Front - The Prophet Muhammed

Monday, September 9, 2013

تین قسم کے بچے

تین قسم کے بچے
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی
بڑا بچہ(Elder)
ایک ہوتا ہے سب سے بڑا بچہ )جس کو ایلڈرElderکہتے ہیں (عام طور پر اس کی عادتوں میں آپ کو نظم وضبط زیادہ نظر آئے گا ،اس کی طبیعت میں احساس ذمہ داری زیادہ ہوتا ہے ۔بعض اوقات یہ بچےDictatorآمر بھی بن جاتے ہیں لیکن عام طور پر یہ لوگ قانون کے مطابق رہنا اور رکھنا پسند کرتے ہیں ۔فطری طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعت ہی ایسی بنائی ہوتی ہے،لہٰذاجو بچہ بھی گھر میں سب سے بڑا ہو گا،آپ اس کو Expect توقع کریں کہ یہ بچہ غیر ذمہ دارنہیں ہو سکتا،ہمیشہ ذمہ دار ہو گا۔مگر ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اس کے اندر پوزیشن مقام حاصل کرنے کی بھی طبیعت ہو گی ،وہ دوسروں پر رول بھی کرنا چاہتا ہو گا ،یہ چاہے گا کہ ہر معاملے میں میری بات مانی جائے۔ مجھے Follow کیا جائے،مجھے بڑابنا کر رکھا جائے ۔یہ چیز فطری طور پر اس بچے کے اندر ہوتی ہے ۔
منجھلا بچہMiddle Baby
ایک ہوتا ہے درمیان والا بچہ۔یہ بچہ جس سے کوئی بڑا ہے اور کوئی چھوٹایہ فطرتی طور پر جنگجو Fighterبچہ ہوتا ہے ۔چونکہ اس کو اپنے تحفظ Servival کے لیے بڑے سے بھی لڑنا پڑتا ہے چھوٹے سے بھی ۔ورنہ بڑے کو زیادہ اہمیت ملتی ہے یا چھوٹے کو مل جاتی ہے اور درمیان والے عام طور پرنظر انداز ہو جاتے ہیں ۔چونکہ یہ بچے نظر انداز ہوتے ہیں،اس لیے طبعاًیہ بچے فائٹر قسم کے ہوتے ہیں ،مگر یہ مشکلات کو حل کرنے والے Problem solver بھی ہو تے ہیں چونکہ ان کی بقا کا مسئلہ ہوتا ہے ،ان کے سامنے مسئلے آتے ہیں اور یہ ان کو حل Dealکرنے کی کوشش کرتے ہیں جیتنے کی کوشش کرتے ہیں ،تو ان میں مقابلے کی صلاحیت Sence of compitition دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔
سب سے چھوٹا بچہ
اور ایک ہوتا ہے گھر کا سب سے چھوٹا بچہ جس کو baby of the family بھی کہتے ہیں ۔عام طور پر محبتیں بھی اسی کو زیادہ ملتی ہیں ۔توجہات بھی اسی کو زیادہ ملتی ہیں ،یہ بچہ عام طور پرشو بوائے بچہ ہوتا ہے لیکن یہ سلیقہ Manipulation کا ماسٹر ہوتا ہے ،یہ اپنی حرکتوں سے دوسروں کی محبت کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔
تو گویا اگر کسی کے پانچ بچے ہیں تو جو بڑا بچہ ہے وہ ہے Elder one اس کی نفسیات کو اس طرح سے سمجھیں کہ اس کے اندر نظم و ضبط ہو گا ۔اور درمیان کے جو تین بچے ہیں ،یہ بچے مڈل بے بیزMidle babies کہلائیں گے ،تینوں کی نفسیات ایک ہی جیسی ہوں گی ،ان کواپنے حصول کے لیے لڑنا پڑے گا ،مسائل کو حل کرنا پڑے گا ۔ان کو جینے کے لیے محنتStruggle کرنی پڑتی ہے اس لیے ان بچوں میں عام طور پر محنت کی حس Sense of struggle زیادہ ہوتی ہے۔ایک ہوتا ہے سب سے چھوٹا بچہ ،اس کو آپ یونہی سمجھ لیں کہ وہ چونکہ گھر کا محبوب ہوتا ہے ،چھوٹی بیٹی ہو یا چھوٹا بیٹا ہو ،محبتیں انہیں کو زیادہ ملتی ہیں اور عام طور پر ہمارے گھروں کا دستور ہے کہ ماں باپ بھی اسی کے ساتھ رہتے ہیں ،وہ پھر اپنی پوزیشن کا ہمیشہ فائدہ اٹھاتا ہے ۔ اب یہ ضروری نہیں کہ جو باتیں کہی گئیں ہر بچہ ایسا ہی ہو لیکن جب آپ ایک ہزار بندوں کو دیکھیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ عام طور پربچوں کا رویہ اس کے مطابق ہی ہوتا ہے ۔ سائنس دانوں نے لاکھوں بچوں کو اس بات پر پرکھااور انہوں نے نفسیات کے یہ اصول نکالے ، اس لیے بچوں کی یہ تین باتیں ہمیشہ ذہن میں رکھا کریں کہ بچے کا پیدائش کا نمبر کیا ہے ، اسی لحاظ سے ان کی کچھ باتوں کی توقع رکھنی چاہیے اور پھر اس کے مطابق اس کو ڈیل کرنا چاہیے ۔

