و تاریخ خاموش ہیں۔
اسی طرح وفود عرب بھی مدنی دور میں دعوت و تبلیغ کا انتہائی موثر ذریعہ ثابت ہوئے۔ وفود عرب، جو عام طور پر قبائلی رؤسا اور سرداران قوم پر مشتمل ہوتے تھے، کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کے اپنے ہی قبائل میں دعوت و تبلیغ کے لیے بھیج دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی اور اس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے۔
عرب کے مخصوص قبائلی اور معاشرتی ماحول میں جہاں سردار قوم کا مذہب ہی پورے قبیلے اور خاندان کا مذہب اور دین ہوتا تھا، نو مسلم سرداروں نے اشاعت اسلام میں اہم کردار ادا کیا، چنانچہ قبائلی رؤسا کو اپنے قبائل میں جو شخصی اثر رسوخ اور وجاہت حاصل تھی اس کی بناء پر کثیر لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ فعد واحد کی دعوت پر پورے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا، چنانچہ حضرت سعد بن معاذ، ابو ثعلبہ، زیاد بن حارث، ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنھم کی دعوت پر ان کے پورے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح حضرت ضماد ازدی نے قبول اسلام کے بعد اپنی قوم کی طرف بھی اسلام کی بیعت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
(*1) امام بخاری نے ان اصحاب کی تعداد دس بیان کی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع، ح:4086) امام سہیلی نے بھی دس کے قول کو ہی ترجیح دی ہے جن میں سے چھ مہاجر اور چار انصار صحابہ تھے۔ (الروض الانف، ذکر یوم الرجیع، 2؍167) جب کہ ابن الاثیر نے ان مبلغین کی تعداد چھ بیان کی ہے۔ (اسد الغابہ، تذکرہ عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ، 5؍258)
(*2) وفد بنی تمیم ستر یا اسی افراد پر مشتمل تھا (الاستیعاب، تذکرہ عمرو بن اہتم، 3؍1163) جبکہ وفد بجیلہ میں شامل افراد کی تعداد ایک سو پچاس بیان کی جاتی ہے۔ (ابن سعد، 1؍347)
حوالہ جات
(1) صحیح البخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس و البھائم، ح:6008، ص:1051۔ ایضا، کتاب الاذان، باب الاذان للمسافرین۔ ح:631، ص:104۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب من احق بالامامۃ؟ ح:1535، ص:272۔ سنن نسائی، کتاب الاذان، باب اجتزاء المرء باذان غیرہ فی الحضر، ح:636، ص:88۔
(2) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب تحریص النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفد عبدالقیس علی ان یحفظوا الایمان... ح:87، ص:20۔ ایضا، کتاب الایمان، باب اداء الخمس من الایمان، ح:53، ص: 13۔
(3) سنن ابن ماجہ، المقدمہ، باب فضل العلماء و الحث الی طلب العلم، ح:229، ص:35۔ سنن الدرامی، المقدمہ، باب فی فضل العلم و العالم، ح:355، 1؍105۔
(4) ابو نعیم الاصفہانی، ’’حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء‘‘، ذکر اہل الصفۃ، 1؍419، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، 1997ء۔
(5) کتانی، عبدالحی، علامہ، ’’نظام الحکومۃ النبویۃ‘‘ (مترجم، مولانا معظم الحق) ص:327۔
(6) سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب کسب المعلم، ح:3416، ص:495۔ المسند، حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ح:22181، 6؍429۔
(7) اسد الغابۃ، تذکرہ عبداللہ بن سعید بن العاص، 3؍175۔ الاستیعاب، تذکرہ عبداللہ بن العاص، 3؍390۔
(8) جمع الفوائد، کتاب العلم۔ 1؍48۔
(9) المسند، حدیث جابر بن سمرہ، ح:202333، 6؍95۔96۔
(10) المسند، مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ح:11994، 3؍598۔
(11) صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ، ح:2492، ص: 1097۔ صحیح البخاری، کتاب العلم، باب حفظ العلم، ح:118، ص:25۔
(12) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب التناوب فی العلم، ح:89، ص: 21۔
(13) سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی التحلق، ح:4823، ص:682۔
(14) صحیح البخاری، کتاب العلم، باب من اعاد الحدیث ثلاثا لیفہم عنہ، ح:95، ص22۔
(15) سنن ابی داؤد، کتاب العلم، باب فی سردالحدیث، ح:3655، ص:524۔
(16) ایضا
(17) صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب تحریم الکلام فی الصلوۃ، ح:1199، ص:218۔
(18) سنن ابی داود، کتاب العلم، باب فی القصص، ح:2666، ص:526۔
(19) آل عمران، 3:110۔
(20) صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید، ح:4917، ص:851۔ المسند، مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ح:11994، 3؍598۔
(21) ابن ہشام، ذکر یوم الرجیع، 3؍187۔303، تاریخ الامم و الملوک، 3؍29۔31 (واقعات سنہ 4ہجری)
(22) صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید، ح:4917، ص:851۔
(23) ابن ہشام، حدیث بنر معونۃ، 3؍204۔210۔ اسد الغابۃ، تذکرہ منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ، 4؍418۔
(24) فتح الباری، 10؍252۔
(25) سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، باب فی دعاء المشرکین، ح:2612، ص:377۔ سنن ابن ماجہ، ابواب الجہاد، باب وصیۃ الامام، ح:2858، ص:412۔ المسند، حدیث بریدہ الاسلمی رضی اللہ عنہ، ح: 22521، 6؍492۔
(26) المسند، مسند صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، ح: 14882، 4؍401۔
(27) صحیح البخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس البہائم، ح: 6008، ص: 1051۔
(28) صحیح البخاری، کتاب التمنی، ص: 1250۔
(29) ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب... 4؍249۔
(30) تفسیر خازن، تفسیر سورۃ التوبہ، آیت: ما کان المؤمنون لینفروا... 2؍421۔
(31) المسند، حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، ح: 22260، 6؍443۔
(32) الاصابہ، تذکرہ وردان جدالفرات رضی اللہ عنہ، 3؍233
(33) المسند، حدیث وفد عبدالقیس، ح: 14131، 4؍452۔ ایضا، ح: 17376، 5؍235۔
(34) الاصابہ، تذکرہ عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ، 4؍150۔
(35) الاصابہ، تذکرہ عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ، 4؍150۔
(36) ابن سعد، وفد کلاب، 1؍300۔
(37) المستدرک، ذکر ابی امامۃ الباہلی رضی اللہ عنہ، 3؍641۔ الاصابہ، تذکرہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ، 2؍182۔
(38) سنن الدرامی، المقدمہ، باب البلاغ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و تعلیم السنن، ح:550، 1؍143۔
(39) اسد الغابہ، تذکرہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ، 3؍16۔17۔
(40) الاصابہ، 5؍12۔
(41) البدایۃ، 5؍12، کنز العمال، 7؍64۔
(42) البدایۃ، 5؍12، کنز العمال، 7؍64۔
(43) ابن ہشام، قدوم رفاعۃ بن زید جزامی رضی اللہ عنہ، 4؍252۔ اسد الغابہ، تذکرہ رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ، 2؍181۔
(44) ایضا
(45) ابن ہشام، امر وفد ثقیف و اسلامھا... 4؍94۔ تاریخ الامم و الملوک، 3؍141 (واقعات سنہ 9 ہجری)
(46) الاستیعاب، تذکرہ عمرو بن اہتم، 3؍1164۔
(47) ابن ہشام، قدوم وفد بنی تمیم، 4؍221۔
(48) ابن ہشام، قدوم، ضمام بن ثعلبۃ وافدا عن نبی سعد بن بکر، 4؍229۔ المسند، مسند عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، ح:2254، 1؍414۔ صحیح البخاری، کتاب العلم، باب القرأۃ و العرض علی المحدث، ح:63، ص:15۔ الموطأ کتاب قصر الصلوۃ فی السفر، ح:197، ص:130۔
(49) ابن ہشام، قدوم ضمام بن ثعلبہ وافدا بن سعد بن بکر، 4؍229۔ المسند، مسند عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، ح:2376، 1؍437۔ اسد الغابہ، تذکرہ ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ، 3؍43۔ المستدرک، رجوع ضمام بن ثعلبہ علی قومہ، 3؍54۔
(50) اسد الغابہ، تذکرہ اکثم بن صیفی، 1؍112۔
(51) الاصابہ، تذکرہ زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ، 1؍557۔ البدایہ، 5؍83۔
(52) اسد الغابہ، تذکرہ فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ، 4؍181۔
(53) اسد الغابہ، تذکرہ جرثوم بن ناشب رضی اللہ عنہ، 1؍277۔
(54) الاستیعاب، تذکرہ ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ، 4؍1618۔
(55) اسد الغابہ، تذکرہ عامر بن شہر ہمدانی رضی اللہ عنہ، 3؍83۔
(56) اسد الغابہ، تذکرہ حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ، 1؍334۔
(57) اسد الغابہ، تذکرہ قیس بن نشیہ رضی اللہ عنہ، 4؍228۔
(58) اسد الغابہ، تذکرہ سنبر الابراشی رضی اللہ عنہ، 2؍360
(59) اسد الغابہ، تذکرہ قیس بن غزیہ، 4؍323۔
(60) اسد الغابہ، تذکرہ مالک بن احمر رضی اللہ عنہ، 4؍371۔
(61) اسد الغابہ، تذکرہ محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، 4؍334۔
(62) اسد الغابہ، تذکرہ مسعود بن وائل، 4؍360۔
(63) اسد الغابہ، تذکرہ عبداللہ بن عوسجہ، 3؍239۔
(64) اسد الغابہ، تذکرہ قیس بن یزید، 4؍229۔
(65) ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب، 4؍250۔ تاریخ الامم و الملوک، 3؍157 (واقعات سنہ 10ہجری)
(66) الاستیعاب، تذکرہ معاذ بن جبل۔
(67) اسد الغابہ، تذکرہ احنف بن قیس رضی اللہ عنہ، 1؍55۔ الاصابہ، تذکرہ احنف بن قیس رضی اللہ عنہ، 1؍100۔ المستدرک، ذکر احنف بن قیس، 3؍614۔
(68) اسد الغابہ، تذکرہ عبدخیر بن یزید رضی اللہ عنہ، 3؍277۔

