تدوینِ قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ
”قرآن مجید“ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جو آخری نبی جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے، قیامت تک کوئی اور کتاب نازل نہ ہوگی، یہ زندگی کا وہی دستورِ کہن ہے جو ہمارے آبائے اولین کو ملا تھا، اس میں اصولاً اسی کا اعادہ اور عہد کی تجدید ہے، یہ خدائی عطیہ، ہمارا مشترکہ روحانی ترکہ ہے، جو منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے، اسے دوسری آسمانی کتابوں کا آخری اور دائمی ایڈیشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ ابتدائے نزول سے آج تک بلا کسی ادنیٰ تغیر و تبدل کے باقی ہے، اس میں سرِ مو کوئی فرق نہیں آیا، ایک لمحہ کے لیے نہ تو قرآن مسلمانوں سے جدا ہوا اور نہ مسلمان قرآن سے جدا ہوئے، اس میں باطل کے در آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے: ”لاَ یَأتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْنَ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہ “(حم سجدہ)
(ترجمہ:) قرآن مجید میں باطل نہ تو سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔
آسمانی کتابوں میں قرآن مجید ہی کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ یہ قیامت تک اپنی اصل حالت پر رہے گا، خود اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، ایک جگہ بڑے ذور دار انداز میں ارشاد فرمایا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ (حجر ۹)
(ترجمہ:) ہم نے ہی ذکر (قرآن مجید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔
صرف الفاظ نہیں؛ بلکہ معانی و مطالب کی تشریح و توضیح کی ذمہ داری بھی خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے، ایک جگہ ارشاد ہے: ”ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہ“ (ترجمہ) پھر ہم پر ہی اس کا بیان (بھی) ہے۔
قرآن مجید کا نزول ضرورت و حاجت کے مطابق تھوڑا تھوڑا ہوتا رہا، کبھی ایک آیت کبھی چند آیتیں نازل ہوتی رہیں، نزول کی ترتیب موجودہ ترتیب سے بالکل الگ تھی، یہ سلسلہ پورے عہد نبوی کو محیط رہا؛ بلکہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری لمحات تک جاری رہا؛ اس لیے آپ ﷺ کے سامنے آج کی طرح کتابی شکل میں منصہ شہود پر آنا مشکل؛ بلکہ ناممکن تھا، ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ ہر آیت کے نازل ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھوا لیتے تھے اور زمانہ کے لحاظ سے نہایت ہی پائدار چیز پر لکھواتے تھے؛ چناں چہ پورا قرآن مجید بلا کسی کم و کاست کے لکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہٴ مبارکہ میں موجود تھا، اس میں نہ تو کوئی آیت لکھنے سے رہ گئی تھی اور نہ ہی کسی کی ترتیب میں کوئی کمی تھی؛ البتہ سب سورتیں الگ الگ تھیں، اور متعدد چیزوں پر لکھی ہوئی تھیں، کتابی شکل میں جلد سازی اور شیرازہ بندی نہیں ہوئی تھی:
قد کان القرآنُ کُلُّہ مکتوباً فی عَہْدِہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لکن غیرَ مجموعٍ في مَوضِعٍ واحدٍ۔ (الکتابي ج ۲ص ۳۸۴ بحوالہ تدوینِ قرآن ص ۴۳)
(ترجمہ:) پورا قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھا ہوا تھا؛ لیکن ایک جگہ جمع نہیں تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتابی شکل میں جمع کرایا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کی محقق نقلیں تیار کرکے ہر طرف پھیلایا؛ بلکہ پوری امت کو اس پر جمع کیا۔ آج تک قرآن مجید اسی کے مطابق موجود ہے۔
حفاظتِ قرآن مجید کے طریقے
ابتدائے نزول سے قرآن مجید کی حفاظت جس طر ”لکھ کر“ ہوئی ہے، اس سے کہیں زیادہ ”حفظ“ کے ذریعہ ہوئی ہے، سینہ بہ سینہ حفظ کی خصوصیت صرف اسی آخری کتابِ الٰہی کو نصیب ہوئی، تو رات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی حفاظت صرف سفینہ میں ہوئی، اس لیے وہ تغیر و تبدل اور دوسرے حوادث کا شکار ہو گئیں، قرآن مجید کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرماتے ہوئے، ارشاد فرمایا:
و مُنَزِّلٌ علیکَ کتاباً لا یغسِلْہ الماء۔ (صحیح مسلم)
(ترجمہ:) میں آپ پر ایسی کتاب نازل کرنے والا ہوں جس کو پانی نہیں دھو سکے گا۔
غرض یہ کہ قرآن کی حفاظت شروع شروع میں سب سے زیادہ حافظہ کے ذریعہ ہوئی اور حفاظت کا سب سے اہم ذریعہ یہی ہے، اسی وجہ سے آج تک یہ کتاب مقدس اپنی اصل حالت پر باقی ہے، صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے خداداد بے نظیرحافظے کو جاہلیت کے اشعار، انسابِ عرب حتی کے اونٹوں اور گھوڑوں کی نسلوں کے حفظ سے ہٹا کر، آیاتِ الٰہی کے حفظ پر لگادیا، عرب کے ضرب المثل حافظے نے چند ہی دنوں میں ہزاروں حفّاظِ آیاتِ الٰہی کو معرضِ شہود میں لا کھڑا کر دیا، حفّاظ کی کثرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ: صرف ”جنگ ِیمامہ“ میں شہید ہونے والے حافظوں کی تعداد سات سو تھی، بخاری شریف کے حاشیہ میں ہے: وکان عِدَّةٌ مِن القُرّاء سَبْعَ مائة (۲/۷۴۵)۔
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل علیہ السلام جب قرآن مجید پڑھ کر سناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی دہرانے لگے تھے؛ تاکہ خوب پختہ ہو جائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: لا تُحَرِّک بہ لِسانَک لِتَعْجَلَ بہ، انّ علینا جَمْعَہ و قُرآنَہ۔ (قیامہ۱۷) (ترجمہ:) آپ قرآن مجید کو جلدی جلدی یاد کرلینے کی غرض سے، اپنی زبان کو حرکت نہ دیجیے، (اس لیے کہ) قرآن مجید کو جمع کرنے اور اس کو پڑھوانے کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔
کتابت کا اہتمام
زبانی یاد کرنے اور کرانے کے ساتھ ہی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیات کی حفاظت کے لیے کتابت (لکھانے) کا بھی خوب اہتمام فرمایا، نزول کے ساتھ ہی بلا تاخیر آیات قلم بند کرا دیتے تھے:
فکان اذا نَزَلَ علیہ الشئیُ دَعَا بَعْضَ مَنْ کان یَکْتُُبُ فیقولُ: ضعوا ہٰذا في السُّورة التي یذکر فیہا کذا و کذا۔ (مختصر کنزص ۴۸ بحوالہ تدوین قرآن ص۲۷)۔
(ترجمہ:) چناں چہ رسول اللہ ﷺ پر جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی، تو (بلاتاخیر) جو لکھنا جانتے تھے، ان میں سے کسی کو بلاتے اور ارشاد فرماتے کہ: اس آیت کو اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں آیتیں ہیں۔
اور مجمع الزوائد میں یہاں تک ہے: کان جبریلُ علیہ السلام یُملي علی النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (۷/۱۵۷) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل قرآن مجید لکھواتے تھے۔
مسند احمد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا: آتاني جبریلُ فأمَرَني۔(کنز العمال ۲/۴۰) یعنی حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے (فلاں آیت کو فلاں جگہ رکھنے کا) حکم دیا۔
غرض یہ کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم آیات لکھانے کا بھی خوب اہتمام فرماتے تھے، اور لکھانے کے بعد سن بھی لیتے تھے، اگر کوئی فرو گذاشت ہوتی تو اس کی اصلاح فرما دیتے تھے: فإن کان فیہ سَقَطٌ أقَامہ۔(مجمع الزوائد ۱/۶۰) پھر یہ لکھی ہوئی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس محفوظ فرما لیتے تھے۔
صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر لکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سناتے تھے، اس طرح بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھائی ہوئی آیات موجود تھیں، بعض کے پاس پورا پورا قرآن مجید لکھا ہوا تھا۔
سامانِ کتابت
نزولِ قرآن مجید کے زمانہ میں ایجادات و مصنوعات کی کمی ضرور تھی، جس طرح آج کاغذ، قلم اور دوات کی بے شمار قسمیں دریافت ہیں، اس زمانہ میں اتنی ہرگز نہ تھیں؛ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس وقت کاغذ اور کتابیں دریافت نہ تھیں، یمن، روم اور فارس میں کتب خانے بھی تھے، یہود و نصاریٰ کے پاس کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا، اس زمانے میں ”کاغذ“ وغیرہ کی صنعتیں بھی تھیں؛ لیکن بڑے پیمانے پر نہ ہونے کی وجہ سے کاغذ وغیرہ ہر جگہ دریافت نہ تھے؛ اس لیے لکھنے کے لیے جو چیز بھی قابل اور پائدار سمجھ میں آتی اس پر لکھ لیا جاتا تھا۔ (التبیان فی علوم القرآن ص۴۹)
قرآن مجید کی کتابت کے لیے بھی اس وقت کی ایسی پائدار چیزیں استعمال کی گئیں، جن میں حوادث وآفات کے مقابلے کی صلاحیت نسبتاً زیادہ تھی؛ تاکہ مدتِ دراز تک محفوظ رکھا جا سکے۔ (تدوین قرآن ص ۳۱)حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق کتابتِ قرآن میں درج ذیل چیزیں استعمال کی گئیں:
(الف) زیادہ تر پتھروں کی چوڑی اور پتلی سلوں (لِخاف) کو استعمال کیا گیا، اِسے ہم سلیٹ کہہ سکتے ہیں۔
(ب) اونٹوں کے مونڈھوں کی چوڑی گول ہڈیوں (کَتِف) پر بھی لکھا گیا، مونڈھوں کی ہڈیوں کو نہایت اچھی طرح گول تراش کر تیار کیا جاتا تھا۔
(ج) چمڑوں کے کافی باریک پارچوں (رِقاع) پر بھی قرآن مجید لکھا جاتا تھا، یہ ٹکڑے نہایت باریک ہوتے تھے، اور لکھنے کے لیے ہی تیار کیے جاتے تھے، گوشت خور ملک میں اس کی بڑی افراط تھی۔
(د) بانس کے ٹکڑوں پر بھی آیات لکھی جاتی تھیں۔
(ھ) درخت کے چوڑے اور صاف پتے بھی کتابت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
(و) کھجور کی شاخوں کی چوڑی جڑوں (عسیب) اور کھجور کے جڑے ہوے پتوں کو کھول کر ان کی اندرون جانب بھی آیات کی کتابت ہوتی تھی۔
(ز) محدثین نے کاغذ پر بھی کتابتِ قرآن کا ذکر کیا ہے۔ (فتح الباری ۹/۱۷)
سورتوں اور آیتوں کی ترتیب
پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن مجید میں سورتوں اور آیتوں کی ترتیب توقیفی ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پورا قرآن مجیدمرتب طور پر لکھوایا، آج بھی اسی ترتیب سے قرآن مجید لکھا اور پڑھا جا رہا ہے، اور قیامت تک اسی طرح رہے گا۔
پورا قرآن مجید بائیس سال، پانچ ماہ، چودہ دن میں نازل ہوا (مناہل العرفان ص۴۳)، حسبِ ضرورت کبھی ایک آیت، کبھی چند آیتیں اور کبھی پوری سورہ کی شکل میں آیات نازل ہوتی رہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی حکم ہوتا کہ اس کو فلاں سور ہ کے فلاں مقام پر رکھ دیجیے؛ چناں چہ کاتبینِ وحی کو بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ضَعواہا في مَوضع کذا (التبیان في علوم القرآن ص۴۹، فتح الباری ۹/۲۷)(ترجمہ:) اس کو فلاں مقام پر لکھو!
عہدِ نبوی میں قرآن مجید کے نسخے
جیسا کہ اوپر گذرا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے ساتھ ہی آیات لکھوا لیا کرتے تھے، اور لکھانے کے ساتھ سن بھی لیتے تھے، پھر اسے اپنے پاس محفوظ فرما لیتے تھے، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پورا قرآن مجید لکھی ہوئی شکل میں بھی موجود تھا؛ لیکن ایک جلد میں مجلد نہ تھا، مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا۔
صحابہٴ کرام میں جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ،وہ خدمت ِنبوی میں پہنچ کر آیات لکھ لیتے تھے، جب کسی سورت میں آیت کا اضافہ ہوتا تو معلوم کرکے مرتب فرما لیتے تھے، اس طرح بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدقہ نسخہٴ قرآن موجود تھا، بعض کے پاس پورا قرآن بھی تھا اور بعض کے پاس چند سورتیں اور چند آیتیں تھیں، لکھنے لکھانے کا سلسلہ بالکل ابتداء سے کثرت سے جاری تھی، اس کی شہادت درج ذیل روایتوں سے ملتی ہے:
(۱) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے والی روایت میں ہے کہ: ان کی بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بن زید رضی اللہ عنہما ان سے پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے، وہ حضرت خباب بن الارث سے قرآن پڑھ رہے تھے، جب حضرت عمر نہایت غضب ناک حالت میں ان کے پاس پہنچے تو ان کے سامنے ایک صحیفہ تھا جس کو انہوں نے چھپا دیا تھا، اس میں سورہ طہ کی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ (سنن دار قطنی۱/ ۱۲۳ باب نہی المحدث عن مس القرآن، دار نشر لاہور)
(۲) امام بخاری علیہ الرحمہ نے ”کتاب الجہاد“ میں ا یک روایت نقل کی ہے، جس میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصاحف (لکھا ہوا قرآن مجید) لے کر دشمنوں کی زمین میں جانے سے منع فرما دیا تھا۔ (صحیح بخاری ۱/۴۱۹)
(۳)حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے مشورہ سے جب قرآن مجید کے اجماعی نسخہ کی کتابت کا وقت آیا تو اس وقت حضرت زید بن ثابت کو پابند کیا گیا تھا کہ: جو کوئی بھی لکھی ہوئی آیت لے کر آئے ،اس سے دو گواہوں کی گواہی اس بات پر لیجیے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی ہے ؛چناں چہ اس پر عمل ہوا (الاتقان ۱/۷۷)
مذکورہ بالا تینوں روایتوں اور ان کے علاوہ بہت سی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی میں بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس آیات لکھی ہوئی تھیں؛ بلکہ بعض کے پاس پورا قرآن مجید بھی لکھی ہوئی شکل میں موجود تھا۔
عہد صدیقی میں تدوینِ قرآن مجید
ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: أعظمُ النّاسِ في المصاحب أجراً أبوبکرٍ، رحمہُ اللّٰہ علی أبي بکر، ہو أوّلُ مَنْ جَمَعَ کتابَ اللّٰہ۔ (الاتقان في علوم القرآن ۱/۷۶)
(ترجمہ:) قرآن مجید کی خدمت کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ابوبکرصدیق ہیں، اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائیں کہ وہ اولین شخصیت ہیں، جنہوں نے، جمعِ قرآن کا (مایہ ناز) کارنامہ انجام دیا۔
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکمل قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا، سارے اجزا الگ الگ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی تمام سورتوں کوا یک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کروانے کا کام حکومتی اور اجماعی طور پر انجام دیا؛ چنانچہ ایسا نسخہ مرتب ہو گیا جس کو سارے صحابہٴ کرام کی اجماعی تصدیق حاصل ہوئی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی خدمت کو حکومت کی طرف سے انجام دینے کا مطالبہ کر رہے تھے، وہ چاہتے تھے کہ خلافت و حکومت اس مہم کو اپنے ہاتھ میں لے اور اپنی نگرانی میں اس کو مکمل کرائے؛ تاکہ قرآن مجید ضائع ہونے سے بچ جائے اور بعد میں کتاب اللہ میں اختلاف پیدا نہ ہو۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت امام بخاری علیہ الرحمہ نے نقل فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ:
”جنگ یمامہ“ کے فوراً بعد صدیق اکبر نے میرے پاس بلاوا بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت عمر فاروق بھی موجود تھے، حضرت ابوبکر مجھ سے مخاطب ہوئے کہ: عمر نے ابھی آکر مجھ سے کہا کہ: جنگ ِیمامہ میں حفاظِ کرام کی ایک بڑی تعداد شہید ہو گئی ہے، اگر آئندہ لڑائیوں میں بھی اسی طرح حفاظ شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کریم کا بڑا حصہ ناپید نہ ہو جائے!
لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید جمع کرنے کا حکم دے دیں، میں نے کہا کہ: جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے، وہ ہم کیسے کریں؟ عمر نے جواب دیا کہ: بہ خدا! یہ کام بہتر ہے، اس کے بعد عمر بار بار مجھ سے یہ کہتے رہے ؛یہاں تک کہ مجھے بھی اس پر شرحِ صدر ہو گیا، اور اب میری رائے بھی وہی ہے جو عمر کی ہے!
اِنَّکَ رجلٌ شابٌّ عاقلٌ، لا نَتَّہِمُکَ، وقد کُنْتَ کتبتَ الوحيَ لرسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فَتَتَبَّعِ القرآنَ فاجمعْہُ۔(ترجمہ:) واقعہ یہ ہے کہ تم نوجوان، سمجھ دار آدمی ہو، ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں ہے، اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابتِ وحی کی خدمت بھی کر چکے ہو؛ اس لیے تم قرآن کریم کو تلاش کرکے جمع کرو!