KUM ILM AADMI KAY LIYE DEEN PER AMAL KARNAY KI SURAT

KUM ILM AADMI KAY LIYE DEEN PER AMAL KARNAY KI SURAT
• MISAAL = Ager 1 shukhsh kunwaan banwaa kar waqf e aam karday aur phir hazaroon loog is may say pani pi rahay hain ¤
• Wazu'o aur ghusal karkay namazain adaa karrahay hain ¤
• Khana pakana horaha hay ¤
• Ab koi shukhsh ye shoor machaday k is kunwain ka ta'arufi name chaudhry nawab deen kunwaan hay is liye is may jo pani hay wo ALLAH ka paida kiya huwa nahi hay wo chaudhry nawab deen ka paida kiya huwa hay ¤
• Chaudhry nawab deen [NAUZUBILLAH] ALLAH ka shareek ban betha hay ¤
• Jo loog is kunwain say pani peetay hain wo mushrik hain ¤
• Na in ka wazu'o sahi hay na ghusal ¤
• Na namaz durust hay ¤
• Na in ka rozah ¤
• To kiya koi aqalmand aadmi is ki khurafaat per kaan dhharay gaa ?
• Yahi haal yaha hay k aayimmah mujtahideen nay kitab o sunnat kay masayeel ko zaahir kardiya aur kunwain ki shikal day di ¤
• Muqallideen in masayeel kay muwaafiq Namaz , Roza , Hajj , Zaka'at wagerah aamaal may masroof hogaye ¤
• Hamaray germuqallid dost kabhi to kehtay hain k saari umer 1 hi kunwain kay pani say wazu'o karna ye to taqleed e shukhsh hay ¤
• Ye shirk hay ¤
• Her namazi ka farz hay k FAJR ki namaz ka wazu'o apnay ghar kay nalkay say karay ¤
• ZOHAR ka wazu'o dusray zila'a kay nalkay say karay ¤
• ASAR ka wazu'o dusray soba'h kay nalkay say ¤
• MAGHRIB ka dusray mulk kay nalkay say aur EISHA'A ka wazu'o dusray jahaan kay nalkay say warna 1 hi nalkay say sub namazoon kay liye wazu'o karna goya taqleed e shukhshi hay aur shirk hay ¤
• Ahle Sunnat Wal Jama'at kehtay hain k jub hum kunwain kay mohtaaj hain to jis kunwain ka pani aasani say dastiyaab hojaye saari umer wazu'o o ghusal karna bilkul durust hay ¤
• Is ko shirk keh kar tamaam musalmanoon ko mushrik banana DEEN ki koi khidmat nahi ¤
TANBEEH = Isi taqleed ko daraasal itteba'a kaha jata hay aur amal ka taqaazah hay k aesa amal her jaahil aur kam ilm aadmi kay liye nihaayat zaroori hay ¤

Wednesday, July 31, 2013

اپنے گھر کو جنت بنانا آپ کی ذمے داری ہے

الشیخ مظہر الحموی، لبنان

*... بیوی کی حیثیت سے آپ اپنے گھر میں خوش بودار پھول کی مانند ہیں۔ چناں چہ آپ کا شوہر جب گھر میں داخل ہو تو اسے اپنی اس خوش بو کا احساس دلائیے۔

*... اپنے ہر قول وفعل سے شوہر کو راحت کا سامان مہیا کیجیے۔

*... اپنی گفتار کو سراپا سادہ اور قلب وجاں کا نمونہ بنائیے۔ طنز وطعن اور بحث وتکرار سے مکمل اجتناب کیجیے۔

*... مرد کے گھر کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اس کے حقیقی مفہوم کے ساتھ تسلیم کیجیے اور اس امر کا ادراک کہ ایک عورت کو مرد کی سربراہی اور نگرانی کی کتنی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ یہ منفی خیال ہر گز اپنے دل میں پلنے نہ دیجیے کہ یہ تو عورت کے ساتھ ظلم ونا انصافی او راس کے حقوق کی پامالی ہے۔

*... اپنی آواز شوہر کے سامنے تیز نہ کیجیے۔

*... کوشش کیجیے کہ آپ دونوں رات میں تہجد کی نماز ایک ساتھ ادا کریں۔ اس طرح آپ دونوں کے لیے نورانیت، سعادت، سکون، اطمینان اور الفت ومحبت میں زبردست اضافہ ہو گا۔

*... شوہر کی ناراضی کے وقت آپ بالکل خاموشی اختیار کر لیجیے۔ اس کو راضی کیے بغیر نہ سوئیں۔ یاد رکھیے ، آپ کا شوہر آپ کی جنت ہے یا جہنم۔