Wednesday, May 28, 2014

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ . KYA TUNE NAHI DEEKHA KE .....


أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ خَرَجوا مِن دِيٰرِهِم وَهُم أُلوفٌ حَذَرَ المَوتِ فَقالَ لَهُمُ اللَّهُ موتوا ثُمَّ أَحيٰهُم ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ {2:243}
کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جو کہ نکلے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے پھر فرمایا ان کو اللہ نے کہ مر جاؤ پھر ان کو زندہ کر دیا بیشک اللہ فضل کرنے والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے [۴۰۳]
Bethinkest thou not of those Who Went forth from their habitations, and they were in their thousands, to escape death Then Allah said unto them: die and thereafter quickened them. Verily Allah is Gracious unto men; albeit most men give not thanks.
یہ پہلی امت کا قصہ ہے کہ کئ ہزار شخص گھر بار کو ساتھ لے کر وطن سے بھاگے ان کو ڈر ہوا تھا غنیم کا اور لڑنے سے جی چھپایا یا ڈر ہوا تھا دبا کا اور تقدیر پر توکل اور یقین نہ کیا پھر ایک منزل پر پہنچ کر بحکم الہٰی سب مر گئے پھر سات دن کے بعد پیغمبر کی دعا سے زندہ ہوئے کہ آگے کو توبہ کریں اس حال کو یہاں اس واسطے ذکر فرمایا کہ کافروں سے لڑنے یا فی سبیل اللہ مال خرچ کرنے میں جان اور مال کی محبت کے باعث دریغ نہ کریں اور جان لیویں کہ اللہ موت بھیجے تو چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں اور زندگی چاہے تو مردہ کو دم کے دم میں زندہ کر دے زندہ کو موت سے بچا لینا تو کوئی چیز ہی نہیں پھر اس کی تعمیل حکم میں موت سے ڈر کر جہاد سے بچنا یا افلاس سے بچ کر صدقہ اور دوسروں پر احسان یا عفو اور فضل سے رکنا بد دینی کے ساتھ حماقت بھی پوری ہے۔

