Front - The Prophet Muhammed

Saturday, October 5, 2013

حرمتِ تصویر کی نوعیت


حرمتِ تصویر کی نوعیت

از:           مولانامحمد شعیب اللہ خاں، جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم، بنگلور

                 تصویر کی حرمت پر بہت سے علماء نے اب تک بہت کچھ لکھا ہے اور ہند و بیرونِ ہند کے دارالافتاوٴں سے بھی اس کے بارے میں حرمت کے فتاوی باربار جاری ہوتے رہے ہیں۔ اور تقریباً اس کا حرام و ناجائز ہونا عوام و خواص کے نزدیک ایک مسلمہ امر ہے ؛مگر اس کے باوجو د اس میں عوام تو عوام خواصِ امت کا بھی ابتلاء عام ہے ، اور اسی صورتِ حال کو دیکھ کر بعض ناواقف لوگوں کو اس کے جائز ہونے کا شبہ ہوجاتا ہے ،بالخصوص جب علماء و مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات کی جانب سے تصاویر کے سلسلہ میں نرم رویہ برتا جاتا ہے اور ان کی تصاویر اخبارات و رسائل وجرائد میں بلا کسی روک ٹوک کے شائع ہوتی ہیں، تو ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ حلال ہونے کی وجہ سے لی جا رہی ہے یا یہ کہ ان کے تساہل کا نتیجہ ہے؟ پھر جب وہ علماء کی جانب رجوع کرتا ہے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو حرام ہے ۔اس سے اس کی پریشانی اور بڑھ جاتی ہے اور وہ علماء کے بارے میں کسی منفی رائے کے قائم کرنے میں حق بجانب معلوم ہوتا ہے۔ علماء کی تصاویر کے سلسلہ نے جہاں عوام الناس کو بے چینی و پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں اس سے ایک حرام کے حلال سمجھنے کا رجحان بھی پیدا ہو رہا ہے ، جو اور بھی زیادہ خطرناک و انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے ؛ کیونکہ حرام کو حرام اورحلال کو حلال سمجھنا ایمان کا لازمہ ہے ،اگر کوئی حرام کو حلال سمجھنے لگے تو اس سے ایمان بھی متأثر ہو تا ہے ۔
                 کسی عربی شاعر نے اسی صورت پر دلگیر ہو کر یہ مرثیہ لکھا ہے :
کَفٰی حُزْنًا لِلدِّینِ أَنّ حَمَاتَہُ
اِذَا خَذَلُوْہُ قُلْ لَنَا کَیْفَ یُْنصَر
مَتٰی یَسْلَمُ الْاِسْلَامُ مِمَّا أَصَابَہ
اِذَا کَانَ مَنْ یُرْجٰی یُخَافُ وَ یُحْذَر
                (دین پر غم کے لیے یہ کافی ہے کہ دین کے محافظ ہی جب اس کو ذلیل کریں تو مجھے بتاوٴ دین کی کیسے نصرت ہو گی ؟ اسلام کب ان باتوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جو اس کو پیش آرہی ہیں جبکہ جن لوگوں سے اسلام کی حفاظت کے لیے امید لگی ہوئی تھی انھیں سے اس کو خوف وخطرہ لاحق ہو گیا ہے)
                 آج کئی مدارس اور علماء اور دینی و ملی تحریکات کے ذمہ داران کی تصاویر آئے دن اخبارات میں بلا تامل شائع ہو تی ہیں ، یہاں تک کہ بعض علماء کی جانب سے شائع ہو نے والے ماہناموں میں بھی تصاویر کی بھرمار ہو تی ہے اور ان میں عورتوں اور لڑ کیوں کی تصاویر بھی ہو تی ہیں ۔کیا یہ صورتِ حال انتہائی تعجب خیزاور افسوس ناک نہیں ؟ علماء جو رہبرانِ قوم تھے ان کا خود یہ حال ہو تو عوام الناس کہاں جائیں ؟ کسی شاعر نے کہا:
بِالْمِلْحِ نُصْلِحُ مَا نَخْشٰی تَغَیُّرَہ                 فَکَیْفَ بِالْمِلْحِ اِنْ حَلَّتْ بِہِ الْغِیَر
                (ہم نمک کے ذریعہ اس کھانے کی اصلاح کرتے ہیں جس کے خراب ہوجانے کا خدشہ ہو ، اگر نمک ہی میں خرابی پیدا ہو جائے تو کیا حال ہو گا)
                 ہمارے اکابر و علماء و مشائخ تو حلال امور میں بھی احتیاط برتتے اور لوگوں کے لیے تقوے کا ایک اعلی نمونہ ہوا کرتے تھے ،اور یہاں یہ ہو رہا ہے کہ حرام کا ارتکاب بے محابا اور کھلے طور پر کیا جا رہا ہے ۔اگر اس میں اختلاف بھی مان لیا جائے تو رہبرانِ قوم کا کیا فرض بنتا ہے ؟ اس پر غور کیجیے ۔
 حرمتِ تصویراور جمہورِ امت کا مسلک
                 عکسی تصویراور ٹی وی اور ویڈیو کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ علماء ہند و پاک ہی ان کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور عالم اسلام کے دوسرے علماء جیسے علماء عرب و مصر وغیرہ سب کے سب ان کو جائز کہتے ہیں ،یہ غلط فہمی خود بندے کو بھی رہی ،لیکن ایک مطالعہ کے دوران علماء عرب و مصر کے متعدد فتاوی وتحریرات نظر سے گزریں تو اندازہ ہوا کہ ان حضرات میں سے بھی جمہورعلماء کا ” عکسی تصویر“ اور” ٹی وی“ اور” ویڈیو “کے بارے میں وہی نقطہ ٴ نظر ہے جو ہندوستانی و پاکستانی علماء کا شروع سے رہا ہے ۔
                 ہاں اس میں شک نہیں کہ وہاں کے بعض گنے چنے علماء نے عکسی تصویر کو جائز کہا ہے اور ٹی وی اور ویڈیو کی تصاویر کو بھی عکس مان کر ان کو بھی جائز کہا ہے،لیکن یہ وہاں کے جمہور کا فتوی نہیں ہے، جمہور علماء اسی کے قائل ہیں کہ یہ تصاویر کے حکم میں ہیں اور اس لیے حرام و ناجائز ہیں ۔ اور خود وہاں کے علماء نے مجوزین کا خوب رد و انکار بھی کردیا ہے ۔جیسے شیخ حمود بن عبد اللہ التویجری نے ” تحریم التصویر “ اور” الاعلان بالنکیر علی المفتونین بالتصویر “نامی رسائل اسی سلسلہ میں لکھے ہیں ، نیز جامعہ قصیم کے استاذ شیخ عبد اللہ بن محمد الطیار نے ” صناعة الصورة بالید مع بیان احکام التصویر الفوتوغرافي “ کے نام سے رسالہ لکھا ہے ،اور مصر کے عالم شیخ ابو ذر القلمونی نے ”فتنة تصویر العلماء “ کے نام سے ان کا رد لکھا ہے ، نیز علماء نے اپنے اپنے فتاوی میں بھی اس پر کلام کیا ہے ۔اسی طرح ڈش آنٹینا جس کا فساد اب حد سے تجاوز کرگیا ہے اور اس نے انسانوں کی تباہی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے، اس کے بارے میں بھی علماء عرب کے فتاوی میں حرمت کا حکم اور اس سے بچنے کی تلقین موجود ہے ۔
حرمتِ تصویر اور علماء ہند وپاک
                جیسا کہ اوپر عرض کیا گیاکہ کیمرے کی عکسی تصویر کی حرمت میں اگر چہ معاصر علماء کے درمیان میں اختلاف ہوا ہے ،اور ایک چھوٹی سی جماعت اس کے جواز کی جانب مائل ہو ئی ہے ،لیکن اس میں کیا شک ہے کہ تصویر کی حرمت جمہور امت کا متفقہ فتوی و فیصلہ ہے ، عرب سے لے کر عجم تک جمہور امت نے اسی کو قبول کیا ہے ۔
                جہاں تک علماء ہند و پاک کا تعلق ہے ،بات بالکل واضح و مسلم ہے ۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب  نے تو اپنے رسالہ ”التصویر لأحکام التصویر“میں یہ تصریح کی ہے کہ ان کے زمانے تک کم از کم ہندوستان (جو اس وقت تک غیر منقسم تھا)میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کے علاوہ کسی نے جواز پر قلم نہیں اٹھایااور پھر انھوں نے بھی اس سے رجوع کر لیا۔ (جواہر الفقہ: ۳/۱۷۱)
                یہاں یہ عرض کردینا مناسب ہوگا کہ حضرت مولانا سید سلیمان ندوی  نے ماہنامہ ” معارف“ کی متعدد قسطوں میں ایک مضمون عکسی تصویر کے جائز ہونے پر لکھا تھا ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اس کے رد میں ”التصویر لأحکام التصویر“ لکھی ، اس کو دیکھ کر حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے اپنے جواز کے قول سے رجوع کر لیا تھا ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ یہ رجوع و اعتراف کا مضمون علامہ سید صاحب کے کمال علم اور کمال تقوی کا بہت بڑا شاہکار ہے ، اس پر خود حضرت مرشد تھانوی سیدی حکیم الامت رحمة اللہ علیہ نے غیر معمولی مسرت کا اظہار نظم میں فرمایا ۔
                اس سلسلہ میں دوسری بڑی شہادت و گواہی یہ ہے کہ عالم اسلام کی مشہور و معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت اقدس مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ نے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان تصویر کے حرام ہو نے پر متفق ہیں ۔ چنانچہ آپ کی کتاب لاجواب ” ما ذا خسر العالم بانحطاط المسلمین “ کے شروع میں فضیلة الشیخ الاستاذ احمد الشرباصی نے حضرت والا کا جو تعارف لکھا ہے ،اس میں وہ لکھتے ہیں کہ :
                ” آپ ہر قسم کی تصویر کو برا سمجھتے تھے ،اور خود پر اس کو پوری سختی سے حرام قرار دیتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ میں ایک بار آپ کے ساتھ قاہرہ کے ایک بڑے مطبع میں گیا تو مطبع کے مصور نے آپ کی ایک یاد گار تصویر اتارنے کی اجازت چاہی تو آپ نے منع کردیا اور ذکر کیا کہ : ان المسلمین في الھند متفقون علی حرمة التصویر“ (ہندوستان کے مسلمان تصویر کی حرمت پر متفق ہیں)(ماذا خسر العالم: ۲۱)
                اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا ابو الحسن ندوی علیہ الرحمہ بھی خود تصویر کو حرام سمجھتے تھے اور اس کو کم از کم ہندوستان کے تمام علماء کا متفقہ فیصلہ قرار دیتے تھے ۔
                اور یہاں یہ بھی عرض کر دینا خالی از فائدہ و عبرت نہیں کہ حضرت مولانا ابو الکلام آزاد صاحب مرحوم جنھوں نے مدتِ دراز تک اپنا مشہور اخبار ” الہلال“ با تصویر شائع کیا ، جب وہ رانچی کی جیل میں تھے،آپ کے متعلقین نے آپ کی سوانح شائع کرنا چاہی تو آپ سے سوانح کے ساتھ شائع کرنے کے لیے ایک تصویر کا مطالبہ کیا ، اس پر مولانا ابو لکلام آزاد نے جو جواب دیا وہ خود اسی ” تذکرہ“ میں شائع کیا گیا ہے ، جس میں آپ نے لکھا ہے کہ:
                ”تصویر کا کھنچوانا ، رکھنا ، شائع کرنا سب ناجائز ہے ، یہ میری سخت غلطی تھی کہ تصویر کھنچوائی اور” الہلال“ کو باتصویر نکالا تھا ، اب میں اس غلطی سے تائب ہوچکا ہوں ، میری پچھلی لغزشوں کو چھپانا چاہئے نہ کہ از سر نو ان کی تشہیر کرنا چاہیے “ ۔ (بحوالہ جواہر الفقہ: ۳/۱۷۱)             الغرض اس سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کم از کم ہندوستان کے علماء کا تصویر کے عدم جواز پر اتفاق تھا ۔اور رہا حضرت سلیمان ندوی کا جواز کاخیال ،تو آپ نے خود اس سے رجوع کر لیا اور سب کے موافق عدم جواز کے قائل ہو گئے ۔
تصویر کے بارے میں علماء عرب و مصر کا موقف
                اسی طرح دیگر ممالک اسلامیہ میں بھی جمہور علماء کا فتوی تصویر کے ناجائز ہو نے ہی کا ہے ، عام طور پر لوگ مصر کے علماء کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں، مگر یہاں بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بھی مصر کے چند علماء کا فتوی ہے ، سب کا اور جمہور کا نہیں ،اس کی شہادت مصر ہی کے ایک عالم شیخ ابو ذر القلمونی کی یہ عبارت دیتی ہے جو انھوں نے اپنی کتاب ” فتنة تصویر العلماء “ میں لکھی ہے کہ :
                ” ثم حريّ بطلبة العلم تدارک ھذہ الفتنة، اذ تحریم التصاویر کان مستقرا بین اخواننا، ثم في العقد الاخیر اخذ ھذا المنکر یفشو و یذیع ،حتی صار ھو الاصل، وصار المحق عازفا عن الانکار، اجتنابا للذم“․ (فتنة تصویرالعلماء :۵)
                اس سے معلوم ہوا کہ مصر میں بھی جمہور علماء کے مابین یہی بات مسلم و طے شدہ تھی کہ تصویر حرام ہے ۔لہٰذا مطلقا یہ کہنا کہ مصر کے علماء اس کو جائز کہتے ہیں خلاف واقعہ ہے ۔
                اور سعودی حکومت کی جانب سے قائم کردہ دار الافتاء اور علمی مسائل کی تحقیق کا ایک بڑا و معتبر عالمی مرکز”اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والإفتاء“ نے ایک فتوی میں کہا کہ:
                ”القول الصحیح الذي دلت علیہ الأدلة الشرعیة وعلیہ جماھیر العلماء :أن أدلة تحریم تصویر ذوات الأرواح تضم التصویر الفوتوغرافي والیدوي،مجسما أو غیر مجسم ،لعموم الادلة“․
                 (صحیح قول جس پر شرعی دلائل دلالت کرتے ہیں اور جس پر جمہور علماء قائم ہیں یہ ہے کہ جاندار چیزوں کی تصویر کی حرمت کے دلائل فوٹوگرافی کی تصویر اور ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر سبھی کو شامل ہیں ،خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم ہو ،دلائل کے عام ہو نے کی وجہ سے ) (فتاوی اسلامیة:۴/۳۵۵)
                اس سے بھی معلوم ہوا کہ جمہور امت خواہ وہ مصر کے لوگ ہوں یا سعودی کے یا کسی اور علاقے کے وہاں جمہور اس کے عدم جواز پر متفق ہیں۔
                نیز یہ بھی سنتے چلیے کہ ایک مرتبہ عربی مجلہ ”عکاظ “ میں سات علماء کا تصویر کے جواز کا فتوی شائع ہوا، تو علماء نے اسی وقت اس کا رد کیا ۔ سعودی عرب کے ایک مفتی شیخ حمود بن عبد اللہ بن حمود التویجری نے ” تحریم التصویر“ کے نام سے اس کا باقاعدہ رد لکھا ہے،اس رسالہ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
                ” جریدہ عکاظ والوں نے اس شاذ فتوی کا جو رسول اللہ ﷺ کے تصاویر کو مٹانے کے حکم کے مخالف ہے ، اس کا جو عنوان رکھا ہے وہ ہے : علماء مصلحت پر متفق ہیں ، اور یہ کہ تصویر حرام نہیں ہے ۔ اس باطل عنوان کو قائم کرنے میں اہل جریدہ کو بہت بڑی خطا لگی ہے ،کیونکہ اس سے عوام یا خواص کالعوام کو یہ وہم ہو تا ہے کہ مصلحت کی وجہ سے تصویر لینے کے حلال ہو نے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اور یہ کتاب اللہ و سنت رسول کو مضبوط پکڑنے والے متقدمین و متأخرین علماء پر ایک بہتان ہے ؛کیونکہ وہ تو تصویر سے منع کرتے اور اس میں سختی کرتے ہیں،اور ان سہولت پسند لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں جو فتوی دینے میں بغیر تثبت کے جلد باز ی کرتے ہیں ؛کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں مصلحت سے یا بغیر مصلحت کسی بھی وجہ سے تصویر کا حلال ہو نا وارد نہیں ہے ۔اور اگر ان مسائل میں سے کسی مسئلہ میں جس میں کوئی نص نہ ہو ،سات علماء ایک قول پر اجماع کر لیں اور ان کی بات معقول بھی ہو تب بھی ان کا قول اجماع نہیں ہے جس کا ماننا لازم ہو ،بلکہ ان کے اور دیگر علماء کے اقوال کو دیکھا جائے گا اور ان کی بات قبول کی جائے گی ،جن کا قول کتاب اللہ و سنت سے موٴید ہو ۔(تحریم التصویر: ۲)
                دیکھیے کس قدر صفائی کے ساتھ اس فتوی کو شاذ اور مخالف احادیث قرار دیا ہے اور جمہور علماء کے نقطہٴ نظر سے ٹکرانے والا قرار دیا ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ حجاز و مصر کے جمہور علماء بھی حرمتِ تصویر پر متفق ہیں ۔
تصویر کے باب میں اختلاف کی حیثیت
                ہاں بعض علماء جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، انھوں نے ضرور عکسی تصویر کے متعلق جواز کا فتوی دیا ہے ، مگر اس کے بارے میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی حیثیت و نوعیت کیا ہے ؟
                کیونکہ بنظرِ غائر مطالعہ سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہر اختلاف ایک ہی درجہ کا نہیں ہوتا ، اور اس کی وجہ سے مسئلہ میں تخفیف نہیں ہوجاتی ، بلکہ اس میں بھی اختلاف کی نوعیت و حیثیت کا لحاظ رکھنا پڑے گا ،ورنہ غور کیجیے کہ ڈاڑھی منڈانے کے مسئلہ میں بھی مصریوں کا اختلاف ہے ،جمہور امت یہ کہتی ہے کہ حرام ہے جبکہ مصریوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے ، حتی کہ جامعة الازھر کے بعض مفتیوں نے بھی اس کو صرف سنت کہتے ہوئے منڈانے کو جائز کہا ہے ۔ (دیکھو فتاوی الازھر :۲/۱۶۶)
                کیا اس کا کوئی اثر جمہور امت نے قبول کیا ؟اورکیا اس کی وجہ سے حرمت کے فتوے میں کوئی گنجائش برتی گئی ؟کیا یہاں بھی یہ کہا جاسکے گا کہ ڈاڑھی منڈانے کے مسئلہ میں چونکہ مصریوں کا اختلاف ہے ،اس لیے اس میں بھی شدت نہ برتی جائے اور منڈانے والوں کو گنجائش دی جائے، اور اگر امام لوگ بھی منڈائیں، تو ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی جائے؟
                اسی طرح ربا یعنی سود کی حرمت ایک متفقہ امر ہے مگر چند برسوں سے بینکوں کے نظام کے تحت وصول ہو نے والے سود کو بعض لوگ جائز کہنے لگے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور نزول قرآن کے وقت جو سود رائج تھا وہ ذاتی و شخصی ضروریات پر لیے جانے والے قرضوں کی بنیاد پر لیا جاتا تھا اور یہ واقعی ایک ظلم ہے ،لہٰذا وہ ناجائز ہے ،مگر بینکوں کے اس دور میں قرضے ذاتی ضرورت کے بجائے تجارتی ضرورت کے لیے لیے جاتے ہیں اور اس میں حرمتِ سود کی وہ علت نہیں پائی جاتی جو اُس دور میں تھی ،لہٰذا یہ بینکوں والا سود جائز ہے ۔ اور لکھنے والوں نے اس پر مضامین بھی لکھے اور کتابیں بھی لکھیں ،جیسے ایک صاحب نے ” کمر شیل انٹرسٹ کی فقہی حیثیت “ لکھی ہے ۔فرمائیے کہ کیا اس اختلاف کو بھی موٴثر ماناجائے گا ؟ اور اس کی وجہ سے سود کی حرمت بھی حدودِ جواز میں داخل سمجھی جائے گی اور اس میں سختی کرنا فعل مکروہ اور غیر دانشمندانہ کام ہو گا؟
                ایک اور مسئلہ سنیے کہ چاند کے ثبوت کا مدار شریعت نے رویت پر رکھا ہے ،نہ کہ فلکیاتی حسابات پر ، جمہور امت نے اسی کو اختیار کیا ہے ،اور اس سے ہٹ کر ایک طائفہ قلیلہ نے چاند کے ثبوت کے لیے فلکیاتی حسابات کو بھی معیار مانا ہے مگر اس کو علماء نے مذہب باطل قرارد یا ہے ۔
                اسی طرح گانا بجانا مزامیر کے ساتھ حرام ہے ،مگر اس میں علامہ ابن حزم ظاہری ، علامہ محمد بن طاہر المقدسی اور علامہ ابو الفرج اصفہانی نے اختلاف کیا ہے اور اس کو جائز قرار دیا ہے ۔اور بالخصوص آخری دو حضرات نے تو اس سلسلہ میں مواد فراہم کرنے کی بڑی کوشش کی ہے حتی کہ ابو الفرج نے اپنی کتاب ” الاغانی“ میں شرابیوں کبابیوں ، گویوں اور موسیقاروں کے حالات بھی خوب جمع کردئے ہیں مگر کیا اس اختلاف کو کسی بھی معتبر عالم و مفتی نے در خورِ اعتناء سمجھا اور گانے بجانے کی حرمت کو خفیف و معمولی قرار دیا ؟
                اسی طرح ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں یا تین؟ اس میں جمہور امت کا موقف یہ ہے کہ تین طلاق تین ہی ہو تی ہیں خواہ مجلس ایک ہو یا الگ الگ ۔ مگرعلامہ ابن تیمیہ نے اس میں بعض حضرات صحابہ و ائمہ کے اختلاف کا ذکر کیا ہے ،اور امت کے علماء و عوام میں سے اہل حدیث و اہل ظواہر نے اسی کو اختیار کیا ہے اوروہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں ،مگر جمہور امت نے اس کو قبول نہیں کیا ، بلکہ ہمیشہ فتوی اسی پر دیا گیا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہو تی ہیں ۔دیکھئے اختلاف ہو نے کے باوجد اس کا کوئی اثر حرمت کے فتوے پر نہیں پڑا ۔ کیا کسی معتبر عالم و مفتی نے اس اختلاف کے پیش نظر ایک مجلس کی تین طلاق میں ایک قرار دینے کی گنجائش دی؟