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: خدا کی قسم! اگر یہ حضرات مجھے پہاڑ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو مجھے اتنا مشکل نہ ہوتا، جتنا جمعِ قرآن کا بار ہوا، میں نے کہا بھی کہ: آپ حضرات ایسا کام کیوں کر رہے ہیں ،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا؟ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ: خدا کی قسم یہ کام بہتر ہے، اور حضرت ابوبکر بار بار یہی دہراتے رہے؛ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کام کے لیے کھول دیا، جس کام کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو شرحِ صدر عطا فرمایا تھا؛چنانچہ میں نے کھجور کی شاخوں، پتھر کی باریک تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن مجید تلاش کرکے جمع کرنا شروع کر دیا؛ یہاں تک کہ توبہ کی آیت ؛لقد جاء کم رسولٌ مِنْ انفسِکم اخیر سورہ تک“ میں نے صرف حضرت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی، ان کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں پایا، ان کی تنہا شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمی کی شہادت کے قائم مقام قرار دیاتھا (صحیح بخاری ۲/ ۷۴۵، ۷۴۶)
جمعِ قرآن میں حضرت زید بن ثابت کا طریقہٴ کار
حضرت ابوبکر و عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سب حافظِ قرآن تھے ،ان کے علاوہ بھی صحابہٴ کرام میں حفاظ کی کمی نہیں تھی، اگر حضرت زید چاہتے تو اپنے حافظہ سے پورا قرآن مجید لکھ دیتے، یا حافظ صحابہٴ کرام کو اکٹھا کرکے محض ان کے حافظے کی مدد سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا، اسی طرح محض رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کی لکھی ہوئی آیتوں سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا؛ لیکن حضرت ابوبکر نے بیک وقت سارے وسائل کو برروئے کار لانے کا حکم فرمایا، خود بھی شریک رہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی حضرت زید کے ساتھ لگایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا کہ:
جن لوگوں نے جو کچھ بھی آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھی ہو، وہ سب لے کر آئیں! (فتح الباری۹/۱۷) چناں چہ جب کوئی لکھی ہوئی آیت آتی تو بلا چوں و چرا قبول نہ کی جاتی تھی؛ بلکہ اس پر دو گواہی طلب کی جاتی تھی:
وکان لا یَقْبَلُ مِنْ أحدٍ شےئاً حتی یَشْہَدَ شَاہِدَان۔ (الاتقان ۱/۷۷)
(ترجمہ:) اور کسی سے بھی کوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک کہ اس پر دو گواہ گواہی نہ دے دیتے (کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی، یعنی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ واقعتا آیتِ الٰہی ہے )۔
جمع قرآن میں درج ذیل باتیں بھی پیشِ نظر رکھی گئیں:
۱ سب سے پہلے حضرت زید اپنی یاد داشت سے اس کی تصدیق فرماتے تھے۔
۲ حضرت ابوبکر نے حضرت زید اور حضرت عمر دونوں حضرات کو حکم دیا تھا کہ: ”آپ دونوں حضرات مسجدِ نبوی کے دروازے پر بیٹھ جاےئے، پھر جو کوئی آپ دونوں کے پاس کتاب اللہ کی کوئی آیت دو گواہوں کے ساتھ لے کر آئے ،اس کو آپ دونوں لکھ لیجیے! (فتح الباری ۹/۱۷، الاتقان ۱/۷۷)
رسول اللہ ﷺ کے سامنے کتابت ہونے پر گواہیاں لی جانے کی کیا وجہ تھی؟ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں:) کانَ غزضُہم أن لا یُکْتَبَ الاّ منْ عَیْنِ ما کُتِبَ بین یَدَي النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا مِنْ مْجَرَّدِ الحِفظ۔( فتح الباری ۹/۱۷، الاتقان ۱/۷۷)
(ترجمہ:) ان کا مقصد یہ تھا کہ: صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عین سامنے لکھی گئی آیتوں کو ہی لکھا جائے، محض حافظہ سے نہ لکھا جائے۔
حافظ ابن حجر نے ہی ایک دوسری وجہ بھی لکھی ہے کہ: گواہیاں اس بات پر بھی لی جاتی تھیں کہ: دو گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ لکھی ہوئی آیت ان وجوہ (سبعہ) کے مطابق ہے جن پر قرآن مجید نازل ہوا ہے (فتح الباری ۹/ ۱۷، الاتقان۱/۷۷)
۳ لکھنے کے بعد صحابہٴ کرام کے پاس موجود لکھے ہوئے مجموعوں سے ملایا جاتا؛ تاکہ یہ مجموعہ متفقہ طور پر قابلِ اعتماد ہو جائے، (البرہان في علوم القرآن للزرکشی ۱/۲۳۸)
جب اجتماعی تصدیق کے ساتھ ”قرآن مجید“ کی جمع و تدوین کا کام مکمل ہو گیا، تو صحابہٴ کرام نے آپس میں مشورہ کیا کہ: اس کو کیا نام دیا جائے؟ چناں چہ بعض صحابہٴ کرام نے اس کا نام ”سِفْر“ رکھا؛لیکن یہ نام یہودیوں کی مشابہت کی وجہ سے پاس نہیں ہوا، اخیر میں ” مصحف“ نام پر سارے صحابہٴ کرام کا اتفاق ہو گیا۔ (الاتقان ۱/۷۷)
قرآن مجید کا یہ متفق علیہ نسخہ حضرت ابوبکر کے پاس ان کی وفات تک رہا، پھر حضرت عمر کے پاس رہا، جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس محفوظ رکھاگیا، جیسا کہ بخاری شریف کے حوالے سے گذر چکا ہے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس سے ہی منگوا کر نقول تیار کرائے تھے۔
نسخہٴ صدیق کی خصوصیت
دوسرے صحابہٴ کرام کے پاس بھی قرآن مجید لکھا ہوا تھا؛ لیکن جن خصوصیات کا حامل حضرت ابوبکر صدیق والا اجماعی نسخہ تھا، ان سے دوسرے سارے نسخے خالی تھے، اسی وجہ سے صحابہٴ کرام کے درمیان اُسے ”اُم“ کہا جاتا تھا،اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
۱ ہر سورت کو الگ الگ لکھا گیا تھا؛ لیکن ترتیب بعینہ وہی تھی، جو سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی (فتح الباری ۹/۲۲)
۲ اس نسخہ میں ساتوں حروف جمع تھے، جن پر قرآن مجید کا نزول ہوا۔ (مناہل العرفان ۱/۲۴۶، ۲۴۷)
۳یہ نسخہ خط ”حِیَرِی“ میں لکھا گیا تھا۔ (تاریخ القرآن از مولانا عبد الصمد صارم# ص ۴۳)
۴اس میں صرف وہ آیات لکھی گئی تھیں، جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی۔
۵اس کو لکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتب نسخہ تمام امت کی ”اجماعی تصدیق“ سے تیار ہو جائے؛ تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی طرف رجوع کیا جا سکے (علوم القرآن از مفتی محمد تقی عثمانی ص۱۸۶)
۶اس نسخہ میں قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر، ایک ہی جلد میں مجلد کرایا گیا تھا، اور یہ کام حکومت کی طر ف سے انجام دیا گیا، جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو پایا تھا، (تدوین قرآن ص۴۰)
وکان القرآنُ فیہا مُنْتَشِراً فَجَمَعَہا جامعٌ و رَبَطَہَا بخیطٍ۔ (الاتقان ۱/۸۳)
(ترجمہ:) اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں قرآن مجید کی مکمل یاد داشتوں کا جو ذخیرہ تھا) اس میں (قرآنی سورتیں) الگ الگ لکھی ہوئی تھیں؛ پس اس کو (حضرت ابوبکر کے حکم سے) جمع کرنے والے (زید بن ثابت) نے ایک جگہ (ساری سورتوں کو) جمع کر دیا، اور ایک دھاگا سے سب کی شیرازہ بندی کر دی۔
قرآن مجید کا یہ متفق علیہ نسخہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، جب ان وفات ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو (وصیت کے مطابق) آپ کی بیٹی ام الموٴمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رکھا رہا (صحیح بخاری ۲/۷۴۶)
عہدِ عثمانی میں امت کی شیرازہ بندی
جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ جمعِ قرآن ہے، اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ پوری امت کو قرآن مجید کے اس متفق علیہ نسخہ پر جمع کرنا ہے جو ”عہدِ صدیقی“ میں تیار کیا گیا تھا، اس طرح امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھرنے سے انہوں نے بچا لیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ:
بالکل ابتداء میں مضمون و معنی کی حفاظت کرتے ہوئے الفاظ میں ادنی تبدیلی کے ساتھ پڑھنے کی اجازت بھی دی گئی تھی، (مناہل العرفان) جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور اسلام کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا، تو جن لوگوں نے مذکوہ بالا رعایتوں کی بنیاد پر اپنے اپنے قبائلی اور انفرادی لہجوں یا مختلف متواتر تلفظ کے لحاظ سے قرآن مجید کے مختلف نسخے لکھے تھے، انکے درمیان شدید اختلاف رونما ہو گیا؛ حتی کہ ایک دوسرے کی تکفیر کی جانے لگی، تو صحابہٴ کرام کے مشورے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ متفق علیہ نسخہ پر امت کو جمع کیا، اور اس کے علاوہ سارے نسخوں کو طلب کرکے نذرِ آتش کر دیا؛ تاکہ ”نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“؛ چنانچہ اختلاف جڑ سے ختم ہو گیا (تفصیل کے لے دیکھئے: تدوینِ قرآن ۴۴، ۵۴، تحفة الالمعی ۷/۹۴،۹۵، مناہل العرفان وغیرہ)
کام کی نوعیت
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تیار کردہ نسخہ یہ کہہ کر منگوایا کہ ہم اس سے نقل تیار کرکے اصل آپ کو واپس کر دیں گے، چناں چہ حضرت حفصہ نے وہ نسخہ بھیج دیا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تین قریشی اور چوتھے انصاری صحابی کو پانچ یا سات نسخے لکھنے کا حکم فرمایا، قریشی صحابی میں، حضرت عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام رضی اللہ عنہم تھے اور انصاری صحابی سے مراد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان سب کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ آپ حضرات کا اگر کسی جگہ رسم الخط میں حضرت زید سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کے رسم الخط کے مطابق لکھیں؛ اس لیے کہ قرآن مجید قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے (فتح الباری ۹/۲۲)۔
معتبر روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ: پورے قرآن مجید کے کسی لفظ میں بھی ان لوگوں کااختلاف نہیں ہوا، ہاں! سورہٴ بقرہ میں ایک لفظ ”التابوت“ ہے، اس کے بارے میں حضرت زید کی رائے گول ”ة“ سے لکھنے کی تھی، اور حضرت سعید بن العاص، لمبی ”ت“ سے لکھنا چاہتے تھے، جب یہ بات حضرت عثمان غنی کے پاس پہنچی تو آپ نے لمبی ”ت“ سے لکھنے کا حکم فرمایا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: سیر أعلام النبلاء مع حاشیہ ۲/۴۴۱،۴۴۲)۔
واضح رہے کہ مذکورہ بالا چار حضرات ”مجلس کتابت“ کے اساسی رکن تھے، ان کے علاوہ دوسرے حضرات کو بھی ان کے ساتھ کیا گیا تھا، فتح الباری میں ہے کہ حضرت عثمان نے قریش اور انصار کے بارہ افراد کو اس کے لیے جمع فرمایا تھا، ان میں مذکورہ چاروں حضرات کے علاوہ اُبی بن کعب، مالک بن ابی عامر، کثیر بن افلح، انس بن مالک اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ (فتح الباری ۹/۲۳)۔
عہد عثمانی میں تیار کردہ نسخوں کی خصوصیات
۱حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جو نسخہ تیار ہوا تھا، اس میں ساری سورتیں الگ الگ لکھی گئی تھیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام سورتوں کو اسی ترتیب سے یکے بعد دیگرے ایک ہی مصحف میں لکھوایا۔ (فتح الباری ۹/۲۲)۔
۲قرآن مجید ایسے رسم الخط میں لکھا گیا کہ ممکن حد تک متواتر قرأتیں سما جائیں۔ (مناہل العرفان ۱/۲۵۳)
۳حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جن حضرات کو نسخہٴ قرآن تیار کرنے کے لیے مامور فرمایا تھا، ان حضرات نے اسی نسخہ کو بنیاد بنایا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تیار کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ مزید احتیاط کے لیے وہی طریقہ اختیار فرمایا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اختیار کیا گیا تھا؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی متفرق تحریریں جو مختلف صحابہٴ کرام کے پاس محفوظ تھیں، انھیں دوبارہ طلب کیا گیا اور ان کے ساتھ از سرنو مقابلہ کر کے یہ نسخے تیار کیے گئے۔ (علوم القرآن ص۱۹۱)
عہدِ عثمانی میں تیار کردہ نسخوں کی تعداد
اس سلسلے میں دو اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پانچ نسخے تیار کرائے تھے، یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ (فتح الباری ۹/۲۴)اور دوسرا اقوال یہ ہے کہ حضرت عثمان نے سات نسخے تیار کرائے تھے، ایک نسخہ مدینہ منورہ میں رکھا گیا، اور بقیہ مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ ور کوفہ میں ایک ایک کرکے بھیج دیا گیا، یہ قول ابن ابی داؤد سے ابو حاتم سجستانی نے نقل کیا ہے۔ (فتح الباری۹/۲۵)۔
امت میں پائے جانے والے دیگر مصاحف
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صحابہٴ کرام اور تابعین عظام کے پاس موجود سارے نسخوں کو نذرِ آتش کرنے کا حکم نافذ فرما دیا (فتح الباری ۹/۱۳) تاکہ امتِ مسلمہ ایک رسم الخط پر متفق ہوجائے اور امت کی شیرازہ بندی باقی رہے۔
اس وقت موجود بلا استثناء سارے صحابہٴ کرام نے حضرت عثمان کے اس کارنامے کی تائید و حمایت کی اور خوب خوب سراہا۔
عہد صدیقی والا نسخہ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ام الموٴمنین حضرت حفصہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ والا نسخہ واپسی کے وعدے سے منگوایا تھا (فتح الباری ۹/۱۹) ؛اس لیے اس سے نقلیں تیار کرکے حسبِ وعدہ واپس فرما دیا۔ (فتح الباری۱۳۹)۔
قرآن فہمی اور ہمارے درمیان حائل پردے
روایات میں آتا ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کی ایک آیت سیکھتے، اس کو سمجھتے اس آیت میں بیان کردہ حکم کے مطابق اپنی زندگی ڈھا ل لیتے تھے۔ صحابہٴ کرام نے قرآن مجید میں تدبر کیا،اس کے معانی ومقصود کو سمجھا ،ا س کے مطابق عملی زندگی اختیار کی تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قومیں جو باہمی انتشار وخلفشار کا شکار تھیں ، جو چھوٹی چھوٹی اور رذیل باتوں کی بنیاد پر سالہا سال میدان جنگ میں برسرِپیکار رہتیں اور بعض دفعہ تو سببِ جنگ بھی نہ ہوتا کہ محض انا پرستی کی خاطر کُشتوں کے پُشتے لگا دیے جاتے ، جو اتحادویگانگت جیسی دولتِ عظمیٰ سے محروم تھیں ، جو دل ہلادینے والی عادات وخرافات کا مظہر تھیں ، انھیں قوموں نے جب قرآن کے بیان کردہ طرزِ زندگی کو اپنایا ، کلامِ الٰہی کی معرفت اپنی زندگیوں کو قرآنی سانچے میں ڈھالا تو ان کا شمار دنیا کی بہترین قوموں میں ہونے لگا ۔ وہ قومیں دنیا میں ایسی چھائیں کہ ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک اسلام کا پرچم لہرادیا۔ باہمی انتشار وخلفشار کو پسِ پشت ڈال کر مواخات کی شکل میں اتحادویگانگت کی ایسی فضا قائم کی کہ قیامت تک آنے والی قومیں حیران ہیں کہ یہ کیسا درس اور کیسا سبق تھا کہ ایک انصار ایک مہاجر کو اپنی بیوی تک کو عقد میں دینے کے لیے تیار ہے۔ رذیل عادات وخرافات کو خیرباد کہہ کر معرفتِ الٰہی کی جستجو میں ایسے غرق ہوئے کہ فرشتے ان پر رشک کرتے اور خلقِ آدم پر اعتراض کی بناء پر نادم وشرمندہ ہوکر پانی پانی ہوجاتے تھے۔ وہ نیک سرشت لوگ جانتے تھے کہ یہ حکیمانہ کتاب، زندگی کے تمام پہلووٴں کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور زندگی کا کوئی پہلو اس سے مخفی نہیں ۔ اسی نظریے پر چلتے ہوئے انھوں نے زندگی کے ہر مسئلے کا حل اس کتاب میں ڈھونڈا اور ترقی کے اوجِ ثریا تک پہنچ گئے ۔
آج مسلم امہ کی صورتحال عیاں ہے ۔ باہمی انتشاروخلفشار ، مسلم ممالک کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال،معاشی کیفیت، اپنوں کی غداری اور کفر کی یلغار ، عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اور دنیا کے کونے کونے سے اٹھنے والے اسلام مخالف طوفان اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کا پیش خیمہ ہیں۔ قرونِ اولیٰ کی طرح آج بھی قرآن سے وابستگی ضروری ولازم ہوچکی ہے ۔ سچ جانو! ہم نے قرآن کو تدبر کی بجائے پس پشت ڈال دیا، فہمِ قرآن کی بجائے اپنے اور قرآن کے درمیان دبیز پردے حائل کر لیے جس کا خمیازہ بحیثیت مجموعی ہم بھگت رہے ہیں۔قرآن کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اُسے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا۔ کفر کی کوششیں توبجا ،مسلمانوں کے ہی ایک مادیت پرست طبقے نے قرآن اور مسلم امہ کے درمیان دبیز پردوں کی ایک تہہ کھڑی کردی ہے ، نتیجتاً مسلم اُمّہ حکمرانی کی بجائے خود محکوم بن کر رہ گئی ہے ۔
ذیل میں ہم قرآن فہمی اور تدبرِقرآن میں حائل پردوں کا ذکر کرتے ہیں:
۱- ہر اسلامی ملک میں اندرونی وبیرونی قوتوں نے مقدور بھر کوششیں کی ہیں کہ عملی زندگی کو قرآن کے بیان کردہ طرزِزندگی کی بجائے مغربی سیکولر ازم کے خطوط پر چلایاجائے نتیجتاً بعض جگہ ان کوششوں کو عملی جامہ پہنادیا گیا ہے ،بعض جگہ جزوی کامیابی ملی جبکہ بعض جگہ کشمکش جاری ہے ۔
۲- جن ممالک میں سیکولرازم کی تبلیغ میں خاطرخواہ نتائج کے حصول میں غیرمعمولی رکاوٹیں ہیں ، وہاں فکر ونظر کے دائرئہ کار میں رہ کر یہ سعی کی جارہی ہے کہ خود مسلمانوں کے اندر ہی سے ایسے افراد کو منتخب کیا جائے جو اسلام کے اساسی تصورات پر قدامت پرستی کالیبل چسپاں کرتے ہیں جس میں ٹی وی پر نمودار ہونے والے ’مشہور اسکالر ‘سرِفہرست ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے قائم کیے جارہے ہیں جو ”قدامت پسند“ اسلام کے مقابلے میں ”ماڈرن اسلام“ تشکیل دینے میں مصروفِ عمل ہیں۔
۳- مسلم ممالک کی سیاسی صورتحال یہ ہے کہ آزادی سے قبل غیرمسلم حکومتوں کے شکنجے میں تھے اور اب آمریتوں کے زیرِتسلط آرہے ہیں ، ہر ملک میں آئے دن سیاسی وعسکری انقلابات واقع ہورہے ہیں ، دنیا کو اتحادویگانگت اور شورائیت کا درس دینے والی قوم اپنے پیش کردہ نظام کے نفاذ سے محروم ہے ۔ آئے دن اپنے ہاتھوں اپنی ہی قوتوں کی بربادی، عارضی اقتدار کی بھوک ، ایک مستقل عدمِ استحکام کا تصور ،بے یقینی کی کیفیت کا تسلسل ، کشتیِ جمہوریت کا نت نئے طوفانوں سے ٹکراوٴ اور پھر ان حالات میں مسلم ممالک کو توڑنے اور منقسم کرکے داخلی وخارجی سازشیں تدبرِقرآن اور فہمِ قرآن میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ان سنگین حادثات کو نظرانداز نہیں کرسکتے جو عالمِ اسلام کے مختلف گوشوں میں اسلامی تحریکا ت کو کچلنے اور ان تحریکات کو فعال اور متحرک بنانے والی شخصیات کو موت کے گھاٹ اتارنے کی شکل میں پیش آتے رہے ہیں۔ان سنگین حادثات کی کڑیاں یا تو اسلام دشمن قوتوں سے ملتی ہیں یا ایسے نام نہاد اور مادیت پرست مسلم عناصر سے جو کفر کے ٹکڑوں پر پلے ،پڑھے اور بڑھے ہیں۔ ایسے واقعات نے عام مسلمانوں کو قرآن جاننے ، سمجھنے اور اس کے اجتماعی نظام کے علمبردار بن کر کام کرنے سے خوفزدہ کردیا ہے ۔ وہ قرآن کو پڑھنے ، سمجھنے ، اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کی دعوت دینے والوں کا انجام دیکھ کر غیرشعوری طور پر ڈر گئے ہیں۔