أَلَم تَرَ إِلَى المَلَإِ مِن بَنى إِسرٰءيلَ مِن بَعدِ موسىٰ إِذ قالوا لِنَبِىٍّ لَهُمُ ابعَث لَنا مَلِكًا نُقٰتِل فى سَبيلِ اللَّهِ ۖ قالَ هَل عَسَيتُم إِن كُتِبَ عَلَيكُمُ القِتالُ أَلّا تُقٰتِلوا ۖ قالوا وَما لَنا أَلّا نُقٰتِلَ فى سَبيلِ اللَّهِ وَقَد أُخرِجنا مِن دِيٰرِنا وَأَبنائِنا ۖ فَلَمّا كُتِبَ عَلَيهِمُ القِتالُ تَوَلَّوا إِلّا قَليلًا مِنهُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِالظّٰلِمينَ {2:246}
کیا نہ دیکھا تو نے ایک جماعت بنی اسرائیل کو موسٰیؑ کے بعد [۴۰۵] جب انہوں نےکہا اپنےنبی سے مقرر کر دو ہمارے لئے ایک بادشاہ تا کہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں پیغمبر نے کہا کیا تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر حکم ہو تم کو لڑائی کا تو تم اس وقت نہ لڑو وہ بولے ہم کو کیا ہوا کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں اور ہم تو نکال دیے گئے اپنےگھروں سے اور بیٹوں سے پھر جب حکم ہوا ان کو لڑائی کا تو وہ سب پھر گئے مگر تھوڑے سے ان میں کے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہےگنہگاروں کو [۴۰۶]
Bethinkest thou not of the chiefs of the Children of Isra'il, after Musa? They said unto a Prophet of theirs: raise for us a king that we may fight in the way of God. He said: may it not be that if fighting were prescribed unto you, ye would not fight! They said: and wherefore shall we not fight in the way of God, whereas we have been driven forth from our habitations and children. Then when fighting was prescribed unto them, they turned away, save a few of them: and Allah is the Knower of the wrong-doers.
اس قصہ سے حق تعالیٰ کا بسط و قبض جو ابھی مذکور ہوا خوب ثابت ہوتا ہے یعنی فقیر کو بادشاہ بنانا اور بادشاہ سے بادشاہت چھین لینا اور ضعیف کو قوی اور قوی کو ضعیف کر دینا۔
حضرت موسٰیؑ کے بعد کچھ عرصہ تک بنی اسرائیل کا کام درست رہا پھر جب ان کی نیت بگڑی تب ان پر ایک غنیم کافر بادشاہ جالوت مسلط ہوا ان کو شہر سے نکال دیا اور لوٹا اور ان کو پکڑ کر بندی بنایا بنی اسرائیل بھاگ کر بیت المقدس میں جمع ہوئے اس وقت حضرت اشموئیلؑ پیغمبر تھے ان سے درخواست کی کہ کوئی بادشاہ ہم پر مقرر کر دو کہ اس کے ساتھ ہو کر ہم جہاد کریں فی سبیل اللہ ۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذى حاجَّ إِبرٰهۦمَ فى رَبِّهِ أَن ءاتىٰهُ اللَّهُ المُلكَ إِذ قالَ إِبرٰهۦمُ رَبِّىَ الَّذى يُحيۦ وَيُميتُ قالَ أَنا۠ أُحيۦ وَأُميتُ ۖ قالَ إِبرٰهۦمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأتى بِالشَّمسِ مِنَ المَشرِقِ فَأتِ بِها مِنَ المَغرِبِ فَبُهِتَ الَّذى كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ {2:258}
کیا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اس کے رب کی بابت اسی وجہ سے کہ دی تھی اللہ نے اس کو سلطنت جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ بولا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں کہا ابراہیم نے کہ بیشک اللہ تو لاتا ہے سورج کو مشرق سے اب تو لے آ اس کو مغرب کی طرف سے تب حیران رہ گیا وہ کافر اور اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا بے انصافوں کو [۴۲۰]
Bethinkest thou not of one who contended with Ibrahim concerning his Lord, because Allah had vouchsafed unto him dominion! When Ibrahim said: my Lord is He Who giveth life and causeth death, he said: give life and cause death. Ibrahim said: verily Allah bringeth the sun from the east, then bring it thou from the west. Thereupon he Who disbelieved Was dumb-founded, And Allah guideth not a wrong-doing people.
پہلی آیت میں اہل ایمان و اہل کفر اور ان کے نور ہدایت اور ان کے ظلمت کفر کا ذکر تھا اب اس کی تائید میں چند نظائر بیان فرماتے ہیں ۔ نظیر اول میں نمرود بادشاہ کا ذکر ہے وہ اپنے آپ کو سلطنت کے غرور سے سجدہ کرواتا تھا ۔ حضرت ابراہیمؑ اس کے سامنے آئے تو سجدہ نہ کیا نمرود نے دریافت کیا تو فرمایا میں اپنے رب کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتا اس نے کہا رب تو میں ہوں، انہوں نے جواب دیا کہ میں حاکم کو رب نہیں کہتا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جسے چاہوں نہیں مارتا اس پر حضرت ابراہیمؑ نے آفتاب کی دلیل پیش فرما کر اس مغرور احمق کو لاجواب کیا اور اس کو ہدایت نہ ہوئی یعنی لاجواب ہو کر بھی ارشاد ابراہیمؑ پر ایمان نہ لایا ۔ یا یوں کہو کہ حضرت ابراہیمؑ کی دوسری بات کا کچھ جواب نہ دے سکا ۔ حالانکہ جیسا جواب پہلے ارشاد کا دیا تھا ویسا جواب دینے کی یہاں بھی گنجائش تھی۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يُدعَونَ إِلىٰ كِتٰبِ اللَّهِ لِيَحكُمَ بَينَهُم ثُمَّ يَتَوَلّىٰ فَريقٌ مِنهُم وَهُم مُعرِضونَ {3:23}
کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جن کو ملا کچھ ایک حصہ کتاب کا [۳۳] ان کو بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ کتاب ان میں حکم کرے پھر منہ پھیرتےہیں بعضے ان میں سےتغافل کر کے [۳۴]
Hast thou not observed those vouchsafed a portion of the Book called to the Book of Allah that it may judge between them? Then a party of them turn away and they are backsliders
یعنی تھوڑا بہت حصہ تورات و انجیل وغیرہ کا جو ان کی تحریفات لفظی و معنوی سے بچ بچا کر رہ گیا ہے یا جو تھوڑا بہت حصہ فہم کتاب کا ملا۔
یعنی جب انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ قرآن کریم کی طرف آؤ جو خود تمہاری تسلیم کردہ کتابوں کی بشارات کے موافق آیا اور تمہارے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے، تو ان کے علماء کا ایک فریق تغافل برت کر منہ پھیر لیتا ہے حالانکہ قرآن کی طرف دعوت فی الحقیقت تورات و انجیل کی طرف دعوت دینا ہے۔ بلکہ کچھ بعید نہیں کہ ا س جگہ کتاب اللہ سے مراد تورات و انجیل ہی ہو۔ یعنی لو ہم تمہارے نزاعات کا فیصلہ تمہاری ہی کتاب پر چھوڑتے ہیں مگر غضب تو یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور پست اغراض کےسامنے خود اپنی کتاب کی ہدایات سے بھی منہ پھیر لیتے ہیں۔ نہ اس کی بشارات سنتے ہیں نہ احکام پر کان دھرتے ہیں۔ چنانچہ رجم زانی کےمسئلہ میں تورات کے حکم منصوص سے صریح روگردانی کی۔ جیسا کہ آگے سورۂ مائدہ میں آئے گا۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يَشتَرونَ الضَّلٰلَةَ وَيُريدونَ أَن تَضِلُّوا السَّبيلَ {4:44}
کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب سے خرید کرتے ہیں گمراہی اور چاہتے ہیں کہ تم بھی بہک جاؤ اپنی راہ سے
Observest thou not those unto whom was vouchsafed a portion of the book purchasing error, and desiring that ye would err as regards the way!