                اس کی ایک اور مثال لیجیے کہ اسلاف میں سے بعض بڑی اہم شخصیات سے متعہ کا جواز نقل کیا گیا ہے، جس کو جمہور امت نے قبول نہیں کیا ، اور بعد کے ادوار میں تو اس کی حرمت پر اجماع ہی ہو گیا ۔(دیکھو فتح الباری: ۹/۱۷۳)
                اسی طرح بعض بڑے بڑے صحابہ و ائمہ سے جواز وطی فی الدبر کا قول بھی منقول ہے ،اگرچہ کہ بعض کی جانب اس کا انتساب صحیح طور پر ثابت نہیں؛لیکن بعض حضرات جیسے ابن عمر سے اس کا بروایت صحیحہ ثابت ہونا، ابن حجر نے فتح الباری میں بیان کیا ہے؛لیکن حضرت ابن عباس نے ان کی بات کو وہم قرار دیا ہے ۔اسی طرح بعض نے امام مالک سے اس کا ثابت ہونا لکھا ہے ،اگرچہ کہ ان کے اصحاب اس کا انکار کرتے ہیں ۔(دیکھو تفسیر القرطبی: ۳/۹۳، الدر المنثور: ۲/۶۱۰-۶۱۲، فتح الباری: ۸/۱۹۰، عمدة القاری: ۲۶/۴۶۲)
                اس سے معلوم ہوا کہ ہر اختلاف ایک درجہ کا نہیں ، کہ اس کو اہمیت دی جائے اور اس کی وجہ سے مسئلہ میں خفت و ہلکا پن خیال کیا جائے؛لہٰذا جو حضرات اس کو ایک اختلافی مسئلہ قرار دیکر اس کی حرمت کو ہلکا سمجھتے یا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ایک سعی لاحاصل میں لگے ہوئے ہیں۔
اختلاف سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے قابل غور بات
                لہٰذایہاں ان حضرات کے لیے جو اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں دو باتیں قابل غور ہیں :
                ایک تو یہ کہ تصویر کو جائز کہنے والوں نے کسی مضبوط دلیل کی بنیاد پر جواز کو اختیار نہیں کیا ہے، بلکہ بعض احادیث کے سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار ہو کر جواز کی بات کہی ہے۔ اور وہ غلط فہمی کیا ہے؟ اس کا ذکر اس رسالہ میں علماء کے فتاوی سے معلوم ہو جائے گی؛لہٰذا کسی غلط فہمی کی بنیاد پر اختلاف کو دلیل کی بنیاد پر اختلاف کے درجہ میں سمجھنا ایک اصولی غلطی ہے۔اس اختلاف کی مثال ڈاڑھی منڈانے میں اختلاف سے دی جا سکتی ،جس کو محض ایک غلط فہمی کہا جا سکتا ہے؛لہٰذا ان مجوزین کا قول ایک شاذ قول کی حیثیت رکھتا ہے، جس کو معمول بہ بنانا اور اس پر عمل در آمد کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ بالخصوص اس صورت میں جب کہ جواز کے دلائل کے ضعف و کمزوری کو حضرات علماء نے واضح کر کے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا اور جائز قرار دینے والوں کی غلط فہمی کو دور کردیا ہے ۔
                دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ جوازِ تصویر کے قائلین اور حرمتِ تصویر کے قائلین ان دونوں کے علمی و عملی مقام و حیثیت اوران کے تفقہ و دیانت کے معیار میں محاکمہ کیا جائے تو حرمت کے قائلین کے لحاظ سے جواز کے قائلین کا کوئی خاص مقام و حیثیت نہیں معلوم ہو تی ۔ ایک جانب حرمت تصویر کے قائلین میں اپنے زمانے کے آسمانِ علم و عمل کے آفتاب و مہتاب فقہاء نظر آئیں گے ،جن کے علم و عمل ، تقوی وطہارت ،تفقہ و بصیرت ، ثقاہت و دیانت اہل اسلام کے نزدیک مسلمات میں سے ہیں،تو دوسری جانب جواز کے قائلین وہ حضرات ہیں، جن میں سے بیشتر کو عام طور پر جانا پہچانا بھی نہیں جاتا اور اگر جانا پہچانا جاتا ہو تو ان کا مقام و درجہ فتوی و فقہ کے بارے میں وہ نہیں جو پہلے طبقے کے لوگوں کو حاصل ہے؛ لہٰذا ان دونوں میں سے کیا ان کا فتوی قابل عمل و لائق توجہ ہونا چاہیے جن کی شان تفقہ و افتاء اور ،جن کی ثقاہت و عدالت مسلم ہے یا ان کا جن کو یہ درجہ حاصل ہی نہیں ؟ اس پر غور کیا جائے ۔
                ایک اور بات قابل توجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اگرچہ اختلاف ہوا ہے ؛ مگر فتوی کے لیے علماء نے حرمت ہی کے قول کو ترجیح دی ہے ،ہندوستان و پاکستان کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ یہاں کے علماء نے ہمیشہ اس کے عدم جواز ہی کا فتوی دیا ہے ،اور اسی طرح عرب دنیا میں بھی یہی صورت حال ہے ،سعودی عرب کے ایک عالم شیخ ولید بن راشد السعیدان نے ” حکم التصویر الفوتوغرافی“ میں لکھا ہے کہ عکسی تصویر کے بارے میں اختلاف ہے ، بعض نے اس سے منع کیا ہے اور یہ حضرات اکثر ہیں اور اسی قول پر سعودی عرب کے اندر فتوی ہے ۔ (حکم التصویر الفوتوغرافی:۱۱)
                جب فتوی حرمت پر ہے تو اس سے اعراض کرنا اور اس کے خلاف کو ترجیح دینا چہ معنے دارد ؟ یہ بات قابلِ غور ہے ؛کیونکہ بلا وجہ مفتی بہ قول کو چھوڑ کر شاذ قول پر عمل کرنا صحیح نہیں ہے ۔
                الغرض تصویر کے مسئلہ میں جب ایک جانب جمہورِ امت ہے اور اس کے اساطین و ائمہ ہیں اور وہ سب کے سب تقریباً اس کی حرمت پر متفق ہیں ،اور جمہور کے نزدیک مجوزین کی رائے غلط فہمی کا نتیجہ اور بے دلیل ہے ،اور پھر جمہور نے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کردیا اور حق کو دلائل کی روشنی میں واضح کردیا ہے ،تو ان کے قول سے گریز کرنا اور ایک چھوٹی سی جماعت کے قول ہی کو ترجیح دینا کس بنیاد پر ہے؟ کیا جمہورِ امت کا موقف اس لائق نہیں کہ اس کو ترجیح دی جائے ؟بلکہ جمہور علماء عرب و عجم کی بات کو قبول نہ کر کے ایک شاذ قول کا اس قدر احترام کرنا کہ گویا وہی صحیح ہے اور حرمت کا قول گویا باطل و غلط ہے ،کیا یہ طرزِ عمل کسی صالح معاشرے و نیک ذہن کی پیداوار ہے یا کسی بیمار ذہنیت کا نتیجہ ؟ امام حدیث عبد الرحمن بن مھدی نے اسی لیے فرمایا کہ:”لاَ یَکُونُ اِمَالاً في الْعِلْمِ مَنْ أَخَذَ بِالشَّاذِ مِنَ الْعِلْمِ“ (جو شخص علماء کے شاذ قول کو لیتا ہے وہ علم کی دنیا میں امام نہیں ہو سکتا ) (جامع بیان العلم: ۲/۴۸)
مسئلہٴ تصویر میں جمہور علما کی شدت
                پھر یہاں ایک اور بات قابلِ لحاظ ہے کہ اگر مسئلہ ٴ تصویر ایک اختلافی مسئلہ ہو نے کی وجہ سے اس میں شدت بلکہ اس پر نکیر کوئی غلط بات ہو تی تو جمہور علماء امت نے اس پر کیوں نکیر کی اور پوری شدت سے کی ؟ چنانچہ علماء عرب و عجم نے تصویر کو جائز قرار دینے والوں پر جس قدر شدت برتی ہے ، اس سے بھی یہ بات واضح ہو تی ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی وہ حیثیت نہیں جو مسائل اختلافیہ کو حاصل ہے ورنہ ان حضراتِ اکابر کا یہ شدت برتنا جائز نہ ہو تا ؛کیونکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ مسائلِ اختلافیہ میں ایک دوسرے پر اعتراض جائز نہیں اور یہاں صورت حال یہ ہے کہ جواز کے قول کی سختی سے تردید کی گئی ہے ۔ جس کے نمونے اس رسالہ میں موجود اکابرین کے فتاوی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
                مثلا علامہ شیخ ابن باز نے بعض فتاوی میں لکھا ہے کہ: ” ہم نے جواب میں جو احادیث اور اہلِ علم کا کلام نقل کیا ہے، اس سے حق کے متلاشی پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لوگ جو کتابوں ،مجلوں ،رسالوں اورجریدوں میں جاندار کی تصویر کے سلسلہ میں وسعت برت رہے ہیں، یہ واضح غلطی اور کھلا ہوا گناہ ہے ۔“ (فتاوی شیخ ابن باز: ۴/۱۷۹-۱۸۹)
                مفتی علامہ شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے لکھا ہے کہ:
                ” جس نے یہ خیال کیا کہ شمسی تصویر منع کے حکم میں داخل نہیں اور یہ کہ منع ہونا مجسم صورت اور سایہ دار چیزوں کی تصویر کے ساتھ خاص ہے، تو اس کا خیال باطل ہے۔“ (فتاوی و رسائل شیخ محمدبن ابراہیم :۱/۱۳۴)
                اللجنة الدائمة کے ایک فتوی میں لکھا ہے کہ :
                ”انسان و حیوان وغیرہ جاندار چیزوں کی شمسی وعکسی تصویر لینا اور ان کو باقی رکھنا حرام ہے؛ بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔“(فتاوی اللجنة الدائمة : ۱/۴۵۹،رقم الفتوی:۱۹۷۸)
                اورعلامہ شیخ عبد الرحمن بن فریان ”شمسی تصویر کی حرمت“ پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
          ”وَلاَ تَغْتَرِّ اَیُّہا الْمُسْلِمُ بِمَنْ تَنَطَّعَ بِمَعْسُولِ الکلامِ وَقَامَ یُحَلِّلُ ویُحَرِّمُ، بِغَیْرِ دَلِیلٍ وبرہانٍ، بل بمجردِ الرأي والہذَیانِ، مِنْ بَعْضِ مُتَعَلِّمَةِ ہذہ الأزمان، وأجاز الصُّوَرَ الضَوْئِیَّة وجَعَلَ المَنْعَ خَاصًا بِما لَہ أجسامٌ، سبحان اللّٰہ! مِنْ أینَ ہذا التفریقُ وَلَمْ یَجِیْ لاَ فِي سُنَّةٍ وَلاَ قرآنٍ“
(اے مسلم ! تو اس زمانے کے بعض علم کی جانب منسوب لوگوں سے دھوکہ نہ کھانا جو چکنی چپڑی باتیں کرتے اور بلا دلیل و برہان ، محض اپنی رائے اور بکواس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر تے ہیں ، اور عکسی تصویر کو جائز قرار دیتے اور منع کو صرف ان تصویروں سے خاص کرتے ہیں جو مجسمہ کی شکل میں ہوں ۔ سبحان اللہ ! یہ فرق کہاں سے آیا ؟ جب کہ نہ تو سنت میں یہ فرق آیا اور نہ قرآن میں آیا ؟ )
                پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
          ”فَیْجِبُ عَلی المُسْلِمِیْنَ انْکَارُ ہَذا المُنْکَرِ وَلاَ یَجُوْزُ لَہُمْ السُّکُوتُ وَلاَ یُغترّ بِفَشْوِہ وروَاجِہ فَاِنَّ المُنکَرَ ہو بحالہ منکَرٌ کما ہو في الشَرْعِ ولا یُحِلّلہ کثرتُہ و رواجُہ ولا محبةُ البعض وارتکابُہ“ (الدر السنیة: ۱۵/۲۳۴)

(لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس منکر پر انکار و نکیر کریں اور اس پران کی خاموشی جائز نہیں ہے، اور تصویر کے رواج اور عام ہو جانے سے دھوکہ نہ کھایا جائے؛کیونکہ منکر تو ہر حال میں منکر ہے ،اس کا عام ہو جانا اور رواج پاجانا اس کو حلال نہیں کر دیتا اور نہ بعض لوگوں کی اس سے محبت اور اس کا مرتکب ہو نا اس کو جائز کر تا ہے)
                قابلِ غور یہ ہے کہ اگر تصویر کے مسئلہ میں اختلاف اس درجہ کا ہوتا جو مختلف فیہ مسائل میں ہوتاہے تو کیا اس قدر شدت کا جواز تھا ، جو ان حضرات نے اختیار کیا ہے ، اور تصویر کو حرام؛ بلکہ گناہ کبیرہ قرار دیا ہے اور جواز کے قائلین کو کھلی غلطی و واضح گناہ پر ٹھیرایا ہے ؟اور اہل اسلام کو اس پر انکار و نکیر کرنا ضروری قرار دیا ہے اور خاموشی کو ناجائز کہا ہے اور اس کے عام ہو جانے اور رواج پا جانے کو بے اثر ٹھیرا یا ہے ؟ نہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ اس اختلاف کو وہ حضرات کوئی قابلِ لحاظ ہی نہیں مانتے تھے ۔
                اسی طرح ہند و پاک کے علماء کا بھی رویہ رہا ہے ،ایک دو حضرات کے اس سلسلہ میں فتاوی نقل کردینا اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نے ایک اسکول کے جلسہ (جس میں تصویر لی جاتی ہے )کے بارے میں سوال پر لکھا ہے کہ:
                ”یہ معصیت کی مجلس ہے، جس میں شرکت قطعاًجائز نہیں؛ بلکہ دورانِ مجلس اس قسم کی حرکت شروع ہو تب بھی روکنے کی قدرت نہ ہونے والے ہر شخص پر اٹھ جانا واجب ہے “، نیز لکھا کہ تصویر سازی شریعت کی رو سے ایک کبیرہ گناہ ہے ۔ نیز فرماتے ہیں کہ: انتہائی قلق کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ تصویر کی لعنت عوام سے تجاوز کرکے خواص؛ بلکہ علماء تک پھیل گئی ہے جس کا افسوسناک نتیجہ سامنے آرہا ہے کہ بہت سے لوگ ان حضرات کے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر اس قطعی حرام کو حلال باور کرنے لگے۔ (احسن الفتاوی: ۸/۴۱۷، ۴۱۸،۴۳۴)
                پاکستان میں ایک جگہ ایک مسجد میں رمضان میں ختم قرآن کے موقعہ پرجلسہ ہوا ، اس میں ایک وہیں کے مدرس صاحب نے جلسہ کی تصاویر لیں ،لوگوں کے منع کرنے پر اس نے بتایا کہ یہ ریل امام صاحب نے بھروائی ہے ، اور ان ہی کی اجازت سے تصویر لے رہا ہوں ، اور ایسا سب جگہ ہوتا ہے ، الغرض اس نے ضد میں تصاویر کھینچیں اور خود ان امام صاحب کے مائک پر آنے پر ان کی بھی تصاویر لیں ، ااس واقعہ کا ذکر کر کے کسی نے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے سوال کیا تو اس کے جواب میں حضرت نے لکھا ہے کہ :
”تصویریں بنانا خصوصاً مسجد کو اس گندگی کے ساتھ ملوث کرنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ اگر یہ حضرات اس سے علانیہ توبہ کا اعلان کریں اور اپنی غلطی کا اقرار کر کے اللہ تعالی سے معافی مانگیں تو ٹھیک ہے ،ورنہ ان حافظ صاحب کو امامت سے اور تدریس سے الگ کر دیا جائے ۔اور ان کے پیچھے نماز ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے“ (آپ کے مسائل اور ان کاحل : ۷/۶۱)
                اسی طرح علماء و بزرگان کی آئے دن اخبارات میں شائع ہو نے والی تصاویر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: تصویر بنانا اور بنوانا گناہ ہے؛ لیکن اگر قانونی مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنا پڑے تو امید ہے کہ مواخذہ نہ ہوگا۔ باقی بزرگان دین نے اول تو تصویریں اپنی خوشی سے بنوائی نہیں، اور اگر کسی نے بنوائی ہوں تو کسی کا عمل حجت نہیں ،حجت خدا و رسول ﷺ کا ارشاد ہے ۔ (آپ کے مسائل: ۷/۶۲)
                ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : فلم اور تصویر آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے حرام ہے ، اور ان کو بنانے والے ملعون ہیں ۔ (آپ کے مسائل:۷/۶۷)
                 پاکستان کے وزیر خارجہ سردار آصف احمد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ: اسلام میں رقص وموسیقی اور تصویر سازی پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس کا رد کرتے ہوئے آپ نے اولاً ان امور کے بارے میں احادیث نقل کیے ہیں پھر لکھا ہے کہ : آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے بعد سردار آصف احمد کا یہ کہنا کہ اسلام میں ان چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ،قطعاً غلط وخلافِ واقعہ ہے اور ان کے اس فتوی کا منشأ یا تو ناقص مطالعہ ہے یا خاکم بدہن صاحب شریعت ﷺ سے اختلاف ہے ۔ پہلی وجہ جہل مرکب اور دوسری وجہ کفرِ خالص ۔(آپ کے مسائل:۷/۷۶)
                علماء کی تصاویر اور ان کا ٹی وی پر آنا عوام کو یا تو بے چین کرتا ہے یا یہ کہ وہ اس سے اس کے جواز پر استدلال کرتے ہیں ، ایک صاحب نے آپ سے جب اس سلسلہ میں علماء کے فعل کا حوالہ دیا تو جواب لکھا کہ :
”یہ اصول ذہن میں رکھیے کہ کہ گناہ ہر حال میں گناہ ہے ،خواہ ساری دنیا اس میں ملوث ہو جائے ۔ دوسرا اصول یہ بھی ملحوظ رکھیے کہ جب کوئی برائی عام ہوجائے تو اگرچہ اس کی نحوست بھی عام ہو گی ؛مگر آدمی مکلف اپنے فعل کا ہے ۔ پہلے اصول کے مطابق علماء کا ٹی وی پر آنا اس کے جواز کی دلیل نہیں ، نہ امامِ حرم کا تراویح پڑھانا ہی اس کے جواز کی دلیل ہے ،اگر طبیب کسی بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو بیماری بیماری ہی رہے گی ، اس کو صحت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔(آپ کے مسائل:۷/۸۱)
                ان فتاوی پر غور کیجیے کہ کیا ایک اختلافی مسئلہ پر کسی کو ملعون کہنا ،اور اس کام کے ارتکاب پر امامت سے ہٹانے کی تجویز رکھنا بلکہ اس کا فتوی صادر کرنا صحیح ہو سکتا ہے ،اگر نہیں اور یقینا نہیں تو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس مسئلہ کی وہ نوعیت نہیں جو اختلافی مسائل کی ہو تی ہے؛بلکہ ان حضرات علماء کے نزدیک اس مسئلہ میں اختلاف غلط فہمی کا نتیجہ ہے ،نہ یہ کہ اس کی بنیاد دلائل ہیں ۔
مجوزین کی ایک لچر دلیل کا جواب
                یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ موجودہ دور کے مجوزّین ِتصویر میں سے بعض کو سنا گیا کہ وہ دلیل جواز یہ دیتے ہیں کہ آج کل تصویر کا عام رواج ہو چکا ہے ، کوئی محفل و مجلس اس سے خالی نہیں ، عوام تو عوام علماء بھی لیتے ہیں ،تو کب تک اس کو ناجائز کہتے رہیں گے ؟ ابھی قریب میں ہمارے مدرسہ میں ایک مفتی صاحب کا ورود ہوا، میں تو سفر پر تھا ،لہٰذا ملاقات نہیں ہوئی ،دیگر اساتذہ کے درمیان انھوں نے یہ باتیں کہیں ،اور تصویر کو ناجائز کہنے والوں پر طنز و تعریض کی ۔
                مگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو پھر تمام حرام کاموں کو جائز ہو جانا چاہیے ؛کیونکہ آج شراب بھی عام ہے ،موسیقی و گانا بجانا بھی عام ہے ، موبائیل فون سے گانے بجانے کی ٹیون ہم نے علماء کو بھی رکھتے دیکھا ہے ،اور بے پردگی بھی عام ہے ، سود و جوا بھی عام ہے،اور رشوت خوری کا بھی خوب چلن ہے؛بلکہ غور کرنا چاہیے کہ کونسا گناہ ایسا ہے جو آج کے معاشرے میں رواج نہیں پا رہا ہے ،لہٰذا یہ سب کے سب حرام کام اس لیے جائز ہو جانا چاہیے کہ ان کا رواج عام ہو گیا ہے ،لہٰذا کب تک اس کو حرام کہتے رہیں؟ لا حول ولا قوة الاباللہ ،اگر یہ مفتیانہ منطق چل جائے تو اسلام کا خدا ہی حافظ !   
                یہاں ان مفتی صاحب کی دلیل کے جواب میں صرف یہ بات کافی ہے کہ ہم حضرت اقدس مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمة کے رسالہ ” گناہ بے لذت“ سے ایک عبارت نقل کیے دیتے ہیں ،بغور ملاحظہ کیجیے: حضرت لکھتے ہیں کہ:
                ”آج کل یہ گناہ اس قدر وباء کی طرح تمام دنیا پر چھا گیا ہے کہ اس سے پرہیز کرنے والے کو زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات ہیں ،ٹوپی سے لے کر جوتے تک کوئی چیز بازارمیں تصویر سے خالی ملنا مشکل ہوگیا ہے ،گھریلو استعمال کی چیزیں ،برتن ،چھتری ،دیا سلائی، دواوٴں کے ڈبے اور بوتلیں اخبارات ورسائل یہاں تک کہ مذہبی اور اصلاحی کتابیں بھی اس گناہِ عظیم سے خالی نہ رہیں، فالی اللہ المشتکی! اور غور کیا جائے تو ان میں سے اکثر حصہ تصاویر کا محض بے کار وبے فائدہ، گناہِ بے لذت ہے ، مسلمان کو چاہیے کہ گناہ کے عام ہوجانے سے اس کو ہلکا نہ سمجھے؛ بلکہ زیادہ اہمیت کے ساتھ اس سے بچنے اور دوسرے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کریں“ ۔(گناہ بے لذت: ۵۲)
                حضرت مفتی محمد شفیع صاحب جیسے اپنے زمانے کے مفتیِ بے مثال تو تصویر کے عام ہو جانے کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ: عام ہو جانے سے دھوکہ نہ کھائیں اور اس کو ہلکا نہ سمجھیں؛ بلکہ اس سے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کریں اور یہ جدید الخیال و روشن خیال مفتی صاحب یہ کہتے ہیں کہ جب یہ عام ہو گئی تو اب حرام کو حرام نہیں؛ بلکہ حلال کہو۔ فیا للعجب!