۴- مسلمانوں کے نئے افکار کا جائزہ لیتے ہوئے ہم ادب کے محاذ کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ ہمارا جدید ادب پوری دنیائے اسلام میں ایسے عناصر کے تصرف میں ہے جو اس میں ملحدانہ افکار کا زہر مسلسل بھرتے آرہے ہیں ۔ عام مسلم قاری اس زہرخورانی کا نہ صرف خوگر ہوگیا ہے؛ بلکہ ان خیالات کی خوراکیں نگل کر فخرومسرت محسوس کرتا ہے ۔ کہیں خدا کی ہستی کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور کبھی ایک شریف انسان کو بدمعاش ثابت کردیا جاتا ہے ۔ کہیں پیروانِ مذہب کے کردار کو دوغلااور کھوٹا بناکر پیش کیاجاتاہے اور کہیں حاملانِ لوائے الحمد کے کرداروں کی خاک اڑائی جاتی ہے۔ ایسے ایسے موضوعات کو منتخب کیاجاتا ہے کہ جن کو پڑھنے سے خدا پرستی اور مذہب سے نفرت وبیزاری پیدا ہو۔ دوسری طرف ان تمام چیزوں کو خوشنما بنا کر شعروشاعری ، صورت گری وافسانہ نگاری میں لایاجاتا ہے جو قرآن کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں محسوس اور غیر محسوس طور پر ضرررساں ہیں۔ جدید ادب ہر مذہب پسند آدمی پر ”مُلاّ“ کا لیبل چسپاں کرکے اُسے سامانِ تمسخر اور ہدفِ تحقیر بناتا ہے اور اس کے ساتھ وہ ان ادبیات کو ترقی پسندی کے مرتبہ پر رکھتا ہے جو ہمارے مذہبی رجحانات سے صریح متصادم ہیں اور جو لوگ اسلامی نظریات، اصول واقدار کو محورِ فکر بناکر پاکیزہ تعمیری ادب کی تشکیل کرتے ہیں، وہ رجعت پسندی اور قدامت پسندی کے گنہگار ٹھہرتے ہیں۔ ایسا اد ب پڑھنے والے عام قارئین جب سالہا سال سے مخالفِ قرآن افکار کی زد میں رہتے ہیں تو آہستہ آہستہ ان کی ذہنیت اس سے ضرور اثرانداز ہوتی ہے ۔ اس حوالے سے ہمارا جدید ادب بھی تعلق بالقرآن میں ایک دبیز پردے کی صورت میں حائل ہوگیا ہے ۔
۵- قرآن جو دنیا پرستی کے مختلف مسالک کے خلاف تحریک اٹھانے کے لیے اُترا ہے ، آج مادیت پرستی اور دنیا پرستی کی تیز لہریں اس کے سامنے حائل ہورہی ہیں۔ صنعتی انقلاب اور سائنسی ایجادات سے انکار ممکن نہیں ، اسی طرح موٹر اور مشین سے کام لینا بھی ضروری ہے؛ لیکن بہ حیثیت حاملِ قرآن جب ہم دیکھتے ہیں کہ دولت ومادیت کا یہ سیلاب اپنے ساتھ بدترین مفاسد بھی لارہا ہے تو یہ صورتِ واقعہ بڑی تشویشناک ہوجاتی ہے۔ اس سیلاب کے ابتدائی ہلکے ہلکے ریلوں کو دیکھ کر علامہ اقبال نے پوری قوم کو متنبہ کیا تھا؛ مگر ہماری غفلت سے یہ نہ صرف مزارِاقبال سے گزر گیا؛ بلکہ اس کی اونچی ہوتی ہوئی لہریں ہمارے سروں پر سے بھی گزر گئی ہیں۔ اس کا عجب کرشمہ ہے کہ ہماری زندگی کا ایک سرا ترقی جبکہ دوسرا سرا محرومی ہے ۔ صنعتی انقلاب نے درمیانے طبقے کو پیس کر رکھ دیا ہے ، اس نے طبقاتی تقسیم پیدا کردی ہے ، فردفرد اور گروہ گروہ کو آپس میں مسابقت اور کشمکش میں لگادیا ہے ۔ ہر شخص پیسے کے حصول کے لیے اندھا دھند توڑرہا ہے ، ذریعہٴ عزت وتحفظ اور تمام اخلاقی قدروں اور انسانی روایتوں کا ٹھیکے دار فقط پیسہ ہی رہ گیا ہے ۔ مضمونِ حیات کا اب یہی عنوانِ واحد بچا ہے ۔ بینکوں ، کاروں ، کوٹھیوں ، بھاری کارخانوں ، محل نما ہوٹلوں اور بھاری بھرکم طیاروں کے درمیان گھرا ہوا انسان اپنے آپ کو بے وقعت محسوس کرتا ہے ۔ اکثر لوگوں کا سارا وقت اور سارا قویٰ دولت نے اس طرح جذب کرلیا ہے گویا اب یہی ان کا خدا ہے ۔ اب ترقی کا وہ متوازن تصور ذہنوں سے غائب ہورہا ہے ، جس میں معاشی واخلاقی ترقی اور جسم وروح دونوں کی فلاح شامل ہو۔ ایمان،مذہب ، روحانیت اور اخلاقیات کی باتیں گویا اب مانعِ ترقی ہیں ۔ اب ہر وہ شخص پاگل ، بے وقوف اور قدامت پرستی کا مریض سمجھاجاتا ہے جو مادی ترقی کے ساتھ روحانی واخلاقی ترقی کا متوازی طور پر جاری رہنا ضروری قرار دیتا ہے مادیت پرستی اور پیسے کی اس دوڑ نے توجیہہ الی القرآن کو پسِ پشت ڈال دیا ہے ۔
۶- مذکورہ رذائل کے ساتھ ایک انتہائی خطرناک ،عدم توجہہ الی القرآن کے لیے موٴثر کن ”بدن پرست ثقافت“ حریمِ امت مسلمہ بن گھس آئی ہے ۔ وہی ثقافت جس نے مغربی انسانیت کو گھن کی طرح کھاڈالا ہے ۔ گندی فلمیں شراب وکباب ، رقص وسرود، میلے ٹھیلے، مخلوط تقاریب ، ہوٹل بازی ، مخلوط نظامِ تعلیم ، بدنگاہی وآوارگی، ننگی تصاویر ، خواتین کی بے پردگی اور تنگ لباسی ، کپڑوں اور بالوں کے فیشنوں کی وبا ، فحش وعریاں سائن بورڈ، ہر بڑے چوک پر لگی خواتین کے نیم برہنہ فوٹوز وغیرہ ۔ حجاب سے اظہارِبیزاری ، شہوت انگیزفلمیں وڈرامے، نشہ آور ادویات ، کاروباری اداروں میں گاہکوں کی توجہ کے لیے لڑکیوں کا تقرر ،ان سارے امراض کے ساتھ پھر فیملی پلاننگ کی ’مقدس تعلیم“ کو عام کرنے کے لیے میڈیا کا آزادانہ استعمال ۔ یہ سب کچھ اسلام کی ثقافت نہیں کہلاسکتا اورکوئی بھی تاویل اس رنگِ ثقافت کو ”صبغة اللہ“ قرار نہیں دے سکتی۔ کوئی شخص ،خاندان یامعاشرہ مغرب کی اس ثقافتِ فسق وفجور میں مبتلا ہوکر فہمِ قرآن اور تدبر قرآن کی طرف مائل نہیں ہوسکتااور سچ یہ ہے کہ اس کے لیے حقائق ومعارف کے دروازے ہی بند کردیے جاتے ہیں۔
۷- ہمارے ہاں کے مذہبی اداروں اور دین کی نمائندگی کرنے والے علماء میں سے تھوڑی سی مقدار کے استنثاء کے ساتھ بقیہ حضرات چھوٹے چھوٹے فروعی اور فقہی مسائل پر آپس میں نبردآزما ہیں ۔ مسجد ومحراب سے آیات واحادیث پڑھ کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالی جاتی ہے۔ غضب آلود تقریروں کے جھکڑ چلتے ہیں اور تکفیر وتفسیق کا غبار اڑایا جاتا ہے ۔ دنیا کو حسنِ کلام ، آدابِ گفتار اور طریقِ اختلاف سکھانے والے غیرشائستہ لب ولہجہ اختیار کرکے خود اپنا وقار خراب کرتے ہیں۔ ان سطحی مناظروں اور فضول بحثوں نے عوام کو قرآن کے سادہ اور عام فہم حقائق سے دل برداشتہ کردیا ہے اور پڑھے لکھے لوگ ان ہنگامہ آرائیوں سے متنفر ہوکر سرے سے دین سے ہی دور ہوجاتے ہیں۔ افسوس کہ ایسے حاملینِ قرآن عوام وخواص کے لیے قرآن فہمی میں حائل ہوجاتے ہیں اور وہ بڑے بڑے مقاصد کے سامنے ہوتے ہوئے بھی چھوٹے چھوٹے جزئی اور فروعی امور میں ایک طوفان برپا کردیتے ہیں۔
یہ وہ رکاوٹیں ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو فصیل در فصیل قلعے میں محصور کردیا ہے ۔ اب جو شخص قرآن تک پہنچنا چاہے اس کے لیے ان فصیلوں کو پار کرنے کا کٹھن مرحلہ سرکرنا ضروری ہے۔ شعورِقرآن کے عام ہونے اور غلبہٴ قرآن کے کامیاب ہونے کا دور وہ ہوگا جب قرآن کو اس فصیل در فصیل قلعے سے باہر نکالاجائے گا۔
اگر ہماری اپنی پیدا کردہ رکاوٹیں درمیان میں حائل نہ ہوں تو قرآن مقدس کی تعلیم کا مرکزی نقطئہ نظر نہایت جامع، نہایت مختصر آسان فہم اور بہت سادہ ہے جو تین بنیادی باتوں پر مشتمل ہے :
(۱) ساری کائنات کا خالق ومالک فقط اللہ جَلَّ جَلاَلُہ ہے، اس کی کسی کے ساتھ شراکت داری نہیں ۔دنیا اس نے بنائی اور وہی اس کائنات کو ختم کرے گا۔ انبیاء، رسل، فرشتے ، کتب سماویہ ،جنت، جہنم اورتقدیر سب برحق ہیں۔ سجدہ اور عبادت کے لائق فقط وہی ذات ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔
(۲) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور بندے ہیں۔ آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے آخری شریعت دے کر بھیجا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام حکموں کی اطاعت اور فرمانبرداری ایک مسلمان کے لیے فرضِ عین کا درجہ رکھتی ہے ۔ نماز ،روزہ ،حج، زکوٰة اور جہاد وغیرہ سمیت تمام امورِدین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کو پیش نظر رکھناتدبرِقرآن کا لازمی نتیجہ ہے ۔
(۳) اسلام کا حکم ہے : لَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مَنْ لَایَرْحَمِ النَّاسَ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا خدا اس پر رحم نہیں کرتا ۔خالق کائنات (جل جلالہ )کی عبادت ، وجہ تخلیق کائنات( صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کے بعد قرآن کریم کی آیات کا معانی ومفہوم مخلوقِ خدا کی خدمت ہے ۔چنانچہ مظلوم لوگوں کی دادرسی، بے کسوں کی مدد، مظلوموں کی نصرت اور لاوارثوں کی کفالت وہ مستحسن امور ہیں جن کی قرآن مقدس نے جگہ جگہ حوصلہ افزائی کی ہے ۔ پس وہ انسان دونوں جہانوں میں کامران ہوگیا جس نے قرآن کریم کی آیات میں غوطہ زن ہوکر اس کے اسرار ورموز اورمعانی ومطالب کو پالیااور خائب وخاسر ہوا وہ شخص جس نے قرآن کریم کی نورانی تعلیمات سے کنارہ کشی اور روگردانی کی۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
%%%
************************************
قرآن کیا ہے؟
اللہ رب العالمین کاوہ کلام جو سید الملائکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ رحمۃ للعالمین خاتم النّبیین سیّدالمرسلین حضرت محمد مصطفی صلى اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر (1) پر تیئس سال کے طویل عرصہ میں بتدریج مختلف مقامات واحوال میں متنوع ضرورت وحکمت کے تحت (2) اصلاً بنی نوع انسان اور تبعاً جن کی ہدایت اور آخرت کی فلاح ونجات کے لیے خالص عربی زبان میں نازل کیاگیا، جس کے بیان میں یقین وصداقت ہے اور فصاحت وبلاغت کے اعلیامعیار پر ہونے کی وجہ سے اعجازی شان رکھتا ہے جو معانی اورحقائق کاخزینہ اور اسرار ومعارف کاغیر متناہی گنجینہ ہے. (3)
آں کتابِ زندہ قرآن حکیم ... حکمتِ او لایزال است وقدیم
نسخہ. اسرارِ تکوینِ حیات ... بے ثبات از قوتش گیرد ثبات
نوعِ انساں را پیام آخریں ... حاملِ او رحمۃ للعالمیں
چیست قرآن اے کلام حق شناس ... رونمائے ربِّ ناس آمد بہ ناس
حرف حرفش راست در بر معنئے ... معنئے در معنئے در معنئے
اسی کلام ربّانی کواہل ایمان کے سینوں میں اوراس کے نقوش کوصحیفوں میں حتی کہ اس کے لب ولہجہ کوزبان وذہن میں اس طرح محفوظ کردیاگیا، ترمیم وتحریف سے مأمون ہوگیا. پھر اسی طرح یعنی سینہ بہ سینہ اور صحیفہ بہ صحیفہ ہر زمانہ میں تسلسل کے ساتھ اہل اسلام کااتنا بڑاطبقہ اُسے مِن وعَن نقل کرتا چلا آرہا ہے کہ جس کاجھوٹ پر متفق ہونا عقلاً ناممکن ہے. (4) یہی وہ خدا کا ابدی پیغامِ ہدایت ہے جسے قرآن کہتے ہیں اس پرایمان لانا ہر فرد پر لازم وفرض ہے اوراس کے کسی بھی جزء کا انکار کفر ہے. (5)
انسان کی فطرت میں ایسی قوت وصلاحیت ہی کہاں کہ پاک اور بے عیب ذات یعنی خالق کی صفات کو پاسکے اوراس کے کلام پرُانوار کواِس دنیامیں بلاواسطہ سُن اور سمجھ سکے. یہ تو اللہ رب العزت کی ضعیف الخلقت اشرف المخلوقات حضرت انسان پر بے حد عنایت ومہربانی ہے کہ اُس نے اُن حروف واصوات میں جو کہ بشری صفات اور حادث ہیں اپنی صفتِ کلام کی تجلّی فرمائی یعنی اپنی قدرت سے جلالتِ کلام کی حقیقت کوحروف کے لباس میں پوشیدہ کردیاورنہ اس کے بغیر اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اس میں کلام الاہی کے سننے کی ہرگز طاقت نہیں تھی چہ جائیکہ اسے سمجھے.
وکیف تجلّت لہم تلک الصفۃ فی طی حروف واصوات ہی صفات البشر ان یعجز البشر عن الوصول الی فہم صفات اللّاہ عزوجل الا بوسیلۃ صفات نفسہ. ولولا استتار کنہِ جلالۃِ کلامہ بکسوۃ الحروف لما ثبت لسماع الکلام عرش ولاثری ولتلاشی ما بینہما من عظمۃ سلطانہ وسبحاتِ نورہ الخ (احیاء العلوم ./...)
پس جس طرح انسان کاجسم اس کی روح کے لیے لباس ومکان ہے اور روح کی تعظیم وتکریم کی وجہ سے جسد خاکی بھی قابل تعظیم ہوگیا، اسی طرح قرآنی حروف وآواز کی تعظیم بھی اس لیے واجب ہے کہ کلام الاہی کانور اور حروف تجلی گاہ ہے. حضرت جعفرصادق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”واللہ خدا نے اپنے کلام میں تجلی فرمائی ہے جو مخلوق کے درمیان ہے لیکن لوگ اس کامشاہدہ نہیں کرتے. (احیاء: . /...)
کسی نے خوب کہا ہے:
چیست قرآن اے کلام حق شناس ... رونمائے ربِ ناس آمد بہ ناس
اے کلام حق کو پہچاننے والے قرآن کیاہے؟ یہ لوگوں کے پروردگار کاجلوہ دکھانے والا ہے جو سب لوگوں کے پاس آیا ہے.
اسی عظمت کے پیش نظر صاحبِ الشفاء قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جس شخص نے قرآن یااس کے کسی جزء کااستخفاف کیا یااُسے بُرا بھلا کہا یا کسی حرف کاانکار کیا یا کسی ایسی چیز کاانکار کیاجو صراحتاً مذکور ہے خواہ وہ کوئی حکم ہو یاخبر یاثابت کیاجس کی قرآن نے نفی کی ہے یانفی کی جس کوقرآن نے ثابت کیا ہے درانحالیکہ وہ اُسے جانتا بھی ہے یاقرآن کی کسی چیز میں شک کرتا ہے تو ایسا شخص باتفاق المسلمین کافر ہے (التبیان لامام النووی ص: ...) کنزالعمال ./... میں ہے مَن تَہاوَن بالقرآن خسر الدنیاوالآخرۃ. جس نے قرآن کے ساتھ تحقیر کی وہ دنیاو آخرت میں برباد ہوگیا.
اورکیوں نہ ہو کہ کلام الملوک ملوک الکلام شاہوں کا کلام کلاموں کابادشاہ ہوتا ہے. پس کیانہیں معلوم کہ شاہ کی یااس کے کسی فرمان کی ادنی گستاخی وبے حرمتی گستاخ کو کیفرِ کردار تک پہنچادیتی ہے. اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ ہر صاحبِ کلام کواپنا کلام محبوب ہوتا ہے اور اس کی ناقدری مبغوض ہوتی ہے. قرآن پاک بھی اللہ تعالیا کوسب سے زیادہ محبوب ہے القرآن احب الی اللّاہ مِن السموات والارض (مشکواۃ) قرآن اللہ تعالیا کوآسمان وزمین یعنی کائنات سے زیادہ محبوب ہے.
کلام الاہی کے اسمائے گرامی
کسی چیز کواگر مختلف ناموں سے پکارا اور مختلف لقبوں سے یاد کیاجاتا ہے تو یہ اس کی قدر ومنزلت اور عظمت ورفعت کا پتہ دیتا ہے اس لیے کہ ناموں کی کثرت مسمّیا کے پوشیدہ حقائق وکمالات کے اظہار کاآئینہ ہے کثرۃ الاسماء دالۃٌ علی شرف المسمّای (اتقان ./.. طبع دہلی) اس اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب بجز قرآن کے ایسی نہیں ہے جس کے لیے بہت نام تجویز کیے گئے ہوں، پس کہنا چاہیے کہ جس طرح معبود حقیقی کے صفات و کمالات کااظہار اس کے ننانوے یازائد ناموں سے کیاجاتا ہے اسی طرح اس کے کلام بلاغت نظام کومختلف ناموں سے پہچاننا بیشک اس کے علوشان کاقرینہ ہے.
شیخ ابوالمعالی عزیزی بن عبدالملک نے اپنی کتاب ”البرہان“ میں لکھا ہے اعلم ان اللّاہ تعالای سمی القرآن بخمسۃ وخمسین اسما اللہ تعالیانے اپنے کلام کے پچپن نام رکھے ہیں اور بقول بعض اس سے بھی زائد. یہاں ان میں سے چند مخصوص ناموں کی کچھ وضاحت کی جاتی ہے تاکہ کلام اللہ کی عظمت ووقعت دلوں میں اجاگر ہو.
(.) ”الکتاب“ کلام الاہی نے سب سے پہلے اپنا تعارف ”الکتاب“ کے نام سے کرایا ہے. ال.م ذلک الکتاب لاریب فیہ، ال.م کتاب اُحکِمت آیاتُہ.
کتاب کے اصل معنی ”ضم“ (ملانا) اور ”جمع“ ہے. ویسے تو ہر کلام اپنے اندرمحدود معانی وحقائق کوشامل ہونے کی وجہ سے ”کتاب“ کہلاسکتا ہے، مگر لامحدود حقائق وعجائب علوم ومعارف، احکام واَمثال اور قصص وعِبَر وغیرہ کوعلی وجہ الکمال جامع ہونے کی وجہ سے ”الکتاب“ کہے جانے کامستحق حقیقت میں یہی کلام الاہی ہے جس میں قطعاً شک کاشائبہ تک نہیں ہے. (مفردات للراغب ص...، اتقان ./..) نیز کتاب کے عرفی معنی ”نوشتہ“ (لکھا ہوا) ہے جس کامطلب یہ ہے کہ قرآن پہلے ہی قدم پر لوگوں کے ذہنوں میں یہ جواب نقش کررہاہے کہ وہ توابتدائے نزول سے ہی مکتوب ونوشتہ شکل میں مخلوق کے پاس محفوظ رہنے والا ہے. اس لئے یہ کہہ کر ”قرآن عہد صدیقی کامرتب کردہ ہے“ قرآن کے کسی جزء کومشکوک ٹھہرانا باطل ہے. (تدوین قرآن ازافادات مولانا مناظراحسن گیلانی)
(.) ... ”القرآن“ اس کتاب کاسب سے مشہور نام ”قرآن“ ہے شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن، انا انزلناہ قرآناً عربیًا، ان علینا جمعہ وقرآنہ.
کلامِ الاہی کا یہ نام جس کوخود اللہ تعالیانے ساٹھ (..) سے زائد مقام پر ذکر کیا ہے ایسا منفرد نام ہے جو ناخواندہ (اَن پڑھ) قوم کوقرأت (.) (پڑھنے) سے مانوس کرنے اور علم وعدل سے وابستہ کرنے کیلئے کفار کے علی الرغم تجویز کیاگیا ہے جن کی کوشش یہ تھی کہ شوروغوغاء کرکے اس کلام کو پڑھے اور سنے جانے کے قابل نہ رکھیں. (.)
امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں ”نہ تو کسی شئی کے مجموعہ کواور نہ ہی ہر کلام کے مجموعہ کو ”قرآن“ کہاجاتاہے بلکہ یہ صرف آخری پیغام خداوندی پر بولاجاتا ہے جو کتب سماویہ متقدمہ کے مضامین اور تمام علوم کے ثمرات کوجامع ہے“ (منفردات ص...) مولانا رحمت اللہ لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ”یہ کتاب زبور کی طرح مجموعہ. مناجات بھی ہے اورانجیل کی طرح مجموعہ. امثال بھی ہے توریت کی طرح گنجینہ. شریعت بھی ہے اور کتب دانیال و یسعیاہ کی طرح خزینہ. اخبار مستقبل بھی ہے. (مخزن اخلاق ص...)
لفظ ”قرآن“ کے اشتقاق میں علماء کانقطئہ نظر مختلف ہے. امام محمد بن ادریس الشافعی رحمۃ اللہ علیہ تواسم جامد ہونے کے قائل ہیں اور مشتق ہونے کے اقوال میں سے دو ذکر کئے جاتے ہیں.
.- قرآن فُعْلان بالضم کے وزن پر مصدر بمعنی المفعول ہے جو ”قرء“ یا ”قرأت“ (مہموز اللام) سے ماخوذ ہے اس کے اصل لغوی معنی ”جمع الکلمات بعضہاالی بعض فی الترتیل“ یعنی ”پڑھنا“ ہے گویاقرآن کانزول ہی پڑھنے کے لیے ہوا ہے چنانچہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کلام مجید ہی ساری دنیامیں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے اور قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی. کبھی کسی زمانہ میں بالکلیہ اس کی قرأت نہ متروک ہوسکتی ہے اور نہ ہی اہل اسلام اس کے پڑھنے سے پہلو تہی کرتے ہیں.
.- قرآن ”قَرْن“سے ماخوذ ہے جس کے معنی ملانا ہے یعنی فصاحت وبلاغت میں اس کے تمام کلمات مربوط اور سورتوں اور آیتوں کاتناسب وتناسق ایسا ہے کہ ہر آیت اعجاز میں اپنے ماقبل ومابعد سے مستقل ہونے کے باوجود پورا کلام معناً مقرون ومرتبط ہے. (مفردات ص...، اتقان ص..)
(.) ”الفرقان“ قرآن پاک کاایک امتیازی نام ”الفرقان“ ہے وانزل الفرقان، تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ.
فرق کے معنی دو چیزوں کے درمیان فصل کرنا خواہ وہ فصل آنکھوں سے دکھائی دے یادل سے ادراک کیاجائے (مفردات ص...) یعنی قرآن مجید بنی آدم کوایسے احکام وتعلیمات سے آگاہ کرتا ہے کہ جن سے ایمان وکفر، حق وباطل اور مطیع وعاصی کے درمیان ایک حد فاصل پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے حق یعنی اسلام کا پسندیدہ ومقبول ہونا اور غیراسلام کاباطل ومردود ہونا عیاں ہوجاتا ہے. لیحق الحق ویبطل الباطل اور اُس فرقان پر صحیح عمل کرنے والوں کوایسی شان عطا کرتا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوجاتے ہیں.