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يُزَكّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكّى مَن يَشاءُ وَلا يُظلَمونَ فَتيلًا {4:49}
کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں بلکہ اللہ ہی پاکیزہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ان پر ظلم نہ ہو گا تاگے برابر [۹۰]
Hast thou not observed those who hold themselves purified Nay! Allah purifieth whomsoever He will, and they shall not be wronged a whit.
یعنی یہود باوجود اس قدر خرابیوں کے پھر اپنے آپ کو پاک صاف اور مقدس کہتے ہیں حتٰی کہ اپنے آپ کو ابناء اللہ اور احباء اللہ بتلاتے ہیں جو بالکل لغو بات ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اس کو پاکیزہ اور مقدس کرتا ہے یہود کے کہنے سےکچھ نہیں ہو سکتا اور ان جھوٹی شیخی کرنے والوں پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہ ہو گا یعنی یہ لوگ اپنے عذاب بے نہایت میں گرفتار ہوں گے ان پر ناحق عذاب ہرگز نہ ہو گا۔ {فائدہ} یہود جو گوسالہ پوجتے تھے اور حضرت عزیزؑ کو ابن اللہ کہتے تھے انہوں نے جب آیت سابقہ { اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہ } الخ کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہیں بلکہ ہم تو خاص بندے اور پیغمبر زادے ہیں اور پیغمبری ہماری میراث ہے خدا تعالیٰ کو ان کی یہ شیخی پسند نہ آئی اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتٰبِ يُؤمِنونَ بِالجِبتِ وَالطّٰغوتِ وَيَقولونَ لِلَّذينَ كَفَروا هٰؤُلاءِ أَهدىٰ مِنَ الَّذينَ ءامَنوا سَبيلًا {4:51}
کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا جو مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو اور کہتے ہیں کافروں کو کہ یہ لوگ زیادہ راہ راست پر ہیں مسلمانوں سے [۹۲]
Hast thou not observed those unto whom is vouchsafed a portion of the Book testifying to idols and devils, and saying of those who have disbelieved: these are better guided as regards the way than the believers?
اس آیت میں بھی یہود کی شرارت اور خباثت کا اظہار ہے قصہ یہ ہے کہ یہودیوں کو حضرت ﷺ سے عداوت بڑھی تو مشرکین مکہ سےملے اور ان سے متفق ہوئے اور ان کی خاطر داری کی ضرورت سے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے اور اس کی وجہ صرف حسد تھا اس پر کہ نبوت اور دین کی ریاست ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو الزام دیتا ہے۔ ان آیات میں اسی کا مذکور ہے۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يَزعُمونَ أَنَّهُم ءامَنوا بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ يُريدونَ أَن يَتَحاكَموا إِلَى الطّٰغوتِ وَقَد أُمِروا أَن يَكفُروا بِهِ وَيُريدُ الشَّيطٰنُ أَن يُضِلَّهُم ضَلٰلًا بَعيدًا {4:60}
کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اترا تیری طرف اور جو اترا تجھ سے پہلے چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں شیطان کی طرف اور حکم ہو چکا ہے انکو کہ اس کو نہ مانیں اور چاہتا ہےشیطان کہ ان کو بہلا کر دور جا ڈالے [۱۰۶]
Hast thou not observed those who assert that they believe in that which hath been sent down unto thee and that which hath been sent down before thee desiring to go to the devil for judgement, whereas they have been commanded to disbelieve in him; and Satan desireth to lead them far astray.
یہود فیصل خصومات میں رعایت و رشوت کے عادی تھے اس لئے جو لوگ جھوٹے اور منافق اور خاین ہوتے وہ اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ خاطر کریں گے اور آپ کے پاس ایسے لوگ اپنا معاملہ لانا پسند نہ کرتے کہ آپ حق کی رعایت کریں گے اور کسی کی اصلًا رعایت نہ کریں گے سو مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا کسی امر میں دونوں جھگڑ پڑے یہودی جو سچا تھا اس نے کہا کہ چل محمد ﷺ کے پاس اور منافق جو جھوٹا تھا اس نےکہا کہ چل کعب بن اشرف کے پاس جو یہودیوں میں عالم اور سردار تھا۔ آخر دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں جھگڑا لے کر آئے تو آپ ﷺ نے یہودی کا حق ثابت فرمایا منافق جو باہر نکلا تو کہنے لگا کہ اچھا حضرت عمرؓ کے پاس چلو جو وہ فیصلہ کر دیں وہی منظور اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا غالبًا یہ سمجھا ہو گا کہ میں مدعی اسلام ہوں اس لئے یہودی کے مقابلہ میں میری رعایت کریں گے اور حضرت عمرؓ آپ ﷺ کے حکم سےمدینہ میں جھگڑے فیصل کیا کرتے تھے چنانچہ وہ دونوں حضرت عمرؓ کے پاس آئے جب حضرت عمرؓ نے یہ جھگڑا سنا اور یہودی کے بیان سے ان کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ قضیہ آپ ﷺ کی خدمت میں جا چکا ہے اور آپ ﷺ اس معاملہ میں یہودی کو سچا اور غالب کر چکے ہیں تو حضرت عمرؓ نے اس منافق کو قتل کر دیا اور فرمایا کہ جو کوئی ایسے قاضی کے فیصلہ کو نہ مانے اس کا فیصلہ یہی ہے اس کے وارث حضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور حضرت عمرؓ پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمرؓکے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شاید وہ اس معاملہ میں باہم صلح کرا دیں یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت ﷺ کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئ اور حضرت عمرؓ کا لقب فاروق فرمایا۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ قيلَ لَهُم كُفّوا أَيدِيَكُم وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ فَلَمّا كُتِبَ عَلَيهِمُ القِتالُ إِذا فَريقٌ مِنهُم يَخشَونَ النّاسَ كَخَشيَةِ اللَّهِ أَو أَشَدَّ خَشيَةً ۚ وَقالوا رَبَّنا لِمَ كَتَبتَ عَلَينَا القِتالَ لَولا أَخَّرتَنا إِلىٰ أَجَلٍ قَريبٍ ۗ قُل مَتٰعُ الدُّنيا قَليلٌ وَالءاخِرَةُ خَيرٌ لِمَنِ اتَّقىٰ وَلا تُظلَمونَ فَتيلًا {4:77}
کیا تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو جن کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ہاتھ تھامے رکھو اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ [۱۲۲] پھر جب حکم ہوا ان پر لڑائی کا اسی وقت ان میں ایک جماعت ڈرنےلگی لوگوں سے جیسا ڈر ہو اللہ کا یا اس سے بھی زیادہ ڈر اور کہنے لگے اے رب ہمارے کیوں فرض کی ہم پر لڑائی کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدت تک [۱۲۳] کہہ دےکہ فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے پرہیزگار کو اور تمہارا حق نہ رہے گا ایک تاگے برابر [۱۲۴]
Hast thou not observed those unto whom it was said; . withhold your hands, and establish prayer and give the poor-rate; but when thereafter fighting was prescribed unto them, lo! there is a party of them dreading men as with the dread of Allah, or with greater dread; and they say: our Lord! why hast Thou prescribed unto us fighting! Wouldst that Thou hadst let us tarry a term nearby! Say thou: the enjoyment of the world is little, and the Hereafter is better for him who feareth God; and ye shall not be wronged a whit.
یعنی ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو کافروں سےلڑنے کا حکم ہوا تو ان کو تو خوش ہونا چاہئے تھا کہ ہماری درخواست قبول ہوئی اور مراد ملی مگر بعضے کچے مسلمان کافروں کے مقاتلہ سے ایسے ڈرنے لگے جیسا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے یا اس سے بھی زیادہ اور آرزو کرنے لگے کہ تھوڑی مدت اور بھی قتال کا حکم نہ آتا اور ہم زندہ رہتے تو خوب ہوتا۔
یعنی چونکہ حیات اور منافع دنیوی کی رغبت کے باعث ان لوگوں کو حکم جہاد بھاری معلوم ہوا تو اس لئے حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ دنیا کے تمام منافع حقیر اور سریع الزوال ہیں اور ثواب آخرت کا بہتر ہے ان کے لئے جو اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں سو تم کو چاہئے کہ منافع دنیا کا لحاظ نہ کرو اور حق تعالیٰ کی فرمانبرداری میں کوتاہی نہ کرو اور جہاد کرنے سے نہ ڈرو اور اطمینان رکھو کہ تمہای محنت اور جانفشانی کا ثواب ادنیٰ سا بھی ضائع نہ ہوگا سو تم کو ہمت اور شوق کے ساتھ جہاد میں مصروف ہونا چاہئے۔
مکہ میں ہجرت کرنے سے پہلےکافر مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے۔ مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کرتے اور رخصت مانگتے کہ ہم کفار سے مقاتلہ کریں اور ان سے ظلم کا بدلہ لیں آپ مسلمانوں کو لڑائی سے روکتے کہ مجھ کو مقاتلہ کا حکم نہیں ہوا بلکہ صبر اور درگذر کرنے کا حکم ہے اور فرماتے کہ نماز اور زکوٰۃ کا جو حکم تم کو ہو چکا ہے اس کو برابر پورا کئے جاؤ کیونکہ جب تک آدمی اطاعت خداوندی میں اپنے نفس پر جہاد کرنے کا اور تکالیف جسمانی کا خوگر نہ ہو اور اپنے مال خرچ کرنے کا عادی نہ ہو تو اس کو جہاد کرنا اور اپنی جان کا دینا بہت دشوار ہے اس بات کو مسلمانوں نے قبول کر لیا تھا۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۚ إِن يَشَأ يُذهِبكُم وَيَأتِ بِخَلقٍ جَديدٍ {14:19}
تو نے کیا نہیں دیکھا کہ اللہ نے بنائے آسمان اور زمین جیسی چاہئے اگر چاہے تم کو لیجائے اور لائے کوئی پیدائش (مخلوق) نئی
Beholdest thou not that Allah hath created the heavens and the earth with a purpose? If He willed He would make you pass away and bring a creation new.