*... جب وہ باہر جانے کی تیاری کر رہا ہو تو اُس کے سامنے موجود رہیے اور روانہ ہوتے ہوئے اسے رخصت کیجیے۔

*... اس کو اس کے کپڑوں کے انتخاب میں اپنی دلچسپی کا احساس دلائیے اور خود اس کے لیے لباس کا انتخاب کیجیے۔

*... اس کی ضروریات کی چیزوں کی فراہمی میں باریک بینی او رسمجھ داری کا ثبوت دیجیے، تاکہ آپ دونوں کے درمیان بہترین تعلقات پروان چڑھیں۔

*... اپنے شوہر کی جانب سے معذرت کا انتظار نہ کیجیے اور نہ اس کو کسی معاملے میں معذرت کرنے پر مجبو ر کریں، سوائے اس کے کہ وہ خود کسی غلطی پر عملی طور پر معذرت خواہانہ طرز اختیار کر لے۔

*... شوہر کے لباس او راُس کی وضع قطع کا خاص خیال رکھیے، اگر چہ وہ خود اس معاملے میں اہتمام نہ کرتا ہو ۔

*... ہمیشہ اپنے شوہر کی طرف سے اظہارِ محبت او راظہارِ رغبت میں پہلے کرنے کی منتظر نہ رہیے ، بلکہ خود اس میں پہل کا اہتمام کیجیے۔

*... ہر رات میں اس کے لیے دلہن بن کر رہیے اور شدید ضرورت کے بغیر شوہر سے پہلے نہ سوئیے۔

*... اپنے حُسن معاملہ کا بدلہ فوراً نہ چاہیں، کیوں کہ بہت سارے شوہر اپنے احساسات او رجذبات کو ظاہر نہیں کرتے یا ظاہر کر ہی نہیں پاتے۔

*... شوہر کے احوال میں دلچسپی کے ساتھ مشغول رہیے ، لیکن تکلف اور مصنوعی پن سے گریز کیجیے۔

*... جب وہ سفر سے واپس آئے تو محبت سے بھر پور بشاشت اور دلی گرم جوشی کا مظاہرہ کیجیے۔

*... ہمیشہ اس کا دھیان رکھیے کہ شوہر، خدا ( الله تعالیٰ) کے ساتھ قرب اور تعلق کا اہم وسیلہ ہے۔

*... ہمیشہ اس کی کوشش کیجیے کہ ظاہری وضع قطع میں ، گفتار میں اور شوہر کے استقبال میں جدّت اور تازگی برقرار رہے۔

*... جب وہ آپ سے کچھ طلب کرے تو اس موقع پرسُستی اور بوجھل انداز اختیار کرنے کی بہ جائے چستی اور دلچسپی کا مظاہرہ کیجیے۔

*... گھر کی صفائی ستھرائی او رسجاوٹ کا خاص خیال کرتے ہوئے شوہر کو اپنے انداز سے اپنے اس جذبے کا احساس کرائیے کہ یہ سب کچھ وہ اسے خوش کرنے کے لیے کر رہی ہے۔

*... گھر کے کام کاج او ررکھ رکھاؤ میں نظم ونسق او رپابندی وقت کا خاص خیال رکھیے۔

*... عورتوں سے متعلق بعض گھریلو مہارت کے کام ضرور سیکھیے۔

*... جب آپ کا شوہرگھر میں کوئی کھانے پینے کا سامان یادیگر کوئی چیز لائے تو شکریہ ادا کیجیے اور تعریف وستائش سے اس کا استقبال کیجیے ۔

*... گھر کے خوب صورتی اور ترتیب وانتظام کی خوب کوشش کیجیے ، اگرچہ آپ کا شوہر آ پ سے خوب صورتی اور سادگی کو جمع کرنے کا مطالبہ نہ کرتا ہو ، مگر آپ خود اس امر کا لحاظ رکھیے۔

*... اسراف اور بے جاخرچ سے بچتے ہوئے قناعت کا دامن تھامے رہیے، تاکہ آمدنی اور اخراجات کا توازن برقرار رہے۔

*... اپنے اور اولاد سے متعلق ضروری معاملات میں ہمیشہ اپنے آپ کو شوہر کی رائے اور اس کے مشوروں کا حاجت مند سمجھیں۔ لیکن چھوٹے چھوٹے غیر ضروری مسائل کو اس کے سامنے پیش کرنے سے بھی گریز کیجیے۔

*... ہمیشہ دھیان رکھیے کہ آپ عورت ہیں، لہٰذا اپنی نسوانیت کی پاس داری بھی کرتی رہیے او رمناسب وقت میں بہتر طور پر خود کو بھی اپنی نسوانیت کا احساس دلاتی رہیے۔

*... جب شوہر کسی سفر سے طویل مدت کے بعد لوٹے تو اس کی غیر موجودگی میں پیش آنے والی مشکلات او رمشقتوں کو شکوے اور ناراضگی کے انداز میں پیش نہ کیجیے۔