(.) ”برہان“ قرآن کاایک اہم نام ”برہان“ ہے قد جاء کم برہان من ربکم ”برہان“ ایسی مستحکم دلیل کو کہتے ہیں جس میں قطعی اور ابدی سچائی نمایاں ہو (مفردات ص..) یعنی یہ کلام الاہی ماضی کے واقعات اور مستقبل کے اخبار واحوال کوحتمی صداقت وحقانیت کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ شکوک واوہام کا پردہ چاک کرکے یقین تک پہنچادیتا ہے اور جواس کی سچائی میں رخنہ اندازی کرے اُن سے ان کے دعوی پر اسی طرح کی مضبوط ومستحکم دلیل کامطالبہ کرتا ہے. قل ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین.
(.) ”تنزیل“ قرآن شریف کاایک بنیادی نام ”تنزیل“ ہے تنزیل من حکیم حمید، تنزیلٌ من ربِّ العالمین.
یعنی یہ کلام جو فرقان اور برہان ہے اس کامبدأ ومصدر عرب کے کسی فصیح وبلیغ ادیب یاغیب کی جھوٹی خبر دینے والے کاہن ونجومی یا کسی بڑے مصلح اور ریفارمر کی ذات حتی کہ نبی کی ذات بھی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی بے عیب وبے نظیرہستی لیس کمثلہ شیء کی طرف سے نازل کیاگیا ہے جو سارے ہی کمالات کاسرچشمہ اور ساری قوتوں کاتنہامالک ہے جہاں عجز وضعف اور جہل کاادنی واہمہ تک نہیں ہے اور جو تمام مخلوق کا یکتا حقیقی مربی ہے جس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا انسان بلکہ ہر مخلوق کافطری جذبہ اور اس کی دعوت ہے.
(.) ”الذکر“ قرآن کاایک خصوصی نام ”الذکر“ ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون، وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس، ان ہوالا ذکر للعالمین.
یعنی قرآن شریف دینی ودنیوی انعامات یاد دلاکر نافرمان قوموں کی عبرت خیز ہلاکت اور مومنین کی حیرت انگیز نجات کے سچے واقعات بیان کرتے ہوئے تمام انسانوں کے لیے عبرت پذیری اور نصیحت گیری کاسامان مہیا کرتا ہے. اور افلا یتذکرون، لعلکم تذکرون جیسے کلمات سے لوگوں کوخواب غفلت سے ہوشیار کرتاہے تاکہ موت اور مابعد الموت کی حقیقی دائمی زندگی کے لیے اپنے آپ کوتیار کرلیں.
(.) ”حبل اللّاہ“ قرآن کاایک وصفی نام ”حبل اللہ“ ہے واعتصموا بحبل اللّاہ جمیعًا ولا تتفرقوا.
خدا کی زمین پر جو انسان (وجن) دانستہ یانادانستہ طور پر اپنے خالق کی طاعت وبندگی سے بیزار ہیں اور کفر ومعصیت کے گڑھے اور دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور قعرِ مذلت سے نکل کر منزل کی تلاش اور قرب الاہی کے طلبگار ہیں ایسے تمام لوگوں کے لیے قرآن مجید اللہ کی اتاری ہوئی رسی ہے جو اسے مضبوطی سے تھام لے گا وہ کفر وعصیان کے گڑھے سے نجات پاکر بلند مقام پر پہنچ جائے گا. حبل اللّاہ ہوالقرآن (کنزل العمال ./...)
(.) ”النور“ قرآن کاایک روشن وصف ”النور“ ہے وانزلنا الیکم نورا مبیناً، قد جاء کم من اللّاہ نورٌ.
اللہ تعالیانے انسان کونور بصراور نور عقل دونوں نعمت سے نوازا ہے پس جب انسان نور عقل کے ذریعہ اللہ کی وحدانیت اور محمد رسول اللہ کی رسالت تسلیم کرکے قرآنی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے تو یہ قرآن اُسے نور معرفت عطا کرتاہے جس سے وہ مو.من گناہوں کی ظلمت سے بچتے ہوئے ان ہذ القرآن یہدی للتی ہی اقوم قرآن کی روشنی میں جنت کاراستہ طے کرتا چلا جائیگا. یسعی نورہم بین ایدیہم وبایمانہم (مفردات ص...، اتقان ./..)
(.) ”الشفاء“ قرآن کاایک دل پذیر نام ”شفاء“ ہے قل ہوللذین آمنوا ہدیً وشفاء، وشفاء لما فی الصدور.
روئے زمین پر قرآن مجید ہی وہ نسخہ. صحت ہے جس کی ہدایت پر کما حقہ عمل کرنا امراضِ قلبیہ (کفر، جہل، کبر، حسد، خیانت، بغض، وغیرہ) سے صحت وشفاء کاضامن ہے ویشف صدور قوم مو.منین بلکہ قرآن کے ظاہری الفاظ بھی انسان کی جسمانی بیماریوں کے لیے دوائے شیریں ہے حتی کہ اسی تاثیر کی وجہ سے ایک مستقل سورۃ کانام بھی ”سورۃ الشفاء“ ہے . (اتقان ./..)
مختلف سورتوں کے مختلف نام
جس طرح مکمل قرآن پاک کے مختلف اسماء ہیں اسی طرح اس کی سورتوں کے بھی ایک سے زائد نام وارد ہوئے ہیں بلکہ بعض بعض آیتوں کے بھی مستقل نام حدیث سے ثابت ہیں، مثلاً سورئہ فاتحہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں قد وقفت لہاعلی نیف وعشرین اسما.
یہاں صرف نمونہ پیش کرنے پر اکتفاء کیاجاتاہے.
(.) فاتحۃ الکتاب (.) ام القرآن (.) السبع المثانی (.) سورۃ الحمد (.) سورۃ الصلاۃ (.) سورۃ الشفاء (.) سورۃ المناجاۃ (.) سورۃ الادب وغیرہ.
سورئہ بقرہ کو ... سنام القرآن ... فسطاط القرآن ... بھی کہاگیا ہے
سورئہ مائدہ کو ... سورۃ العقود ... سورۃ المنقذہ ... بھی کہتے ہیں
سورئہ انفال کو ... سورۃ البدر ... بھی کہتے ہیں
سورئہ برأۃ کو ... سورۃ التوبۃ ... سورۃ الفاضحۃ ... سورۃ العذاب بھی کہاگیاہے
(تفصیل کے لیے اتقان کی مراجعت فرمائیں)
چندآیتوں کے نام
آیۃ الکرسی، آیۃ المباہلہ، آیۃ الربا، آیۃ المیراث، آیۃ الحجاب، آیۃ التخییر، وغیرہا.
نیز یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جہاں سورتوں کے ایک سے زائدنام آئے ہیں اس کے برعکس چند سورتوں کے مشترک نام بھی آئے ہیں. کماسمیت السورۃ الواحدۃ باسماء سُمیت سُورٌ باسم واحد (اتقان./..)
(.) ... زہراوین: ... سورئہ بقرہ وآل عمران
(.) ... جامدات: ... وہ سورتیں جن کے شروع میں ”الحمد“ ہے جیسے سورئہ فاتحہ، انعام، کہف، سبا، فاطر.
(.) ... حوامیم: ... وہ سورتیں جن کے شروع میں ”حم“ ہے جیسے سورئہ مو.من، حم سجدہ، شوریا، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف.
(.) ... مُسَبِّحات: ... وہ سورتیں جن کے شروع میں تسبیح کا کوئی صیغہ سبّح یا یسبح وغیرہ ہے جیسے اسراء، حدید، حشر، جمعہ، تغابن، اعلیا.
(.) ... معوّذتین: ... سورئہ فلق، سورئہ ناس.
بعض سورتوں کوایسے بھی نام دئے گئے ہیں جن سے انکامقام یاشان واضح کی گئی ہے مثلاً:
(.) ... ام القرآن ... سورئہ فاتحہ ... (.) ... سنام القرآن ... سورۃ البقرہ
(.) ... نواجب القرآن ... سورئہ انعام ... (.) ... قلب القرآن ... سورۃ یس
(.) ... عروس القرآن ... سورئہ رحمن ... (.) ... دیباج القرآن ... الحوامیم
(.) ... ریاض القرآن ... المفصلات
(تفصیل کے لیے اتقان، برہان، اورتح العزیز ملاحظہ فرمائیں)
جمع قرآن اور اس کی حفاظت
حفاظت کلام کے دو بنیادی طریقے ہیں الضبط ضبطان (نخبۃ الفکر) ایک حفظ (ازبر) کرنا دوسرا کتابت یعنی کسی چیز پر نقش کرنا اِن دونوں میں بھی اصل واہم حفظ ہے ان المعوّل علیہ وقتئذ کان ہوالحفظ والاستظہار (مناہل العرفان ./...) اس لیے کہ مکتوب علیہ (جس پر کلام لکھاگیا ہے) کے پھٹنے یاجلنے، وبنے یا چھن جانے سے نوشتہ کے ضائع ہونے کااندیشہ لگا رہتا ہے جبکہ لوح قلب پر جو محفوظ ہوگیاوہ اِن تمام خدشات سے مامون ہوتا ہے اِلا یہ کہ تقدیر الاہی کے ماتحت صفحہ. دل سے محو کردیاجائے تو یہ امر آخر ہے.
قادر مطلق نے اپنے کلام کی حفاظت کے لیے دونوں نظام چلائے ہیں چنانچہ سب سے پہلے عام کتب سماویہ کی طرح قرآن کو کتابی شکل میں نازل کرنے کے بجائے لوح محفوظ سے نبی كریم صلى اللہ علیہ وسلم کے لوحِ قلب پر نازل کیانزل بہ الروح الامین علی قلبک اور اس کی حفاظت کاوعدہ فرماکر دل سے محو ہوجانے کے اندیشہ کوزائل فرمایاانا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون، ان علینا جمعہ وقرآنہ یعنی خدائے حافظ نے اپنے حبیب صلى اللہ علیہ وسلم کو کلام کاحافظ بنادیا. اور ثانیاً ذلک الکتاب کہہ کر کتابت کے ذریعہ محفوظ کرنے کااشارہ فرمادیا.
صاحب وحی نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم پر وحی کانزول ختم ہوتے ہی قرآن آپ کے سینہ میں محفوظ ہوجاتا تھا پھر سب سے پہلے تحریراً ضبط کرنے کے لیے کاتبانِ وحی میں سے کسی کوطلب فرماتے جیسے خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام اور عموماً حضرت زید بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ حاضر خدمت ہوتے اور نازل شدہ حصہ کو کسی پائدار چیز پر لکھ کر محفوظ کرلیتے تھے. پھر یہ لکھا ہوا کلام صحابہ کے سامنے پیش کیاجاتا اور پڑھ کر سنایاجاتا تھااس طرح پورا قرآن ”رقاع“ چمڑے کے ٹکڑوں ”اکتاف“ اونٹ کی گول چوڑی ہ یوں ”اقتاب“ کجاوہ کی چوڑی پٹیوں ”لَخاف“ سطیٹ نما سفید پتھرکی پلیٹوں ”ادیم“ دباغت شدہ چمڑوں ”عسیب“ کھجور کے پتوں کی جڑ کاحصہ (.) وغیرہ اشیاء میں محفوظ کرلیاجاتا تھااور پھر صحابہ. کرام حضور صلى اللہ علیہ وسلم کے روبرو لکھے ہوئے حصہ. قرآن کی نقل اتار لیا کرتے تھے کنّا نو.لف القرآن عند رسول اللّاہ صلی اللّاہ علیہ وسلم (کنزالعمال) اور رسالتمآب صلى اللہ علیہ وسلم سے سن کر حفظ کرلیتے تھے. غرض پورا کلام الاہی صرف نبی. پاک ہی نہیں بلکہ صحابہ کرام کے پاس بھی مذکورہ بالا دونوں طریقوں سے نزول کے ساتھ ساتھ محفوظ ہوتا چلاگیا. اور جب سلسلہ. وحی بند ہوا تو اس وقت تک سوپچاس نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد کم وبیش حصہ. قرآن کے حافظ وقاری صحابہ میں موجود تھے اور کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جنھیں فاتحہ الکتاب سے والناس تک مکمل قرآن حفظ تھااسی طرح مکمل قرآن پاک کی نقلیں بھی محفوظ تھیں (مناہل العرفان ./...)
پس مستشرقین کا یہ کہنا کہ ”قرآن صاحب وحی کی حیات میں محفوظ نہیں تھا“ یا ”صدیق اکبررضى اللہ تعالى عنہ کے زمانہ ہی میں جمع کیاگیا“ بے بنیاد اعتراض ہے بلکہ دانستہ طور پر حقیقت کاانکار ہے.
پھر اس کے بعد ایک طرف تو حفظِ قرآن کاسلسلہ چلتا رہا، مگر دوسری طرف چھوٹے بڑے معرکوں میں حافظِ قرآن صحابی بھی جام شہادت پی کر داغ مفارقت دیتے رہے یہاں تک کہ جنگ یمامہ میں جو حضور صلى اللہ عیلہ وسلم کی وفات سے قریب ہی مدت میں لڑی گئی ہے ستر یاسات سو حفاظِ صحابہ کی شہادت نے فاروق اعظم رضى اللہ تعالى عنہ جیسے وزیر باتدبیر کی وزارت میں لرزہ پیدا کردیااور امت مسلمہ مرحومہ کابیڑامنجدھار میں نہ پھنس جائے مُلْہَم ومُوفَّق من اللّاہ شخص جس کی زبان پر حق ہی جاری ہوتا ہے یعنی حضرت عمررضى اللہ تعالى عنہ نے خلیفہ رسول صدیق اکبر سے عرض کیا کہ قرآن کو یکجا محفوظ کرلیاجائے کہ حضور صلى اللہ علیہ وسلم سے براہ راست کلام اللہ کوسن کوحفظ کرنے والے اور آپ کے سامنے قرآن کولکھ کر اس کی حفاظت کرنے والے ابھی بے شمار صحابہ موجود ہیں جو قرآن کے تواتر کے لیے ضروری ہے. اللہ تعالیانے حضرت عمررضى اللہ تعالى عنہ کی فرمائش پر صدیق اکبر رضى اللہ تعالى عنہ کے سینہ کواِس عظیم خدمت کے لیے منشرح فرمادیا. اب شیخین نے مل کر حضرت زید بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ کواس خدمت کے لیے مستعد کیا، اللہ رب العزت نے ان کوبھی شرح صدر کی دولت سے سرفراز کیا. چنانچہ خلیفہ رسول کی نگرانی میں انتہائی تفتیش وتحقیق اور شرعی شہادت اور غایت درجہ احتیاط ملحوظ رکھتے ہوئے مذکورہ بالا اشیاء ”رقاع“ وغیرہ سے جس ترتیب سے حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے ضبط کرایاتھااور جس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی بعینہ اس کودوسرے اوراق میں یکجا کردیاگیااور گتے لگاکر دھاگوں سے باندھ دیاگیاحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ جو ان ہی کے لیے ازل سے مقدر تھا کہ اللہ تعالیاجس سے امت کی شیرازہ بندی کا کام لینے والا ہے اسی سے امت کے ہدایت نامہ کی شیرازہ بندی کرائیں کان القرآن فیہامنتشرًا فجمعہاجامع وربطہابخیط (کنز العمال) تاکہ مجموعہ. واحد کی حفاظت آسان ہو اور پورے قرآن کی تلاوت اور اس سے استفادہ سہل ہوجائے.
اس طرح قرآن کا یکجا کرنا حضور صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی ممکن تھااس لیے کہ آپ کے انتقال تک نسخ وغیرہ کااحتمال موجود تھا. انما لم یجعلہ النبی صلی اللّاہ علیہ وسلم فی مصحف واحد لما کان یتوقع من زیادتہ ونسخ بعض المتلو ولم یزل ذلک التوقع الی وفات النبی صلی اللّاہ علیہ وسلم. (التبیان ص...، مناہل العرفان، تدوین قرآن لمناظر گیلانی رحمۃ اللہ علیہ)
عرف عام میں ”جامعِ قرآن“ کامہتم بالشان لقب حضرت عثمان غنی رضى اللہ تعالى عنہ کے لیے استعمال ہوتا ہے. اِس لفظ ”جامعِ قرآن“ سے مراد عین قرآن کوجو منتشر تھاجمع کرنا ہے تو جامعِ قرآن حضرت ابوبکر صدیق رضى اللہ تعالى عنہ ہیں جس کے محرک اور داعی فاروق اعظم ہیں اوراگر امت کوقرآن پر جمع کرنا مراد ہے جیساکہ حضرت عثمان رضى اللہ تعالى عنہ کوغالباً اسی اعتبار سے ”جامعِ قرآن“ کہاجاتا ہے تو پھر پورے وثوق اور یقین سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ حضرت عمررضى اللہ تعالى عنہ واقعتا ”جامعِ قرآن“ ہیں چنانچہ حکمت کاتقاضہ بھی یہی ہے کہ اوّلاً نبی. امی صلى اللہ علیہ وسلم نے نفس قرآن کومحفوظ فرمایا پھر صدیق اکبررضى اللہ تعالى عنہ نے مصحف واحد میں یکجا فرمایاجس سے اصل قرآن کی حفاظت ہوگئی اب ضرورت تھی نزولِ قرآن کے اولین مقصد یعنی تلاوت پر امت کو کسی خاص ھنگ سے جمع کردیاجائے یہ کارنامہ حضرت عمررضى اللہ تعالى عنہ کے لیے مقدر تھا. چنانچہ فاروق اعظم رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں حفاظت قرآن کاایک عجیب نظام قائم کیارہنمائی خود صاحب قرآن صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمادی تھی لیکن بعض مصالح کی بناء پر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے حتمی شکل وصورت متعین نہیں کی تھی اور خلیفۃ الرسول حضرت صدیق اکبر کواپنی خلافت کی قلیل مدت میں امت کی شیرازہ بندی کی وجہ سے موقع میسر ہی نہیں آیا کہ اس طرح متوجہ ہوتے. بہرحال اب تک صحابہ کرام اور تابعین عظام انفرادی طور پر نماز میں قرآن پڑھا کرتے تھے بالخصوص رمضان شریف میں پڑھنے والوں کی کثرت ہوتی تھی. بالآخر حضرت عمررضى اللہ تعالى عنہ نبوی ہدایت کی روشنی میں اجتماعی طریقہ سے حفظاً قرأت اور سماع پر سب لوگوں کوجمع کیا یعنی ماہ مبارک (افضل الشہور) میں شب کی نماز کی بیس رکعتوں میں جماعت کے ساتھ قرآن کے پڑھنے اور سننے کاسلسلہ جاری فرمایاجسے شریعت کی زبان میں تراویح کہتے ہیں. تمام صحابہ
اور تابعین نے بلا نکیر اس انوکھے اورمستحکم طریقہ کوبہت پسند فرمایااور عملاً اس پر متفق ومتحد ہوگئے لہاذا حضرت عمر بھی جامع للقرآن ہوئے یعنی جامع الامۃ علی قرأۃ القرآن فی التراویح اجماع صحابہ وتابعین نے حضرت عمررضى اللہ تعالى عنہ کے اس طریق عمل کوقطعی بنادیااور قیامت تک کے لیے (..) بیس رکعت تراویح سنت مو.کدہ قرار پائی .
پس حضرت صدیق اکبررضى اللہ تعالى عنہ کاجمع قرآن اجماعی ہے اور حضرت عثمان رضى اللہ تعالى عنہ کارسم الخط بھی اجماعی ہے بالکل اسی طرح حضرت عمررضى اللہ تعالى عنہ کامسئلہ تراویح بھی اجماعی ہے اور ان میں سے کسی بھی اجماع کاانکار اہل السنۃ والجماعۃ سے انحراف اور ضلالت ہے.
جمع عثمانی
حفاظتِ قرآن کے سلسلہ میں اب ایک اہم کام باقی رہ جاتا ہے کہ ایک سے زائد طریقہ. اداء سے قرآن پڑھنے کی جو اجازت دی گئی ہے جیساکہ حضرت اُبَی بن کعب کی حدیث میں ہے ان اللّاہ یامرک ان تقرء امتُک القرآن علی سبعۃ احرف فایما حرف قرء وا علیہ فقد اصابوا (مسلم) وہ کہیں آگے چل کر حق وباطل کے اختلاف کاسبب نہ بن جائے اس طرح پر کہ مختلف قبائل کے لوگ جب اپنے اپنے طریق ادا کے مطابق رسم الخط میں قرآن کی نقل تیار کرنے لگیں گے اوراس کی وجہ سے ہر قبیلہ کاقرآن دوسرے قبیلہ کے قرآن سے رسم الخط میں جدا نظر آئے گا پھر ہر ایک اپنے طریق اداء کوحق بتانے کے لیے اپنا قرآن پیش کرے گا تو مستقبل میں فتنہ. عظیم برپا ہوگا (اتقان، الفوز الکبیر، تاریخ طبری ./...) اس لیے حکمت الاہیہ کاتقاضہ ہوا کہ رسم الخط کے اعتبار سے الگ الگ مصحف کوایک مصحف پر جمع کردیاجائے. عثمان جمع المصاحف علی مصحف واحد (مقنع للدانی ص.) تاکہ امت اختلاف کاشکار نہ ہواور رسم الخط کی وحدت پر مجتمع ہوجائے اور قرأتِ متواترہ جو منزل من اللہ ہے اوراس میں امت کے لیے سہولت بھی ہے وہ بھی سالم اور محفوظ رہے. (.)