أَلَم تَرَ كَيفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصلُها ثابِتٌ وَفَرعُها فِى السَّماءِ {14:24}
تو نے نہ دیکھا کیسی بیان کی اللہ نے ایک مثال [۳۹] بات ستھری [۴۰] جیسے ایک درخت ستھرا [۴۱] اسکی جڑ مضبوط ہے اور ٹہنے (شاخیں) ہیں آسمان میں [۴۲]
Beholdest thou not how Allah hath propounded the similitude of the clean word? It is like a clean tree, its root firmly fixed, and its branches reaching unto heaven.
یعنی اس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں پھیلی ہوں کہ زور کا جھکڑ بھی جڑ سے نہ اکھیڑ سکے اور چوٹی آسمان سے لگی ہو۔ یعنی شاخیں بہت اونچی اور زمینی کثافتوں سے دور ہوں۔
یعنی دیکھئے اور غور کیجئے کیسی با موقع اور معنی خیز مثال ہے ۔ عقلمند جس قدر اس میں غور کرے سینکڑوں باریکیاں نکلتی چلی آئیں۔
اکثر روایات و آثار میں یہاں "ستھرے درخت" کا مصداق کھجور کو قرار دیا ہے ، گو دوسرے ستھرے درخت بھی اس کے تحت میں مندرج ہو سکتے ہیں۔
ستھری بات "میں کلمہ توحید ، معرفت الہٰی کی باتیں ، ایمان و ایمانیات ، قرآن ، حمدو ثنا ، تسبیح و تہلیل ، سچ بولنا سب داخل ہے۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ بَدَّلوا نِعمَتَ اللَّهِ كُفرًا وَأَحَلّوا قَومَهُم دارَ البَوارِ {14:28}
تو نے نہ دیکھا انکو جنہوں نے بدلہ کیا اللہ کے احسان کا ناشکری اور اتارا اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں [۵۰]
Beholdest thou not those who returned the favour of Allah with infidelity and caused their people to alight in the dwelling of perdition:
اس سے کفار و مشرکین کے سردار مراد ہیں ، خصوصًا رؤسائے قریش جن کے ہاتھ میں اس وقت عرب کی باگ تھی ، یعنی حق تعالیٰ نے ان پر کیسے احسان کئے ، ان کی ہدایت کے لئے پیغمبر علیہ السلام کو بھیجا ، قرآن اتارا ، اپنے حرم اور بیت کا مجاور بنایا۔ عرب کی سرداری دی انہوں نے ان نعمتوں اور احسانات کا بدلہ یہ کیا کہ خدا کی ناشکری پر کمر بستہ ہو گئے ، اس کی باتوں کو جھٹلایا ، اس کے پیغمبر سے لڑائی کی ، آخر اپنی قوم کو لے کر تباہی کے گڑھے میں جا گرے۔

أَلَم تَرَ أَنّا أَرسَلنَا الشَّيٰطينَ عَلَى الكٰفِرينَ تَؤُزُّهُم أَزًّا {19:83}
تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے چھوڑ رکھے ہیں شیطان منکروں پر اچھالتے ہیں انکو ابھار کر
Beholdest thou not that We have sent the satans upon the infidels inciting them by an incitement? *Chapter:19

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسجُدُ لَهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ وَالشَّمسُ وَالقَمَرُ وَالنُّجومُ وَالجِبالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوابُّ وَكَثيرٌ مِنَ النّاسِ ۖ وَكَثيرٌ حَقَّ عَلَيهِ العَذابُ ۗ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن مُكرِمٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفعَلُ ما يَشاءُ ۩ {22:18}
تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اورتارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت آدمی [۲۷] اور بہت ہیں کہ اُن پر ٹھہر چکا عذاب [۲۸] اور جسکو اللہ ذلیل کرے اُسے کوئی نہیں عزت دینے والا اللہ کرتا ہے جو چاہے [۲۹]
Beholdest thou not that Allah unto Him adore whosoever is in the heavens and on the earth, and the sun, and the moon, and the mountains, and the trees and the beasts, and many of mankind! And many are there on whom due is the torment. And whomsoever Allah despiseth, none can honour; verily Allah doth whatsoever He willeth.
یعنی خدا تعالیٰ جس کو اس کی شامت اعمال سے ذلیل کرنا چاہے اسے ذلت کے گڑھے سے نکال کر عزت کے مقام پر کون پہنچا سکتا ہے ؟
یعنی سجدہ سے انکار و اعراض کرنے کی بدولت عذاب کے مستحق ہوئے۔
ایک سجدہ ہے جس میں آسمان و زمین کی ہر ایک مخلوق شامل ہے وہ یہ کہ اللہ کی قدرت کے آگے تکوینًا سب مطیع و منقاد اور عاجز و بے بس ہیں۔ خواہی نخواہی سب کو اس کے سامنے گردن ڈالنا اور سر جھکانا پڑتا ہے دوسرا سجدہ ہے ہر چیز کا جدا۔ وہ یہ کہ جس چیز کو جس کام کے لئے بنایا اس کام میں لگے۔ یہ بہت آدمی کرتے ہیں بہت نہیں کرتے۔ مگر آدمیوں کو چھوڑ کر اور ساری خلقت کرتی ہے۔ بناءً عیلہ { اَنَّ اللہَ یَسْجُدُلَہٗ } الخ میں ہر چیز کا اپنی شان کے لائق سجدہ مراد ہو گا یا { مَنْ فِی الْاَرْضِ } کے بعد دوسرا { یَسجُدُ } کا مقدر نکالا جائے گا (تنبیہ) پہلی آیت سے ربط یہ ہوا کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں حالانکہ دوسری تمام مخلوق خدا کی مطیع و منقاد ہے ، انسان جو ساری مخلوق سے زائد عاقل ہے ، چاہئے تھا کہ اس کے کل افراد اوروں سے زیادہ متفق ہوتے۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَتُصبِحُ الأَرضُ مُخضَرَّةً ۗ إِنَّ اللَّهَ لَطيفٌ خَبيرٌ {22:63}
تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر زمین ہو جاتی ہے سر سبز [۹۶] بیشک اللہ جانتا ہے چھپی تدبیریں خبردار ہے [۹۷]
Beholdest thou not that Allah sendeth down water from the heaven and the earth becometh green? Verily Allah is subtile, Aware.
وہ ہی جانتا ہے کہ کس طرح بارش کے پانی سے سبزہ اگ آتا ہے۔ قدرت اندر ہی اندر ایسی تدبیر و تصر ف کرتی ہے کہ خشک زمین پانی وغیرہ کے اجزاء کو اپنے اندر جذب کر کے سرسبز و شاداب ہو جائے۔ اسی طرح وہ اپنی مہربانی ، لطیف تدبیر و تربیت، اور کمال خبرداری و آگاہی سےقلوب بنی آدم کو فیوض اسلام کامینہ برسا کر سر سبز و شاداب بنا دے گا۔
اسی طرح کفر کی خشک و ویران زمین کو اسلام کی بارش سے سبزہ زار بنا دے گا۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم ما فِى الأَرضِ وَالفُلكَ تَجرى فِى البَحرِ بِأَمرِهِ وَيُمسِكُ السَّماءَ أَن تَقَعَ عَلَى الأَرضِ إِلّا بِإِذنِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِالنّاسِ لَرَءوفٌ رَحيمٌ {22:65}
تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے بس میں کردیا تمہارے جو کچھ ہے زمین میں اور کشتی کو جو چلتی ہے دریا میں اُسکے حکم سے اور تھام رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گر پڑے زمین پر مگر اُسکے حکم سے بیشک اللہ لوگوں پر نرمی کرنے والا مہربان ہے [۹۹]
Beholdest thou not that Allah hath subjected to Himself for you whatsoever is on the earth and the ships running in the sea by His command? And He with holdeth the heaven that it fall not on the earth save by His leave. Verily Allah is, unto mankind, Clement, Merciful.
یعنی اس کو تمہاری یا کسی کی کیا پروا تھی۔ محض شفقت و مہربانی دیکھو کہ کس طرح خشکی اور تری کی چیزوں کو تمہارے قابو میں کر دیا ۔ پھر اسی نے اپنے دست قدرت سے آسمان، چاند، سورج اور ستاروں کو اس فضائے ہوائی میں بدون کسی ظاہری کھمبے یا ستون کے تھام رکھا ہے جو اپنی جگہ سے نیچے نہیں سرکتے ۔ ورنہ گر کر اور ٹکرا کر تمہاری زمین کو پاش پاش کر دیتے ۔ جب تک اس کا حکم نہ ہو یہ کُرات یوں ہی اپنی جگہ قائم رہیں گے مجال نہیں کہ ایک انچ سرک جائیں۔ { اِلَّا بِاِ ذْنِہٖ } کا استثناء محض اثبات قدرت کی تاکید کے لئے ہے ۔ یا شاید قیامت کے واقعہ کی طرف اشارہ ہو۔ واللہ اعلم۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَالطَّيرُ صٰفّٰتٍ ۖ كُلٌّ قَد عَلِمَ صَلاتَهُ وَتَسبيحَهُ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِما يَفعَلونَ {24:41}
کیا تو نہ نے دیکھا کہ اللہ کی یاد کرتے ہیں جو کوئی ہیں آسمان و زمین میں اور اڑتے جانور پر کھولے ہوئے [۷۹] ہر ایک نے جان رکھی ہے اپنی طرح کی بندگی اور یاد [۸۰] اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں [۸۱]
Beholdest thou not that Allah --those hallow Him whosoever is in the heavens and the earth and the birds with wings outspread? Surely each one knoweth his prayer and his hallowing; and Allah is the Knower of that which they do.
شاید اڑتے جانوروں کا علیحدہ ذکر اس لئے کیا کہ وہ اس وقت آسمان اور زمین کے بیچ میں معلق ہوتے ہیں اور ان کا اس طرح ہوا میں اڑتے رہنا قدرت کی بڑی نشانی ہے۔
یعنی حق تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو اس کےحال کے مناسب جو طریقہ انابت و بندگی اور تسبیح خوانی کا الہام فرمایا اس کو سمجھ کر وہ اپنا وظیفہ ادا کرتی رہتی ہے۔ لیکن افسوس و تعجب کا مقام ہے کہ بہت سے انسان کہلانے والے غرور و غفلت اور ظلمت جہالت میں پھنس کر مالک حقیقی کی یاد اور ادائے وظیفہ عبودیت سے بے بہرہ ہیں (تنبیہ) مخلوقات کی تسبیح کے متعلق پندرہویں پارہ میں ربع کے قریب کچھ مضمون گذر چکا۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹوں کو تسبیح کی وصیت کی اور فرمایا { وَاِنَّھَا لَصَلوٰۃ الخلق } (یہ ہی باقی مخلوق کی نماز ہے)۔
یعنی ان کی بندگی اورتسبیح کو خواہ تم نہ سمجھو، لیکن حق تعالیٰ کو سب معلوم ہے کہ کون کیا کرتا ہے۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزجى سَحابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَينَهُ ثُمَّ يَجعَلُهُ رُكامًا فَتَرَى الوَدقَ يَخرُجُ مِن خِلٰلِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّماءِ مِن جِبالٍ فيها مِن بَرَدٍ فَيُصيبُ بِهِ مَن يَشاءُ وَيَصرِفُهُ عَن مَن يَشاءُ ۖ يَكادُ سَنا بَرقِهِ يَذهَبُ بِالأَبصٰرِ {24:43}
تو نے نہ دیکھا اللہ ہانک لاتا ہے بادل کو پھر انکو ملا دیتا ہے پھر انکو رکھتا ہے تہ بر تہ پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے [۸۳] اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے پھر وہ ڈالتا ہے جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس سے چاہے [۸۴] ابھی اس کی بجلی کی کوند لیجائے آنکھوں کو [۸۵]
Beholdest thou not that Allah driveth a cloud along, then combineth it, then maketh it a heap, and then thou beholdest the fine rain come forth from the interstices thereof? And He sendeth down from the heaven mountains wherein is hail, then afflicteth therewith whomsoever He will, and averteth it from whomsoever He will: wellnigh the flash of His lightening taketh away the sights.
یعنی ابتداء میں بادل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اٹھتے ہیں پھر مل کر بڑا بادل بن جاتا ہے۔ پھر تہ پر تہ جما دی جاتی ہے۔
یعنی جیسے زمین میں پتھروں کے پہاڑ ہیں، بعض سلف نے کہا کہ اسی طرح آسمان میں اولوں کے پہاڑ ہیں۔ مترجم رحمہ اللہ نے اسی کے موافق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن زیادہ راجح اور قوی یہ ہے کہ "سماء" سے بادل مراد ہو۔ مطلب یہ ہے کہ بادلوں سے جو کثیف اور بھاری ہونے میں پہاڑوں کی طرح ہیں، اولے برساتا ہے جس سے بہتوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچ جاتا ہے اور بہت سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ مشہور ہے کہ اولے کی چھال بیل کے ایک سینگ پر پڑتی ہے اور دوسرا سینگ خشک رہ جاتا ہے۔
یعنی بجلی کی چمک اس قدر تیز ہوتی ہے کہ آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، قریب ہے کہ بینائی جاتی رہے۔