*... اپنے بچوں کو بھی ان کی عمر کے لحاظ سے اپنے والد کے گھر لوٹنے کے وقت استقبال کرنے کے آداب سکھائیے۔

*... شوہر کے گھر لوٹتے ہی یا سو کر اٹھنے کے وقت یا کھانا کھاتے ہوئے بچوں کی شکایتیں اس کے سامنے پیش نہ کیجیے ۔ اس طرح کرنے سے شوہر او ربچوں دونوں پر مضراثرات مرتب ہوں گے، بلکہ یہ شکایات دوسرے مناسب موقع پر کیجیے۔

*... بچوں کی سرزنش کرتے ہوئے یا انہیں تنبیہ کے طور پر سزا دیتے ہوئے شوہر کے ساتھ دخل اندازی نہ کیجیے۔

*... اپنے شوہر او ربچوں کے درمیان بہترین خوش گوار تعلقات استوار کرنے کی کوشش کیجیے، خواہ آپ کے شوہر کتنے ہی مصروف ہوں ، مگر یہ کوشش ایسی حکمت عملی کے ساتھ ہونی چاہیے کہ ان کے کاموں میں خلل واقع نہ ہو۔

*... جب گھر سے شوہر اپنے کام سے دور گیا ہو تو انہیں اس کا احساس دلائیے کہ آپ ان کی غیر موجودگی میں بچوں کی ذمے داری کا بوجھ اٹھائیں گی اور شوہر کی مشاورت کے ساتھ سارے کام انجام دیں گی۔

*... اپنی اولاد کی تربیت کے لیے اپنائے گئے اصولوں اور طریقوں کے نتائج کا فوری انتظار نہ کیجیے، ورنہ شوہر کے مایوس ہو جانے یا تربیت سے غافل ہو جانے کا امکان ہے۔

*... اپنی اولاد کی غلطیوں پر صرف تنبیہ کر دینا کافی نہیں ، بلکہ انہیں مناسب سزا بھی دیجیے۔

*... بچوں کی فراغت کے اوقات میں اور خاص کر چھٹیوں میں ان کے لیے کسی صحت مند او رمفید مشغلے کا انتخاب کیجیے، تاکہ ان کی صلاحیتیں پروان چڑھیں۔

*... اپنی بیٹیوں کی دوست بن کر رہیے اور ان کے معاملے میں فطری وطبعی تبدیلیوں کا احساس وادراک کیجیے کہ جن سے نوجوان لڑکیوں کو مرحلہ وار گزرنا پڑتا ہے۔

*... تربیت کے عملی نمونے اختیار کرکے اپنی بچیوں کی شخصی تربیت کرتے ہوئے اس میں نکھار پیدا کرنے کی کوشش کیجیے۔

*... شوہر کی دل بستگی او راس کے ساتھ بہترین توجہ کا معاملہ کرتے ہوئے اولاد کی خبرگیری او رگھر کے کام کا ایسا نظم بنائیے کہ ان تینوں ذمے داریوں کی ادائیگی میں توازن برقرار رہے۔

*... شوہر کے والدین کے ساتھ اپنے والدین جیسی محبت واحترام اور خدمت کا خیال رکھیے، انہوں نے آپ کو ایک بہترین او ربیش قیمت ہدیہ آپ کے شوہر کی صورت میں عطا کیا ہے ۔

*... شوہر کے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک اور دو طرفہ تعلقات کا خاص اہتمام کیجیے، خواہ آپ کے شوہر خود سے اس کا زیادہ اہتمام نہ کرتے ہوں۔

*... شوہر کے مہمانوں کی خاطر مدارات کا بھی خیال رکھیے اور اچانک مہمان آجانے یا مہمانوں کی کثرتِ آمدورفت سے ناراضگی اور چڑچڑے پن کا مظاہرہ نہ کیجیے۔

*... شوہر کے ضروری کاغذات، فائلیں اور اہم سامان کی خاص حفاظت کیجیے او راسے سنبھال کر رکھیے۔

*... گھر کو ہر وقت اس انداز سے رکھیے کہ کسی بھی وقت کوئی مہمان آجائے تو خفت اور شرمندگی محسوس نہ ہو او رشوہر کی کتابیں، فائلیں اور روز مرہ استعمال کی چیزوں کو قرینے اور ترتیب سے رکھیے۔

*... دیر سے گھر آنے پر باز پُرس او رناراضگی کا طریقہ اپنانے کے بہ جائے شوہر کو اپنے شوق ورغبت کے ساتھ انتظار کااحساس دلاتے ہوئے اسے گھر کا بوجھ اٹھانے پر ستائشی کلمات سے بھی نوازیے۔

*... شوہر کو کسی بات سے تنگ ہو کر غصے کے اظہار کا موقع نہ دیجیے، بلکہ اشارے او رانداز سے بھی فوراً ان کی مرضی کو بھانپ لینا چاہیے۔

*... اپنے شوہر سے زیادہ شکوے شکایت کرنے سے باز رہیے۔

*... شوہر کو ہمیشہ اس بات کا احساس دلاتی رہیے کہ ان کے کام سب سے اولین ترجیح کے لائق ہیں ، چاہے آپ کو دوسری مصروفیات کتنی ہی درپیش ہوں۔