مذکورہ تحریر سے معلوم ہوا کہ قرآن کانزول جس طرح بتدریج ہوا ہے اسی طرح اس کی حفاظت میں بھی تدریجی حکمت پنہاں ہے بلکہ دونوں کی مدت بھی تقریباً یکساں ہے. الفاظ کے بعد معانی کادرجہ ہے جس کادروازہ خلیفہ رابع حضرت علی ہیں انا مدینۃ العلم وعلی بابہا (جامع الصغیر ./..) ماشاء اللہ کیاخوب ترتیب ہے.
(جاری)
* * *
حواشی:
(1) ... نزل بہ الروح الامین علی قلبک [قرآن-الشعراء:193-194]
(2) ... نَزَلَ فِي نَيِّفٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً فِي أَحْكَامٍ مُخْتَلِفَةٍ (الإتقان:3/370)
انزل الملِک علی الاطلاق جلّ شانہ علی نبیہ صلی اللّاہ علیہ وسلم لہدایۃ عبادہ سورۃ بعد سورۃ حسب متطلّبات الظروف (الفوز الکبیر:1/139)
(3) ... القرآن ہوالوحی المنزل علی محمد صلی اللّاہ علیہ وسلم للبیان والاعجاز (الإتقان:1/273)
(4) ... ہم نے آپ اتاری ہے یہ نصیحت اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں [قرآن-الحجر:9]
هو المنزَّل على الرسول، المكتوب في المصاحف، المنقول عنه نقلاً متواترًا بلا شبهة (نورالانوار، تعریفات للجرجانی ص..)
[التعريفات، لعلي بن محمد بن علي الجرحاني (740 - 816هـ)، ط/ دار الكتاب العربي، بيروت، ط/أولى، 1405هـ، تحقيق: إبراهيم الإبياري.]
(5) ... فتح الباری ص.
(.) ... اشارۃ الی اشتقاقہ من القرأۃ او القرن.
(.) ... لاتسمعوا لہاذا القرآن والغوا فیہ پ ..
(.) ... عرب میں کھجور کے پتوں کی جڑ ہمارے یہاں کے ناریل کے پتوں کی جڑ کی طرح چوڑی ہوتی تھی نہ کہ ہندوستانی کھجور کے پتوں کی جڑ (از تدوین قرآن مولانا مناظراحسن گیلانی)
(.) ... جمع عثمانی کامزید بیان رسم عثمانی کے ذیل میںآئے گا، ان شاء اللہ.
قرآن محکم کی شان عظیم (2)
قرآن کارسم الخط اور قرأتِ متواترہ کا بیان
ہرزبان کاایک طرزِ ادا ہوتا ہے اور ایک طریقہ. خط. دونوں کے کچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں جن کے مطابق پڑھااور لکھاجاتا ہے. عربی زبان دنیا کی وسیع تر زبانوں میں سب سے اعلیاواشرف اور وسیع ترین ہے علمائے عربیت نے اس کے اصول وقوانین بیان کیے ہیں وقد مہّد النحاۃ اصولاً وقواعد. (.) کلام الاہی کاآخری نسخہ قرآن پاک اسی عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور قواعد عربیت کاسرچشمہ اورمخزن ہے اِنَّا انزلناہ قرءا ناً عربیًا (.) . اب یہاں دو امر قابل لحاظ ہیں: (.) ایک یہ کہ قرآن مجید عربی قواعد واصول کے موافق ہونے کے باوجود ایک خاص فوقیت کاحامل ہے وہ یہ کہ عربی زبان تو اپنے اصول وقواعد میں کلام اللہ کی خوشہ چیں ہے مگر قرآن خود قائد ہے اس کاتابع نہیں ہے. اسی لیے بعض مقام پر عام نحوی قواعد کی مطابقت نظر نہیں آتی ہے. (.) دوسرا امر یہ ہے کہ قرآن مجید کی کیفیت اداء جس طرح جداگانہ اور ممتاز ہے اسی طرح اس کارسم الخط بھی انوکھااور امتیازی شان لیے ہوئے ہے یعنی قرآن پاک کااپنا ایک مخصوص رسم الخط ہے اور وہ اسی کا پابند ہے خواہ عام رسم الخط کے اصول کے موافق نہ ہووقد خالفہافی بعض الحروف خط الامام المصحف (.) اس کی نظیر ایسی سمجھئے جیسے فن عروض کاخط جس میں اشعار لکھے جاتے ہیں کہ وہ عام اصول خط کے خلاف ہوتا ہے اور شاعر اپنے کلام کواسی کے مطابق وزن کے سانچہ میں ھال لیتا ہے. اسی وجہ سے کہاگیا ہے . خطان لایقاسان خط العروض وخط القرآن (.) یعنی دو خط قیاسی نہیں ہیں ایک فن عروض کاخط، دوسرے قرآن کریم کاخط. علامہ طاش کبری زادہ صاحب مفتاح السعادۃ نقل کرتے ہیں: قال عبداللّاہ بن درستویہ فی کتابہ فی الخط
والہجاء ”خطانِ لایقاسان خط المصحف لانہ سنۃ وحظ العروض لانہ یثبت فیہ ماثبتہ اللفظ ویسقط عنہ ما اسقطہ“ (.) .
قرأۃ متواترہ کی اصلیت
حدیث اُنزل القرآن علی سبعۃ احرف یعنی قرآن سات مختلف طُرقِ ادا پر نازل کیاگیا ہے. یہ حدیث ../صحابہ کرام سے مختلف الفاظ میں مروی ہے ابوعبید قاسم بن سلاّم نے اسے متواتر بتایا ہے (.) خلاصہ اس کا یہ ہے کہ شروع میں قرآن کوایک طرز یعنی قبیلہ. قریش کے طریق ادا پر پڑھنے کاحکم دیاگیاتھامگر عرب کے دوسرے قبائل جن کاطریق ادا قریش سے جداگانہ تھاان کے لیے قریش کے طرز ولہجہ میں پڑھنا طبعی وفطری ذوق کے اعتبار سے گراں تھاجیساکہ ہر علاقہ کی زبان میں بُعدِ مسافت کی وجہ سے لب ولہجہ میں فرق ہوا کرتا ہے اس لیے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری امت کے لیے سہولت وآسانی کی دعا فرمائی اور دوسرے طریق میں پڑھنے کی اجازت طلب فرمائی بار بار کی التجاء پر سات (بلکہ اس سے زائد) طریقوں سے پڑھنے کی اجازت مرحمت ہوئی عن ابی بن کعب رضى اللہ تعالى عنہ... اِن اللّاہ یامرک اَن تقرأ امتک القرآن علی سبعۃ احرف فایما حرف قرء وا علیہ فقد اصابوا (.) .
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضوان اللہ تعالى علیہم اجمعین کوانہی مختلف انداز سے قرآن کریم کی تعلیم دی پھر جس صحابی نے جس طرح تعلیم پائی تھی اس کوسینہ سے لگایا، ذہن میں بسایااور دوسروں تک پہونچایا یہاں تک کہ یہ مختلف قرأتیں صحابہ کرام میں عملاً رائج اور معروف ہوچکی تھیں. اور رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ میں قرآن مجید کوجن جن چیزوں میں لکھواکر ضبط فرمایا کرتے تھے حضرت صدیق اکبر رضى اللہ تعالى عنہ نے جب اپنی خلافت میں قرآن کریم کومنتشر چیزوں سے اکٹھا کرکے اوراق میں جمع کروایاتو جمع کردہ یہ قرآن دیگر خصوصیات کے ساتھ مذکورہ بالا احرف سبعہ کابھی حامل تھاولا یعزبَنّ عن بالک ان ہذا الجمع کان شاملاً لاحرف السبعۃ التی نزل فیہاالقرآن (.) اعلم ان جماہیرالعلماء من السلف والخلف وائمۃ المسلمین ذہبوا الی ان المصاحف العثمانیۃ مشتملۃ علی ما یحتملہ رسمہامن الاحرف السبعۃ التی انزل بہاالقرآن جامعۃ للعرضۃ الاخیرۃ التی عرضہاالنبی صلی اللّاہ علیہ وسلم علی جبریل متضمنۃ لہالم یترک حرفا منہالان الصحابۃ اجمعوا علی نقلہامن المصحف الذی کتبہ ابوبکر وعمر واجمعوا علی ترک ماسوی شیء من القرآن کذا قالہ الجزری فی النشر ولذلک لایجوز مخالفۃ المصاحف العثمانیۃ فی الکتابۃ (.) . اور اس مجموعہ بین الدفتین کانام خلیفہ. اول حضرت صدیق اکبر رضى اللہ تعالى عنہ نے مشورہ سے ”مصحف“ تجویز فرمایا. (..)
رسم عثمانی کی اہمیت وفرضیت
پھر قرّاء صحابہ میں سے جو جس علاقہ میں رونق افروز ہوئے وہاں کے لوگوں کوانھوں نے اپنے طریق عمل، طرزِ تعلیم اور کیفیت ِ اداء سے روشناس کرایا چنانچہ کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ کی قرأت، ملک شام میں حضرت اُبی بن کعب رضى اللہ تعالى عنہ کی قرأت اوریمن وغیرہ میں حضرت ابوموسیااشعری رضى اللہ تعالى عنہ کی قرأت مشہور ومقبول ہوئی (..) . انما کان کل صحابی فی اقلیم یُقرئہم بما یعرف فقط من الحروف التی نزل علیہاالقرآن (..) .
بہرحال قرآن پاک کومختلف کیفیات سے پڑھنے کی جس طرح صریح اجازت شریعت کی طرف سے دی گئی تھی اس طرح قرآن لکھنے کے لیے رسم الخط کی نہ تو عام اجازت تھی اور نہ کسی رسم الخط پر صراحتاً کوئی پابندی تھی. اس لیے اپنی اپنی پسندیدہ قرأت کے مطابق قرآن کی نقل کاسلسلہ بھی جاری تھاجس کے نتیجہ میں قرآن مجید کے مختلف نسخے وجود میں آگئے تھے یہاں تک کہ اختلافِ رسم (مع اختلاف قرأت) کی وجہ سے رفتہ رفتہ امت میں سنگین صورتِ حال پیدا ہوچلی تھی. صاحب السیر (رازدارِ رسول صلى اللہ علیہ وسلم) حضرت حذیفہ رضى اللہ تعالى عنہ کی حساس طبیعت نے کتاب اللہ کے متعلق امت میں ہونے والے فتنہ کوبھانپ لیااور دربار خلافت میں یہ کہہ کر استغاثہ فرمایاادرک ہذہ الامۃ قبلَ ان یختلفوا اختلاف الیہود والنصاری (..) یعنی قبل اس کے کہ امت یہود ونصاریا کی طرح گمراہی کے بھنور میں پھنسے امت کی کشتی کوسنبھالیے اور اس کوبچائیے. خلیفہ. رسول حضرت عثمان غنی رضى اللہ تعالى عنہ نے امت کواختلاف کے گرداب سے بچانے اور ساحل عافیت پر لانے کے لیے اصحاب بصیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مشورہ کیا چنانچہ قرآن پاک کی ازسرِ نو کتابت کے لیے چار آدمیوں عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص، عبدالرحمن بن الحارث، اور زید بن ثابت پر مشتمل ایک جماعت مقرر فرمائی اور کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ کوذمہ دار ٹھہرایااور مصحف ابی بکر کوجو قرآن کااولین مجموعہ اور مستند ترین نسخہ تھاسامنے رکھ کر اس کی نقل تیار کرنے کاحکم دیااور یہ خاص ہدایت دی اذا احتلفتم انتم وزید بن ثابت فی شیء من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش فانما نزل بلسانہم (..) کہ جس کلمہ کی کتابت میں قریش وغیر قریش کااختلاف ہوتو اسے قریش ہی کی لغت پر لکھاجائے اس لیے کہ قرآن پاک انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے.
چنانچہ چار بلکہ سات نقلیں اس طرح تیار کی گئیں کہ قرأتِ مختلفہ جس کامصحف ابی بکر حامل تھاوہ بھی بسلامت اور رسم الخط کی وحدت بھی قائم رہی. نیز ایک نسخہ حضرت عثمان رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنے لیے مختص فرمایاجس کوالامام کہاجاتا تھا. اس کے بعد آپ نے جن کے پاس قرآن پاک کااپنا نسخہ تھاسب کوطلب فرمایااور دارالخلافت کاتیار کردہ ایک ایک نسخہ سات بڑے شہروں مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ، شام، یمن اور بحرین روانہ کیا. اور چونکہ صحابہ کے پاس دوسرے نسخے بھی موجود تھے اِن الصحابۃ کانت لہم صحف او مصاحف کتبوا فیہاالقرآن من قبل (..) اس لیے یہ شاہی فرمان جاری کیا کہ اِس متفق علیہ (سرکاری) نسخہ ہی کواختیار کیاجائے اور سابقہ تمام نسخے جو سرکاری نسخے کے خلاف ہوں نذر آتش کردیے جائیں (..) قد استنخ عثمان بمدۃ نسخ من ذلک المصحف وارسلہاالی الآفاق لیستفید المسلمون منہاولایمیلون الی ترتیب آخر (..) صحابہ وتابعین نے خلیفہ. وقت کے فرمان کوسمعاً وطاعۃً قبول کیااور اُن مصاحف کوجو مصحف عثمانی کے خلاف تھے باادب طریقہ سے ختم کردیااور بغیر کسی اختلاف ونکیر کے مصاحف عثمانیہ پر مجتمع ومتحد ہوگئے، پس اختلافِ ضلالت کوجس کاخطرہ لاحق ہوا تھابیخ وبن سے ختم کردیاگیا. یہ کارنامہ چونکہ حضرت عثمان رضى اللہ تعالى عنہ نے انجام دیااس لیے قرآن کا یہ رسم الخط آپ کی طرف منسوب ہوکر رسم عثمانی کہلایا.
حضرات صحابہ وتابعین کے اس غیرمعمولی اجماع نے مصحف کی قرانیت کے لیے رسم عثمانی کوفرض وشرط بنادیا. علامہ جزری اپنی کتاب ”النشر“ میں لکھتے ہیں کل قرأۃ وافقت العربیۃ لو بوجہٍ ووافقت احدَ المصاحف العثمانیۃ ولو احتمالا وصح سندہافہی القرأۃ الصححۃ التی لایجوز ردہاولا یحل انکارہا (..) یعنی ہر وہ قرأت جس میں یہ تین شرطیں پائی جائیں: (.) قواعد نحویہ کی مطابقت، (.) رسم الخط کی موافقت، (.) اسناد صحیحہ متصلہ کی متابعت. تو وہ قرأت صحیحہ ہے اس کاانکار کرنا جائز نہیں ہے. اور جس مصحف میں یہ تینوں ارکان موجود ہونگے وہی حقیقت میں قرآن کہلائے گا. صاحب خلاصۃ الرسوم لکھتے ہیں کہ ابوبکر احمد بن مہران اپنی کتاب الہجاء میں فرماتے ہیں: الحق والعدل والواجب والموجّہ فی وفی خط المصحف ان یتبع کتَبۃَ زید بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ ورسم خطہ وتصویرہ وتمثیلہ ولایحل للکاتب مخالفتہ ولو کان حاذقاً فیہما (..) .
راقم الحروف نے ہندوستان کے متعدد کتب خانوں میں قرآن کے چوتھی صدی ہجری سے ../ویں صدی ہجری تک کے مخطوطہ بہت سے نسخے اجمالاً وتفصیلاً ملاحظہ کیے ہیں تو جو مصاحف رسم عثمانی کے موافق نہیں ہیں وہ الماریوں کی زینت ضرور ہیں لیکن منصہ شہود پر یعنی امت محمدیہ کے سامنے قرآن مجید کاوہی نسخہ منقول ومتواتر چلا آرہا ہے جو رسم عثمانی کے مطابق ہے. فللّاہ درالخلیفہ.
تنبیہ: اور جب رسم عثمانی کی اہمیت وفرضیت اور قبولیت کا یہ عالَم ہے تو مادیات کی ترقی کے موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر اور موبائل میں اتارے ہوئے قرآن کاباریک بینی سے مکمل جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ رسم عثمانی کی موافقت ومخالفت کاحال منکشف ہوجائے. راقم الحروف اس سلسلہ میں ایک تحقیقی اور تفصیلی تحریر ان شاء اللہ قارئین کی خدمت میں پیش کرے گا. کل شیء مرہون بوقتہ. وکل آتٍ قریبٌ.
دوسرے رسم الخط میں قرآن لکھنے کی ممانعت
امام اشہب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھاگیا کہ کوئی شخص قرآن لکھوانا چاہتا ہے تو کیامصحف اُس خط میں لکھ سکتے ہیں جو لوگوں کے ایجاد کردہ ہیں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایانہیں قرآن تو بس پہلے رسم الخط (رسم عثمانی) میں ہی لکھاجائے گا ہل یکتب المصحف علی ما احدثہ الناس من الہجاء فقال لا الا علی الکتبیۃ الاولی (..) امام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مصحف عثمان رضى اللہ تعالى عنہ کے خط (رسم الخط) کی مخالفت حرام ہے (..) علامہ ابوعمرو الدانی فرماتے ہیں کہ علمائے امت میں سے کوئی بھی اس کامخالف نہیں ہے (..) صاحب کشاف لکھتے ہیں وکان اتباع خط المصحف سنۃ لا تخالف (..) مصحف عثمانی کے خط کااتباع سنت (یعنی ایسا دستور) ہے جس کی مخالفت نہیں کی جاتی ہے. جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ امام بیہقی سے نقل کرتے ہیں من یکتب مصحفا فینبغی ان یحافظ علی الہجاء الذی کتبوا بہ تلک المصاحف ولایخالفہم فیہ ولا یغیر مما کتبوہ شیئاً فانہم کانوا اکثر علما واصدق قلبا ولسانا واعظم امانۃ فلا ینبغی ان نظن فانفسنا استدراکاعلیہم (..) یعنی جو شخص مصحف شریف لکھنا چاہتا ہے تو چاہیے کہ اس رسم الخط کی پابندی کرے جس سے صحابہ کرام نے مصاحف عثمانیہ لکھے ہیں ان کی مخالفت نہ کرے اور نہ ان کی لکھی ہوئی کسی چیز میں کوئی ادنیاتغیر کرے اس لیے کہ وہ حضرات پوری امت میں سب سے علم والے اور قلب وزبان کے اعتبار سے سب سے سچے اور سب سے زیادہ امانت دار تھے پس خوش فہمی میں مبتلاہوکر ان پر استدراک کرنا ہمارے لیے جائز نہیں ہے.
علامہ جعبری متوفی ...ھ لکھتے ہیں رسم المصحف توقیفی ہومذہب الاربعۃ یعنی قرآن کریم کا یہ رسم الخط توقیفی اور سماعی ہے یہی ائمہ اربعہ کامذہب ہے. (..)
مولانا ظفراحمد تھانوی لکھتے ہیں: جب عربی ہی زبان میں مگر دوسرے رسم الخط میں قرآن کالکھنا جائز نہیں ہے جبکہ اس میں وہ سارے حروف موجود ہیں جو خط عثمانی میں موجود ہیں تو پھر اس کے علاوہ دوسری زبان میں جس میں تمام حروف کومکمل رعایت ہوہی نہیں سکتی ہے لکھنا کب جائز ہوگا. (..)
فقیہ الامت مفتی. اعظم ہند ودارالعلوم دیوبند حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں .... عبارات منقولہ سے معلوم ہوا کہ مصحف عثمانی کے رسم خط کی رعایت ومتابعت لازم وضروری ہے اور اس کے خلاف لکھنا اگرچہ وہ عربی رسم خط میں ہی کیوں نہ ہوناجائز اور حرام ہے اور اس مسئلہ پر ائمہ اربعہ کااتفاق ہے بلکہ علمائے امت میں سے کسی کااختلاف نہیں تو یہ اجماعی مسئلہ ہوا پھر غیر عربی بنگلہ (ہندی، گجراتی) وغیرہ رسم خط میں لکھنا کیسے جائز ہوسکتا ہے اس میں تو جواز کا کوئی احتمال ہی نہیں بعض حروف عربی کے ساتھ مخصوص ہیں جیسے طاء، حاء، ضاد، ظاء وغیرہ یہ حروف دوسری زبان میں استعمال ہی نہیں ہوتے ان کے لیے ان زبانوں میں نہ صوت ہے نہ شکل وصورت ہے تو لامحالہ ان کی جگہ دوسرے حروف لکھے جائیں گے اور یہ عملاً تحریف وتغییر ہے جو کہ حرام ہے. البتہ اگر متن قرآن کریم تو عربی اصل رسم خط میں ہواور اس کاترجمہ وتفسیر دوسری زبان میں تو شرعاً مضائقہ نہیں (..) .
تنبیہ: بہت سے علاقوں میں وہاں کے ہمدردانِ قوم مقامی عام لوگوں کی دینی راہنمائی کے لیے قرآن پاک کی چھوٹی سورتوں اور ماثور دعاؤں کوعربی خط میں لکھنے کے بجائے علاقائی زبان (ہندی، گجراتی، بنگالی وغیرہ) میں لکھ کر اور چھاپ کر شائع کرتے ہیں. مذکورہ تحریر سے معلوم ہوگیا کہ یہ بھی صحیح نہیں ہے.