$           $           $

Thursday, October 3, 2013

جہاد سے متعلق پچاس سوالات اور ان کے جوابات

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے



سوال:1- جہاد کے کیا معنی ہیں؟

جواب:- اللہ رب العزت کے دین کی سربلندی اور مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کے لئے خوب محنت کے ساتھ کافروں سے مسلح جنگ کرنا یا جنگ کرنے والوں کی تمام ضروری امور میں بھرپور معاونت کرنا خواہ یہ جنگ ان کافروں سے ھو جن تک اسلامی دعوت پہنچ چکی ھو اور انہوں نے اس دعوت کو قبول نی کیا ھو یا ان کافروں سے ھو جو مسلمانوں پر حملہ آور ھوں(امیر کی اطاعت میں کافروں کے ساتھ جنگ کے کسی بھی شعبے میں کام کرنا جہاد ھوگا)(تعلیم الجہاد/صفحہ 3)



سوال:2- جہاد کا حکم کب نازل ھوا ؟

جواب:- جہاد کا حکم مدینہ منورہ میں سن دو ھجری میں نازل ھوا۔
(تعلیم الجہاد/صفحہ3)


سوال:3- جہاد کے متعلق سب سے پہلی کون سی آیات نازل ھوئی؟

جواب:- جہاد کے متعلق سب سے پہلی آیت سورہ حج کی یہ آیت کریمہ ھے

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ بِأَنَّهُمۡ ظُلِمُواْ‌ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيرٌ 
الحج:39

ان لوگوں کو حکم دیا گیا جہاد کا جن سے کافر لڑتے ہیں اس واسطے کہ ان پر ظلم ھوا اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ھے


سوال:4- غزوہ کس جہاد کو کہتے ہیں ؟

جواب:-جس جہاد میں خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت فرمائی ھو اسے غزوہ کہتے ہیں ۔
(تعلیم الجہاد/صفحہ4)


سوال:5- سریہ کس جہاد کو کہتے ہیں؟

جواب:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک زمانے میں جہاد کے لئے جو لشکر روانہ فرمائے اور خود اس میں شریک نہیں ھوئے ،ان معرکوں کو سریہ کہاجاتاھے۔ا(تعلیم الجہاد/صفحہ5)


سوال :6- غزوات کی تعداد کتنی ھے ؟

جواب:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ستائس جنگوں میں حصہ لیا، (بعض روایات سے اس سے زیادہ یا کم تعداد بھی معلوم ھوتی ھے)(تعلیم الجہاد/صفحہ5)


سوال:7- حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں کتنے سریے ھوئے؟

جواب:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں چھپن سرایا ھوئے، اس میں اورروایات بھی ہیں۔
(تعلیم الجہاد/صفحہ5)


سوال:8- جہاد کا کیا حکم ھے ؟

جواب:- جہاد اک اسلامی فریضہ ھے اور اہم ترین عبادت ھے۔

حدیث
““ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا‘ کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے بیان کیا مجاہد سے‘ انہوں نے طاؤس سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتح مکہ کے بعد اب ہجرت ( فرض ) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو ۔““صحیح بخاری
کتاب الجہاد