*... یادرکھیے، شوہر کا یہ حق ہے کہ وہ آپ کے او رآپ کے گھر والوں کے درمیان ہونے والے امور او رمعاملات سے واقف او رباخبر رہے۔

*... آپ شوہر کو اس بات کا احساس دلائیے کہ آپ کو اپنے شوہر پر توجہ او رپیار ہے۔ کام یاب بیوی وہی ہوتی ہے جس کی محبت اور تعلق کا شوہر کو ادراک ہو ۔

*... کام کاج کی کثرت او رگھریلو امور میں مشغولیت آپ کی طبیعت پر منفی اثرات مرتب نہ کرنے پائیں۔

*... اپنے گھر کی باتوں کو ادھر اُدھر نہ پھیلائیے۔ اپنے گھر کے رازوں کو محفوظ رکھنے کااہتمام کیا کیجیے۔

*... دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنے شوہر کا کبھی موازنہ نہ کیجیے، بلکہ اپنے شوہر کی خوبیوں کو دیکھا کیجیے۔

*... عورتوں میں اصلاح کا کام کرنے کے لیے مشورے کے طریقے کو مؤثر بنانے کی کوشش کیجیے، تاکہ آپ سہولت او رحکمت عملی کے ساتھ وقت ضائع کیے بغیر مطلوبہ ہدف حاصل کرسکیں۔

*... وہ مادی معیار زندگی جو عام طور پر عورتوں کو اپنے میں منہمک رکھتا ہے ، آپ اس مادی معیار سے بہ خوبی واقف رہیے، تاکہ دوسری خواتین کو مناسب او رنرم گفت گو کے ذریعے اس مادیت سے نکال سکیں۔

*... اپنی بہنوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کے دل جیتنے کی کوشش کیجیے، پھر وہ عقل وشعور کے ساتھ آپ کی تابع دار ہو جائیں گی۔ یہی طریقہٴ کار خواتین کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے۔

*... اپنے کاموں میں اپنے ساتھ دوسروں کو شریک کیجیے، جو آپ کی عدم موجودگی میں آپ کے کاموں کا بوجھ اٹھا سکیں۔ اس طرز عمل سے آپ کی ذمے داریوں کا بوجھ بڑھنے نہیں پائے گا، بلکہ اس میں توازن قائم رہے گا

رزق میں برکت کیسے ہو؟

مفتی محمدالله خلیلی قاسمی
رزق میں برکت کیسے ہو؟

اٹھارہویں صدی میں یورپ کے اقتصادی انقلاب کے بعد جب سے دنیا کا معاشی نظام کفرو الحاد کے ہاتھوں میں آیا، تب لوگوں کی سوچ کا دھارا بدل گیا۔ پہلے جب تجارت ومعاملات میں مذہب کا عمل دخل تھا، لوگوں کی ذہنیت امانت ودیانت اور فکر آخرت سے معمور تھی، لوگ اگر ایک طرف رزق کے حصول کی تدبیریں کرتے تھے ، تو دوسری طرف رازق کائنات پر توکل کرتے تھے او راس کی رضا جوئی کے لیے کوشاں رہتے تھے، مگر آج دنیا کا نقشہ بد ل چکا ہے ، چاروں طرف کفر ومادیت کا دور دورہ ہے ، پورا کا پورا اقتصادی ومعاشی نظام غیر اسلامی بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے ، اسی لیے مذہبی قدریں اور دینی روایات پامال ہو رہی ہیں، ہر شخص جائز وناجائز کسی بھی طریقے سے دولت اکٹھا کرنے کی دھن میں ہے اور تو اور ، خود مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ حصولِ زرق کے لیے اسلامی تعلیمات کو بالائے طاق رکھنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا، ان کے دلوں میں (معاذ الله) یہ خیال گھر کر چکا ہے کہ اسلامی احکامات کی پیروی کرتے ہوئے اقوامِ عالم کی طرح دولت نہیں کمائی جاسکتی، حالاں کہ یہ ایک نہایت بے ہودہ اور مہمل خیال ہے، اسلام نے دنیا کو ایک مکمل اور دائمی نظام حیات پیش کیا ہے، جو ہر طرح کے حالات میں اس کی ہمہ جہت رہ نمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے ، عوام تو عوام، اچھے خاصے مذہبی لوگ بھی حصول رزق کے لیے حیران وپریشان نظر آتے ہیں ، لیکن ان کی نظر کبھی ان اعمال کی طرف نہیں جاتی ، جنہیں الله تعالیٰ نے کشادگیٴ رزق اور کثرتِ مال کا سبب قراردیا ہے ، قرآن وحدیث میں بہت سے ایسے اعمال کی طرف واضح اشارہ موجود ہے، جو رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا باعث ہیں، ہم درج ذیل سطور میں مختصراً دس اصول پیش کرتے ہیں ، جن کی بجا آوری پر الله تعالیٰ کی طرف سے رزق میں برکت وفراوانی کا وعدہ ہے:

توبہ واستغفار
قرآن پاک میں کئی مقامات پر توبہ واستغفار کے ذریعہ رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا ذکر ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے :﴿فقلت استغفروا ربکم انہ کان غفاراً، یرسل السماء علیکم مدراراً﴾
․ (سورة النوح، آیت:11-10)

”میں نے ان ( قوم)
سے کہا اپنے رب سے معافی مانگو ، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، تمہیں مال واولاد کی فراوانی بخشے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔“

اسی طرح حضرت ہود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو استغفار کی دعوت دی :﴿یقوم استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یرسل السماء علیکم مدراراً ویزدکم قوة الی قوتکم ولا تتولوا مجرمین﴾
․ (سورہ ہود، آیت:52)

” اور اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اپنے رب سے رجوع کرو، وہ تم پر خوب برسنے والے بادل بھیجے گا اور تمہاری قوت میں مزید اضافہ
کرے گا اور ( دیکھو) مجرم بن کر منھ نہ پھیرو۔“

حضرت عبدالله بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص بکثرت استغفار کرتا ہے ، الله تعالیٰ اسے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے کشادگی عنایت فرماتے ہیں اور اسے ایسی راہوں سے رزق عطا فرماتے ہیں، جس کا اس کے وہم وگمان میں گزر تک نہیں ہوتا۔“ (ابوداؤد:1518)

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ لوگوں کے ساتھ طلبِ بارش کے لیے نکلے، آپ صرف استغفار کرکے واپس آگئے، لوگوں نے عرض کیا حضرت! ہم نے آپ کو استسقاء کی دعا کرتے سنا ہی نہیں ، آپ نے فرمایا میں نے آسمان سے بارش برسانے والے سے بارش طلب کی ہے، پھر آ پ نے آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی۔ امام حسن بصری ہر اس شخص کو استغفار کا حکم دیتے جو آپ سے خشک سالی، فقر، اولاد کی کمی اور باغات سوکھنے کی شکایت کرتا۔

توبہ واستغفار کی حقیقت یہ ہے کہ انسان گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے، اپنے کیے پر شرمندہ ہو ، آئندہ ترکِ معصیت کا پختہ عزم کرے اور جہاں تک ممکن ہواعمال خیر سے اس کا تدارک کرے، اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہو ، تو اس کی توبہ کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ صاحب حق سے معاملہ صاف کرے۔ ان شرائط کے بغیرتوبہ بے حقیقت ہے۔

تقوی وپرہیز گاری
تقویٰ الله کے احکام پر عمل او رممنوعات سے اجتناب کا نام ہے ، تقوی ان امور میں سے ایک ہے ، جن سے رزق میں برکت ہوتی ہے ۔ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ومن یتق الله یجعل لہ مخرجا، ویرزقہ من حیث لا یحتسب﴾
․ (سورہ طلاق، آیت:3,2)

”جو الله سے ڈرے گا الله اس کے لیے راہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا۔“

حضرت عبدالله بن مسعود فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں کشادگیٴ رزق کے متعلق یہ سب سے مہتم بالشان آیت ہے ، دوسری جگہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السماء والارض ولکن کذبوا فاخذنٰھم بما کانوا یکسبون﴾
․ (سورة الاعراف:96)

”اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے ، تو ہم آسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے ، لیکن انہوں نے جھٹلایا
اس لیے ہم نے ان کی کمائی کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔“

سورہٴ مائدہ میں الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ولو انھم اقاموا التوراة والانجیل وما انزل الیھم من ربھم لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم، منھم امة مقتصدة، وکثیر منھم فاستقون﴾
․ (سورہ مائدہ:66)

”اگر وہ تورات اور
انجیل او راس (کتاب) کو جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی ہے قائم کرتے، تو انہیں اوپر سے بھی رزق ملتا اور ان کے قدموں کے نیچے سے بھی ، ا ن میں ایک گروہ ضرور راہ راست پر ہے، لیکن زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو فسق وفجور کے مرتکب ہیں“۔

اوپر سورة الاعراف کی آیت میں لفظ ”برکات“ استعمال کیا گیا ہے، جو برکت کی جمع ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ برکتیں مختلف انواع واقسام کی ہوا کرتی ہیں ، نیز یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ برکت کا مطلب کثرت مال نہیں ، بلکہ کفایت مال ہے ، ورنہ بہت سے لوگ کثرت مال کے باوجود معاشی تنگی کا رونا روتے ہیں او رمعاشی طور پر بہت سے بہ ظاہر درمیانی درجے کے لوگ انتہائی اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں ، امام رازی فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ میں آسمان کی برکت سے مراد بارش او رزمین کی برکت سے مراد نباتات ، میوہ جات، مویشی، چوپایوں کی کثرت او رامن وسلامتی ہے ، کیوں کہ آسمان باپ اور زمین ماں کے قائم مقام ہے اور مخلوق خداکی تمام بھلائیوں اور منافع انہیں دونوں سے وابستہ ہیں ، امام خازن کے بقول برکت کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز میں من جانب الله خیر پائی جائے۔