قراء تِ سبعہ یاعشرہ کاتواتر
پیغمبر صلى اللہ علیہ وسلم سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں میں سے پچاسوں صحابہ تعلیم قرآن میں معروف تھے پھر ان میں سب سے زیادہ مشہور حضرت عثمان رضى اللہ تعالى عنہ، علی رضى اللہ تعالى عنہ، ابی بن کعب رضى اللہ تعالى عنہ، زید بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ، عبداللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ، ابوالدرداء رضى اللہ تعالى عنہ، ابوموسیااشعری رضى اللہ تعالى عنہ تھے (..) پھر تابعین کی ایک بڑی جماعت نے اُن سے اور دوسرے صحابہ سے قرآن کواُن وجوہ سے حاصل کیاجن سے انھوں نے خود نبی امی صلى اللہ علیہ وسلم سے سیکھاتھا. پھر اُن میں متعدد شخصیتوں نے قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کواپنی زندگی کانصب العین بنالیااور یہی اُن کے شب وروز کاحقیقی موضوع اور بہترین مشغلہ تھاثم تجرد قوم واعتنوا بضبط القرأۃ اتم عنایۃ حتی صاروا ائمۃ یقتدی بہم ویرحل الیہم (..) ثم تجرد قوم للقرأۃ والاخذ واعتنوا بضبطا اتم عنایۃ حتی صاروا فیہاائمۃ یقتدی بہم واجمع اہل بلدہم علی تلقی قرأتہم بالقبول (..) یعنی بعض حضرات نے قرأتِ قرآن کی تعلیم وتبلیغ کے لیے اپنی زندگی کووقف کردیاتھااُن کی اِس قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیانے علم قرأت میں انہیں امامت و پیشوائی کارتبہ عطا فرمایاقال السیوطی: واشتہر من ہو.لاء فی الآفاق الائمۃُ ان میں سے پھر یہ لوگ یعنی امام نافع مدنی، امام ابن کثیر مکی، امام ابن عامر شامی، امام ابوعمرو بصری، امام عاصم کوفی، امام حمزہ کوفی، امام کسائی کوفی، کوعالم میں زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی. (..)
یہ ائمہ اگرچہ تمام متواتر قرأتوں کے حافظ وعالم تھے مگر ہر ایک کوایک مخصوص قرأت میں جو ان کی پسندیدہ اور محبوب تھی امتیازی شان نصیب ہوئی یہاں تک کہ ہر قرأت ان اماموں میں سے ایک ایک کے نام کی طرف منسوب ہوگئی اور قرأت کاتواتر ان ائمہ کے ناموں سے وابستہ ہوگیااور ان کی قرأت متواتر قرأت کی معرفت کامدار بن گئی کہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں قرآن کی قرأت ہووہ قرأت معتبر ومستند جب ہوگی جب کہ اس کی سند مذکورہ اماموں میں سے کسی ایک تک سند متصل سے پہنچتی ہے تو وہ متواتر کہلائے گی کیونکہ اِن ائمہ سے پیغمبر صلى اللہ علیہ وسلم تک قرآن کاتواتر یقینی ہے لہاذا ہر امام کی قرأت کے قرآن ہونے کا یقین واجب اور ضروری ہے اور جو قرأت مذکورہ ائمہ سبعہ بلکہ عشرہ کے علاوہ کسی اور شخصیت کی طرف منسوب ہے وہ متواتر نہیں کہلائے گی.
تنبیہ: قراء سبعہ وعشرہ کی قرأت کے متواتر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قرأت کاتواتر اِن ائمہ قرأت سے شروع ہوا ہے اس سے قبل نہیں تھا. حاشا وکلاّ. اگر کسی کو یہ تردد ہوا ہوتو مذکورہ تحریر سے اس کاازالہ ہوجاتا ہے. فافہم
* * *
حواشی:
(.) ... اتقان، ص: ... نوع ... ... (.) ... سورئہ یوسف پ...
(.) ... اتقان، ج: .، ص: .... ... (.) ... الکامل للمبرد.
(.) ... مفتاح السعادۃ، ج.، ص: ... ... (.) ... مناہل العرفان.
(.) ... مسلم شریف. ... (.) ... مناہل، ج: .، ص: ....
(.) ... نثر المرجان فی رسم نظم القرآن، ج: .، ص: ... (..) ... اتقان.
(..) ... المقنع للدانی ص.. ... (..) ... مناہل، ج: .، ص: ...
(..) ... المقنع، ص.. ... (..) ... مناہل، ج.، ص....
(..) ... مناہل العرفان. ... (..) ... ایضاً.
(..) ... الفوز الکبیر، ص... ... (..) ... اتقان عن النشر.
(..) ... نثرالمرجان، ج.، ص: ... ... (..) ... المقنع، ص..
(..) ... اتقان ص.... ... (..) ... المقنع، ص..
(..) ... مفتاح السعادۃ، ج.، ص: ... ... (..) ... اتقان عن البیہقی فی شعب الایمان.
(..) ... شرح العقیلہ. ... (..) ... امداد الفتاویا، ج.، ص...
(..) ... فتاویامحمودیہ، ج.، ص... ... (..) ... الاتقان، ج.، ص...
(..) ... ایضاً، ج.، ص... ... (..) ... نثر المرجان، ج.، ص...
(..) ... نثرالمرجان، منجد المقرئین، ص...
* * *
قرآن محکم کی شان عظیم
صُحُفِ رَبّانیہ کی تعداد اور قرآن کی جامعیت:
امام ابوبکر احمد بن حسین البیہقی حسن بصری کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائیں اور اُن سب کے علوم چار کتابوں : توریت، انجیل، زبور اور فرقان میں جمع فرمادئیے، پھر مذکورہ تین کتابوں کے علوم قرآن پاک میں محفوظ کردئیے۔(۱)
کتبِ سماویہ کا زمانہٴ نزول:
حضرت واثلہ بن الاسقع سے مروی ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تورات ۶/رمضان المبارک کو نازل ہوئی، انجیل ۱۳/رمضان کو، زبور ۱۸/رمضان کو اور قرآن مجید ۲۴/رمضان میں نازل ہوا۔ بعض روایات میں ہے کہ صحیفہٴ ابراہیم یکم رمضان کو نازل ہوا۔(۲) (اسباب النزول للواحدی،ص:۱۵)
کتبِ الٰہیہ کی زبان:
اہل جنت کی زبان عربی ہونے کی وجہ سے گویا وہی انسان کی اصلی زبان کہی جاسکتی ہے اور اس لیے وحی کے لیے بھی یہی زبان پسند کی گئی؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے دنیا میں عربی زبان کے علاوہ دوسری زبانیں بھی پیدا فرمائی ہیں تاکہ ہر انسان بہ سہولت اپنے مافی الضمیر کو ادا کرسکے اور اسی وجہ سے ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اپنی قوم کی زبان میں مبعوث فرمایا - وَمَا اَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ اِلّا بِلسَانِ قَومِہ لِیُبَیِّنَ لَہُم -تاکہ وہ پیغام خداوندی جس کا نزول ان پر عربی زبان میں ہوتا ہے،اس کی ترجمانی اور توضیح اپنی قوم کے سامنے ان کی مادری زبان میں فرماتے رہیں؛ چنانچہ عَنْ سُفیانَ مَا نزَل مِنَ السَّمَاءِ وَحْيٌ الاَّ بِالعربیةِ وَکَانَتْ الأنْبِیَاءُ علیہمُ السلامُ تُتَرْجِمُہ لِقَوْمِہِمْ بِلِسَانِہِمْ(۳) سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ وحی تو عربی زبان میں ہی نازل ہوئی پھر ہر نبی نے اپنی قوم کی زبان میں اس وحی کی ترجمانی فرمائی۔ برخلاف قرآن مجید کے کہ وہ جس زبان میں نازل ہوا وہی نبی علیہ الصلاة والسلام اور قوم کی مادری زبان اور تمام انسانوں کی فطری اور اخروی زبان تھی؛ اس لیے قرآن جس طرح نازل ہوتا تھا، بعینہ اسی طرح قوم کے سامنے پیش کردیا جاتا اوراسی طرح زبانی وتحریری طور پر محفوظ کرلیا جاتا تھا۔
بتدریج نزول قرآن کی چند حکمتیں:
آسمانی کتاب کے نزول کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ پوری کتاب یکبارگی اُتار دی جائے تاکہ تمام احکام پر عمل درآمد ایک ساتھ شروع ہوجائے، (۲) دوسری صورت تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نازل ہو۔ آخری کلام الٰہی کے سوا تمام کتب سماویہ اور صحیفے یکبارگی نازل ہوئے۔(۴) اور قرآن مجید دونوں کیفیتوں کا جامع ہے؛ چنانچہ لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر دفعتہ ہی نازل ہوا ہے انا أنزلنٰہُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ جس کی حکمت علامہ سخاوی یوں بیان کرتے ہیں: قَالَ السَّخَاوِیُّ فِیْ جَمَالِ القُرَّاء: فِیْ نُزُوْلِہ الٰی السَّمَاءِ جُمْلَةً تَکْرِیْمُ بَنِیْ آدَمَ وَتَعْظِیْمُ شَأنِہِمْ عِنْدَ الْمَلاَئِکَةِ وَتَعْرِیْفُہُمْ عِنَایَةَ اللّٰہِ بِہِمْ وَرَحْمَةً بِہِمْ(۵) یعنی فرشتوں کے نزدیک بنی آدم کی تعظیم وتکریم اور یہ بتلانا ہے کہ امتِ محمدیہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت وعنایت کی مستحق ہے۔ پھر سمائے دنیا سے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات پر ضرورت کے مطابق بتدریج نازل کیاگیا، جس کی چند حکمتیں یہ ہیں:
(۱) حفظ آسان ہو۔
(۲) فہمِ معانی میں سہولت ہو۔
(۳) پورے کلام کا ضبط کرنا سہل ہو۔
(۴) لوگوں کے لیے عمل میں راحت ہو دشواری نہ ہو۔
(۵) شانِ نزول دیکھ کر معنی ومراد متعین کرنے میں اعانت ہو۔
(۶) ضرورت پر بروقت جواب ملنے سے پیغمبر اور مسلمانوں کے لیے باعثِ تسکینِ قلب ہو۔
(۷) ہرآیت کے نزول پر قرآن کا اعجاز اور عہدِ الست کی یاد تازہ ہو۔
(۸) باربار حضرت جبرئیل کی تشریف آوری سے برکت کا نزول اور مسرت حاصل ہو(۶)
قرآن مجید کے اوّلیات وآخریات:
اولیت وآخریت کسی چیز کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے اس شئی کی تأسیس وانشا، تکمیل وانتہاء کی تاریخ معلوم ہوتی ہے،اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ دو متعارض احکام یا واقعات میں ترجیح دینا آسان ہوتا ہے۔ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ صاحبِ اولیت وآخریت کے لیے باعث فضیلت وشرف ہے؛ چونکہ یہ دونوں وصف محمود ہیں اور تمام محامد کا حقیقی مستحق اللہ رب العزت ہے اس لیے واقعی اولیت و آخریت تو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت ہے۔ دیکھیے حق تعالیٰ نے اپنے کمال کا اظہار جن اسمائے حسنیٰ سے فرمایاا ہے ان میں ہُوَ الأوَّلُ وَالْآخِرُ (الحدید) بھی نمایاں ہے۔ نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مذکورہ فضیلت حاصل ہے، جسے آپ نے مختلف مواقع میں بیان فرمایاہے، مثلاً اَنَا اَوَّلُ النَّبِیِیْنَ خَلْقاً وَآخِرُہُمْ بَعْثاً، أنَا آخِرُ الأنْبِیَاءِ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ، أنَا أوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الأرْضُ․ وغیرہ۔
بہرحال قرآن پاک کے اولیات وآخریات سے متعلق علماء نے جو کچھ کلام کیا ہے اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔(۷)
(۱) علی الاطلاق سب سے پہلی وحی جس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی بنائے گئے وہ قرآن پاک کی سب سے پہلی سورہ ”اقرأ“ کی ابتدائی پانچ آیتیں نازل ہوئیں، پھر تقریباً تین سال وحی کا سلسلہ مصلحتاً منقطع رہا، جس کو اصطلاح شریعت میں فترة الوحی کہتے ہیں (فضائل القرآن لابن کثیر)۔ اِس فترت کے بعد
(۲) سب سے پہلی آیت یا سورہ نازل ہوئی وہ یَا أیُّہَا الْمُدَّثِّرْ․․․ الی ․․․ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ ہے۔
(۳) سب سے پہلی مکمل سورہ جو نازل ہوئی وہ سورہٴ فاتحہ ہے۔
(۴) سب سے پہلی سورہ جو مکہ میں نازل ہوئی وہ سورہٴ ”علق“ یعنی سورہٴ اقرأ ہے۔
(۵) سب سے پہلی سورہ جو کفار مکہ کے سامنے ظاہر ہوئی وہ سورہٴ ”النجم“ ہے۔
(۶) سب سے پہلی سورہ جو مدینہ میں نازل ہوئی وہ سورہٴ ”تطفیف“ ہے۔
(۱) سب سے آخری سورہ قتال وجہاد کے اعتبار سے سورہٴ ”برأت“ ہے۔
(۲) سب سے آخری آیت میراث کے اعتبار سے یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَةِ الخ ہے۔
(۳) سب سے آخری آیت احکام کے اعتبار سے، آیت رِبا ہے۔
(۴) سب سے آخری سورہ، سورہٴ ”نصر“ ہے۔
(۵) اور مطلقاً سب سے آخری آیت وَاتَّقُوْا یَوْماً تَرْجِعُوْنَ فِیْہِ الٰی اللّٰہِ الخ ہے۔
حِصصِ قرآن کی تشریح:
سورتوں اور آیتوں کی تعداد نیز مضامین کی تفصیل وتکرار کے لحاظ سے مشہور قول کے مطابق قرآن پاک کے چار حصے بتائے گئے ہیں: طوال، مئین، مثانی، مفصلات۔ واثلہ بن الاسقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ سات لمبی سورتیں مجھے دی گئیں جو بمنزلہٴ تورات کے ہیں اورمجھے مئین، دی گئیں جو انجیل کے درجہ میں ہیں اور مجھے مثانی عنایت کی گئیں جو زبور کے قائم مقام ہیں اور مفصّلات مرحمت فرماکر مجھے دوسرے نبیوں پر فضیلت دی گئی ہے(۸)۔
(۱) السبع الطوال: سات بڑی سورتیں یعنی ایسی بڑی سورتیں کہ عموماً ان میں سے ہرایک میں دوسو یا زائد آیتیں ہیں۔ سورہٴ بقرہ، آلِ عمران، نساء، مائدہ، انعام، اعراف، انفال اورتوبہ۔
(۲) المئین : وہ سورتیں کہلاتی ہیں کہ ان میں ہر ایک میں کم وبیش سو آیات ہیں، یہ سورہٴ یونس سے لے کر سورہٴ فاطرتک ہیں۔
(۳) المثانی: وہ سورتیں کہلاتی ہیں جن میں واقعات وقصص اور نصیحتیں بار بار بیان کئے گئے ہیں، یہ سورہٴ یٰسین سے سورہٴ ق تک ہیں۔
(۴) المفصلات: جدا جدا مضامین والی سورتیں، یا ہردو سورتوں کے درمیان بسملہ کے ذریعہ فصل کی کثرت کی وجہ سے انھیں مفصّل کہا جاتا ہے، یہ سورہٴ حجرات سے آخر قرآن تک ہیں۔
مفصلات کی ابتداء کون سی سورہ سے ہوتی ہے،اس میں علامہ جلال الدین سیوطی نے بارہ اقوال نقل کیے ہیں۔ ان میں سے امام نووی نے حجرات سے ابتداء والے قول کی تصحیح کی ہے اوراحناف کے نزدیک بھی یہی راجح ہے۔(۹)
پھر اِن مفصلات کی تین قسمیں ہیں:
طِوالِ مفصل سورہٴ حجرات سے سورہٴ بروج تک
اوساطِ مفصل سورہٴ بروج سے سورہٴ لم یکن تک
قِصارِ مفصل سورہٴ لم یکن سے آخر قرآن تک(۱۰)
محیط میں اسی طرح تصریح ہے اور بالعموم فقہاء بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔(۱۱)
پاروں اور منزل وغیرہ کی تعیین:
مذکورہ بالا حصص اور سورتوں کی تقسیم کے علاوہ وہ تقسیمات جن کی علامتیں قرآن مجید میں ہم پاتے ہیں منزل (حزب) سی پارہ (جزء) نصف، ثلث، ربع۔ عملاً ان سب کا وجود اگرچہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھا، مثلاً حضرت اوس بن حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ آپ لوگ قرآن کو کتنے حصوں میں (یومیہ تلاوت کے لیے) تقسیم کرتے ہیں، تو صحابہ نے فرمایا: تین (سورتیں) پانچ، نو، گیارہ، تیرہ اور مفصلات کی سورتوں کا مجموعہ(۱۲)؛ لیکن متعین طور سے تقسیم و تحدید دورِ صحابہ کے اواخر یا قرنِ تابعین کے اوائل میں ہوئی جس کا منشاء قرآن کے حفظ وتلاوت اور اس کے معانی کی تعلیم وتدریس کو امت پر سہل کرنا ہے، جس طرح قرآن میں اعراب، نُقاط وغیرہ لگانے کا مقصد امت کو خطاء وگمراہی سے بچانا تھا دراصل یہ بھی وَاِنّا لَہ لَحٰفِظُوْنَ کی ایک عملی صورت تھی جو منجانب اللہ وجود میں آئی۔ حضرت فقیہ الامت لکھتے ہیں: ”قرونِ مشہود لہا بالخیر میں حفاظتِ قرآن پاک کے لیے یہ سب کچھ کردیاگیا؛ تاکہ لوگ غلط نہ پڑھیں اور تحریف نہ ہوجائے۔“(۱۳)
اس سلسلہ میں مشہور قول یہ ہے کہ حجاج بن یوسف ثقفی والیِ عراق نے اپنی ولایت کے زمانہ میں قرّاء وعلماء کی ایک جماعت کو جو صحابہ اور تابعین پر مشتمل تھی حصصِ قرآن کی تعیین اور اس کے کلمات وحروف کے شمار پر مامور کیا اور انھوں نے یہ عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حُسنِ قبول عطا کیا؛ چنانچہ امت اس پر عمل کرتی چلی آرہی ہے(۱۴)۔ صاحب تفسیرِ حقانی اپنے مقدمہ میں لکھتے ہیں: علماء نے سہولتِ حفظ کے لیے قرآن کو تیس حصوں میں بہ حساب مہینوں کے دنوں کے منقسم (کرکے کہ ہر ایک کو جزء یا پارہ کہتے ہیں پھر ہر پارہ کو چار حصوں میں منقسم) کیا ہے اور ان پر ربع، نصف، ثلث لکھ دیا ہے اور ہر حصہ کو رکوعات میں منقسم کیا ہے۔ (البیان فی علوم القرآن، ص:۲۶۸)
(۱) پاروں کی تقسیم: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ: ہرمہینہ ایک ختم کیا کرو۔ اس ارشاد پر عمل کرنے کے لیے (قرآن پاک جب تیس دنوں میں تقسیم کریں گے تو) ہر رات ایک پارہ یعنی تیسواں حصہ کی مقدار قرأت ہواکرے گی(۱۵)؛ چنانچہ صحابہ کرام کی ایک جماعت ہر ماہ ایک قرآن ختم کرتی تھی(۱۶)۔
(۲) منزل کی تخصیص: مذکورہ فرمانِ نبوی کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمرو نے جب مزید رغبت وقوت کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے واسطے ہفتہ مقرر کیا یعنی ہر ہفتہ ایک ختم کیا کرو پھر اکثر صحابہ نے بھی اپنا یہی معمول بنالیا، جیساکہ شروع میں اوس بن حذیفہ کے حوالہ سے صحابہ کا معمول ذکر کیاگیا؛ چنانچہ پہلی شب میں فاتحہ کے بعد تین سورتیں، دوسری شب میں اس کے بعد پانچ سورتیں، تیسری شب میں سات، چوتھی شب میں نو، پانچویں شب میں گیارہ، چھٹی شب میں تیرہ سورتیں اور ساتویں شب میں بقیہ قرآن پورا کرتے تھے۔
ان منزلوں کو سہولت کے لیے ”فمی بشوق“ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ ہر منزل کی پہلی سورہ کے نام کا پہلا حرف لے کر یہ جملہ بنایا گیا ہے(۱۷)۔
(۳) نصف، ربع، ثلثہ کی تقدیر: حضرت صحابہ کرام میں ایک جماعت ہر دوماہ میں ایک قرآن پاک ختم کیا کرتی تھی، امام نووی لکھتے ہیں فَکَانَ جَمَاعَةٌ مِنْہُمْ یَخْتُمُوْنَ فِیْ کُلِّ شَہْرَیْنِ خَتْمَةً(۱۸) لہٰذا روزانہ پارہ کا نصف تلاوت کرتے ہوں گے۔ پس ہر پارہ کے نصف کا سراغ لگ گیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کتنے دنوں میں قرآن ختم کرلیں، ارشاد فرمایا چالیس دنوں میں ختم کردیا کرو(۱۹) اس حدیث کے مطابق عمل کرنے کے لیے ضروی ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید کو چالیس حصوں میں تقسیم کرکے روزانہ ایک جزء پڑھا جائے؛ چنانچہ نصف پارہ پر ایک ربع کا اضافہ کرلیا جائے تو پورے قرآن کا چالیسواں حصہ بن جاتا ہے؛ اس لیے ہرپارہ کوچار حصوں میں تقسیم کرکے حصہٴ اول پر ربع کی علامت اور دو ربع پر نصف اور تین ربع پر ثلثہ کی علامت مقرر کی گئی؛ تاکہ قرآن میں کہیں سے بھی تین چوتھائی کی قرأت کرنے سے چالیسواں حصہ کی تلاوت ہوجائے۔