أَلَم تَرَ إِلىٰ رَبِّكَ كَيفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَو شاءَ لَجَعَلَهُ ساكِنًا ثُمَّ جَعَلنَا الشَّمسَ عَلَيهِ دَليلًا {25:45}
تو نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف کیسے دراز کیا سایہ کو اگر چاہتا تو اس کو ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے مقرر کیا سورج کو اس کا راہ بتانے والا
Hast thou not observed thine lord-how He hath stretched out the shadow? And if He had willed He would have made it still. Then We have made the sun for it an indication.

أَلَم تَرَ أَنَّهُم فى كُلِّ وادٍ يَهيمونَ {26:225}
تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارے پھرتے ہیں [۱۲۸]
Observest thou not, that they Wander about every vale.
یعنی جو مضمون پکڑ لیا اسی کو بڑھاتے چلے گئے، کسی کی تعریف کی تو آسمان پر چڑھا دیا مذمت کی تو ساری دنیا کے عیب اس میں جمع کر دیے۔ موجود کو معدوم اور معدوم کو موجود ثابت کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے غرض جھوٹ، مبالغہ اور تخیل کے جس جنگل میں نکل گئے، پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی لئے شعر کی نسبت مشہور ہے { اکذَبِ اُو اُحسَنِ اُوَ }۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَيولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ كُلٌّ يَجرى إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى وَأَنَّ اللَّهَ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ {31:29}
تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے ایک مقرر وقت تک [۳۹] اور یہ کہ اللہ خبر رکھتا ہے اسکی جو تم کرتے ہو [۴۰]
Observest thou not that Allah plungeth the night into the day and plungeth the day into the night and hath subjected the sun and the moon, each running unto an appointed term, and that Allah is of that which ye work Aware.
"مقرر وقت" سے قیامت مراد ہے یا چاند سورج میں سے ہر ایک کا دورہ۔ کیونکہ ایک دورہ پورا ہونے کے بعد گویا ازسرنو چلنا شروع کرتے ہیں۔
یعنی جو قوت رات کو دن اور دن کو رات کرتی، اور چاند سورج جیسے کرات عظیمہ کو ادنیٰ مزدور کی طرح کام میں لگائے رکھتی ہے اسے تمہارے مرے پیچھے زندہ کر دینا کیا مشکل ہو گا۔ اور جب ہر ایک چھوٹے بڑے عمل سے پوری طرح با خبر ہے تو حساب کتاب میں کیا دشواری ہو گی۔