عبادت خدا وندی میں انہماک
اس سے مراد یہ ہے کہ عبادت کے دوران بندہ کا دل وجسم دونوں حاضر رہیں ، الله کے حضور میں خشوع وخضوع کا پاس رکھے، الله کی عظمت ہمیشہ اس کے دل ودماغ میں حاضر رہے، حضرت ابوہریرہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” بلاشبہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! میری عبادت میں منہمک رہو، میں تیرا دل غنا سے بھردوں گا اورتمہاری محتاجگی کا دروازہ بند کروں گا، اگر تم نے ایسا نہیں کیا، تو تمہارے ہاتھوں کو کثرت مشاغل سے بھردوں گا او رتمہاری محتاجگی کا دروازہ بندہ نہیں کروں گا۔“ ( ابن ماجہ، ج:4107)

توکل علی الله
ارشاد باری ہے : ﴿ومن یتوکل علی الله فھو حسبہ ان الله بالغ امرہ قد جعل الله لکل شیء قدراً﴾
․ (سورہٴ طلاق:3)

”جو الله پر بھروسہ کرے گا ، تو وہ اس کے لیے کافی ہو گا الله اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے، الله نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ( وقت) مقرر کر رکھا ہے۔

حضرت عمر ابن
الخطاب نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اگر تم حسن وخوبی کے ساتھ الله پر توکل کرو، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے ، وہ صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کے وقت آسودہ ہو کر لوٹتے ہیں۔“ (مسنداحمد، ح:205)

امام غزالی احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ الله پر دل کے اعتماد کو توکل کہتے ہیں ، علامہ مناوی فرماتے ہیں کہ الله پر بھروسہ اور اپنی طرف سے عاجزی کے اظہار کو توکل کہتے ہیں۔ ملا علی قاری  کے بقول اس بات کا یقین کہ موجودات میں صرف الله کی ذات مؤثر ہے، کسی چیز کا نفع ، نقصان ،امیری، غریبی، صحت، مرض ، حیات او رموت وغیرہ تمام چیزیں الله تعالیٰ کے قبضہٴ قدرت میں ہیں۔

توکل کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ کسبِ معاش کی تمام کوششوں کو ترک کر دیا جائے او رہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا جائے ، خود حدیث مذکور میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے پرندوں کی مثال پیش کی ہے کہ وہ تلاشِ رزق میں صبح سویرے نکل جاتے ہیں ، پرندوں کا صبح سویرے اپنے آشیانوں سے نکلنا ہی ان کی کوشش ہے ، ان کی انہیں کوششوں کی وجہ سے الله تعالیٰ ان کو شام کے وقت آسودہ وسیراب واپس کرتے ہیں ، لہٰذا اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے ، بلکہ اسباب اختیار کرنا عین تقاضائے شریعت ہے ، ایک مرتبہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں اپنی اونٹنی کو چھوڑ دوں اور توکل کر لوں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسے باندھو، پھر توکل کرو۔ ( مسند الشہاب، حدیث نمبر:368/14633)

الله کے راستے میں خرچ کرنا
الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وما انفقتم من شیِء فھو یخلفہ وھو خیر الرزقین﴾
․ (سورة سبا:39)

”اور جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا اجر اس کے پیچھے آئے گا اور وہ بہترین رازق ہے۔“

دوسری جگہ فرمان
جاری ہے:﴿الشیطن یعدکم الفقر ویامرکم بالفحشآء، والله یعدکم مغفرة منہ وفضلا، والله واسع علیم﴾․ ( سورة البقرہ:268)

”شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے، مگر الله اپنی طرف سے مغفرت او رفضل ( رزق میں کشادگی اور برکت) کا وعدہ کر
تا ہے ، الله بڑی وسعت والا اور بڑا علم والا ہے۔“

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے ” اے ابن آدم! خرچ کر، میں تیرے اوپر خرچ کروں گا۔“ ( ابن ماجہ، ج:2123)

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا:” اے بلال! خرچ کرو اور عرش والے سے افلاس کا خوف نہ کرو۔“ ( مشکوٰة، ح:1885)

طالبانِ علوم اسلامیہ پر خرچ کرنا
امام ترمذی اور حاکم نے حضرت انس بن مالک  سے روایت کیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ایک بھائی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں علم ومعرفت حاصل کرنے آیا کرتا تھا اور دوسرا بھائی کسبِ معاش میں لگا ہوا تھا، بڑے بھائی نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی ( کہ میرا بھائی کسبِ معاش میں میرا تعاون نہیں کرتا)۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ تمہیں اسی کی برکت سے رزق دیا جاتا ہو۔ (ترمذی، ح:2448)