(۴) رکوعات: نماز میں قرأت کی فرضیت ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں سے اداء ہوجاتی ہے؛ مگر واجب کی ادئیگی کے لیے سورہٴ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورہ کا ملانا بھی ضروری ہے؛ چونکہ رکعت میں مکمل سورہ کا پڑھنا مستحب ہے، جیساکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے عموماً ایسا ہی منقول ہے(۲۰) چنانچہ چھوٹی چھوٹی سورتیں جو چند آیات پر مشتمل ہیں، مکمل پڑھ کر رکوع کیا جاتا تھا، اس لیے وہ ایک مقدارِ قرأت تھی جس کو رکوع سے تعبیر کیا گیا اور اسی طرح جہاں آیات کی تعداد زیادہ تھی، وہاں معانی کو ملحوظ رکھ کر اور طریقہٴ نزول کا اعتبار کرتے ہوئے چند آیات کے مجموعہ پر رکوع کی تعیین کردی گئی؛ تاکہ رکعتوں میں اس کا پڑھنا آسان ہو۔
آیات و سورتوں کی ترتیب وتقسیم:
سورہ کہتے ہیں قرآن پاک کی اس مخصوص ومحدود مقدار کو جس کی ابتداء وانتہاء متعین ہو اور کم از کم تین آیتوں پر مشتمل ہو، مثلاً سورہٴ کوثر۔
آیت کہتے ہیں قرآن کا ایک حصہ جس میں کم سے کم چھ حروف ہوں اور اس کا اول و آخر متعین ہو جیسے ثُمَّ نَظَرَ (۲۱)۔
اب جاننا چاہیے کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جو آیتیں نازل ہوتی تھیں، انھیں کاتبینِ وحی کے ذریعہ لکھواکر ارشاد فرماتے: اِن آیتوں کو فلاں سورہ کے فلاں مقام پر فلاں آیت کے بعد اور فلاں آیت سے پہلے رکھا جائے۔ نیز سورتوں کا موقع ومحل بھی مقرر فرماتے تھے کَانَ اِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الشَّیْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ کَانَ یَکْتُبُ فَیَقُوْلُ ضَعُوا ہَذِہ الآیاتِ فِیْ السُّوْرَةِ الَّتِیْ یَذْکُرُ فِیْہَا کَذَا وَکَذَا(۲۲)اس طرح تمام آیات و سورتوں کی ترتیب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگاہ فرماتے رہتے ؛ یہاں تک کہ پورا قرآن پاک تحریری شکل میں مرتب اور منضبط ہوگیا؛ غرض یہ کہ نفس آیت وسورہ کی معرفت جس طرح شارع کی طرف سے ہے(۲۳) اسی طرح آیات وسُوَر کی ترتیب و تقسیم بھی من جانب الشارع ہے(۲۴) ۔ یہ بندوں کا محض نتیجہٴ فکر یا اُن کی عقل کی دریافت نہیں ہے؛ بلکہ شارع کی طرف سے ہے اسی کو ”توقیف“ کہتے ہیں۔
پس قرآنی آیات اور سورتوں کی موجودہ ترتیب جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ ہر سال کے عرض (دور) اور عرضہٴ اخیرہ کی ترتیب کے عین مطابق ہے اور جو تواتر وتعامل سے منقول چلی آرہی ہے، یہی حق اور قطعی ہے(۲۵) صحابہ کرام نے قرآن مجید کو اسی ترتیب کے مطابق بغیر کسی کمی بیشی کے جمع کیا اور اسی طرح لکھا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اپنی جانب سے نہ تو کچھ تقدیم وتاخیر کی اور نہ کوئی ایسی ترتیب قائم کی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ (حاصل) نہ کی ہو (البیان فی علوم القرآن،ص:۲۷۴)۔
جو قرآن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ سے پوری دنیا میں آج تک بغیر کسی حرف یا حرکت کی تبدیلی کے بے شمار تعداد میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے رسم کے مطابق نقل ہوتا چلا آرہا ہے اور امت کے اَن گنت افراد اپنے سینوں میں محفوظ کرتے چلے آرہے ہیں اور قیامت تک ان شاء اللہ جمہورامت اسی طرح متفق رہے گی، وہی قرآن، قرآن ہے، حق ہے اس کے علاوہ باطل ہے۔
سورتوں کی ترتیب اور تقسیم میں بہت سی حکمتیں بیان کی گئی ہیں مثلاً (۱) ہر سورہ کو ایک مستقل معجزہ کی شکل میں پیش کرنا۔ (۲) پڑھنے اور حفظ کرنے والوں کے دل میں خوشی پیدا کرنا؛ تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ ہم ایک حصہ ختم کرچکے۔ (۳) مربوط مضامین کو یکجا کرنا۔ (علوم القرآن للافغانی،ص:۱۴۲) (اتقان:۱/۸۸)
مکی ومدنی آیات وسُوَر کی توضیح:
قرآن مجید صحابہٴ کرام کے درمیان نازل ہورہا تھا؛ اس لیے وہ بہ خوبی واقف تھے کہ کون سی آیت یا سورہ کب، کہاں اور کس کے حق میں نازل ہوئی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ واللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کتاب اللہ کی کوئی سورہ اور کوئی آیت جو بھی نازل ہوئی ہے میں خوب جانتا ہوں کہ کہاں اور کس سلسلہ میں نازل ہوئی ہے(۲۶)۔ ایک شخص نے حضرت عکرمہ (تلمیذ ابن عباس) سے کسی آیت کے متعلق پوچھاتو فرمایا وہ آیت فلاں پہاڑ (سلع) کے دامن میں اتری ہے۔(۲۷)
اور ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا بیشتر حصہ جو ایمان وعقائد اور واقعات وتذکیر پر مشتمل ہے، مکی زندگی میں نازل ہوا اور احکام شرعیہ وسیاست مُلکِیہ سے متعلق قرآن کا حصہ مدنی زندگی میں نازل ہوا ہے، مکی ومدنی کی معرفت کا پورا دارومدار صحابہ و تابعین کی یاد داشتوں پر ہے(۲۸) مکی ومدنی کی توضیح کی ضرورت اس وقت لاحق ہوئی جب مجتہدینِ امت نے احکام شرعیہ کے استنباط کے موقع پر دلائل میں تعارض محسوس کیا اور اس کے رفع کے لیے ناسخ ومنسوخ جاننے کی ضرورت پڑی؛ چونکہ مکی زندگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدم ہے مدنی زندگی پر، لہٰذا جو آیت مدنی ہوگی وہ لامحالہ متأخر ہوگی اور اسے ناسخ کا درجہ دیا جاسکے گا اور جو آیت مکی ہوگی وہ منسوخ قرار پائے گی؛ چنانچہ صحابہ کرام کے آثار اور تابعین کے اقوال کا تتبع کیاگیا تو اس تلاش وجستجو کے نتیجہ میں علماء کے تین نظریات سامنے آئے، جن میں زیادہ صحیح اور مشہور یہ ہے کہ جو سورہ یا آیت قبل الہجرت نازل ہوئی وہ ”مکی“ ہے، خواہ شہر مکہ میں یا اس کے قرب وجوار میں نازل ہوئی ہو اور جو آیت یا سورہ بعد الہجرت نازل ہو وہ ”مدنی“ ہے چاہے مدینہ میں یا اس کے اطراف میں حتی کہ مکہ ہی میں کیوں نہ اتری ہو، بہ بہرحال مدنی کہلائے گی(۲۹)۔
مکی ومدنی کی ظاہری علامتیں:
مکی ومدنی سورتوں میں امتیاز کے لیے کوئی حتمی قاعدہ نہیں ہے؛ البتہ علماء نے کچھ علامتیں ذکر کی ہیں مثلاً: (۱) ہر وہ سورہ جس میں لفظ ”کلاّ“ آیا ہو وہ مکی ہے۔ یہ لفظ پورے قرآن میں ۳۳ مرتبہ آیا ہے اور وہ بھی نصف اخیر میں۔ (۲) ہر وہ سورہ جس میں سجدہ ہے وہ مکی ہے۔ (۳) ہر وہ سورہ جس کے شروع میں حروف مقطعات ہیں وہ مکی ہے، سوائے سورہٴ بقرہ اور آل عمران کے کہ دونوں بالاتفاق مدنی ہیں۔ (۴) ہر وہ سورہ جس میں نبیوں کا قصہ ہے وہ مکی ہے سورائے بقرہ کے۔ (۵) ہر وہ سورہ جس میں حضرت آدم علیہ السلام اور شیطان لعین کا قصہ ہے وہ مکی ہے، سوائے بقرہ کے۔ (۶) ہر وہ سورہ جس میں حدود وفرائض کا ذکر ہے وہ مدنی ہے (۷) ہر وہ سورہ جس میں جہاد کی اجازت اور احکام جہاد کا بیان ہے وہ مدنی ہے۔ (۸) ہر وہ سورہ جس میں منافقین کا ذکر ہے وہ مدنی ہے (۳۰)
معنوی علامتیں:
ان ظاہری علامتوں کے علاوہ کچھ معنوی علامتیں بھی ہیں جنھیں خصوصیات کہنا چاہیے، صاحب ”مناہل العرفان“ نے مکی سورتوں کے چھ خواص اور مدنی سورتوں کے تین خواص بیان کیے ہیں۔ یہاں صرف ایک نمونہ کے طورپر لکھا جاتا ہے۔
مکی سورتوں میں اصولِ اخلاق اور اجتماعی حقوق کی تشریح اس انداز سے کی گئی ہے کہ کفر فسق، معصیت، جہل، طبعی سختی، قلب کی گندگی اور الفاظِ قبیحہ کی کراہت دل میں آجائے اور ایمان، طاعت، رحمت، اخلاص، والدین کے ساتھ حسن سلوک، پڑوسیوں کا اکرام، دوسروں کا احترام، قلوب کی طہارت، زبان کی نظافت وغیرہ دل میں اترجائے اور مدنی سورتوں میں احکامِ شرعیہ کی تفصیل اور اس کے دقائق، شہری وملکی، اجتماعی وجنگی، حکومت و جنایت کے قوانین، نیز حقوقِ شخصیہ اور دوسری عبادات اور معاملات کی تشریح کی گئی ہے۔(۳۱)
حواشی:
(۱) الاتقان:۲/۱۶۰۔
(۲) اتقان: ۱/۵۵۔
(۳) ارشادالساری:۱/۶۵، اتقان:۱/۶۰ مطبوعہ دہلی، دیکھیے فتاویٰ محمودیہ: ۱/۱۸ عن تفسیر ابن کثیر۔
(۴) اتقان:۱/۵۶۔
(۵) اتقان:۱/۵۵۔
(۶) اتقان:۱/۵۶، فوائد عثمانی پ ۱۹، بیان القرآن پ۱۵، پ۱۹۔
(۷) اتقان:۱/۳۹، مناہل العرفان:۱/۹۷، البرہان للزرکشی:۱/۲۶۳۔
(۸) برہان للزرکشی:۱/۳۰۷ عن تفسیر ابن کثیر۔
(۹) برہان:۱/۳۰۷، اتقان:۱/۸۵۔
(۱۰) شامی:۱/۲۶۱۔
(۱۱) اصول تفسیر لمالک:۴۶۔
(۱۲) احیاء العلوم:۱/۳۳۶۔
(۱۳) فتاویٰ محمودیہ (قدیم)۱/۱۹۔
(۱۴) تفسیر قرطبی:۱/۶۳،۶۴۔
(۱۵) تفسیر فتح العزیز:۱/۲۹۔
(۱۶) الاذکار للنووی:۱/۱۱۸۔
(۱۷) فتح العزیز:۱/۲۹۔
(۱۸) الاذکار۔
(۱۹) اتقان عن ابی داؤد۔
(۲۰) ومِن ثم کانتّ القراء ة فی الصلاة بسورةِ افضل، اتقان:۱/۸۸۔
(۲۱) شامی:۲/۲۵۶ ، طبع بیروت۔
(۲۲) البرہان للزرکشی۔
(۲۳) اتقان:۱/۸۸۔
(۲۴) ایضاً۔
(۲۵) فتح الباری:۹/۵۲۔
(۲۶،۲۷) مناہل العرفان:۱/۱۹۶۔
(۲۸) مناہل :۱/۱۹۶۔
(۲۹) مناہل واتقان وفضائل القرآن لابن کثیر۔
(۳۰) مناہل العرفان:۱/۱۹۶۔
(۳۱) ایضاً:۱/۲۰۳۔
قرآن محکم کی شان عظیم
تلاوتِ قرآن اللہ کا خصوصی انعام:
وحی کے سب سے پہلے کلمے ”اقرأ“ کا مخاطب حضرتِ انسان ہے نہ کہ فرشتہ۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حیثیت واسطہ کی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تعلیم و تربیت اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے، جبرئیل کا قرآن لانا اور پڑھ کر سنانا خود ان کے اختیار میں نہیں تھا(۱) وہ حکم خداوندی کے خلاف کرہی نہیں سکتے تھے؛ جب کہ انسان کو طاعت ومعصیت دونوں کا اختیار دیاگیا ہے، اسی وجہ سے تلاوتِ قرآن کا مر انسان کوملا کسی فرشتہ کو ایسا کوئی حکم نہیں دیاگیا، ابن الصلاح اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں قِرَأةُ الْقُرْآنِ کُرَامَةٌ أکْرَمَ اللّٰہُ بِہَا الْبَشَرَ فَقَدْ وَرَدَ أنَّ الْمَلَائِکَةَ لَمْ یُعْطَوا ذٰلِکَ وَأنَّہَا حَرِیْصَةٌ عَلٰی اسْتِمَاعِہ مِنَ الْانْسِ․ یعنی قرآن کا پڑھنا ایسی شرافت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو مشرف کیا ہے؛ چونکہ یہ چیز فرشتوں کو نہیں ملی؛ اس لیے انسان اس نعمتِ خاصہ کی وجہ سے فرشتوں کے لیے رشکِ تمنا بنا ہوا ہے۔(۲) یہی وجہ ہے کہ فرشتے ایسی مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں، جہاں قرآن پاک کی تلاوت یا مذاکرہ ہورہا ہو، بالآخر موٴمنین کی ایسی مجلسوں کو رحمت کے فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں اور سَماعِ قرآن کی برکت سے رحمت الٰہی اور سکینت سے وہ بھی مستفید ہوتے ہیں۔(۳) امام بیہقی نے شعب الایمان میں یہ حدیث نقل کی ہے اذَا قَامَ أحَدُکُمْ یُصَلِّي مِنَ اللَّیْلِ فَلْیَسْتَکِ فَانَّ أحَدَکُمْ اِذَا قَرَأَ فِی صَلَاتِہ وَضَعَ مَلَکٌ فَاہُ عَلٰی فِیْہِ وَلاَ یَخْرُجُہ مِنْ فِیْہِ شَیْءٌ الاَّ دَخَلَ فَمَ الْمَلَکِ (ترجمہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی رات میں نماز (تہجد) کے لیے اٹھے تو مسواک کرلے؛ اس لیے کہ تم میں سے کوئی جب نماز میں قرآن پڑھتا ہے تو فرشتہ پڑھنے والے کے مُنھ پر اپنا منھ رکھ دیتا ہے اور جو چیز پڑھنے والے کے منھ سے نکلتی ہے وہ فرشتہ کے منھ میں داخل ہوتی ہے۔ اس طرح کی روایت کچھ اضافہ کے ساتھ حضرت علی سے بھی منقول ہے۔(۴)
قرآن اللہ کا غیرفانی کلام:
بنی نوع انسان کی داستانیں قصہٴ پارینہ بن سکتی ہیں، تمام درختوں کے اوراق بوسیدہ ہوسکتے ہیں، شاخوں کے قلم ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں اور ہفت اقلیم کے سمندر کی روشنائی ختم ہوسکتی ہے؛ مگر کلامِ الٰہی کا چہرہٴ بسیط ہمیشہ تروتازہ اور نشیط رہے گا، اس کے شباب پر کبھی کہنگی یا کہولت نہیں آسکتی؛ اس لیے کہ وہ عجائب ونوادر کا لازوال سرچشمہ اور معانی ومعارف کا بحرِناپیدا کرنا ہے وَلَا تَنْقَضِیْ عَجَائِبُہ امام شاطبی لکھتے ہیں:
وَخَیْرُ جَلِیْسِ لَا یُمَلَّ حَدِیثُہ * وَتَرْدَادُہ یَزْدَادُ فِیْہِ تَجَمُّلاَ(۵)
سہل بن عبداللہ تُستَری فرماتے ہیں ”اگر بندہ کو قرآن مجید کے ہر حرف کے بدلے ہزار فہم ودانش دے دی جائے، تب بھی اُن معانی کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی ایک آیت میں ودیعت کی ہے؛ اس لیے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور کلام اس کی ذاتی صفت ہے، پس جس طرح ذاتِ خداوندی کی کوئی حدونہایت نہیں، اسی طرح معانیِ کلام کی بھی کوئی غایت نہیں ہے، انسان بس اتناہی سمجھتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے اس پر منکشف فرمایا ہے؛ لہٰذا اس کا کلام ”قدیم“ (یعنی غیرفانی) ہے“(۶)
قرآن پاک کی اسی ازلی وابدی حیثیت کوکسی زمانہ میں ہواپرست عقل مندوں نے پائمال کرنے کی کچھ ناپاک سعی کی تھی، جس سے عام اہل اسلام کے عقائد میں وسوسہ لاحق ہوگیا تھا، دنیادار لوگوں کا ایمان ڈگمگا چکا تھا، اللہ تعالیٰ نے اِس فتنہٴ عظیم کو جڑسے ختم کردینے کے لیے علمائے حق میں سے ایک جماعت کا انتخاب فرمایا جس کے سرخیل امام احمد بن حنبل قرار پائے؛ چنانچہ امام احمد نے اپنی پوری توانائیوں سے فتنہ کی سرکوبی فرمائی اور کلام کے غیرفانی یعنی ”قدیم“ ہونے کو دلائل وبراہین سے مستحکم وآشکارا کیا؛ یہاں تک کہ فتنہ پرزوال آہی گیا اور کلامِ لازوال پورے آب و تاب کے ساتھ مخلوق کے درمیان محفوظ رہا۔(۷)
جس کو کلام مجید، قرآن مجید کہا جاتا ہے، وہ مصحف ہے ، یعنی کاغذ یا کسی اور چیز پر لکھا ہوا یا چھپا ہوا قرآن۔ یہ یقینا مخلوق ہے (کفایة المفتی ۱/۱۳۰) یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ کلام الٰہی پر دلالت کرنے والے نقوش جو کاغذ وغیرہ پررقم ہوتے ہیں، اسی کے مجموعہ کو مصحف کہا جاتا ہے، ان ہی نقوش ومکتوب کو ہم اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں، جس کو الفاظ کہتے ہیں اور اپنے کانوں سے اس کی جو آواز سنتے ہیں اسے اصوات کہتے ہیں؛ چونکہ یہ سب انسان کی ذات وصفات سے متعلق ہیں؛ اس لیے انسان کی طرح یہ چیزیں بھی حادث اور فانی ہیں۔
علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ قرآن کے غیرفانی ہونے پر بعض علماء نے ایک لطیف استدلال یہ بھی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ”انسان“ کا ذکر اٹھارہ جگہ کیا ہے اور سب جگہ اس کا مخلوق ہونا بیان کیا اور ”قرآن“ کا ذکر چو ّن (۵۴) جگہ فرمایا ہے؛ لیکن کسی ایک جگہ بھی اس کے مخلوق ہونے کا تذکرہ نہیں؛ بلکہ ایک مقام پر دونوں کو یکجا ذکر کیا تو ارشاد الٰہی ”اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْانْسَانَ“ کی تعبیر نے دونوں کو ممتاز کردیا ہے۔(۸)
فضائلِ قرآن کی احادیث کی حیثیت:
مطلق فضائل کی روایات کو تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں: (۱) وہ احادیث جو سنداً ومتناً صحیح اور حسن ہیں (۲) وہ روایات جو سنداً ومتناً موضوع ہیں (۳) وہ احادیث جو سند کے اعتبار سے اگرچہ پہلے درجہ کی نہیں ہیں؛ لیکن وہ موضوع بھی نہیں ہیں، اسے ضعیف کہتے ہیں۔
موضوع روایات ناقابل اعتبار ہیں اور جو احادیث ضعیف کہلاتی ہیں ان سے احکام فقہیہ کے لیے استدلال استشہاد میں تو کلام کیا جاسکتا ہے؛ مگر جن محدثین محققین نے حدیث کے رد و قبول کے اصول اور اس کے مراتب اور درجاتِ استدلال مقرر فرمائے ہیں، انھوں نے ہی فضائل کے باب میں توسّع کیا ہے اور نقد کی باریکیوں سے اِغماض کرتے ہوئے عمل بالحدیث الضعیف کو صحیح قرار دیا ہے۔ ابوعبداللہ حاکم نیشاپوری صاحب مستدرک نے کتاب الدعاء کے شروع میں اس کی صراحت فرمائی ہے (مستدرک ۱/۴۹۰) لہٰذا فضائل کے باب میں ضعیف احادیث پر اعتماد اور عمل جمہور علمائے امت محدثین و فقہاء کے نزدیک درست؛ بلکہ مستحب ہے۔ امام نووی نے بھی اس کی صراحت فرمائی ہے(ازکار۱/۱۰) اور کیوں نہ ہوکہ شرائع کا ایک بڑا حصہ فضائل پر مشتمل ہے، پس احادیثِ فضائل پر عدم اعتماد اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں دین کے ایک وافر حصہ سے گویا اعراض اور اس سے دستبردار ہونا لازم آتا ہے، جو یقینا مصالحِ شرعیہ کے خلاف اور خسارہٴ عظیم ہے۔
مطلق قرآن مجید کے فضائل:
علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ فضائلِ قرآن کے سلسلہ میں دو طرح کی روایات ہیں: ایک قسم روایات کی وہ ہے جس میں قرآن کی فضیلت یا کسی مخصوص سورة یا آیت کی فضیلت مذکور ہے اور وہ سب روایات قابل اعتبار ہیں۔ یہاں ان میں سے چند احادیث وآثار بالترتیب پیش کرتے ہیں:
(۱) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قابل رشک دوا شخاص ہیں ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی تلاوت عطا کی اور وہ رات دن اس میں مشغول رہتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کثرت سے مال عطا فرمایا، پس وہ رات دن اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا رہتا ہے۔(۹)
(۲) حضرت عثمان غنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ تم میں بہتر شخص وہ ہے جو قرآن پاک خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔(۱۰)
(۳) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس نیکی کے برابر ملتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف (ا) ایک حرف ہے، لام (ل) ایک حرف ہے، میم (م) ایک حرف ہے۔(۱۱)