وعن ابن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: أُمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، وأنَّ محمدًا رسول الله، ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام، وحسابهم على الله -تعالى-( البخاري ومسلم )
ترجمہ
““مجھے حکم دیا گیا ھے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہان تک کہ وہ اقرار کر لیں کے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں(محمد) صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا رسول ھوں، اقرار کیا تو مجھ سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیا سوائے اسلامی حق کے،اور اس کا حساب اللہ تعالٰی کے زمے ھے۔““



سوال:9- جہاد کی حکمت کیا ھے؟

جواب:-اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جہاد کی حکمت بیان فرمائی ھے کہ اگر جہاد نہ ھو تو زمین پر فساد برپا ھو جائے اور عبادت گاھوں کو ڈھادیا جائے یعنی اگر جہاد کی وجہ سے ظلم اور سرکش لوگوں کو ختم نہ کیا جائے تو پھر یہ زمین فتنہ اور فساد کی لپیٹ میں آجائے گی کافر مسلمانوں کی عبادت گاھوں کو گرا دیں گے اور مسلمانوں کو ختم کردیں گے مگر جہاد کے زریعے سے تمام فتنے ختم ھوجاتے ہیں اور زمین پر امن و سکون اور عدل و انصاف عام ھوتا ھے اور اللہ کادین اور نظام بلند رہتا ھے۔
الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ22:40
ترجمہ:-
یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے گرائی جا چکی ہوتیں۔ اور جو شخص اللہ کی مدد کرتا ہے اللہ اسکی ضرور مدد کرتا ہے۔ بیشک اللہ توانا ہے غالب ہے۔


سوال:10- کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے بھی جہاد کیا ؟

جواب:- جی ہاں ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کئی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نے جہاد فرمایا،اور ان کے ساتھ مل کر اس زمانے کے اللہ والوں نے بھی بھرپور طریقے سے جہاد میں حصہ لیا۔
وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ3:146
ترجمہ:-
اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے 


سوال :11- وہ کون سے نبی علیہ السلام ہیں جنہوں نے بچپن میں ظالم و کافر بادشاہ کو قتل کیا؟
جواب:- حضرت داؤد علیہ السلام ہیں جنہوں نے بچپن میں ظالم و کافر بادشاہ جالوت کو قتل کیا تھا۔
فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللّهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ2:251
ترجمہ:-
پھر شکست دی مومنوں نے جالوت کے لشکر کو اللہ کے حکم سے اور مار ڈالا داؤد نے جالوت کو اور دی داؤد کو اللہ نے سلطنت اور حکمت اور سکھایا ان کو جو چاہاا اور اگر نہ ہوتا دفع کرا دینا اللہ کا ایک کو دوسرے سے تو خراب ہو جاتا ملک لیکن اللہ بہت مہربان ہے جہان کے لوگوں پر

سوال:12- وہ کون سے نبی علیہ السلام ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو جہاد کی دعوت دی مگر قوم نے ہٹ دھرمی دکھائی؟
جواب:- حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم کو جہاد کا حکم سنایا تو قوم بولی کہ آپ اور آپ کا خدا مل کر لڑیں ہم تو یہاں بیٹھے ھوئے ہیں۔
قَالُواْ يَا مُوسَى إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُواْ فِيهَا فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ5:24
ترجمہ:-
بولے اے موسٰی ہم ہرگز نہ جاویں گے ساری عمر جب تک وہ رہیں گے اس میں سو تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں

سوال:13- وہ کون سے نبی علیہ السلام ہیں جنہوں نے نیت کی تھی کہ اللہ پاک ان کو سو بیٹے دے ، اور وہ ان سب کو اللہ کے راستے کا شہسوار اور مجاھد بنائیں گے؟
[size=xx-large]جواب:- حضرت سلیمان علیہ السلام


حدیث
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا‘ ان سے عبداللہ بن ہرمز نے بیان کیا انہوں نے کہاکہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا‘ ان سے رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ سلیمان بن داؤد علیھماالسلام نے فرمایا آج رات اپنی سویا ( راوی کو شک تھا ) ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے ۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ بھی کہہ لیجئے لیکن انہوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا ۔ چنانچہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اوران کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر سلیمان علیہ السلام اس وقت ان شاءاللہ کہہ لیتے تو ( تمام بیویاں حاملہ ہوتیں اور ) سب کے یہاں ایسے شہسوار بچے پیدا ہوتے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے 
صحیح بخاری
کتاب الجہاد


سوال:14- قرآن مجید کی کون سی آیت میں جہاد کی فرضیت کا حکم ھے؟
جواب:- سورۃ بقرہ آیت نمبر 216 پارہ دوئم۔

كُتِبَ عَلَيۡڪُمُ ٱلۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهٌ۬ لَّكُمۡ‌ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـًٔ۬ا وَهُوَ خَيۡرٌ۬ لَّڪُمۡ‌ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّواْ شَيۡـًٔ۬ا وَهُوَ شَرٌّ۬ لَّكُمۡ‌ۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ2:216
ترجمہ:-
فرض ہوئی تم پر لڑائی اور وہ بری لگتی ہے تم کو اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے 

سوال:15- قتال کے کیا معنی ہیں ؟

جواب:- قتال اللہ کے راستے میں کلمے اور دین کی سربلندی کی خاطر دشمنوں سے لڑنے کو کہتے ہیں
حدیث
وعن ابن عمر -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: أُمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، وأنَّ محمدًا رسول الله، ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام، وحسابهم على الله -تعالى- ( البخاري ومسلم )
ترجمہ:-
مجھے حکم دیا گیا ھے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہان تک کہ وہ اقرار کر لیں کے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں(محمد) صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا رسول ھوں، اقرار کیا تو مجھ سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیا سوائے اسلامی حق کے،اور اس کا حساب اللہ تعالٰی کے زمے ھے۔

سوال:16- جہاد رحمت ھے یا فساد؟

جواب:- جہاد اللہ رب العزت کی جانب سے پوری انسانیت کے لئے بہت بڑی رحمت ھے

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أُوْلَـئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللّهِ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ2:218

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور لڑے اللہ کی راہ میں وہ امیدوار ہیں اللہ کی رحمت کے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے 

سوال:17- جہاد مسلمانوں کے لئے کسطرح رحمت ھے؟

جواب:- جہاد کے زریعے مسلمانوں کو اللہ پاک کی محبت اور قرب ملتا ھے،اور وہ بڑے بڑے انعامات ملتے ہیں جن کا اللہ رب العزت نے جہاد کرنے والوں سے وعدہ فرما رکھا ھے، اسی طرح جہاد کے زریعے سے مسلمانوں کو زمین پر خلافت ملتی ہے اور کافروں سے اموال غنیمت ملتے ہیں جن سے ان کی معاشی حالت سدھرتی ہے اور جہاد سے شہادت کا عالی مقام بھی خوش نصیبوں کو ملتا ھے۔
لاَّ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمً4:95
ترجمہ:-
برابر نہیں بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں اور وہ مسلمان جو لڑنے والے ہیں اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے اللہ نے بڑھا دیا لڑنے والوں کا اپنے مال اور جان سے بیٹھ رہنے والوں پر درجہ اور ہر ایک سے وعدہ کیا اللہ نے بھلائی کا اور زیادہ کیا اللہ نے لڑنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں سے اجر عظیم میں

سوال:18- جہاد کافروں کے لئے کس طرح رحمت ھے؟

جواب:- جہاد کافروں کے لئے اس طور پر رحمت ھے کہ انہیں جہاد کی بدولت بسااوقات کفر سے نجات ملتی ھے،اور وہ مسلمانوں سے شکست کھاکر ہٹ دھرمی چھوڑ دیتے ہیں اور اللہ کی عظمت جال لیتے ہیں، اور بعض اوقات مسلمانوں کے زیر سایہ رہنے کی وجہ سے انہیں اسلام سے محبت ھوجاتی ھے اور وہ مسلمان ھوجاتے ہیں ، اسی طرح کافروں کو جہاد کی برکت سے کفر کے ظالمانہ نظام سے چھٹکارہ ملتا ھے اور وہ اسلامی حکومت کے عدل و انصاف میں سکون سے رہتے ہیں۔(تعلیم الجہاد/)


سوال:19- جہاد سے پہلے کیا چیز ضروری ھے؟
جواب:- جہاد سے پہلے جہاد کی تربیت اور تیاری ضروری ھے، قرآن مجید میں اللہ نے مسلمانوں کو جہاد کی تیاری کا حکم دیا ھے۔
وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ8:60
ترجمہ:-
اور تیار کرو انکی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کر سکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور دوسروں پر ان کےسوا جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں وہ پورا ملے گا تم کو اور تمہار حق نہ رہ جائے گا 

سوال:20- جہاد کی تیاری کے کیا معنی ہیں ؟
جواب:- جہاد کی تیاری سے مراد اسلحہ بنانا اور اسے استعمال کرنا سیکھنا، جسمانی طور پر جہاد کے لئے مظبوط بننا، جنگی فنون اور آلات حرب کو زیادہ سے زیادہ سیکھنا، ہر زمانے کے مطابق اتنا اسلحہ جمع رکھنا کہ کفار رعب میں رہیں اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہ کرسکیں۔
وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ8:60
ترجمہ:-
اور تیار کرو انکی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کر سکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور دوسروں پر ان کےسوا جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں وہ پورا ملے گا تم کو اور تمہار حق نہ رہ جائے گا 