علماء نے لکھا ہے کہ علوم اسلامیہ میں مشغول رہنے والے لوگ درج ذیل آیت کریمہ کے مفہوم میں داخل ہیں:﴿للفقراء الذین احصروا فی سبیل الله لا یستطیعون ضربا فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف، تعرفھم بسیمٰھم، لا یسئلون الناس الحافا، وما تنفقوا من خیر فان الله بہ علیم﴾
․ (سورة البقرة:273)

”اعانت کے اصل مستحق وہ حاجت مند ہیں، جو الله کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرس
کتے، بے خبر آدمی ان کی خودداری دیکھ کر انہیں غنی خیال کرتا ہے ، تم ان کو ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو ، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے او رجو مال تم خرچ کروگے الله اس کو جانتا ہے۔“

صلہ رحمی واقربا پروری
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ”جسے وسعت رزق اور درازیٴ عمر کی خواہش ہو اسے رشتہ داروں کے ساتھ برتاؤ کرناچاہیے۔“ ( صحیح البخاری، کتاب الادب، حدیث:5985)

حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا” جسے درازیٴ عمر، وسعتِ رزق اور بری موت سے چھٹکارہ پانے کی خواہش ہو ، اسے الله سے ڈرنا چاہیے اور شتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔“ ( مسنداحمد، حدیث:1212)

رحَم سے مراد رشتہ دار ہیں، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں رحم کا اطلاق رشتہ داروں پر ہوتا ہے، خواہ ان کے درمیان وراثت او رمحرمیت کا تعلق ہو یا نہ ہو، صلہ رحمی کا جامع مفہوم یہ ہے کہ حسب وسعت رشتہ داروں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کا معاملہ کیا جائے اور شروروفتن سے انہیں محفوظ رکھا جائے۔

کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندوں کو ان کے کمزوروں کی وجہ سے رزق ملتا ہے او ران کی مدد کی جاتی ہے ، حضرت مصعب بن سعد  روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ سعد نے دیکھا کہ انہیں دیگر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ، تو رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” کمزوروں کے طفیل ہی تم کو رزق ملتا ہے او رتمہاری مدد کی جاتی ہے۔“ ( بخاری، کتاب الجہاد والسیر:179/14,108)

حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ” تم لوگ میری رضا اپنے کمزوروں کے اندر تلاش کرو، کیوں کہ تمہیں کمزوروں کی وجہ سے رزق ملتا ہے او رتمہاری مدد کی جاتی ہے۔“ ( مسند احمد،198/5، ابوداؤد، حدیث:2591، ترمذی، ابواب الجہاد،1754)

یکے بعد دیگرے حج وعمرہ کرنا
حضرت عبدالله بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” پے درپے حج وعمرہ کرو، کیوں کہ یہ فقر او رگناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں ، جس طرح بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور حج مبرور ( مقبول) کا بدلہ صرف جنت ہے۔“ (مسند احمد، حدیث:73669،ترمذی، حدیث:807)

الله کے راستے میں ہجرت
الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ ومن یھاجر فی سبیل الله یجد فی الارض مراغماً کثیراً وسعة﴾
․ (سورة النساء:100)

”جو کوئی الل
ه کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا“۔

ہجرت دارالکفر ( جہاں امورِ ایمان کی ادائیگی کی آزادی مسلوب ہو) سے دارالایمان کی طرف نکلنے کو کہتے ہیں، حقیقی ہجرت اس وقت ہو گی جب مہاجر کا ارادہ الله کا دین قائم کرکے اسے خوش کرنا ہو اور ظالم کافروں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کرنی ہو ۔

یہ وہ دس اصول ہیں جن کے بارے میں قرآن وحدیث میں وضاحت ہے کہ ان سے بندہ کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے او راس کی تنگی دور کر دی جاتی ہے ، لیکن انسان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصل بے نیاز تو الله کی ذات ہے ، انسان کی بے نیازی یہ ہے کہ وہ اس غنی ذات کے سوا پوری دنیا سے بے نیاز ہو جائے اور یہ سمجھ لے کہ جو کچھ اسے ملے گا اس سے ملے گا ، غیر کے آگے ہاتھ پھیلانا بے کار ہے ۔ خدا کی رزاقیت وکار سازی کا یقین دلوں کو قناعت وطمانینت کی دولت سے مالا مال کرتا ہے ۔ قانع شخص کسی کے زروجواہر پر نظر نہیں رکھتا، بلکہ اس کی نگاہ ہمیشہ پرورد گار عالم کی شان ربوبیت پر رہتی ہے، مال ودولت کی حرص کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس لیے قناعت ضروری ہے، کیوں کہ یہی باعث سکون واطمینان ہے ۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تونگری مال واسباب کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اصل تو نگری دل کی تو نگری ہے۔ حضرت ابوذر راوی ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ” ابو ذر! تمہارے خیال میں مال کی کثرت کا نام تو نگری ہے ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر فرمایا: تو تمہارے خیال میں مال کی قلت کا نام محتاجی ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: استغناء دل کی بے نیازی ہے او رمحتاجی دل کی محتاجی ہے۔“ ( فتح الباری، ج:11، ص:232)