(۴) حضرت عائشہ حضور کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرأت میں ماہر ہے تو (قیامت کے دن) وہ سَفَرہٴ کرام (انبیائے کرام اور ابرارلوگوں) کے ساتھ ہوگا اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے (مگر ماہر نہیں ہے) مشقت اٹھاکر تکلف سے قرأت کرلیتاہے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔(۱۲)
(۵) حضرت ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”قرآن پڑھاکرو؛ اس لیے کہ قرآن اپنے پڑھنے والوں کے لیے قیامت کے دن سفارش کرے گا۔(۱۳)
(۶) حضرت ابوموسیٰ اشعری نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو مسلمان قرآن شریف پڑھتا ہے،اس کی مثال ترنج کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور مزہ بھی لذیذ۔ اور جو مومن قرآن شریف نہ پڑھے اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ خوشبو بالکل نہیں؛ مگر مزہ شیریں ہوتا ہے اور جو منافق قرآن شریف پڑھتا ہے اس کی مثال خوشبودار پھول کی سی ہے کہ خوشبو عمدہ اور مزہ کڑوا۔ اور جو منافق قرآن شریف نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل کے پھل کی سی ہے کہ مزہ کڑواہے اور خوشبو بالکل نہیں۔(۱۴)
(۷) حضرت عمر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ اس کتاب یعنی قرآن پاک کی وجہ سے کتنے لوگوں کا مرتبہ بلند کردیتا ہے اور کتنی ہی لوگوں کو پست وذلیل کرتا ہے۔(۱۵)
چند مخصوص سورتوں کے فضائل:
سورہٴ فاتحہ: (۱) حضرت ابی بن کعب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو تورات میں نہ ہی انجیل میں ام القرآن جیسی کوئی سورہ نازل فرمائی اور وہ سبع المثانی (سورہٴ فاتحہ) ہے(۱۶)
(۲) حضرت انس سے روایت ہے کہ الحمدللہ رب العالمین (سورہٴ فاتحہ) قرآن پاک میں سب سے افضل ہے(۱۷)
(۳) حضرت ابن عمر سے مرسلاً روایت ہے کہ سورہٴ فاتحہ ہر بیماری سے شفاء ہے(۱۸)
سورہٴ بقرہ وآل عمران: (۱) حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہے ”قیامت کے دن قرآن اور اہلِ قرآن کو جو اس پر عمل کرتے تھے لایا جائے گا اور (بطور قائد) ان کے آگے آگے سورہٴ بقرہ اور آل عمران ہوگی(۱۹)
(۲) حضرت انس سے مروی ہے کہ شیطان گھر سے نکل جاتا ہے جب وہ سنتا ہے کہ سورہٴ بقرہ پڑھی جارہی ہے۔(۲۰)
(۳) حضرت بُریدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ سورہٴ بقرہ سیکھو؛ اس لیے کہ اس کا سیکھنا برکت ہے اور چھوڑ دینا حسرت ہے اور سیکھو بقرہ و آل عمران کہ یہ دونوں زَہراوین ہیں۔(۲۱)
(۴) حضرت سہل بن سعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ہر شئے کا ایک کوہان ہے قرآن کا کوہان سورہٴ بقرہ ہے، جس نے گھر میں دن میں پڑھا تو تین دن تک شیطان گھر میں داخل نہیں ہوگا اور جس نے رات میں پڑھا تو تین رات تک شیطان اس کے گھر میں داخل نہیں ہوگا۔(۲۲)
(۵) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ آدمی کا خزانہ سورہٴ بقرہ وآل عمران ہے۔(۲۳)
سورہٴ کہف: حضرت ابوسعید خدری حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے سورہٴ کہف جمعہ کے دن پڑھی اس کے لیے ایک نور ظاہر ہوگا اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک (۲۴)بعض روایت میں ہے کہ اس کی جگہ سے مکہ تک نور ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ حضرت ابوالدرداء کی حدیث میں ہے کہ سورہٴ کہف شبِ جمعہ کو بھی پڑھ سکتے ہیں(۲۵)
سورہٴ الم سجدہ: مسیب بن رافع کی مرسل روایت ہے کہ سورہٴ الم سجدہ قیامت کے دن آئے گی، اس کے دو بازو ہوں گے، اپنے پڑھنے والے پر سایہ فگن ہوگی اور کہے گی تم پرکوئی گرفت نہیں، تم پر کوئی گرفت نہیں۔(۲۶)
سورہٴ یٰسین: (۱) حضرت انس کی حدیث ہے کہ ہرشے کا ایک دل ہے، قرآن کا دل یٰسین ہے جو شخص اُسے پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس قران کا ثواب لکھتے ہیں۔(۲۷)
(۲) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے رات میں اللہ کی رضا کے لیے یٰسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیں گے(۲۸)
(۳) حضرت انس سے مروی ہے کہ جو شخص ہر رات یٰسین شریف پڑھنے کا پابند ہو اور پھر مرا تو شہید مرا (یعنی شہادت کا درجہ پائے گا)(۲۹)
(۴) حضرت معقل بن یسار کی روایت ہے کہ یٰسین قرآن کا دل ہے جو شخص بھی اللہ کی رضا اور آخرت کی طلب کے لیے پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مغفرت فرمادیں گے اور اسے اپنے مُردوں پر پڑھا کرو۔(۳۰)
سورہٴ دُخان: حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے، جس شخص نے رات میں سورہٴ دُخان پڑھی تو صبح اس حال میں کرے گا کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کریں گے۔(ترمذی)
مُسَبِّحات: حضرت عِرباض بن ساریہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سونے سے پہلے مسبحات پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک آیت ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔(۳۱) (مسبحات وہ سورتیں کہلاتی ہیں جن کے شروع میں تسبیح کا کوئی صیغہ سبّح یُسَبِّحُ وغیرہ موجود ہے)
سورہٴ واقعہ: حضرت عبداللہ بن مسعود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جو شخص ہر رات سورہٴ واقعہ پڑھے گا، اسے کبھی فاقہ نہیں ہوگا اور حضرت ابن مسعود اپنی بیٹیوں کو حکم فرماتے وہ ہررات سورہٴ واقعہ پڑھا کرتی تھیں۔(۳۲)
سورہٴ حشر: حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو وصیت کی کہ جب وہ بستر پر آئے تو سورہٴ حشر پڑھ لیا کرے اور فرمایا کہ اگر مرگیا تو شہادت کا درجہ پائے گا۔(۳۳)
سورہٴ ملک: حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے جو شخص ہر رات سورہٴ مُلک پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب قبر سے محفوظ رکھیں گے (ترمذی) ایک روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ سورہٴ ملک ہر موٴمن کے دل میں ہو (یعنی حفظ ہو)(۳۴)
سورہٴ کافرون: حضرت ابن عباس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ کیا میں تم کو ایسا کلمہ نہ بتادوں جو تم کو شرک سے بچائے قل یٰآیّہا الکٰفِرُون الخ سوتے وقت پڑھ لیا کرو۔(۳۵)
سورہٴ اخلاص: حضرت ابوہریرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس نے قل ہو اللّٰہ احدٌ دس مرتبہ (اخلاص کے ساتھ) پڑھا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل تیار کرے گا۔(۳۶)
معوّذتین: حضرت عقبہ بن عامر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ! کیا میں تم کو نہ سکھلاؤں دو پسندیدہ سورتیں قُلْ اَعُوذُبِرَبِّ الفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُبِرَبِّ النَّاسِ اے عقبہ انھیں پڑھا کرو، جب سوو یا اٹھو، سائل نے اس سے بہتر کسی اور ذریعہ سے نہ سوال کیا اور نہ پناہ مانگنے والے نے اس سے بہتر کسی اور طریقہ سے پناہ مانگی ہے۔(۳۷)
چند آیتوں کے فضائل:
آیَةُ الکرسی کی فضیلت: حضرت اُبی بن کعب سے مروی ہے أعْظَمُ آیةٍ فی کتابِ اللّٰہ آیةُ الکرسی قرآن پاک میں سب سے عظیم آیت، آیتُ الکرسی ہے(۳۸) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِن لِکُلِّ شی سَناما وسَنَامُ القرآن البقرة ہر چیز کا ایک کوہان ہوتا ہے، قرآن کا کوہان سورہٴ بقرہ ہے اور اس میں ایک آیت ہے جو قرآن کی آیتوں کی سردار ہے، وہ آیت الکرسی ہے(۳۹) حضرت علی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مجھے آیتُ الکرسی عرش کے نیچے خزانہ سے دی گئی ہے اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی۔(کنزالعمال۱/۲۸۲)
خواتیم بقرہ کی فضیلت: حضرت ابومسعود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے رات میں سورہٴ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہوں گی (یعنی پوری رات قرآن پڑھنے سے یا کفایت کرے گی جن و شیطان اور ہر قسم کی برائیوں سے ۔ فتح الباری ۹/۶۸) حضرت ابوقتادہ نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے آیت الکرسی اور خواتیم بقرہ (آمن الرسول سے آخر تک) کسی پریشانی کے وقت پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائیں گے۔(۴۰)
خواتیم آل عمران کی فضیلت: حضرت عثمان غنی نقل کرتے ہیں کہ جس نے رات میں آل عمران کی آخری آیتیں اِنّ فی خلق السمٰوٰت والارضِ الخ پڑھیں تو اس کے لیے قیام اللیل کا ثواب لکھا جائے گا۔(۴۱)
خواتیم سورہٴ اسراء کی فضیلت: حضرت ابوموسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ جس شخص نے صبح یا شام قل ادعوا اللّٰہ او ادعوا الرحمٰن الخ پڑھا تو اس کا قلب نہیں مرے گا نہ اس دن میں اور نہ اس رات میں (کنزالعمال ۱/۲۸۶)
اوائل کہف کی فضیلت: حضرت ابوالدرداء حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ جس نے سورہٴ کہف کی ابتدائی دس آیتیں حفظ کرلیں (اور اسے پڑھتا رہا) تو دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا(۴۲) اور بعض روایتوں میں آخری کی دس آیتوں کا ذکر ہے (عمل الیوم واللیلہ للنسائی ص۲۷۵)
آخر کہف کی فضیلت: حضرت عمرو بن العاص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس نے رات میں قُلْ اِنَّمَا أنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلیَّ اَنّمَا الٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ پڑھی تو عدن سے مکہ تک اس کے لیے نور ہوگا اور فرشتوں سے پُر ہوگا(۴۳)
اوائل سورہٴ فتح کی فضیلت: حضرت انس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحقیق کہ مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں اِنا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُبیناً پانچ آیتیں(۴۴)
آیةُ الحدید کی فضیلت: حضرت عرباض بن ساریہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات مُسبِّحات سونے سے پہلے پڑھتے تھے اور فرمایا کہ ان میں ایک آیت ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ ابن کثیرفرماتے ہیں کہ وہ یہ ہے ہُوَ الاوّلُ والآخِرُ والظَّاہِرُ وَالباطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَیءٍ عَلِیْمٍ (ابوداود بحوالہ اتقان)
آخر سورہٴ حشر کی فضیلت: حضرت معقل بن یسار سے مروی ہے کہ جس نے صبح کے وقت سورہٴ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے اس پر مقرر فرماتے ہیں جو شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں ہو اللّٰہ الذی لا الٰہ الا ہو الخ(۴۵)
سورتیں چھوٹی فضائل بڑے:
یوں تو پورا قرآن الحمدللہ رب العٰلمین سے والناس تک ایسا کلام ہے جس کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے کم از کم دس نیکیاں متعین ہیں، پس جو شخص روزانہ ایک منزل یا تہائی یا نصف قرآن پڑھتا ہے وہ کس قدر خوش نصیب اور اجر عظیم کا مستحق ہے؛ لیکن ظاہر ہے کہ تہائی یا چوتھائی قرآن پاک کا پڑھنا عام مسلمانوں کے لیے روزانہ آسان نہیں ہے یا پڑھنا ممکن ہو؛ مگر کسی وجہ سے وقت میں گنجائش نہ ہو یا کم وقت میں اجر کثیر حاصل کرنے اور دوسروں کو نفع پہنچانے کی آرزو ہوتو ایسی صورتوں میں کیا کریں؟ قربان جائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ نے اپنی امت کے لیے یہ مشکل بھی آسان کردی؛ تاکہ کم وقت میں زیادہ ثواب کے عدم حصول کی حسرت نہ رہ جائے؛ چنانچہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تہائی حصہ قرآن پاک کا ہررات پڑھا کرو“ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہائی قرآن ہر رات پڑھنا تو بہت مشکل ہے یہ کس سے ہوسکتا ہے۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قل ہو اللّٰہ احد ثواب میں تہائی حصہ قرآن کے برابر ہے ۔ (فتح الباری باب فضائل القرآن ۹/۷۲)
اس طرح کی احادیث کی روشنی میں چند سورتوں کے فضائل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) حضرت ابن عباس سے روایت ہے ”سورہٴ فاتحہ دو تہائی قرآن کے برابر ہے“ (اتقان۱/۱۹۵)
(۲) حضرت انس بن مالک سے مروی ہے ”آیت الکرسی چوتھائی قرآن ہے“ (مسند احمد بحوالہ اتقان۱/۱۹۵)
(۳) حضرت انس بن مالک سے مروی ہے جس نے ایک مرتبہ یٰسین شریف پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس قرآن پڑھنے کا اجر لکھیں گے۔ (ترمذی، بحوالہ اتقان)
(۴) حضرت انس بن مالک سے مروی ہے جس شخص نے شبِ قدر میں سورہٴ قدر پڑھی گویا اس نے رُبع قرآن پڑھا(۴۶)
(۵) حضرت انس بن مالک سے مروی ہے جس نے سورہٴ زلزال پڑھی اس کو نصفِ قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ہوگا(۴۷)
(۶) حضرت حسن بصری سے مروی ہے: سورہٴ والعادیات نصفِ قرآن کے برابر ہے (۴۸)
(۷) حضرت ابن عمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کیاتم میں سے کوئی طاقت نہیں رکھتا کہ روزآنہ ایک ہزار آیتیں پڑھا کرے، صحابہ نے عرض کیا اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں کسی کی طاقت نہیں کہ روزآنہ اَلہاکُمُ التکاثر پڑھ لے(۴۹)
(۸) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے قل یآ أیُّہا الکٰفرون چوتھائی قرآن ہے(۵۰)
(۹) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے اذا جاء نصر اللّٰہ چوتھائی قرآن ہے(۵۱)
(۱۰) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے قل ہو اللّٰہ احد چوتھائی قرآن ہے (۵۲)
(۱۱) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے جس شخص نے قل ہو اللّٰہ احد فجر کی نماز کے بعد بارہ مرتبہ پڑھی گویا اس نے چار مرتبہ قرآن پڑھا۔(۵۳)
ان آیتوں اور سورتوں کو پورے قرآن کا نصف یا ربع یا ثلث جو کہاگیاہے اس کا ایک مطلب ظاہر احادیث کے مطابق یہ ہے کہ اس سے مراد اجر وثواب ہے، یعنی ان آیتوں اور سورتوں کی تلاوت کا ثواب تہائی یا چوتھائی قرآن کے ثواب کے برابر ہے۔(۵۴) اور جو کوئی پورے قرآن کی تلاوت کرے اس کے اجر وثواب کی برابری تو ہونہیں سکتی۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں: حدیث میں ہے کہ قل ہو اللّٰہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے، اس سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تین دفعہ قل ہو اللّٰہ پڑھ لینے سے پورے قرآن کا ثواب مل جاتا ہے۔ حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب محدث دہلوی فرماتے تھے کہ اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ تین مرتبہ قل ہو اللّٰہ پڑھنے سے کامل قرآن کا ثواب مل جاتا ہے؛ بلکہ تین ثلث قرآن کا ثواب ہوگا، جیسے کوئی دس پارے کو تین مرتبہ پڑھے۔ (مجالس حکیم الامت ص۱۸۹)
ازالہٴ رسم: بعض علاقوں میں تراویح میں ختم کے موقع پر حُفاظِ کرام سورہٴ اخلاص کو تین مرتبہ پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں، یہ گویا ایک رسم ہے اور بعض مرتبہ حافظ صاحب کے ایسا نہ کرنے پر کچھ لوگ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں، یہ علامت ہے کہ وہ اسے لازم سمجھ رہے ہیں؛ حالانکہ ایک ہی رکعت میں سورة کو مکرر پڑھنا اگرچہ نفل نماز ہو بشرطے کہ باجماعت ادا کی جاتی ہو، جیسے تراویح خلافِ اولیٰ ہے؛ اس لیے قل ہو اللّٰہ احد کے تکرار سے اگر رسماً نہ بھی ہو تب بھی بچنا چاہیے اور رسماً ہوتب تو مکروہ ہے ہی، اسے ترک کرنا چاہیے۔ (امداد الفتاویٰ۱/۴۹۱)
حواشی:
(۱) علم الکلام لمولانا ادریس الکاندھلوی۔ (۲) اتقان ۱/۱۳۶، الحبائک فی اخبار الملائک۔
(۳) مسلم شریف۔ (۴) شعب الایمان ۱/۳۸۱۔
(۵) حرز الامانی للشاطبی۔ (۶) البرہان للزرکشی ۱/۲۹۔
(۷) دیکھئے ”فتنہٴ خلقِ قرآن“ تاریخ دعوت وعزیمت ۱/۹۴۔ (۸) الاتقان ۲/۱۶۶۔
(۹) بخاری ومسلم بحوالہ التبیان للنووی۔ (۱۰) بخاری ومسلم، التبیان۔
(۱۱) ترمذی۔ (۱۲) بخاری ومسلم۔
(۱۳) مسلم شریف۔ (۱۴) بخاری ومسلم۔
(۱۵) مسلم بحوالہ التبیان۔ (۱۶) ترمذی بحوالہ اتقان۔
(۱۷) شعب الایمان للبیہقی۔ (۱۸) کنزالعمال۱/۲۷۸، بیہقی فی الشعب۔
(۱۹) بحوالہ اتقان۔ (۲۰) اخرجہ ابوعبید۔
(۲۱) مسند احمد۔ (۲۲) بحوالہ اتقان۔
(۲۳) کنزالعمال۔ (۲۴) اخرجہ الحاکم فی المستدرک۔
(۲۵) اتقان ۱/۱۹۵۔ (۲۶) اتقان ۲/۱۹۶ عن ابی عبید۔
(۲۷) ترمذی بحوالہ اتقان۔ (۲۸) طبرانی بحوالہ اتقان۔
(۲۹) ایضاً۔ (۳۰) ابوداود بحوالہ اتقان۔
(۳۱) ابوداود بحوالہ اتقان۔ (۳۲) بیہقی بحوالہ فضائل قرآن۔
(۳۳) اتقان۔ (۳۴) اتقان۔
(۳۵) اتقان عن ابی یعلی۔ (۳۶) اتقان ۲/۱۹۸۔
(۳۷) کنزالعمال ۱/۲۹۳۔ (۳۸) مسلم بحوالہ اتقان۔
(۳۹) مستدرک حاکم۔ (۴۰) اذکار للنووی۔
(۴۱) بیہقی بحوالہ اتقان۔ (۴۲) مسلم، کنزالعمال ۱/۲۸۷۔
(۴۳) کنزالعمال ۱/۲۸۸۔ (۴۴) کنزالعمال ۱/۲۹۰۔
(۴۵) اتقان ۲/۱۹۷۔ (۴۶) کنزالعمال ۱/۲۹۶۔
(۴۷) ترمذی بحوالہ اتقان۔ (۴۹) اخرجہ ابوعبید مرسلاً۔
(۴۹) مستدرک بحوالہ اتقان۔ (۵۰) ترمذی بحوالہ اتقان۔
(۵۱) ترمذی بحوالہ اتقان۔ (۵۲) مسلم بحوالہ اتقان۔
(۵۳) بیہقی بحوالہ اتقان۔ (۵۴) اتقان ۲/۲۰۴۔