سوال:21- کیا جہاد کی تیاری پر بھی ثواب ملے گا؟
جواب:- جہاد کی تیاری پر اللہ رب العزت کی طرف سے بہت اجر ملتا ھے، یہاں تک کہ اگر جہاد کی نیت سے گھوڑہ پالا جائے تو اس گھوڑے کے جلنے پر بھی اس کے مالک مجاھد کو اجر ملتا ھے اور اس گھوڑے کے پیشاب اور لید کرنے پر بھی قیامت کے دن اس کے مالک کو اجر و ثواب ملے گا، یہی حکم جہاد کی تیاری کے لئے رکھی جانے والی ہر چیز کا ھے۔
حدیث
““ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا ، کہا مجھ کو طلحہ بن ابی سعید نے خبردی ، کہا کہ میں نے سعید مقبری سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ اور اس کے وعدہ ثواب کو جانتے ہوئے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا کھانا ، پینا اور اس کا پیشاب و لید سب قیامت کے دن اس کی ترازو میں ہوگا اور سب پر اس کو ثواب ملے گا ““
صحیح بخاری
کتاب الجہاد

سوال:22- جہاد کی دعوت دینے کی کیا اہمیت ھے؟
جواب:- اللہ تعالٰی نے اپنے پیارے نبی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ خود بھی جہاد کیجئے اور ایمان والوں کو اس عمل پر ابھارئے،چونکہ جہاد ایک مشکل عمل ھے اور نفس و شیطان انسان کو اس عظیم عمل سے روکتے ہیں اس لئے جہاد کی خوب دعوت دینی چاھئیے تاکہ دعوت دینے والے اور سننے والوں کا جزبہ زندہ رہے۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ يَغْلِبُواْ أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونَ8:65
ترجمہ:-
اے نبی شوق دلائیے مسلمانوں کو لڑائی کا اگر ہوں تم میں بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سو شخص تو غالب ہوں ہزار کافروں پر اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے 

سوال:23- جو مسلمان جہاد کرتے ھوئے دشمن کے ہاتھوں مارا جائے اسے کیا کہتے ہیں؟
جواب:- شہید
قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ36:26
ترجمہ:-
حکم ہوا چلا جا بہشت میں بولا کسی طرح میری قوم معلوم کر لیں

سوال:24- شہید کی کیا فضیلت ھے ؟
جواب:- اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ھے "شہید کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں" حدیث شریف میں ھے کہ اللہ شہید کو چھ نعمتیں عطا فرماتے ہیں ، پہلے ہی لمحے اس کی مغفرت اور جنت میں ٹھکانہ دکھادیا جاتا ھے، عزاب قبر سے محفوظ کردیا جاتا ھے، فزع اکبر(قیامت کی مصیبت) سے مامون کردیا جاتا ھے، اس کے سر پر عزت و وقار کا تاج رکھا جاتا ھے جسکا اک یاقوت دنیا اور جوکچھ اس دنیا میں ھے اس سے بہتر ھے، بڑی بڑی آنکھوں والی 72بہتر حوروں سے شہید کی شادی کردی جاتی ھے، اور شہید کے 70ستر رشتہ داروں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے،( سبحان اللہ)(اللہ مجھے بھی میٹھی اور لزیز شہادت عطا فرمائے۔ آمین)

وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ2:154
ترجمہ:-
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں لیکن تم کو شعور نہیں۔
إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ9:111
ترجمہ:-
اللہ نے مومنوں سے انکی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں اور اسکے عوض انکے لئے بہشت تیار کی ہے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

سوال:25- شہادت کی تمنا کرنا کیسا ھے ؟
جواب:- ہر مسلمان کو شہادت کی تمنا کرنی چاھئیے اور اللہ پاک سے اس کے لئیے دعا کرنی چاھئے ، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے پیں بار بار شہید ھونے کی تمنا فرمائی۔،
حدیث
““ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر د ی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں سعید بن مسیب نے ، ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکل جاوں اور مجھے خود اتنی سواریا ں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کرکے اپنے ساتھ لے چلو ں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لئے جارہا ہوتا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میری تو آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاوں پھر قتل کیا جاوں اور پھر زندہ کیا جاوں اور پھر قتل کردیا جاوں ۔
صحیح بخاری
کتاب الجہاد



سوال:26- جو مسلمان جہاد میں شہید نہ ھو اسے کیا کہتے ہیں؟
جواب:- اسے عام طور پر غازی کہا جاتا ھے،ویسے تو غازی ہر جہاد کرنے والے کو کہا جاتا ھے مگر خصوصی طور پر ان کو کہا جاتا ھے جو جہاد میں شہید نہیں ھوتے اور جہاد کرتے ھوئے واپس آجاتے ہیں۔حدیث
““ہم سے ابو معمر نے بیان کیا‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا‘ ہم سے حسین نے بیان کیا‘ کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا‘ کہا مجھ سے ابو سلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے بسربن سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو سازوسامان دیا تو وہ ( گویا ) خود غزوہ میں شریک ہو ااور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تووہ ( گویا ) خود غزوہ میں شریک ہوا““
صحیح بخاری
کتاب الجہاد


سوال:27- وہ مال جو مسلمان جہاد میں کافروں سے حاصل کرتے ہیں اسے کیا کہتے ہیں؟
جواب:- مالِ غنیمت
حدیث
““ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیا ن کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے ‘ جہاں آپ نے جنگ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا ‘ عمرہ کا احرام باندھا تھا ““
صحیح بخاری
کتاب الجہاد


سوال :28- مال غنیمت کیسا مال ھے؟
جواب:- مال غنیمت بہت پاکیزہ مال ھے، اللہ تعالٰی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہی مال پسند فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں یہی مال استعمال فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " مسلمان کے لئے سب سے پاکیزہ مال ،مال غنیمت ھے"۔
فَكُلُواْ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَيِّبًا وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ8:69
ترجمہ:-
اب جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ کہ وہ تمہارے لئے حلال طیب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے
سوال:29- مال غنیمت اور مال فئے میں کیا فرق ھے؟
جواب:- اگر دشمنوں سے لڑائی کے بعد مال ھاتھ آئے تو اسے "مال غنیمت " کہتے ہیں اور اگر میدان جہاد میں کافروں کا لشکر مسلمانوں کے سامنے بغیر جنگ کئے ہتھیار ڈال دے تو ان سے ملنے والا مال " مال فئے" کہلاتا ھے۔(تعلیم الجہاد)


سوال:30- مسلمان کو میدان جہاد میں کس طرح لڑنا چاھئے؟
جواب:- اللہ رب العزت کا حکم ھے کہ" اے ایمان والو! جب تم کافروں سے لڑو تو ثابت قدمی کے ساتھ لڑائی کرو اور ثابت قدم رہنے کے لئے اللہ تعالٰی کا خوب ذکر کرو"، اس لئے مسلمانوں کو جہاد میں ڈٹ کر ثابت قدمی کے ساتھ لڑنا چاھئیے اور اللہ تعالٰی کا خوب ذکر کرنا چاھئیے کیوں کہ اللہ کے ذکر سے خوب توانائی ملتی ہے اور دل سے دشمن کا خوف نکل جاتا ھے۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ يَغْلِبُواْ أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونَ8:65
ترجمہ:-
اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو ایسے ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لئے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔

سوال:31-میدان جہاد میں پیچھے ہٹنا جائز ھے یا نہیں؟
جواب:- اگر پیچھے پڑاؤ ڈالے ھوئے لشکر تک پہنچنے کے لئے پیچھے ھٹا یا دشمنوں کو دھوکہ دے کر دوبارہ عقب سے حملہ کرنے کئ لئے پیچھے ھٹا تو اس کی اجازت ھے
وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلاَّ مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزاً إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُO(الانفال:16)
ترجمہ:-
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لئے کنارے کنارے چلے یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے ان سے پیٹھ پھیرے گا تو سمجھو کہ وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہو گیا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

سوال:32- حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ شہید ھوئے؟
جواب:- 259 صحابہ شھادت کے رتبہ پر پہنچے۔(تعلیم الجہاد،صفحہ19)


سوال:33- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے جہاد میں کتنے کافر مارے گئے؟
جواب:- 759 کافر مارے گئے۔(تعلیم الجہاد،صفحہ19)


سوال:34- رباط کسے کہتے ہیں ؟
جواب:- اسلامی سرحدوں کے لئے یا مسلمانوں کے لشکر کی حفاظت کی خاطر پہرے داری کرنے کو "رباط" کہتے ہیں۔
حدیث
““ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ، انہوں نے ابوالنضر ہاشم بن قاسم سے سنا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوحازم ( سلمہ بن دینار ) نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو تو وہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہے ““
صحیح بخاری
کتاب الجہاد

سوال:35- رباط کی کیا فضیلت ھے؟

جواب:- رباط افضل عمل ھے، اللہ تعالٰی نے قرآن میں اس کا حکم دیا ھے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بے شمار فضائیل بیان فرمائے ، جو خوشقسمت مجاھد رباط کا عمل کرتا ھے اسے پیچھے رہ جانے والوں کے تمام اعمال کا ثواب ملتا رہتا ھے، اور وہ آنکھ جو پہرے داری میں جاگی ھو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی اور ایک دن کی پہرے داری دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔(تعلیم الجہاد،صفحہ20 )


سوال:36-حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نبی السیف صلی اللہ علیہ وسلم ھے ، اس کے کیا معنی ہیں؟
جواب:- نبی السیف کے معنی "تلوار والے نبی" ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 
“" میں قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ھوں تاکہ صرف اکیلے اللہ کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں اور میری روزی میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھ دی گئی ھے اور زلت اور پستی ان لوگوں کا مقدر بنادی گئی ہے جو میرے لائے ہوئے دین کی مخالفت کریں اور جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔“"(مسند احمد)

سوال:37- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی السیف کیوں کہتے ہیں؟

جواب:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ھے کہ " اللہ نے مجھے تلوار کے ساتھ بھیجا ھے"، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کے زریعے سے سرکش کافروں کو ختم فرمایا جس کی وجہ سے لوگوں کو اسلام کے قریب آنے کا موقع ملا، اور انسانیت کو امن و سکون ملا ، اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام "تلوار والے نبی" بھی ھے،تلوار سے مراد جہاد ھے یعنی جہاد والے نبی، اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاد کی طاقت عطاء کی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ٹھکرایا نہ جا سکے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 
“" میں قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ھوں تاکہ صرف اکیلے اللہ کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں اور میری روزی میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھ دی گئی ھے اور زلت اور پستی ان لوگوں کا مقدر بنادی گئی ہے جو میرے لائے ہوئے دین کی مخالفت کریں اور جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔"(مسند احمد )