أَلَم تَرَ أَنَّ الفُلكَ تَجرى فِى البَحرِ بِنِعمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِن ءايٰتِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ {31:31}
تو نے نہ دیکھا کہ جہاز چلتے ہیں سمندر میں اللہ کی نعمت لے کر تاکہ دکھلائے تمکو کچھ اپنی قدرتیں [۴۳] البتہ اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک تحمل کرنے والے احسان ماننے والے کے واسطے [۴۴]
Observest thou not that the ship saileth in the sea by the favour of Allah that he may shew you of His signs? Verily therein are signs for every persevering, grateful heart.
یعنی اس بحری سفر کے احوال و حوادث میں غور کرنا انسان کے لئے صبر و شکر کے مواقع بہم پہنچاتا ہے ۔ جب طوفان اٹھ رہے ہوں اور جہاز پانی کے تھپیڑوں میں گھرا ہو اس وقت بڑے صبر و تحمل کا کام ہے اور جب اللہ نے اس کشمکش موت و حیات سے صحیح و سالم نکال دیا تو ضروری ہے کہ اس کا احسان مانے۔
یعنی جہاز بھاری بھاری سامان اٹھا کر خدا کی قدرت و رحمت سے کس طرح سمندر کی موجوں کو چیرتا پھاڑتا ہوا چلا جاتا ہے۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجنا بِهِ ثَمَرٰتٍ مُختَلِفًا أَلوٰنُها ۚ وَمِنَ الجِبالِ جُدَدٌ بيضٌ وَحُمرٌ مُختَلِفٌ أَلوٰنُها وَغَرابيبُ سودٌ {35:27}
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح کے انکے رنگ [۳۴] اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح کے انکے رنگ اور بھجنگے کالے [۳۵]
Beholdest thou not that Allah sendeth down water from the heaven, and then We thereby bring fruit of diverse colours? And in the mountains are steaks white and red, of diverse colours, and also intensely black.
یعنی سفید بھی کئ درجے (کوئی بہت زیادہ سفید کوئی کم کوئی اس سے کم) اور سرخ بھی کئی درجے۔ اور کالے بھجنگے یعنی بہت گہرے سیاہ کوے کے پر کی طرح۔
یعنی قسم قسم کے میوے۔ پھر ایک قسم میں رنگ برنگ کے پھل پیدا کئے۔ ایک زمین ایک پانی ایک ہوا سے اتنی مختلف چیزیں پیدا کرنا عجیب و غریب قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَسَلَكَهُ يَنٰبيعَ فِى الأَرضِ ثُمَّ يُخرِجُ بِهِ زَرعًا مُختَلِفًا أَلوٰنُهُ ثُمَّ يَهيجُ فَتَرىٰهُ مُصفَرًّا ثُمَّ يَجعَلُهُ حُطٰمًا ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ {39:21}
تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر چلا دیا وہ پانی چشموں میں زمین کے [۳۵] پھر نکالتا ہے اس سے کھیتی کئ کئ رنگ بدلتی اس پر [۳۶] پھر آئے تیاری پر تو تو دیکھے اس کا رنگ زرد پھر کر ڈالتا ہے اسکو چورا چورا بیشک اس میں نصیحت ہے عقلمندوں کے واسطے [۳۷]
Beholdest thou not that Allah sendeth down water from the heaven, and causeth it to enter springs in the earth, and thereafter produceth thereby corn various coloured. Thereafter it wirhereth, and thou beholdest it turn yellow; then He maketh it chaff. Verily herein is an admonition for men of understanding.
یعنی بارش کا پانی پہاڑوں اور زمینیوں کے مسام میں جذب ہو کر چشموں کی صورت میں پھوٹ نکلتا ہے باقی اگر چشموں کے حدوث کا کوئی اور سبب بھی ہو، اس کی نفی آیت سے نہیں ہوتی۔
یا مختلف قسم کی کھیتیاں مثلًا گیہوں چاول وغیرہ۔
یعنی عقلمند آدمی کھیتی کا حال دیکھ کر نصیحت حاصل کرتا ہے کہ جس طرح اس کی رونق اور سر سبزی چند روزہ تھی، پھر چورا چورا کیا گیا۔ یہ ہی حال دنیا کی چہل پہل کا ہو گا۔ چاہیئے کہ آدمی اس کی عارضی بہار پر مفتوں ہو کر انجام سے غافل نہ ہو جائے جیسے کھیتی مختلف اجزاء سے مرکب ہے۔ مثلًا اس میں دانہ ہے جو آدمیوں کی غذا بنتا ہے اور بھوسہ بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بنتا ہے۔ اور ہر ایک جزء سے منتفع ہونا بدون اس کے ممکن نہیں کہ دوسرے اجزاء سے اس کو الگ کریں اور اپنے اپنے ٹھکانہ پر پہنچائیں۔ اسی طرح دنیا کو سمجھ لو کہ اس میں نیکی، بدی، راحت، تکلیف وغیرہ سب ملی جلی ہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ کھیتی کٹے اور خوب چورا چورا کیجائے۔ پھر اس میں سے ہر ایک جزء کو اس کے مناسب ٹھکانے پر پہنچا دیا جائے، نیکی اور راحت اپنے مرکز و مستقر پر پہنچ جائے اور بدی یا تکلیف اپنے خزانہ میں جا ملے۔ غرض کھیتی کے مختلف احوال دیکھ کر عقلمند لوگ بہت مفید سبق حاصل کر سکتے ہیں نیز مضمون آیت میں ادھر بھی اشارہ ہو گیا کہ جس خدا نے آسمانی بارش سے زمین میں چشمے جاری کر دیے وہ ہی جنت کے محلات میں نہایت قرینہ کے ساتھ نہروں کا سلسلہ جاری کر دے گا۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِ اللَّهِ أَنّىٰ يُصرَفونَ {40:69}
تو نے نہ دیکھا ان کو جو جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں کہاں سے پھیر جاتے ہیں
Observest thou not those who wrangle concerning the revelations of Allah: whither are they turning away?

أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۖ ما يَكونُ مِن نَجوىٰ ثَلٰثَةٍ إِلّا هُوَ رابِعُهُم وَلا خَمسَةٍ إِلّا هُوَ سادِسُهُم وَلا أَدنىٰ مِن ذٰلِكَ وَلا أَكثَرَ إِلّا هُوَ مَعَهُم أَينَ ما كانوا ۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِما عَمِلوا يَومَ القِيٰمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ {58:7}
تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں کہیں نہیں ہوتا مشورہ تین کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چوتھا اور نہ پانچ کا جہاں وہ نہیں ہوتا اُن میں چھٹا اور نہ اُس سے کم اور نہ زیادہ جہاں وہ نہیں ہوتا اُنکے ساتھ جہاں کہیں ہوں [۱۴] پھرجتلا دے گا اُنکو جو کچھ انہوں نے کیا قیامت کے دن بیشک اللہ کو معلوم ہے ہر چیز
Observest thou not that Allah knoweth whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth! There is no whispering among three but He is their fourth, nor among five but He is their sixth, nor fewer than that nor more but He is with them wheresoever they may be; and thereafter He will declare Unto them, on the Day of Judgment, that which they have worked. Verily Allah is of everything Knower.
یعنی صرف ان کے اعمال ہی پر کیا منحصر ہے، اللہ کے علم میں تو آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز ہے۔ کوئی مجلس، کوئی سرگوشی اور کوئی خفیہ سے خفیہ مشورہ نہیں ہوتا جہاں اللہ اپنے علم محیط کے ساتھ موجود نہ ہو جہاں تین آدمی چھپ کر مشورہ کرتے ہوں نہ سمجھیں کہ وہاں کوئی چوتھا نہیں سن رہا۔ اور پانچ کی کمیٹی خیال نہ کرے کہ کوئی چھٹا سننے والا نہیں۔ خوب سمجھ لو کہ تین ہوں یا پانچ یا اس سے کم زیادہ کہیں ہوں، کسی حالت میں ہوں، اللہ تعالیٰ ہر جگہ اپنے علم محیط سے ان کے ساتھ ہے کسی وقت ان سے جدا نہیں۔ (تنبیہ) طاق عدد کی حکمت: مشورہ میں اگر صرف دو شخص ہوں تو بصورت اختلاف ترجیح دشوار ہوتی ہے۔ اسی لئے عمومًا معاملات مہمہ میں طاق عدد رکھتے ہیں۔ اور ایک کے بعد پہلا طاق عدد تین تھا پھر پانچ۔ شاید اس لئے ان دو کو اختیار فرمایا اور آگے { وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَاْ اَکْثَرَ } سے تعمیم فرمادی۔ باقی حضرت عمرؓ کا شورٰی خلافت کو چھ بزرگوں میں دائر کرنا (حالانکہ چھ کا عدد طاق نہیں) اس لئے ہوگا کہ اس وقت یہ ہی چھ خلافت کے سب سے زیادہ اہل اور مستحق تھے جن میں سے کسی کو چھوڑا نہیں جاسکتا تھا۔ نیز خلیفہ کا انتخاب ان ہی چھ سے ہو رہا تھا تو ظاہر ہے جس کا نام آتا، اس کے سوائے رائے دینے والے تو پانچ ہی رہتے ہیں۔ پھر بھی احتیاطًا حضرت عمرؓ نے بصورت مساوات ایک جانب کی ترجیح کے لئے عبداللہ بن عمرؓ کا نام لے دیا تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ نُهوا عَنِ النَّجوىٰ ثُمَّ يَعودونَ لِما نُهوا عَنهُ وَيَتَنٰجَونَ بِالإِثمِ وَالعُدوٰنِ وَمَعصِيَتِ الرَّسولِ وَإِذا جاءوكَ حَيَّوكَ بِما لَم يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقولونَ فى أَنفُسِهِم لَولا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِما نَقولُ ۚ حَسبُهُم جَهَنَّمُ يَصلَونَها ۖ فَبِئسَ المَصيرُ {58:8}
تو نے نہ دیکھا اُن لوگوں کو جنکو منع ہوئی کانا پھوسی پھر بھی وہی کرتے ہیں جو منع ہو چکا ہے اور کان میں باتیں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی [۱۵] اور جب آئیں تیرے پاس تجھ کو وہ دعا دیں جو دعا نہیں دی تجھ کو اللہ نے اور کہتے ہیں اپنے دل میں کیوں نہیں عذاب کرتا ہم کو اللہ اُس پر جو ہم کہتے ہیں کافی ہے اُنکو دوزخ داخل ہوں گے اس میں سو بری جگہ پہنچے [۱۶]
Observest thou not those who were forbidden whispering and they afterwards returned to that which they had been forbidden; and they whisper Unto each Other of sin, transgression and disobedience reward the apostle! And when they came Unto thee, they greet thee with that wherewith Allah greeteth thee not, and say within themselves: wherefore god tormented us not for that which we say? Sufficient Unto them is Hell, where in they will roast: a hapless destination!
یعنی اللہ نے تو آپ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ یہ دعائیں دی ہیں { سَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ } اور { وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰے } اور مومنین کی زبانوں سے { السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ } مگر بعض یہود جب آپ کے پاس آتے تو بجائے { السَّلَامُ عَلَیْکَ } کے دبی زبان سے { السَّامُ عَلَیْکَ } کہتے جس کے معنی ہیں "تجھے موت آئے" گویا اللہ نے جو سلامتی کی دعا آپ کو دی تھی، اس کے خلاف بددعا دیتے تھے۔ پھر آپس میں کہتے کہ اگر یہ واقعی رسول ہے تو اس کہنے سے ہم پر فوراً عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس کا جواب دیا { حَسْبُھُمْ جَھَنَّمُ } یعنی جلدی نہ کرو۔ ایسا کافی عذاب آئیگا جس کے سامنے دوسرے عذاب کی ضرورت نہ ہوگی۔ (تنبیہ) احادیث میں "یہود" کے متعلق آیا ہے کہ "السّلام" کی جگہ "السّام" کہتے تھے۔ ممکن ہے بعض منافقین بھی ایسا کہتے ہونگے۔ کیونکہ منافق عموماً یہودی تھے۔ حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی یہودی یہ کہتا آپ جواب میں صرف "وعلیک" فرما دیتے۔ ایک مرتبہ عائشہ صدّیقہ نے "السّام علیک" کے جواب میں یہودی کو "علیک السام واللعنۃ" کہا تو حضور ﷺ کو کمال خلق سے یہ جواب پسند نہ آیا۔
حضرت کی مجلس میں بیٹھ کر منافق سرگوشیاں کرتے۔ مجلس والوں کا مذاق اڑاتے۔ ان پر عیب پکڑتے۔ ایک دوسرے کے کان میں اس طرح بات کہتا اور آنکھوں سے اشارے کرتا جس سے مخلص مسلمانوں کو تکلیف ہوتی۔ اور حضرت ﷺ کیبات سن کر کہتے "یہ مشکل کام ہم سے کہاں ہوسکے گا"۔ پہلے سورۃ "النساء" میں اس طرح کی سرگوشیوں سے منع کیا جاچکا تھالیکن یہ موذی بے حیا پھر بھی اپنی حرکتوں اور زیادتیوں سے باز نہ آئے۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ تَوَلَّوا قَومًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِم ما هُم مِنكُم وَلا مِنهُم وَيَحلِفونَ عَلَى الكَذِبِ وَهُم يَعلَمونَ {58:14}
کیا تو نے دیکھا اُن لوگوں کو جو دوست ہوئے ہیں اُس قوم کے جن پر غصہ ہوا ہے اللہ کا [۲۷] نہ وہ تم میں ہیں اور نہ اُن میں ہیں [۲۸] اور قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ بات پر اور اُنکو خبر ہے [۲۹]
Beholdest thou not those who take for friends a people with whom Allah is angered? They are neither of you nor of them, and they swear to a lie while they know.
یعنی بے خبری اور غفلت سے نہیں، جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ مسلمان سے کہتے ہیں { اِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ } کہ وہ تم میں سے ہیں اور تمہاری طرح سچے ایماندار ہیں۔ حالانکہ ایمان سے کوئی دور کی نسبت بھی نہیں۔
یہ لوگ منافق ہیں اور وہ قوم یہود ہے
یعنی منافق نہ پوری طرح تم مسلمانوں میں شامل کیونکہ دل سے کافر ہیں، اور نہ پوری طرح ان میں شریک کیونکہ بظاہر زبان سے اپنے کو مسلمان کہتے تھے { مَذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لَا اِلٰی ھٰؤُلَاءِ وَلا اِلٰی ھٰؤُلَاءِ }۔

أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ نافَقوا يَقولونَ لِإِخوٰنِهِمُ الَّذينَ كَفَروا مِن أَهلِ الكِتٰبِ لَئِن أُخرِجتُم لَنَخرُجَنَّ مَعَكُم وَلا نُطيعُ فيكُم أَحَدًا أَبَدًا وَإِن قوتِلتُم لَنَنصُرَنَّكُم وَاللَّهُ يَشهَدُ إِنَّهُم لَكٰذِبونَ {59:11}
کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دغاباز ہیں کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو کافر ہیں اہل کتاب میں سے اگر تم کو کوئی نکال دے گا تو ہم بھی نکلیں گے تمہارےساتھ اور کہا نہ مانیں گے کسی کا تمہارے معاملہ میں کبھی اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے [۲۴] اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں [۲۵]
Beholdest thou not: those who dissemble saying Unto their brethren who disbelieve among the people of the Book: if ye are driven forth we shall surely go forth with you, and we, shall not ever obey anyone in your respect, and if ye are attacked, we shall surely succour you. And Allah beareth witness that surely they are liars.
یعنی دل سے نہیں کہہ رہے۔ محض مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لئے باتیں بنارہے ہیں۔ اور جو کچھ زبان سے کہہ رہے ہیں ہر گز اس پر عمل نہیں کریں گے۔
عبداللہ بن ابّی وغیرہ منافقین نے یہود "بنی نضیر" کو خفیہ پیام بھیجا تھا کہ گھبرانا نہیں اور اپنے کو اکیلا مت سمجھنا۔ اگر مسلمانوں نے تم کو نکالا۔ ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور لڑائی کی نوبت آئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ یہ ہمارا بالکل اٹل اور قطعی فیصلہ ہے۔ اس کے خلاف تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ماننے والے اور پروا کرنے والے نہیں۔

أَلَم تَرَ كَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعادٍ {89:6}
تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے عاد کے ساتھ
Bethinkest thou not in what wise thy Lord did with the 'A'ad:

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ أَلَم تَرَ كَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصحٰبِ الفيلِ {105:1}
کیا تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ [۱]
Hast thou not observed what wise thy Lord dealt with the fellows of the elephant?
یعنی ہاتھی والوں کے ساتھ تیرے رب نے جو معاملہ کیا وہ تم کو ضرور معلوم ہو گا۔ کیونکہ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سے چند روز پیشتر ہوا تھا اور غایت شہرت سے بچہ بچہ کی زبان پر تھا۔ اسی قرب عہد اور تواتر کی بناء پر اس کے علم کو رویت سے تعبیر فرما دیا۔