سوال:38- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " میں نبی الملاحم ھوں" اس کے کیا معنی ہیں؟

جواب:- نبی الملاحم صلی اللہ علیہ وسلم کے معنی ہیں " جنگوں والے نبی "صلی اللہ علیہ وسلم ، ملحمہ گھمسان کی جنگ کو کہتے ہیں ، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنا جہاد ھوا اس سے پہلے کبھی نہیں ھوا، اور یہ جہاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں قیامت تک رہے گا، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگوں والے نبی کہا جاتا ھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھمسان کے معرکے لڑے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی بہادر نہ تھا اور نہ ھے اور نہ ھوگا۔ (شعب الایمان،امام بہقی رحمۃ اللہ)


سوال:39- جہاد کی دوسرے دینی اعمال کے مقابلے میں کیا حیثیت اور مقام ھے؟
جواب:- جہاد تمام دینی اعمال میں سب سے زیادہ افضل عمل ھے، کیونکہ جہاد میں جان اور مال کی قربانی دینی ھوتی ھےجو کسی اور دینی عمل میں نہیں، اسلئے جہاد سب سے افضل عمل قرار دیا گیا ، اور ایک وجہ یہ بھی ھے کہ جہاد دیگر تمام اعمال کا محافظ ھے اس لئے جہاد کو تمام دینی اعمال پر فضیلت حاصل ھے۔
مامن شی افضل عملک الا الجہاد فی سبیل اللہ 
(طبرانی)
تمہارے اعمال میں جہاد فی سبیل اللہ سب سے افضل ھے

خیراعمالکم الجہاد
(ابن عساکر)
اعمال میں سب سے بہتر جہاد ھے

سوال:40- جہاد میں اک صبح اور اک شام لگانے کی کیا فضیلت ھے؟

جواب:- حدیث شریف میں ھے کہ جہاد میں ایک صبح یا اک شام کا لگا دینا دنیا اور دنیا کے تمام مال و اسباب سے افضل ھے۔ اس حدیث کی تشریح میں علماء نے لکھا ھے کہ اگر ایک آدمی کو تمام دنیا کا مال و دولت اور اسباب دے دئے جائیں اور وہ یہ سارا مال و اسباب اللہ کی اطاعت میں خرچ کردے تب بھی اس کا اجر اس آدمی کے اجر کے برابر نہیں ھو سکتا جس نے جہاد میں ایک صبح یا اک شام لگائی۔حدیث
““ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا‘ کہا ہم سے وہب بن خالد نے ( فضل جہاد میں ) بیان کیا‘ کہا ہم سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح یا ایک شام دنیا سے اورجو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے““
صحیح بخاری
کتاب الجہاد


سوال:41- جہاد کب فرض عین ھوتا ھے؟

جواب:- جب کافر مسلمانوں پر حملہ کردیں یا مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیں یا اس وقت جب مسلمانوں اور کافروں کی صفیں‌میدان میں آمنے سامنے آجائیں یا مسلمانوں کا خلیفہ لوگوں کو جہاد کے لئے بلائے ، تو ان تمام صورتوں میں جہاد فرض عین ھو جاتا ھے۔،(تعلیم الجہاد//۔صفحہ24۔۔۔)


سوال:42- فرض عین کے معنی کیا ہیں ؟

جواب:- فرض عین کے معنی ہیں کہ ہر مسلمان مرد عورت پر جہاد فرض ھو جانا، کسی کے ادا کرلینے کی وجہ سے دوسروں کے زمہ سے ساقط نہیں ھوگا، جب جہاد فرض عین ھوجائے تو والدین کی اجازت یا جس کا قرض دینا ھو اس کی اجازت ضروری نہیں رہتی اور نہ ہی غلام اور ملازم کے لئے اپنے آقا اور مالک کی اجازت ضروری ھوتی ہے
حدیث
““ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا‘ ہم سے یحیٰ قطان نے بیان کیا‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا‘ کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا مجاہد سے‘ انہوں نے طاؤس سے اورانہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا مکہ فتح ہونے کے بعد ( اب مکہ سے مدینہ کے لئے ) ہجرت باقی نہیں ہے‘ لیکن خلوص نیت کے ساتھ جہاد اب بھی باقی ہے اس لئے تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو ““
صحیح بخاری
کتاب الجہاد(اورتعلیم الجہاد،صفحہ24)


سوال:43- جہاد نہ کرنے کا کیا گناہ ھے؟

جواب:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ھے کہ" جس نے جہاد نہ کیا اور جہاد کا شوق اور ارادہ بھی اس کے دل میں نہ ھوا تو یہ آدمی منافقت کے ایک حصہ پر مرے گا"۔ اک اور حدیث میں ھے کہ "جس نے جہاد نہ کیا اور نہ کسی مجاھد کو سامان جہاد دیا اور نہ کسی مجاھد کے گھر کی دیکھ بھال کی تو اللہ پاک قیامت سے پہلے پہلے اسے کسی درد ناک مصیبت میں مبتلا فرمادیں گے"۔(اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو اس وعید سے محفوظ فرمادے)(آمین)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ9:38
ترجمہ:-
مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو تو تم زمین سے چپکے جاتے ہو یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے کیا تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ سو دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں۔

سوال:44- جہاد میں اگر مسلمان مجاھد کو زخم لگے تو اس کا کیا ثواب ھے؟

جواب:- جہاد میں زخمی ھونے کا بہت ثواب ھے، حدیث میں آیا ھے کہ " جہاد میں زخمی ھونے والا قیامت میں آئے گا تو اس کے خون کا رنگ تو خون کا ھو گا مگر خوشبو مشک کی ھو گی"۔
حدیث
““ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابو الزناد سے‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کوئی زخمی ہوا ہے‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا‘ رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہوگی ۔““
صحیح بخاری
کتاب الجہاد


سوال:45- اگر جہاد پر جاتے ھوئے راستے میں مجاھد کا انتقال ھوجائے تو کیا اجر ملے گا؟
جواب:- مجاھد جب جہاد کے لئے نکل کھڑا ھو تو کسی بھی وجہ سے اس کا انتقال ھوجائے اس کے لئے جنت کا وعدہ ھے۔
وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللّهِ وَكَانَ اللّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا4:100
ترجمہ:-
اور جو شخص اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی رہنے کی جگہ اور کشائش پائے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اسکے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آ پکڑے۔ تو اسکا ثواب اللہ کے ذمے ہو چکا۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔

سوال:46- جہاد میں مال خرچ کرنے کا کیا ثواب ھے؟

جواب:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ھے جس نے مجاھد کے لئے سامان کا انتظام کیا اس نے بھی جہاد کیا، جو آدمی اپنے گھر بیٹھے ھوئے جہاد کے لئے ایک روپیہ خرچ کرے اسے سات سو گنا اجر ملتا ھے اور جو خود جہاد میں نکلے اور خرچ کرے اسے ایک کے بدلے سات لاکھ کا اجر ملتا ھے اور اللہ جسے چاھے اس سے بھی زیادہ عطاء فرمادیتا ھے۔(تعلیم الجہاد،صفحہ26 )


سوال:47- سب سے افضل جہاد کون سا ھے؟

جواب:- حدیث شریف میں ھے کہ " سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ مجاھد کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں اور اس کا اپنا خون بھی بہہ جائے " یعنی شہید ھو جائے۔(المستدرک/المعجمالمعجم الصغیر اللطبری)


سوال:48- دشمن پر تیر پھینکنے یا گولی چلانے کا کیا ثواب ھے؟

جواب:- جس نے دشمن کی جانب ایک تیر پھینکا اور وہ تیر دشمن کو لگا یا نہ لگا تیر پھینکنے والے کو ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ھے، حدیث میں ھے کہ" اللہ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت عطا فرمائیں گے، ایک اس کو جس نے ثواب کی نیت سے وہ تیر بنایا، دوسرا تیر پھینکنے والا، اور تیسرا تیر مارنے والے کے ھاتھ میں تیر پکڑانے والا"۔(تعلیم الجہاد،صفحہ27:28)


سوال:49- جہاد میں کافر کو قتل کرنے کا کیا ثواب ھے؟

جواب:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا" کافر اور اس کو قتل کرنے والا جہنم میں جمع نہیں ھوں گے"، یعنی کافر تو جہنم میں ہی جائے گا لیکن اس کو قتل کرنے والا مجاھد جنت میں جائے گا۔
(تعلیم الجہاد)
حدیث1
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ کَافِرٌ وَقَاتِلُهُ أَبَدًا(سنن ابوداؤد)
محمد بن صباح بزار، اسماعیل، ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر اور اس کو قتل کرنے والا دوزخ میں کبھی جمع نہ ہوگا۔ (یعنی جس مسلمان نے جہاد میں کسی کافر کو قتل کیا وہ دوزخ میں جانے سے محفوظ ہوا)
حدیث2


حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا
إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ کَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا
(صحیح ابوداؤد)
یحیی بن ایوب، قتیبہ، علی بن حجر، اسماعیل یعنون ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر اور اسے قتل کرنے والا مسلمان کبھی جہنم میں اکٹھے نہ ہوں گے۔


سوال:50- جہاد میں نکلتے ھوئے کیا نیت ھونی چاھئیے؟

جواب:- جہاد میں نکلتے وقت اللہ رب العزت کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کی نیت کرنی چاھئیے، اپنے آپ کو بہادر کہلوانے یا مال و دولت جمع کرنے کی نیت سے ھرگز نہیں جانا۔(تعلیم الجہاد)